محمد بن کعب کہتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ ؓہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم احادیث بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، انھوں نے یہ دیکھ کر کہا: قبیح ہو جائیں یہ چہرے، کیا تم اپنی کہی ہوئی اِن باتوں کو جانتے بھی ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۱۳) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی محمد بن معبد (انظر: ۲۲۶۳۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پرجھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر تیار کیا جاتا ہے۔
فوائد: …نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایسے قول یا فعل کو منسوب کر دیا جائے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا یا کیا نہ ہو۔ ان لوگوں کا نظریہ باطل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ تو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ترغیب دلانے اور اس کی نافرمانی سے بچانے کے لیے جھوٹی احادیث گھڑتے ہیں، جیسا کہ ابو عصمہ نوح بن ابی مریم نے عن عکرمۃ عن ابن عباس کے طریق سے قرآن مجید کی ہر سورت کی فضیلت میں احادیث گھڑنا شروع کیں، جب اس سے اِن احادیث کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ لوگ ابو حنیفہ کی فقہ اور ابو اسحاق کے مغازی میں مشغول ہو کر قرآن مجید سے اعراض کر رہے ہیں تو میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا، تاکہ وہ قرآن مجید کی طرف لوٹ آئیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان مجھ پر جھوٹ نہ بولو میں ہر جھوٹے کے حق میں عام حکم ہے اور یہ جھوٹ کی ہر قسم کو شامل ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹ کو میری طرف منسوب نہ کرو، یہاں عَلَیَّ میں اس قسم کا مفہوم نہیں پایا جاتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جھوٹ سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے۔ بعض جاہل لوگوں کو دھوکہ ہوا اور انھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں احادیث گھڑیں اور کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹ نہیں بول رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کی تائید و نصرت کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان بیچاروں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، کیونکہ اس جھوٹ سے شرعی حکم ثابت کیا جا رہا ہے، اس کا تعلق واجب اور مندوب سے ہو یا حرام اور مکروہ سے۔ اس مقام پر کرامیہ کے نظریے سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، جنھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں جھوٹی احادیث بیان کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا: ہم لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت میں، یعنی ہمارا جھوٹ لَہٗ ہے، نہ کہ عَلَیْہ دراصل یہ دلیل پیش کرنے والے عربی زبان سے جاہل ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں نے مسند بزار کی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی اس حدیث سے جھوٹی احادیث بیان کرنے کے جواز کا استدلال کیا ہے: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ لِیُضِلَّ بِہِ النَّاسَ)) … جو آدمی مجھ پر اس نظریے سے جھوٹ بولے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ جواباً گزارش ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، امام دارقطنی اور امام حاکم نے اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے اور امام دارمی نے اس کو یعلی بن مرہ کی حدیث سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں لام علت کے لیے نہیں ہے، بلکہ صیرورت کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: {فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ} … اس آدمی سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے جھوٹ کا انجام لوگوں کا گمراہ کرنا ہے۔ اور (تیسرا جواب یہ ہے کہ) اس قسم کی قید کا تعلق عموم کے بعض افراد کی تخصیص کر دینے کے ساتھ ہے، جس کا خارج میں کوئی مفہوم نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَاتَأْکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً}(سورۂ آل عمران: ۱۳۰) … بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔ {وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ} (سورۂ انعام: ۱۵۱) … اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ اب گزارش یہ ہے کہ بھوک کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا، سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا، یہ سب قیدیں حکم کو خاص کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ معاملے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۶۶)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف صرف وہ بات منسوب کی جائے، جس کی سند کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گاکہ وہ اِس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو علم عطا کر دیتا ہے تو وہ اس کو لوگوں سے چھین نہیں لیتا، بلکہ وہ علماء کو فوت کرنا شروع کر دیتا ہے، جب ایک عالم فوت ہوتا ہے تو وہ علم بھی چلا جاتا ہے، جو اس کے پاس ہوتا ہے، یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں، جن کو علم نہیں ہوتا، پس لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور پھر جب ان سے فتوی طلب کیا جاتا ہے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیتے ہیں اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب کو پیا جائے گا اور زنا عام ہو جائے گا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: آخری سختی، جس میں مؤمن مبتلا ہوتا ہے، موت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان {یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} میں مُھْل سے مراد تیل کا تلچھٹ ہے اور {آنَائَ اللَّیْلِ} سے مراد رات کا درمیانہ حصہ ہے۔ پھر انھوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کا ختم ہو جانا کیا ہے؟ وہ زمین سے اہل علم کا اٹھ جانا ہے۔
Takhreej
(۳۱۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، قابوس بن ابی ظبیان الجنبی ضعیف یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ۔ أخرجہ ابن ابی حاتم فی التفسیر : ۱۲۲۸(انظر: ۱۹۴۶)
سیدنا زیاد بن لبید ؓ کہتے ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہوگا، جب علم اٹھ جائے گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کی اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے،لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔
Takhreej
(۳۱۹) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۴۸(انظر: ۱۷۴۷۳)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس ؓ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انھوں نے ان کو سیدنا عوف ؓ کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: جی عوف نے سچ کہا ہے، پھر انھوں نے کہا: اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔
فوائد: …قرآن مجید، تفاسیر، احادیث، تشریحات اور مفتیانِ امت کے فتاوی جات، ان چیزوں کا لائبریریوں میں موجود ہونا اور بات ہے اور لوگوں کا شرعی علم اور اس کا فہم حاصل کر کے لوگوں کی اصلاح کرنا اور بات ہے۔
حضرات! شرعی علم حاصل کرنا، یہ ایک فکر ہے، یہ ایک منہج ہے، اس مقصد کے لیے تگ و دو کرنے کا مطلب اپنے آپ کو پابند کرنا ہے، بار بار نیت کو درست کرنا ہے۔ نیز اس نقطے پر غور کرنا ہے کہ شرعی علم کے حصول کا مقصد کیا ہے، اگر اپنی اور امت کی اصلاح مطلوب ہو تو مبارک، لیکن اگر بیچ میں نمود و نمائش، ریاکاری، شخصیت کو نمایاں کرنے، لوگوں کی طرف سے تعریف وصول کرنے اور دنیا حاصل کرنے کی بد بو آنے لگ گئی تو رفعتیں پستیوں میں بدل جاتی ہیں۔اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ عمل بھی علم ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریعت کا اصل مطلوب تو عمل ہی ہے، البتہ اس مقصود کے حصول کے لیے علم ضروری ہے، جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو، وہ اہل علم کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، عمل سے مراد فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے۔
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس ؓ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانۂ نزولِ قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ظاہر کی دی جائیں گی، سوالات گزشتہ اللہ نے معاف کر دیئے اور اللہ بڑی مغفرت والابڑے حلم والا ہے۔ (سورۂ مائدہ:۱۰۱) ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدّو کے پاس گئے اور یہ کام کروانے کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا ہے، پھر ہم نے اس سے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال کر، پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں،لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
