TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علم کے ابواب - علم کے ابواب - Book 4 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 4 of Musnad Ahmad, with 18 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 18 Chapters
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۳) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((عَلِّمُوْا وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵۶)
۔ (دوسری روایت) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ اور آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات پیدا نہ کرو، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا۔
Takhreej
(۲۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
253
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۴)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَشِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَسَکِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۵۸)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور لوگوں کو سکون و آرام پہنچاؤ اور ان کو متنفر نہ کردو۔
Takhreej
(۲۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹، ۶۱۲۵، ومسلم: ۱۷۳۴(انظر: ۱۲۳۳۳)
Explanation
فوائد: …حدیث نمبر (۲۳۵) کے فوائد میں اس حدیث کی تشریح کی جا چکی ہے۔
254
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۵)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: لَقَدْ تَرَکَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا یُحَرِّکُ طَائِرٌ جَنَاحَیْہِ فِی السَّمَائِ اِلَّا أَذْکَرَنَا مِنْہُ عِلْمًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۸۸)
سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔
Takhreej
(۲۵۵) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ الطیالسی: ۴۷۹ (انظر: ۲۱۳۶۱)
Explanation
فوائد: …اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے سارے احکام ومسائل کا علم ہو گیا تھا یا ہر پرندے کی حلت و حرمت، حلال پرندوں کے ذبح وغیرہ کے احکام اور اس سے متعلقہ دوسرے شرعی احکام بیان کر دیئے گئے تھے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو پرندوں سے فال لینا معلوم ہو گیا تھا، جو جاہلیت کی ایک رسم تھی۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
255
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۶)۔عن أَبِیْ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّہْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا کَانَ وَمَا ہُوَ کَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۷۶)
سیدنا ابو زید انصاری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔
Takhreej
(۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۹۲(انظر: ۲۲۸۸۸)
Explanation
فوائد: …اس خطبے کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، ممکن ہے کہ مختلف صحابہ کرام جو احادیث بیان کرتے ہیں، ان میں بعض اسی خطبے میںسنی گئی ہوں۔
256
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۷)۔عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَأْیَ الْعَیْنِ، فَقُمْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَہْلِیْ وَوَلَدِیْ فَذَکَرْتُ مَا کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْتُ فَلَقِیْتُ أَبَابَکْرٍ(ؓ) فَقُلْتُ: یَا أَبَابَکْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَۃُ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قُلْتُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَاْیَ عَیْنٍ، فَذَہَبْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِیْ وَأَہْلِیْ، فَقَالَ: اِنَّا لَنَفْعَلُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَذَہَبْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((یَا حَنْظَلَۃُ! لَوْ کُنْتُمْ تَکُوْنُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ کَمَا تَکُوْنُوْنَ عِنْدِیْ لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بِأَجْنِحَتِہَا) وَأَنْتُمْ عَلَی فُرُشِکُمْ وَبِالطَّرِیْقِ، یَا حَنْظَلَۃُ! سَاعَۃً وَ سَاعَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۵۴)
سیدنا حنظلہ کاتبؓ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکرؓ کو ملا اور کہا: اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے، انھوں نے کہا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔ سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں، یہ سن کر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اِس طرح اور کبھی اُس طرح۔
Takhreej
(۲۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۵۰(انظر: ۱۹۰۴۵)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وعظ و نصیحت کا انداز نہایت مؤثر ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے صحابۂ کرام پر جو آثار مرتّب ہوتے تھے، وہ سیدنا ابو بکر ؓجیسے عظیم لوگ بھی بعد میں برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، بہرحال اہل علم کو چاہیے کہ اپنے علم کے عملی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی گفتگو کو پر اثر بنائیں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی فکر کریں، یہاں اس چیز کی یادہانی ضروری ہے کہ معاشرے کے رہن سہن کے جن طریقوں کا شریعت کے ساتھ تصادم نہ ہو اور معاشرہ بھی ان کو باوقار لوگوںکی صفات سمجھتا ہو، ایسے امور کو اختیار کر لینا بہتر ہے۔
257
Sahih
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّا اِذَا کُنَّا عِنْدَکَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوْبُنَا، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِکَ عَافَسْنَا النِّسَائَ وَالصِّبْیَانَ وَفَعَلْنَا وَ فَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ لَوْ تَدُوْمُوْنَ عَلَیْہَا لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۷)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فرمایا: بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رِقّت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموںمیں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔
