۔ (دوسری روایت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ اور آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات پیدا نہ کرو، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور لوگوں کو سکون و آرام پہنچاؤ اور ان کو متنفر نہ کردو۔
سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔
Takhreej
(۲۵۵) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ الطیالسی: ۴۷۹ (انظر: ۲۱۳۶۱)
Explanation
فوائد: …اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے سارے احکام ومسائل کا علم ہو گیا تھا یا ہر پرندے کی حلت و حرمت، حلال پرندوں کے ذبح وغیرہ کے احکام اور اس سے متعلقہ دوسرے شرعی احکام بیان کر دیئے گئے تھے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو پرندوں سے فال لینا معلوم ہو گیا تھا، جو جاہلیت کی ایک رسم تھی۔
یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا ابو زید انصاری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔
Takhreej
(۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۹۲(انظر: ۲۲۸۸۸)
Explanation
فوائد: …اس خطبے کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، ممکن ہے کہ مختلف صحابہ کرام جو احادیث بیان کرتے ہیں، ان میں بعض اسی خطبے میںسنی گئی ہوں۔
سیدنا حنظلہ کاتبؓ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکرؓ کو ملا اور کہا: اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے، انھوں نے کہا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔ سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں، یہ سن کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اِس طرح اور کبھی اُس طرح۔
Takhreej
(۲۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۵۰(انظر: ۱۹۰۴۵)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعظ و نصیحت کا انداز نہایت مؤثر ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے صحابۂ کرام پر جو آثار مرتّب ہوتے تھے، وہ سیدنا ابو بکر ؓجیسے عظیم لوگ بھی بعد میں برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، بہرحال اہل علم کو چاہیے کہ اپنے علم کے عملی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی گفتگو کو پر اثر بنائیں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی فکر کریں، یہاں اس چیز کی یادہانی ضروری ہے کہ معاشرے کے رہن سہن کے جن طریقوں کا شریعت کے ساتھ تصادم نہ ہو اور معاشرہ بھی ان کو باوقار لوگوںکی صفات سمجھتا ہو، ایسے امور کو اختیار کر لینا بہتر ہے۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رِقّت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموںمیں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔
سیدنا ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوںکے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔
فوائد: …یہ کل تین افراد تھے، تینوں کا انداز مختلف تھا، آگے سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی مختلف رہا۔ایک نے رغبت سے کام لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مزید قریب ہونے کے لیے محفل میں پڑی ہوئی خالی جگہ کی طرف بڑھا، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بندے کی زیادہ قدر کی گئی اور اُس نے اِس کو اپنی رحمت اور رضامندی میں جگہ دی، اس طرح آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں جائیں۔ دوسرے آدمی نے پہلے تو جانے کا ارادہ کیا، لیکن پھر شرما گیا اور آ کر بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہی معاملہ کیا، یعنی اس سے شرما کر اس کے ساتھ رحم والا معاملہ کر دیا، مستدرک حاکم کے الفاظ یہ ہیں: وَمَضَی الثَّانِیْ قَلِیْـلًا ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ … اور دوسرا جانے کے لیے تھوڑا سا چلا، لیکن پھر آ کر بیٹھ گیا۔ تیسرا آدمی اس مجلس کا پاس و لحاظ کیے بغیر چل دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا اور اس پر ناراض ہو گیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے، جو شرعی علم پر مشتمل مجلسوں اور دروس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جب مسجد میں نماز کے بعد درسِ قرآن و حدیث شروع ہوتا ہے تو لوگ یوں کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی عذاب آنے لگا ہے، جمعہ کے خطبوں اور نمازوں کا تو معاملہ ہی اور ہے۔
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ نے مجلس کے درمیان میں بیٹھنے والے شخص کے بارے میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زبان کے مطابق اس شخص پر لعنت کی گئی ہے۔
Takhreej
(۲۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف ، ابو مجلز لاحق بن حمید لم یدرک حذیفۃ۔ أخرجہ ابوداود:۴۸۲۶، والترمذی: ۲۷۵۳ (انظر: ۲۳۲۶۳)
عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفو ں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔
Takhreej
(۲۶۱) تخریج: ھذا بلاغ عن لقمان، فھو منقطع (انظر: ۱۶۵۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شرّ والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے کے پاس آ کر کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لیا گیا۔
Takhreej
(۲۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان ولجھالۃ اوس بن خالد۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۷۲ (انظر: ۸۶۳۹)
سیدنا زیدبن ثابت ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو سریانی زبان کی مہارت رکھتا ہے؟ میرے پاس اس قسم کے خطوط آتے ہیں۔ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو سیکھو۔ میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان سیکھ لی تھی۔
