TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علم کے ابواب - علم کے ابواب - Book 4 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 4 of Musnad Ahmad, with 18 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 18 Chapters
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
۔ (۲۹۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ، مَنْ کتَبَ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۱)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے قرآن کے سوال کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔
Takhreej
(۲۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۰۴ (انظر: ۱۱۰۸۵)
293
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
۔ (۲۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا نَکْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا تَکْتُبُوْنَ؟۔)) فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْکَ، فَقَالَ: ((أَ کِتَابٌ مَعَ کِتَابِ اللّٰہِ؟ أَمْحِضُوْا کِتَابَ اللّٰہِ،أَ کِتَابٌ مَعَ کِتَابِ اللّٰہِ؟ أَمْحِضُوْا کِتَابَ اللّٰہِ وَخَلِّصُوْہُ۔)) قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا کَتَبْنَا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاہُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ نَتَحَدَّثُ عَنْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنِّیْ وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔))قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَاِنَّکُمْ لَا تُحَدِّثُوْنَ عَنْہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا وَقَدْ کَانَ فِیْھِمْ أَعْجَبُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صر ف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلادیا، پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاںتم مجھ سے بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاں، بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان سے جو بھی بیان کرو، بہرحال ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہو گی۔
Takhreej
(۲۹۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ مختصرا البزار: ۱۹۴(انظر: ۱۱۰۹۲)
Explanation
فوائد: …بنی اسرائیل کی روایات کو بیان کرنے یا نہ کرنے کی وضاحت حدیث نمبر (۳۰۰) کے باب میں ہو گی۔
294
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
۔ (۲۹۵)۔عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍؓ عَلَی مُعَاوِیَۃَؓ فَحَدَّثَہُ حَدِیْثًا فَأَمَرَ اِنْسَانًا أَنْ یَکْتُبَ فَقَالَ زَیْدٌ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ نَکْتُبَ شَیْئًا مِنْ حَدِیْثِہِ فَمَحَاہُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۱۲)
عبد المطلب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت ؓ، سیدنا معاویہ ؓ کے پاس گئے اور ان کو ایک حدیث بیان کی، انھوں نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ یہ حدیث لکھ لیں، لیکن سیدنا زید ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے، پس انھوں نے اس کو مٹا دیا۔
Takhreej
(۲۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبدالمطلب بن عبداللہ لم یسمع من زید بن ثابت۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۴۷(انظر: )
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف قرآن کو لکھنے کا حکم دیا اور احادیث کو لکھنے سے منع کر دیا، اس کی مزید وضاحت اگلے باب میں آ رہی ہے۔
295
Zaeef
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
۔ (۲۹۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ (یَعْنِی بْنَ الْعَاصِؓ) قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ أَسْمَعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُرِیْدُ حِفْظَہُ فَنَہَتْنِیْ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: اِنَّکَ تَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ تَسْمَعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشَرٌ یَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَا، فَأَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اکْتُبْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا خَرَجَ مِنِّیْ حَقٌّ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے جو چیز سنتا تھا، اس کو یاد کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، لیکن قریشیوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو ایک بشر ہیں اور غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے رہتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھ سے صرف حق کا صدور ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۴۶(انظر: ۶۵۱۰)
Explanation
فوائد: …حافظ ابن قیم نے تہذیب مختصر سنن ابو داود: ۵/ ۲۴۵ میں کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا احادیث لکھنے سے منع کرنا اوراس کی اجازت دینا، یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں، لیکن اجازت والی احادیث ناسخ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا: ابو شاہ کے لیے (میرا خطبہ) لکھ دو۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکو لکھنے کی اجازت دی تھی اور اجازت والا یہ واقعہ منع والی حدیث کے بعد پیش آیا تھا، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓنے احادیث کی کتابت کو جاری رکھا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کے پاس احادیث ِ نبویہ پر مشتمل ان کی کتاب بھی تھی، جس کو صحیفۂ صادقہ کہتے ہیں، اگر نہی والی احادیث متأخر ہوتیں تو سیدنا عبد اللہ ؓنے ان احادیث کو مٹا دینا تھا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر چیزوں کو مٹا دینے کا حکم دیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ چونکہ انھوں نے لکھی ہوئی احادیث کو نہیں مٹایا، بلکہ ان کو برقرار رکھا، اس لیے اس سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنے کی اجازت دینے کا واقعہ بعد میں پیش آیا، یہ بات بالکل واضح ہے، والحمد للّٰہ۔
