سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالیں گے۔
Takhreej
(۲۷۲) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۷، وابن ماجہ: ۵۷۲(انظر: ۳۰۵۶)
Explanation
فوائد: …اہل علم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر وقت مستعد رہیں اور لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کو اپنے حق میں باعث ِ اعزاز سمجھیں اور اجر ِ عظیم کی امید میں ان معاملات کو آسان سمجھیں۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جس علم سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا، اس کی مثال اس خزانے کی سی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کیا جاتا۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔
سیدنا ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم ایسے زمانے میں ہو کہ جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطباء کم ہے، ایسے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گا، لیکن عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس میں علماء کم ہوں گے اور خطباء زیادہ ہوں گے، اس زمانے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا۔
Takhreej
(۲۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، مؤمل بن اسماعیل سییء الحفظ ولابھام الراوی عن ابی ذر (انظر: ۲۱۳۷۲)
شقیق کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے کسی نے کہا: کیا تم اس آدمی یعنی سیدنا عثمان ؓ کے پاس جا کرگفتگو نہیں کرتے، انھوں نے کہا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں جب بھی ان سے گفتگو کروں تو تم کو سناؤں گا، اللہ کی قسم ہے! کسی چیز کا اعلان کیے بغیر میں نے ان سے گفتگو کی ہے، جبکہ اس مجلس میں صرف میں اور وہ تھے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے امور کا پہلے میں اعلان کروں، میں یہ حدیث سننے کے بعد کسی بندے کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرا امیر بھی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں ان کے ارد گرد چکر کاٹنا شروع کر دے گا، جیسے گدھاچکی کے چکر کاٹتا ہے، اس کی یہ حالت دیکھ کر جہنمی لوگ اس کے پاس جمع ہو کر کہیں گے: کیا تو تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، لیکن میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور تم کو برائی سے منع کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کر جاتا تھا۔
فوائد: …سیدنا عثمان ؓسے گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان تک یہ بات پہنچائی جائے کہ وہ اپنے رشتہ داروں میں مختلف عہدے تقسیم کر رہے ہیں، لوگوں کو ان کی اس کاروائی پر اعتراض ہے، آگے سے سیدنا اسامہ ؓنے جواب دیا کہ اس نے مصلحت اور ادب کے ساتھ اُن کے ساتھ گفتگو کی ہے، اب یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ کھلے عام انکار شروع کر دے، اس سے تو مسلمانوں میں اختلاف پڑ جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
Takhreej
(۲۷۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۶۴، وابن ماجہ: ۲۵۲ (انظر: ۸۴۵۷)
Explanation
فوائد: …جو چیز محض عبادت ہو، جیسے قرآن و حدیث کی تعلیم، صدقہ و خیرات، جہاد اور دوسرے امورِ اسلام، ان کے حصول کے وقت کوئی دنیوی مقصد مدنظر نہیں رکھنا چاہیے، یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے اور کم لوگ ہیں، جو اس نزاکت کو سمجھ پاتے ہیں، جبکہ یہ معاملات انتہائی سنجیدگی اور غور وفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ابان بن عثمان کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت ؓ تقریباً نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے، ہم نے کہا: اس نے اس وقت کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے اِن کو بلایا ہو گا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، سیدنا زیدؓ نے کہا: جی ہاں، اُس نے مجھ سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کوئی حاملینِ فقہ فقیہ نہیں ہوتے اور کئی حاملینِ فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں۔ اگر تین چیزیں ہوں تو مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، دوسرا امراء کی ہمدردی کرنا اور تیسرا جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ مؤمنوں کی دعا ان کو پیچھے سے گھیر کر رکھتی ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی فکر اور غم آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کا شیرازہ مجتمع کر دیتا ہے اور اس کے دل میں غِنٰی رکھ دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، لیکن جس کی نیت اور عزم دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مشاغل بڑھا دیتا ہے اور اس کی فقیری اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے اور دنیا بھی اس کو اتنی ہی ملتی ہے، جتنی اس کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔ اس نے ہم سے نمازِ وسطٰی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ظہر ہے۔
فوائد: …آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تروتازگی کی جو دعا کی ہے، محدثین اور ان کا منہج رکھنے والے اس دعا کا مصداق بنتے ہیں، جنھوں نے احادیث ِ نبویہ کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اپنی احادیث کو فقہ اس کا فہم رکھنے والے کو فقیہ قرار دیا ہے، ہمارے ہاں ایک مروّجہ فقہ کے لیے لفظ فقہ استعمال کیا جاتا ہے، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ وہ لوگ اس مقصد کے لیے فقہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو یا تو متعصب ہیں یا پھر اپنی مروجہ فقہ سے غافل ہیں، جو آدمی مروجہ فقہ کا مطالعہ کرے گا، وہ ان شاء اللہ اس کے لیے لفظ فقہ استعمال نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، امراء کی ہمدردی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، یہ تین ایسے اعمال ہیں کہ ان کے ذریعے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جو شخص ان کا اہتمام کرے گا، اس کا دل دھوکے اور خیانت سے پاک ہو جائے گا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں جس فکر اور غِنٰی کی ترغیب دلائی گئی، حقیقت میں یہی زندگی ہے اور جس حرص سے منع کیا گیا ہے، حقیقت میں وہی بے سکونی ہے۔