فوائد: …اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((یَا زَیْدُ! تَعَلَّمْ لِیْ کِتَابَ یَھُوْدٍ)) … اے زید! یہودیوں کی لکھائی کی تعلیم حاصل کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سریانی یہودیوں کی زبان تھی۔ کسی قوم سے دشمنی اختیار کرنے کا یہ معنی نہیں کہ اس کی زبان سے بھی نفرت کی جائے، کیونکہ دنیا میں موجودہ زبانیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہیں، عربی ہے، ترکی ہے، انگریزی ہے، اردو، ہندی، پشتو، فارسی، سندھی، بلوچی وغیرہ ہے، پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ آیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ} … اس (اللہ کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبان اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے، دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں۔ (سورۂ روم: ۲۲)اگر ضرورت ہو تو کوئی زبان بھی سیکھی جا سکتی ہے، سب سے پہلے عربی زبان سیکھنی چاہیے تاکہ شریعت کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسب ِ استطاعت عمل کرو۔
فوائد: …مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق اس حدیث ِ مبارکہ کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا۔)) … لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، پس تم حج کرو۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش رہے، لیکن جب اس نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کے ساتھ جواب دیتا تو یہ (ہر سال) فرض ہو جاتا، جبکہ تم لوگوں کو یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔ یہ اصول فقہ کا مسلّمہ قانون ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلق طور پر دیا گیا حکم ایک دفعہ عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، لہٰذا حج کرو، اب جو آدمی زندگی میں ایک دفعہ حج کر لے گا، وہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کے تقاضے کو پورا کر دے گا، لہٰذا یہ سوال کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہو گی کہ ایک دفعہ فرض ہے یا ہر سال۔
سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔
Takhreej
(۲۶۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:…سوال کی دو اقسام ہیں:(۱)وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر ؓ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہ یہ ضروریات ہیں، سوال کی اسی قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳) (۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں ، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔
جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیؑ کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیؑ نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب بنو اسرائیل نے مین میکھ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنا شروع کر دیے، تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْ یَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ (مسند بزار)
ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟
جواب: حافظ ابن حجر نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھی حرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔ (تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: یہ اللہ تعالی، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چِلّا کر کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔
فوائد: …صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: جب اس بندے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا تو سیدنا ابو ہریرہ ؓنے اپنی ہتھیلی میں کنکریاں پکڑیں اور ان کو پھینکا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ، میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا۔
محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کیا، مجھے علم نہیں کہ وہ سوال کیا تھا، جواباً سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! اس کے بارے میں دو بندے سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک لوگوں کے ساتھ سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کر دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، لیکن اُس کو کس نے پیدا کیا۔
Takhreej
(۲۶۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد: …اگر کسی کو اس قسم کے سوال کا وسوسہ پیدا ہونے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اس وقت کی مسنون دعائیں پڑھے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔ انھوںنے اپنی ماں سے کہا: میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تک کی جس چیز کے بارے میںتم مجھ سے سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب بیان کر دوں گا۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ ان کی ماں نے ان سے کہا: اس سوال سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ انھوں نے کہا: میرا ارادہ راحت حاصل کرنے کا تھا، اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا تھا، لیکن اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
فوائد: …صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((فَـلَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا اَخْبَرْتُکُمْ مَا دُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا)) … پس تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے، میں تم کو اس کے بارے میں بتلاؤں گا، جب تک اس مقام پر ہوں۔
ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔
Takhreej
(۲۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن سعد، وقال الساجی: ضعفہ اھل الشام (انظر: ۲۳۶۸۷)
Explanation
فوائد: …اس سے مراد وہ سوالات اور باتیں ہیں، جن کے ذریعے اہل علم کو غلطی میںمبتلا کیا جائے یا وہ مبہم اور غیر واضح باتیں ہیں، جن سے مغالطہ دینا مقصود ہو۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۷۲) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۷، وابن ماجہ: ۵۷۲(انظر: ۳۰۵۶)
Explanation
فوائد: …لوگوں کو اس نقطے پر غور کرنا چاہیے تھا کہ آدمی زخمی ہے، غسل سے اس کو مزید نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے دوسرے صحابہ سے اس کے بارے میں مزید سوال کر لیتے ہیں، تاکہ کوئی حتمی شکل سامنے آ جائے، اسی کوشش کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہالت کی شفا قرار دے رہے ہیں۔
ہم حدیث نمبر (۲۶۶)کے فوائد میں سوالوں کی اس قسم کی وضاحت کر چکے ہیں، جو ہماری شریعت میں مطلوب ہے۔