296
Sahih
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
۔ (۲۹۷)۔عَنْ مُجَاہِدٍ وَالْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَا: سَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: مَا کَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا مَا کَانَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (یَعْنِیْ بْنَ الْعَاصِؓ) فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ بِیَدِہِ وَیَعِیْہِ بِقَلْبِہِ وکُنْتُ أَعِیْہِ بِقَلْبِیْ وَلَا أَکْتُبُ بِیَدِیْ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکِتَابِ عَنْہُ فَأَذِنَ لَہُ۔ (مسند أحمد:۹۲۲۰)
مجاہد اور مغیرہ بن حکیم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدناابو ہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کومجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔
Takhreej
(۲۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۳ (انظر: ۹۲۳۱)
297
Sahih
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
۔ (۲۹۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: لَیْسَ أَحَدٌ أَکْثَرَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ وَکُنْتُ لَا أَکْتُبُ۔ (مسند أحمد: ۷۳۸۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں تھا، ما سوائے سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔
Takhreej
(۲۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
298
Sahih
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
۔ (۲۹۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ: قَالَ لِیْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أُکْتُبْ عَنِّیْ وَلَوْ حَدِیْثًا وَاحِدًا مِنْ غَیْرِ کِتَابٍ فَقُلْتُ: لَا وَلَا حَرْفًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۱۷)
یحییٰ بن معین کہتے ہے: امام عبد الرزاق نے مجھ سے کہا: مجھ سے لکھو، اگرچہ ایک حدیث ہی ہو، لیکن میرے پاس کتاب نہیں ہے۔ میں (یحییٰ) نے کہا: جی نہیں، ایک حرف بھی نہیں لکھوں گا۔
Takhreej
(۲۹۹) تخریج: اثر صحیح (انظر: ۱۴۱۷۰)
Explanation
فوائد: …امام یحییٰ بن معین نے امام عبد الرزاق جیسے جلیل القدر اور وسیع العلم محدث کے حفظ سے احادیث کو لکھنا گوارا نہیں کیا، یہ صرف اس شبہ کی بنا پر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی حدیث کے معاملے میں خلط ملط اور بھوک چوک میں نہ پڑ گئے ہوں، ان امور کی بنیاد احتیاط تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دور میں احادیث ِ مبارکہ لکھنے کا سلسلہ عام تھا۔ اس باب کی اور دیگر کئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ احادیث ِ نبویہ کو لکھنے کا حکم دیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خود بھی کئی احادیث لکھوائیں، نیز بعض صحابہ کرام نے احادیث ِ طیبہ کے صحیفے تیار کیے، مثال کے طور پر: صحیفۂ سعد بن عبادہ، صحیفۂ جابر بن عبد اللہ، صحیفۂ سیدہ عائشہ، صحیفۂ اسماعء بنت عمیس، صحیفۂ عبد اللہ عمر ، صحائف عبداللہ بن عباس، صحیفۂ زید بن ارقم، صحیفۂ زید بن ثابت، صحیفۂ سلمان فارسی، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سہل بن سعد ساعدی ۔ لیکن پچھلے باب کی احادیث میں کتابت ِ حدیث سے منع کیا گیا ہے، اِن میں جمع و تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: (۱) احادیث کو قرآن مجید کے ساتھ لکھنے سے منع کیا گیا تھا، تاکہ قرآن اور غیر قرآن کااختلاط واقع نہ ہو جائے، دونوں کو علیحدہ علیحدہ لکھنے کی اجازت تھی۔ (۲) شروع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے احادیث کو لکھنے سے منع کردیا تھا، لیکن بعد میں جب التباس کا خطرہ ٹل گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے احادیث کو لکھنے کی عام اجازت دے دی تھی، اس صورت کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی آخری حیات ِ مبارکہ میں احادیث لکھنے کی مثالیں موجود ہیں، مثلا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ کے موقع پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جب ابو شاہ یمنی نے یہ مطالبہ کیا کہ میرے لیے یہ خطبہ لکھوا دیا جائے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے صحابہ کے حفظ پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا: ((اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ شَاہٍ)) … میرے صحابہ! یہ خطبہ ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ بعد میں تو لکھنے کا ایسا رواج پڑا کہ گویا احادیث ِ نبویہ اور ان کے لکھنے کو لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا۔
299
Sahih
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
۔ (۳۰۰)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ فَاِنَّہُمْ لَنْ یَہْدُوْکُمْ وَقَدْ ضَلُّوْا، فَاِنَّکُمْ اِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوْا بِبَاطِلٍ أَوْ تُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ، فَاِنَّہُ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ مَا حَلَّ لَہُ اِلَّا أَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۸۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ ہرگزتمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، جبکہ وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنا پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، پس بیشک اگر موسیؑ بھی تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا، مگر میری پیروی کرنا۔
Takhreej
(۳۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید۔ أخرجہ البزار: ۱۲۴، وابویعلی: ۲۱۳۵، والبیھقی: ۲/ ۱۰(انظر: ۱۴۶۳۱)
300
Zaeef
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