فوائد: …علم شرعی کا فقدان، اگرچہ محدثین اور سلف صالحین نے بھی اپنے ادوار کو ان احادیث کا مصداق بنائے رکھا، لیکن جس دور سے ہمارا تعلق ہے، ہم صرف اس کو دیکھ کر اپنے اندر فکر پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم جس زمانے سے گزر رہے ہیں، اس میں شرعی علوم کا بڑا فقدان ہے، محقق اور مفکر اہل علم تیزی سے دنیائے فانی سے کوچ کر رہے ہیں، عجیب انداز میں اسلامی فقاہت کو عوام الناس کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، جن مساجد و مدارس نے راسخ العلم افراد کو تیار کرنا تھا، ان کے متخرجین کا علم شرعی اور فقۂ اسلامی کے ساتھ سرسری سا تعلق ہوتا ہے۔ جن وکیل،پروفیسر اور سکالر حضرات کو شرعی مسائل دریافت کرنے کیلئے منتخب کیا جاتا ہے، وہ سرے سے عربی زبان سے ہی ناواقف ہوتے ہیں، رہا مسئلہ کہ شرعی علوم کے ساتھ ان کا کتنا اور کیا تعلق ہوتا ہے، اس عجوبے کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔دورِ حاضر میں پاکستان میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز عروج پر ہیں، اگرچہ یہ بڑی ڈگریوں کے نام ہیں، لیکن میں اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر بات کر رہا ہوں کہ شعبۂ علوم اسلامیہ کی ان ڈگریوں کا قرآن و حدیث کے علم اور فقۂ اسلامی کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا بندۂ غریب کسی کے ڈاکٹر آف فلاسفی ہونے سے کسی صورت میں متأثر نہیں ہو گا۔ اسلامیات اور عربی سے متعلقہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی جس مخلوط کلاس میں بے پردگی کی بدترین صورتحال ہو، جبکہ بے پردہ لڑکیوں کی صورتحال کسی دلہن سے کم نہ ہو، دونوں جنسوں کی نگاہیں محفوظ نہ ہوں، نماز جیسے سب سے عظیم اسلامی شعار کیلئے وقفہ ہی نہ کیا جاتا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جہاں نماز کو ترک کر دینا عار نہ سمجھا جاتا ہے، ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں کہ ایک دن ایک یونیورسٹی کی ایم فل اسلامیات کی کلاس کے بیس طلبہ میں سے اٹھارہ افراد نے نماز عصر ترک کر دی تھی، ایک دن ایک نوجوان لڑکی ڈائیس پر آ کر اسلام سے متعلقہ اپنی اسائنمنٹ پیش کر رہی تھی، آہستہ آہستہ اس کا دوپٹہ سر سے اتر گیا، جب اس نے دوپٹہ سیدھا کرنے کے لیے بازو اٹھایا تو اس کے سینے کی بے پردگی ہونے لگی، جبکہ سارے حاملینِ علم اس کو یوں تک رہے تھے، جیسے عنقریب ان سے اس کی شکل پر انٹرویو لیا جانے والا ہو۔ (العیاذ باللہ)،جہاں دوسرے لڑکوں کے سامنے قرآن و حدیث کے علوم سے مزین اور شریعت کے پابند فرد کو مولوی صاحب کہہ کر اس کے علم و عمل اور شکل و صورت کے ساتھ استہزاء کیا جاتا ہو، جس ماحول میں بڑی داڑھی والوں کو قدامت پرست اور بے پردہ لڑکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنے والے کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہ کرنے والا سمجھ کر قابل مذمت سمجھا جاتا ہو، کسی امام سے دریافت کر کے بتائیں کہ کیا شریعت ِ اسلامیہ ایسے علمی ماحول میں پلنے والے کو مفتی تسلیم کر سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ اس اہل ہوں گے کہ امت ِ اسلامیہ کی قیادت کر سکیں، لیکن ایسے لوگوں کو لچکدار اور مصلحت پسند قرار دے کر ان کی آراء کو حتمی طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، ذہن نشین کر لیں کہ جن حقائق کی بنا پر میں نے یہ گزارشات پیش کی ہیں، ان کو یہاں بیان کردینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ حضرات قرآن مجید اور اسلام کو اچھے انداز میں پیش کرنا اور بات ہے اور قرآن و حدیث کا علم وفہم حاصل کر کے ان پر عمل کرنا اور بات ہے۔ بہرحال شرعی علم کا شدید فقدان ہے، لوگوں نے اسلام کی اصطلاح میں جاہلوں سے مسائل دریافت کرنا شروع کر دئیے ہیں، جس کا نتیجہ گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ اسلامی علوم کے حقیقی خادم اسلامی مدارس ہیں، اِن مدارس کے منتظمین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ سلف صالحین کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اور دنیاداری سے اجتناب کر کے اپنے طلبہ کو علم شرعی سے مزین کریں اور ان میں خدمت ِ اسلام کا جذبہ اجاگر کریں۔