Takhreej
(۲۵۸) تخریج: حدیث صحیح ۔أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۲۷۱۷، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/۳۷(انظر: ۱۲۷۹۶)
258
Sahih
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۵۹)۔عَنْ أَبِیْ وَاقَدٍ اللَّیْثِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ مَرَّ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ، فَجَائَ أَحَدُہُمْ فَوَجَدَ فُرْجَۃً فِی الْحَلْقَۃِ فَجَلَسَ وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِہِمْ وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَبَرِ ہٰؤُلَائِ النَّفَرِ؟۔)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أَمَّا الَّذِیْ جَائَ فَجَلَسَ فَأَوٰی فَآوَاہُ اللّٰہُ، وَالَّذِیْ جَلَسَ مِنْ وَّرَائِکُمْ فَاسْتَحْیٰ فَاسْتَحْیَ اللّٰہُ مِنْہُ، وَأَمَّا الَّذِیْ اِنْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۵۲)
سیدنا ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوںکے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔
Takhreej
(۲۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶، ۴۷۴، ومسلم: ۲۱۷۶ (انظر: ۲۱۹۰۷)
Explanation
فوائد: …یہ کل تین افراد تھے، تینوں کا انداز مختلف تھا، آگے سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی مختلف رہا۔ایک نے رغبت سے کام لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف مزید قریب ہونے کے لیے محفل میں پڑی ہوئی خالی جگہ کی طرف بڑھا، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بندے کی زیادہ قدر کی گئی اور اُس نے اِس کو اپنی رحمت اور رضامندی میں جگہ دی، اس طرح آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں جائیں۔ دوسرے آدمی نے پہلے تو جانے کا ارادہ کیا، لیکن پھر شرما گیا اور آ کر بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہی معاملہ کیا، یعنی اس سے شرما کر اس کے ساتھ رحم والا معاملہ کر دیا، مستدرک حاکم کے الفاظ یہ ہیں: وَمَضَی الثَّانِیْ قَلِیْـلًا ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ … اور دوسرا جانے کے لیے تھوڑا سا چلا، لیکن پھر آ کر بیٹھ گیا۔ تیسرا آدمی اس مجلس کا پاس و لحاظ کیے بغیر چل دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا اور اس پر ناراض ہو گیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے، جو شرعی علم پر مشتمل مجلسوں اور دروس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جب مسجد میں نماز کے بعد درسِ قرآن و حدیث شروع ہوتا ہے تو لوگ یوں کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی عذاب آنے لگا ہے، جمعہ کے خطبوں اور نمازوں کا تو معاملہ ہی اور ہے۔
259
Sahih
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۶۰)۔عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ (بْنِ الْیَمَانِ)ؓ فِی الَّذِیْ یَقْعُدُ فِی وَسْطِ الْحَلْقَۃِ،قَالَ: مَلْعُوْنٌ عَلٰی لِسَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمأَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۵۲)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ نے مجلس کے درمیان میں بیٹھنے والے شخص کے بارے میں کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مبارک زبان کے مطابق اس شخص پر لعنت کی گئی ہے۔
Takhreej
(۲۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف ، ابو مجلز لاحق بن حمید لم یدرک حذیفۃ۔ أخرجہ ابوداود:۴۸۲۶، والترمذی: ۲۷۵۳ (انظر: ۲۳۲۶۳)
260
Zaeef
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۶۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ حُسَیْنٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ لُقْمَانَ کَانَ یَقُوْلُ: یَا بُنَیَّ!لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاہِیَ بِہِ الْعُلَمَائَ أَوْ تُمَارِیَ بِہِ السُّفَہَائَ وَتُرَائِیَ بِہِ فِی الْمَجَالِسِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفو ں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔
Takhreej
(۲۶۱) تخریج: ھذا بلاغ عن لقمان، فھو منقطع (انظر: ۱۶۵۱)
261
Zaeef
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
۔ (۲۶۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَثَلُ الَّذِیْ یَجْلِسُ فَیَسْمَعُ الْحِکْمَۃَ، ثُمَّ لَا یُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِہِ اِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰی رَاعِیًا فَقَالَ: یَا رَاعِیْ! اجْزُرْ لِیْ شَاۃً مِنْ غَنَمِکَ، قَالَ: اذْہَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَیْرِہَا، فَذَہَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ کَلْبِ الْغَنَمِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۲۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شرّ والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے کے پاس آ کر کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لیا گیا۔
Takhreej
(۲۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان ولجھالۃ اوس بن خالد۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۷۲ (انظر: ۸۶۳۹)
262
Zaeef
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
۔ (۲۶۳)۔عَنْ زَیْدٍ بْنِ ثَابِتٍؓ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تُحْسِنُ السُّرْیَانِیَّۃَ؟ اِنَّہَا تَأْتِیْنِیْ کُتُبٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَتَعَلَّمْہَا۔)) فَتَعَلَّمْتُہَا فِیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۲۰)