۔ (۳۰۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمبِکِتَابٍ أَصَابَہُ مِنْ بَعْضِ أَھْلِ الْکِتَابِ فَقَرَأَہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَغَضِبَ فَقَالَ: ((أَمُتَہَوِّکُوْنَ فِیْھَا یَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً، لَا تَسْأَلُوْہُمْ عَنْ شَیْئٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہِ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَوْ أَنَّ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلَّا أَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۲۳)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓایک کتاب لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے، وہ ان کو کسی اہل کتاب سے ملی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پڑھنا شروع کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تو غصہ آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عمر بن خطاب! کیا تم اپنی شریعت کے بارے میں شک میں پڑ گئے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس ایسی شریعت لے کر آیا ہوں، جو واضح، صاف (اور شک و شبہ سے پاک) ہے، اِن اہل کتاب سے سوال نہ کیا کرو، وگرنہ ایسے ہو سکتا ہے کہ وہ تم کو حق بات بتلائیں اور تم اس کو جھٹلا دو یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تم کو باطل بات بتلائیں اور تم اس کی تصدیق کردو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیؑ زندہ ہوتے تو ان کو بھی صرف میری پیروی کرنے کی گنجائش ہوتی۔
Takhreej
(۳۰۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
301
Zaeef
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
۔ (۳۰۲)۔عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ مَرَرْتُ بِأَخٍ لِیْ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَتَبَ لِیْ جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاۃِ، أَ لَا أَعْرِضُہَا عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ لَہُ: أَ لَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَّمَدٍ رَسُوْلًا، قَالَ: فَسُرِّیَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَوْ أَصْبَحَ فِیْکُمْ مُوْسٰی ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ، اِنَّکُمْ حَظِّیْ مِنَ الْأُمُمِ وَ أَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۵۸)
سیدنا عبد اللہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے میرا گزر ہوا، پس اس نے میرے لیے تورات کی اہم اہم باتیں لکھ دیں، کیا میں ان کو آپ پر پیش کروں؟ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا چہرہ متغیر ہونا شروع ہو گیا، سیدنا عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر ؓ سے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر کیا تبدیلی آئی ہے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے (غصے والی کیفیت) ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؟ اگر موسیؑ بھی تم میں آجائیں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے، بیشک تم امتوںمیں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں۔
Takhreej
(۳۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی وفیہ اضطراب۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۱۰۱۶۴، والبیھقی فی الشعب : ۵۲۰۱(انظر: ۱۵۸۶۴)
302
Zaeef
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
۔ (۳۰۳)۔عن أَبِیْ نَمْلَۃَ الْاَنْصَارِیِّؓ أَنَّہُ بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھَلْ تَتَکَلَّمُ ہٰذِہِ الْجَنَازَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَللّٰہُ أَعْلَمُ۔))قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: أَنَا أَشْہَدُ أَنَّہَا تَتَکَلَّمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا حَدَّثَکُمْ أَھْلُ الْکِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوْہُمْ وَلَا تُکَذِّبُوْہُمْ، وَقُوْلُوْا: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ، فَاِنْ کَانَ حَقًّا لَمْ تُکَذِّبُوْہُمْ وَاِنْ کَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۵۷)
سیدنا ابو نملہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک یہودی آدمی آ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ جنازے کلام کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اُس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو کوئی ایسی چیز بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کیا کرو اور نہ تکذیب، بلکہ اس طرح کہہ دیا کرو: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ (ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔) پس اگر وہ حق ہوا تو تم نے اس کو جھٹلایا نہیں اور اگر وہ باطل ہوا تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
Takhreej
(۳۰۳) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۴۴ (انظر: ۱۷۲۲۵)
Explanation
فوائد: …اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو گی۔
303
Sahih
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
۔ (۳۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً، وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۰۶)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے آگے پہنچاؤ، اگرچہ وہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جس نے مجھ پر جان بوجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۰۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۶۱ (انظر: ۷۰۰۶)
304
Sahih
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
۔ (۳۰۵)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَاِنَّکُمْ لَا تُحَدِّثُوْنَ عَنْہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا وَقَدْ کَانَ فِیْھِمْ أَعْجَبُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نبی اسرائیل سے بیان کرسکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، تم بنی اسرائیل سے بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پس بیشک تم ان سے جو چیز بھی بیان کرو گے، ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز امور پائے جاتے ہوں گے۔