سیدنا جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنٰی کی خیف وادی میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے میری بات سنی، پھر اس کو یاد کیا اور اس تک پہنچا دیا،جس نے اِس کو نہیں سنا تھا، پس کئی حاملینِ فقہ ایسے ہیں کہ ان کے پاس فقہ نہیں ہوتی اور کئی حاملین فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں، اگر یہ تین چیزیں ہوں تو مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو خالص کرنا، امراء کی خیرخواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، پس بیشک ان کی دعا اس کے پیچھے ہوتی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کئی ایسے لوگ ہیں کہ جن کو حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سنتے ہو اور تم سے بھی سنا جائے گا اور جو تم سے سنیںگے، ان کو بھی سنا جائے گا۔
فوائد: …یہ خبر بمعنی امر ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ کرام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر ضبط کریں اور پھر بعد والے لوگ ان سے سنیں، اس طرح یہ سلسلہ جاری رہے تاکہ اگلی نسلوں تک پیغام پہنچ سکے۔
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: ہم سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس جاتے اور کہتے: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرو (پس وہ بیان کرتے تھے، لیکن جب وہ بوڑھے ہو گئے تھے تو) کہتے تھے: بیشک ہم عمررسیدہ ہو گئے ہیں اور بھول گئے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو بیان کرنا سخت معاملہ ہے۔
Takhreej
(۲۸۳) تخریج: اثر صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵(انظر: ۱۹۳۰۴)
Explanation
فوائد: …نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ یقین یا ظن غالب ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی یہ احادیث بیان کی ہیں۔
مُطَرِّف بن عبد اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین ؓ نے مجھے کہا: اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی ٔ کریم کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض لوگ میری طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اُس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔ بسا اوقات سیدنا عمران ؓ یوں کہتے تھے: اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا، اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔
۔ (امام احمد کے بیٹے) ابو عبدالرحمن عبداللہ کہتے ہیں: … مطرف نے سیدنا عمران بن حصین ؓ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی، پھر میں نے یہ حدیث اپنے باپ (امام احمد) کو بیان کی، تو انھوں نے اس کو اچھا قرار دیا، البتہ عبد اللہ نے اس میں ایک راوی (ہانی اعور) زیادہ کر دیا۔
Takhreej
(۲۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، ھانیء الاعور ضعیف، وانظر الحدیث السابق
ابن سیرین کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرنے سے فارغ ہوتے تو کہتے: أَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا ہے۔)
Takhreej
(۲۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴(انظر: ۱۳۱۲۴)
سلیمان یشکری سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے (نماز میں) وہم ہو جانے کے بارے میں یتوخی کا لفظ استعمال کیا، ایک آدمی نے ان سے کہا کہ کیا یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی جا رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق تو یہی بات ہے۔
Takhreej
(۲۸۷) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۱۴۲۰)
Explanation
فوائد: … یتوخی کے معانی یُتَحَرّٰی کے ہیں، یعنی تحقیق وجستجو کی جائے اور بہتر کو تلاش کیا جائے۔ امام سفیان نے اپنی جامع میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکی ایک حدیث کے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ((اِذَا شَکَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ فَلْیَتَوَخَّ حَتّٰی یَعْلَمَ اَنَّہٗ قَدْ اَتَمَّ)) … جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ بہتر صورت کو تلاش کرے، یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ اس نے نماز مکمل کر لی ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کیا ابو ہریرہ تم کو تعجب میں نہیں ڈالتے؟ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر مجھے سناتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے، جبکہ میںنفلی نماز پڑھ رہی تھی، پھر وہ میری نماز پوری ہونے سے پہلے چلے گئے، اگر میں ان کو پا لیتی تو میں نے ان کا ردّ کرنا تھا، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری طرح تسلسل کے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔
فوائد: …سیدہ عائشہ ؓیہ کہنا چاہتی ہیں کہ نبی ٔ کریم لوگوں کو سمجھانے کی خاطر ٹھہر ٹھہر کر احادیث بیان کرتے تھے اور ابوہریرہؓ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے۔
سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں: یہ ساری احادیث ہم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنیں، ہمارے ساتھی ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے، کیونکہ ہم اونٹ چرانے کی وجہ سے مصروف رہتے تھے۔