سیدنا زیدبن ثابت ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے فرمایا: کیا تو سریانی زبان کی مہارت رکھتا ہے؟ میرے پاس اس قسم کے خطوط آتے ہیں۔ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس کو سیکھو۔ میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان سیکھ لی تھی۔
Takhreej
(۲۶۳) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۴۵،و الترمذی: ۲۷۱۵، وعلقہ البخاری فی صحیحہ : ۷۱۹۵ بصیغۃ الجزم(انظر: ۲۱۵۸۷)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((یَا زَیْدُ! تَعَلَّمْ لِیْ کِتَابَ یَھُوْدٍ)) … اے زید! یہودیوں کی لکھائی کی تعلیم حاصل کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سریانی یہودیوں کی زبان تھی۔ کسی قوم سے دشمنی اختیار کرنے کا یہ معنی نہیں کہ اس کی زبان سے بھی نفرت کی جائے، کیونکہ دنیا میں موجودہ زبانیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہیں، عربی ہے، ترکی ہے، انگریزی ہے، اردو، ہندی، پشتو، فارسی، سندھی، بلوچی وغیرہ ہے، پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ آیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ} … اس (اللہ کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبان اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے، دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں۔ (سورۂ روم: ۲۲)اگر ضرورت ہو تو کوئی زبان بھی سیکھی جا سکتی ہے، سب سے پہلے عربی زبان سیکھنی چاہیے تاکہ شریعت کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔
263
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۶۴)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ، فَاِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِ ہِمْ، مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَمَا أَمَرْتُکُمْ فَأْتُوْا مِنْہُ مَااسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسب ِ استطاعت عمل کرو۔
Takhreej
(۲۶۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۲۸۸، ومسلم: ۱۳۳۷(انظر: ۷۳۶۷)
Explanation
فوائد: …مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق اس حدیث ِ مبارکہ کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا۔)) … لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، پس تم حج کرو۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جواباً خاموش رہے، لیکن جب اس نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر میں ہاں کے ساتھ جواب دیتا تو یہ (ہر سال) فرض ہو جاتا، جبکہ تم لوگوں کو یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔ بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔ یہ اصول فقہ کا مسلّمہ قانون ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا مطلق طور پر دیا گیا حکم ایک دفعہ عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، لہٰذا حج کرو، اب جو آدمی زندگی میں ایک دفعہ حج کر لے گا، وہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کے تقاضے کو پورا کر دے گا، لہٰذا یہ سوال کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہو گی کہ ایک دفعہ فرض ہے یا ہر سال۔
264
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۶۵)۔عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ حَتَّی أُنْزِلَ فِیْ ذٰلِکَ الشَّیْئِ تَحْرِیْمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۰)
سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۲۸۹، ومسلم: ۲۳۵۸(انظر: ۱۵۲۰)
265
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخر)۔ یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔
Takhreej
(۲۶۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:…سوال کی دو اقسام ہیں:(۱)وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر ؓ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہ یہ ضروریات ہیں، سوال کی اسی قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳) (۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں ، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیؑ کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیؑ نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب بنو اسرائیل نے مین میکھ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنا شروع کر دیے، تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْ یَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ (مسند بزار) ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟ جواب: حافظ ابن حجر نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھی حرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔ (تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
266
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۶۷)۔عَنْ عَمْروٍ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عن أَبِیْہِ عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُوْنَ یَسْأَلُوْنَ حَتَّی یُقَالَ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَجَالِسٌ یَوْمًا اِذْ قَالَ لِیْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْعَرَاقِ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَجَعَلْتُ اُصْبُعَیَّ فِیْ أُذُنَیَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ، اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (مسند أحمد: ۹۰۱۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: یہ اللہ تعالی، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چِلّا کر کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۷۶، ومسلم: ۱۳۵(انظر: ۹۰۲۷)
Explanation
فوائد: …صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: جب اس بندے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا تو سیدنا ابو ہریرہ ؓنے اپنی ہتھیلی میں کنکریاں پکڑیں اور ان کو پھینکا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ، میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سچ فرمایا۔
267