Takhreej
(۳۰۵) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ مختصرا البزار: ۱۹۴ (انظر: ۱۱۰۹۲)
Explanation
فوائد: …یہ دو باب مختلف مفہوم رکھنے والی احادیث پر مشتمل ہیں، ایک باب میں بنی اسرائیل کی روایات سے منع کیا جا رہا ہے ، جبکہ دوسرے باب میں اجازت دی جا رہی ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورتیں یہ ہیں:اخبار و قصص سے متعلقہ اور سبق آموز روایات بیان کرنا درست ہے لیکن یہ چیز ممنوعہ امور میں سے ہیں کہ ان کی احکام پر مشتمل روایات بیان کی جائیں یا ان کو اس انداز میں بیان کیا جائے کہ گویا ان سے حجت پکڑی جا رہی ہو یا قرآن و حدیث کو کافی نہ سمجھتے ہوئے ان کی تعلیم دی جائے یا ان کی وجہ سے اسلامی تعلیمات میںشک ہونے لگے، لیکن یہ شق بھی ضروری ہے کہ اگر ہماری شریعت نے ان کی روایات کی تصدیق یا تکذیب نہ کی ہو تو نہ ان روایات کو سچا سمجھا جائے اور نہ جھوٹا۔
305
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۰۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ یُحَدِّثُوْنَکُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِیْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَائُ کُمْ، فَاِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ! لَا یَفْتِنُوْنَکُمْ۔)) (مسند أحمد:۸۵۸۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں دجال اور جھوٹ لوگ پیدا ہوں گے، وہ تم کو ایسی نئی نئی احادیث بیان کریں گے، جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں ڈال دیں۔
Takhreej
(۳۰۶) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرج مسلم فی مقدمۃ صحیحہ: ۶ نحوہ(انظر: ۸۵۹۶)
306
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۰۷)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ رَوٰی عَنِّیْ حَدِیْثًا وَھُوَ یَرٰی أَنَّہُ کَذِبٌ فَہُوَ أَحَدُ الْکَاذِبِیْنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الْکَذَّابِیْنَ۔)))۔ (مسند أحمد: ۲۰۴۲۵)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال یہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
Takhreej
(۳۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ مسلم فی مقدمۃ صحیحہ: ۱/ ۹، وابن ماجہ: ۳۹(انظر: ۲۰۱۶۳)
307
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۰۸)۔عَنِ الُمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ::؛)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۰۸) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۶۲، وابن ماجہ: ۴۱(انظر: ۱۸۱۸۴)
308
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۰۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِتَّقُوْا الْحَدِیْثَ عَنِّی اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَاِنَّہُ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۷۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے احادیث بیان کرنے سے بچو، مگر وہ جن کا تم کو علم ہو، پس بیشک جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الاعلی بن عامر الثعلبی۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۵۱، ولقولہ: انہ من کذب … شواھد یصح بھا (انظر: ۲۹۷۴)
309
Zaeef
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۱۰)۔عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلَی ھٰذَا الْمِنْبَرِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَدِیْثِ عَنِّیْ، مَنْ قَالَ عَلَیَّ فَـلَا یَقُوْلَنَّ اِلَّا حَقَّا أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۹۰۶)
سیدنا ابو قتادہ ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: لوگو!مجھ سے کثرت سے احادیث بیان کرنے سے بچو، جو آدمی میرے حوالے سے کوئی بات کرے تو وہ صرف حق اور سچ کہے، پس جس نے میری طرف وہ بات منسوب کر دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۱۰) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵ (انظر: ۲۲۵۳۸)
310
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۱۱)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَدِّثُوْا عَنِّیْ وَلَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ)) (مسند أحمد: ۱۱۴۴۴)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۰۴ (انظر: ۱۱۴۲۴)
311
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۳۱۲)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ مَیْمُوْنٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ أبامُوْسَی الْغَافِقِیَّؓ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّؓ یُحَدِّثُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَادِیْثَ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا لَحَافِظٌ أَوْ ہَالِکٌ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ آخِرُ مَا عَہِدَ اِلَیْنَا أَنْ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بکِتَابِ اللّٰہِ، وَسَتَرْجِعُوْنَ اِلَی قَوْمٍ یُحِبُّوْنَ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّیْ شَیْئًا فَلْیُحَدِّثْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۵۴)
یحییٰ بن میمون حضرمی کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی غافقی ؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو منبر پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسی نے کہا: یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔
Takhreej
(۳۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، یحییٰ بن میمون الحضرمی لم یسمعہ من ابی موسی الغافقی، بینھما وداعۃ الغافقی وھو مجھول۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۶۵۷، والبزار: ۲۱۶، والحاکم: ۱/ ۱۱۳(انظر: ۱۸۹۴۶)
312
Zaeef

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.