فوائد: …خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بعض صحابہ احادیث ِ نبویہ بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے اور ان کو یہ خطرہ سا لاحق رہتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ غلطی ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام اور بعد میں ایسے لوگ بھی پیدا کر دیئے کہ جنہوں نے احادیث ِ مبارکہ کو اچھی طرح ضبط کیا اور پھر ان کو آگے بیان کیا، لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے کو بند نہ کریں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث، جو سند کے لحاظ سے قابل حجت ہوں، ان کو بیان کریں اور بد احتیاطی سے مکمل پرہیز کریں۔
سیدنا ابو حمید اور سیدنا ابو اسید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میری طرف منسوب حدیث سنو (تو دیکھو کہ آیا) تمہارے دل اس سے مانوس ہو رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس کے لیے نرم ہو رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ وہ بات تم بھی کر سکتے ہو تو میں ایسی (حدیث بیان کرنے کا) بالاولی مستحق ہوں گا۔ لیکن اگر تم دیکھو کہ جو حدیث میری طرف منسوب ہے، تمہارے دل اس کا انکار کر رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس سے نفرت کر رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ تم بھی (اس کی قسم کی) بات نہیں کر سکتے، تو میں اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والا ہوں گا۔
Takhreej
(۲۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ البزار: ۱۸۷، وابن حبان: ۶۳ (انظر: ۲۳۶۰۶)
سیدنا علی ؓ نے کہا: جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کرو، ایک روایت میں ہے: جب میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث خیال کرو جو زیادہ ہدایت والی ہو، ہیئت میں زیادہ اچھی ہو اور زیادہ تقوے والی ہو۔
Takhreej
(۲۹۱) تخریج: صحیح ۔أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰ (انظر: ۹۸۵)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: جو بات زیادہ خوشگوار ، زیادہ تقویٰ والی اور زیادہ ہدایت والی ہو، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث خیال کرو۔
Takhreej
(۲۹۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …سب سے پہلے دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں: (۱) صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک عام طور پر معتبر محدثین کا یہی قانون رہا کہ سند کی روشنی میں حدیث کو پرکھا جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی حدیث پیش کی گئی، اس کی سند کا مطالبہ کیا گیا اور صحیح سند ثابت ہونے کے بعد ہر کسی نے اس کو بحیثیت ِ حدیث قبول کر لیا۔ صحابہ کرام کا تو معیار ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس زبان تھی، نہ کہ ان کی فطرت و طبیعت۔ ابو بکر کو صدیق کا لقب ملنے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے بلا تردّد اسرا و معراج کا سفر تسلیم کر لیا تھا۔ (۲) قرآن مجید اور متواتر احادیث میں بھی ایسے امور موجود ہیں، جو کئی لوگوں کے لیے طبعی اور فطرتی لحاظ سے نامنظور ہیں۔ وہ صرف اس بنا پر ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات و فرمودات ہیں۔
قارئین کرام! اس لیے ایک خاص طبقے کو مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ کا مخاطَب سمجھا جائے گا، یعنی وسیع علم حدیث سے گہری دلچسپی رکھنے والے محدثین اور فقہاء، جن کا اوڑھنا بچھونا حدیث تھا، جو احادیث ِ مبارکہ کا ذوق رکھنے والے اور ان کے ذوق کو پہچاننے والے تھے۔ ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب بات کے مزاج کو دیکھ کر اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں، پھر جب تحقیق کرتے ہیں تو ان کا دعوی درست ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حسان عبد المنان سیدنا علی ؓکے آنے والے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل ہدایت کے زیادہ لائق، آپ سے زیادہ موافقت کرنے والی اور آپ کے تقوی کے زیادہ مناسب ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین درستی اور خیر خواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہیں، کیونکہ ان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور لوگوں تک پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث منقول ہو، جس میں دو احتمال پائے جاتے ہوں، تو جو احتمال مقام نبوت کے زیادہ مناسب اور کاملیت والا ہو گا، اس حدیث کو اسی احتمال پر محمول کیا جائے گا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بیوی کی یوں شکایت کی: ((اِنَّ امْرَأَتِیْ لَاتَرُدُّ یَدَ لَامِسٍ۔)) (میری بیوی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے پھر کہا: میں تو اس سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے اپنے پاس روکے رکھ۔ سوال یہ ہے کہ چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی کا مفہوم کیا ہے؟ دو قول بیان کیے گئے ہیں: (۱) جو آدمی اس سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے دے دیتی ہے ۔ (۲) وہ ہر زانی کو زنا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
امام احمد اور جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ پہلا معنی ہی درست اور زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابی کو یہ حکم دیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے عقد میں بحال رکھے جو زنا کرتی ہے۔ (بلوغ الامانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۹۸، ۹۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو حدیث ِ مبارکہ سند کے ساتھ ثابت ہو جائے لیکن معنی کے لحاظ سے اس سے مختلف احتمالات نکالے جا سکتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ِ مقدسہ اور صفات ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اچھے احتمال کو ترجیح دینی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب (رحم اللہ السلف الصالح رحمۃ واسعۃ)۔