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۶۸)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَسَأَلَہُ رَجُلٌ لَمْ أَدْرِ مَا ہُوَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! سَأَلَ عَنْہَا اثْنَانِ وَہٰذَاالثَّالِثُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِھِمِ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یَقُوْلُوْا: خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۷۷)
محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کیا، مجھے علم نہیں کہ وہ سوال کیا تھا، جواباً سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! اس کے بارے میں دو بندے سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک لوگوں کے ساتھ سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کر دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، لیکن اُس کو کس نے پیدا کیا۔
Takhreej
(۲۶۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد: …اگر کسی کو اس قسم کے سوال کا وسوسہ پیدا ہونے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اس وقت کی مسنون دعائیں پڑھے۔
268
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۶۹)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ، لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ۔)) فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافَۃَ: مَنْ أَبِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ بْنُ قَیْسٍ۔)) فَرَجَعَ اِلٰی أُمِّہِ فَقَالَتْ: وَیْحَکَ مَا حَمَلَکَ عَلَی الَّذِیْ صَنَعْتَ، فَقَدْ کُنَّا أَھْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَھْلَ أَعْمَالٍ قَبِیْحَۃٍ، فَقَالَ لَہَا: اِنْ کُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِیْ وَمَنْ کَانَ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔ انھوںنے اپنی ماں سے کہا: میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔
Takhreej
(۲۶۹) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ مختصرا مسلم ص ۱۸۳۰ (انظر: ۱۰۵۳۱)
Explanation
فوائد: …جن سوالات کا مسلمان کی عملی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو، ان سے باز رہنا چاہیے۔
269
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۷۰)۔عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا حَدَّثْتُکُمْ بِہِ۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافََۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ أَبِیْ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ۔)) فَقَالَتْ أُمُّہُ: مَا أَرَدْتَّ اِلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْتَرِیْحَ، قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ فِیْہِ، (قَالَ حُمَیْدٌ: وَأَحْسِبُ ھٰذَا عَنْ أَنَسٍ) قَالَ: فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّاوَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضِبِ اللّٰہِ وَغَضِبِ رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۶۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن تک کی جس چیز کے بارے میںتم مجھ سے سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب بیان کر دوں گا۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ ان کی ماں نے ان سے کہا: اس سوال سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ انھوں نے کہا: میرا ارادہ راحت حاصل کرنے کا تھا، اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا تھا، لیکن اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غصہ آگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
Takhreej
(۲۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۲۹۴، ومسلم: ۲۳۵۹ (انظر: ۱۲۰۴۴)
Explanation
فوائد: …صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((فَـلَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا اَخْبَرْتُکُمْ مَا دُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا)) … پس تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے، میں تم کو اس کے بارے میں بتلاؤں گا، جب تک اس مقام پر ہوں۔
270
Sahih
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
۔ (۲۷۱)۔عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِن أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ مُعَاوِیَۃَؓ) قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْغُلُوْطَاتِ، قَالَ الْأُوْزَاعِیُّ: اَلْغُلُوْطَاتُ شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۸۷)
ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔
Takhreej
(۲۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن سعد، وقال الساجی: ضعفہ اھل الشام (انظر: ۲۳۶۸۷)
Explanation
فوائد: …اس سے مراد وہ سوالات اور باتیں ہیں، جن کے ذریعے اہل علم کو غلطی میںمبتلا کیا جائے یا وہ مبہم اور غیر واضح باتیں ہیں، جن سے مغالطہ دینا مقصود ہو۔
271
Zaeef
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
۔ (۲۷۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَہُ جُرْحٌ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُمِرَ بِالْاِغْتِسَالِ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائَ الْعَیِّ السَّؤَالُ۔)) (مسند أحمد: ۳۰۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۷۲) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۷، وابن ماجہ: ۵۷۲(انظر: ۳۰۵۶)
Explanation
فوائد: …لوگوں کو اس نقطے پر غور کرنا چاہیے تھا کہ آدمی زخمی ہے، غسل سے اس کو مزید نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے دوسرے صحابہ سے اس کے بارے میں مزید سوال کر لیتے ہیں، تاکہ کوئی حتمی شکل سامنے آ جائے، اسی کوشش کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جہالت کی شفا قرار دے رہے ہیں۔ ہم حدیث نمبر (۲۶۶)کے فوائد میں سوالوں کی اس قسم کی وضاحت کر چکے ہیں، جو ہماری شریعت میں مطلوب ہے۔
272
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.