TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5940 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
۔ (۵۹۳۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُہْدَۃُ الرَّقِیْقِ أَرْبَعُ لَیَالٍ)) قَالَ قَتَادَۃُ: وَأَھْلُ الْمَدِیْنَۃِیَقُوْلُوْنَ: ثَلَاثُ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۹۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار دنوں کے بعد (غلام کی) کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
5940
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۵۹۴۰) تخریج: انظر الحدیث السابق

Related Chapters

225
1
غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے
Sunnan Ibn e Maja
2
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
3
ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان
Musnad Ahmad
4
غلام کو واپس لینے کی ذمے داری کی مدت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
5
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Charity Due On Horses And Slaves
باب: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ کے نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Dowry Of The Baghi
باب: زانیہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been related About The Sale Of A Mudabbar
باب: مدبر غلام کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Buying A Slave In Exchange For Two Slaves
باب: ایک غلام کو دو غلام سے خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Mukatab Who Has What Wil Fulfill (His Release)
باب: مکاتب غلام کا بیان جس کے پاس اتنا ہو کہ کتابت کی قیمت ادا کر سکے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Earning Of The Cupper
باب: پچھنا لگانے والے کی کمائی کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Permitting The Earnings Of A Cupper
باب: پچھنا لگانے والے کی کمائی کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Separate Brothers, And A Mother And Her Child In Sales
باب: غلاموں کی بیع میں دو بھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Someone Who Purchases A Slave And He Profited From him, Then He Found A Defect In Him
باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About A Slave Owned By Two Men And One Of Them Frees His Portion Of Him
باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About One Who Frees His Slaves When He Dies, While He Has No Wealth Aside From Them
باب: آدمی مرتے وقت اپنے غلاموں کو آزاد کر دے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Killed His Slave
باب: اپنے غلام کو قتل کر دینے والے شخص کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Punishment Of The Sodomite
باب: اغلام باز کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Reward For Freeing A Slave
باب: غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Freeing Slaves
باب: غلام اور لونڈی آزاد کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Does The Slave Recieve A Share ?
باب: مال غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Assurance Of Protection Granted By A Woman And A Slave
باب: غلام اور عورت کو امان دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About A Slave's Pledge
باب: غلام کی بیعت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Mujahid, The One Getting Married, And The Mukathib, And Allah's Help For Them
باب: مجاہد، شادی کرنے والے اور مکاتب غلام کے لیے مدد الٰہی کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Righteous Slave
باب: نیک سیرت غلام کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: غلام کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What has been Related About A Man Giving Charity Or Freeing A Slave At The Time Of His Death
باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: The Reign of a Man among the Mawali called Jahjah
باب: جہجاہ نامی غلام کی حکمرانی کے بارے میں پیش گوئی
Jam e Tirmazi
31
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
Mishkat
32
غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
33
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
Musnad Ahmad
34
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
35
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
36
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
Musnad Ahmad
37
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
Musnad Ahmad
38
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
39
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
40
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
Musnad Ahmad
41
غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
43
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
Musnad Ahmad
44
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
45
اس غلام کی وعید کا بیان جو اپنی نماز میں کمی کرتا ہے، یا غیر مالک کو مالک ظاہر کرتا ہے، یا چوری کرتا ہے، یا بھاگ جاتا ہے
Musnad Ahmad
46
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
47
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
Musnad Ahmad
48
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
Musnad Ahmad
50
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Musnad Ahmad
5939
۔ (۵۹۳۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُہْدَۃُ الرَّقِیْقِ أَرْبَعُ لَیَالٍ)) قَالَ قَتَادَۃُ: وَأَھْلُ الْمَدِیْنَۃِیَقُوْلُوْنَ: ثَلَاثُ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۹۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلام کی ذمہ داری چارراتوں تک ہے۔ جبکہ قتادہ کہتے ہیں: اہل مدینہ کے نزدیک تین راتیںہیں۔
Musnad Ahmad
3368
۔ (۳۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی عُمَرَ الْغُدَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَالِسًا فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ ابْنِ صَعْصَعَۃَ، فَقِیْلَ لَہُ: ہَذَا أَکْثَرُ عَامِرِیٍّ مَالاً، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: رُدُّوْہُ إِلَیَّ فَرَدُّوْہُ عَلَیْہِ، فَقَالَ نُبِّئْتُ أَنَّکَ ذُوْمَالٍ کَثِیْرٍ؟ فَقَالَ الْعَامِرِیُّ: وَاللّٰہِ! إِنَّ لِیْ مِائۃَ حُمْرٍ وَمِائَۃَ أُدْمٍ، حَتّٰی عَدَّ مِنْ أَلَوانِ الإِبِلِ وَأَفَنََانِ الرَّقِیْقِ وَرِبَاطِ الْخَیْلِ، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِیَّاکَ وَأَخْفَافَ الإِبِلِ وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ، یُرَدِّدُ ذَالِکَ عَلَیْہِ حَتّٰی جَعَلَ لَوْنُ الْعَامِرِیِّ یَتَغَیَّرُ أَوْ یَتَلَوَّنُ، فَقَالَ: مَا ذَاکَ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ!؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ إِبِلٌ لَا یُعْطِیْ حَقَّہَا (فَذَکَرَ مِثْلَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) وَإِذَا کَانَتْ لَہُ بَقَرٌ لاَ یُعْطِیْ حَقَّھَا فِی نَجْدَتِہَا وَرِسْلِہَا فَإِنَّہَا تَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغَذِّ مَا کَانَتْ وَأَکْبَرِہِ وَأَسْمَنِہِ وَأَسَرِّہُ، ثُمَّ یُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُہٗ فِیْہِ کُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِہَا وَتَنْطَحُہُ کُلُّ ذَاتٍ قَرْنٍ بِقَرْنِہَا، إِذَا جَاوَزَتْہُ أُخْرَاہَا أُعِیْدَتْ عَلَیْہِ أُوْلَاہَا فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ أَلْفَ سَنَۃٍ حََتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَرٰی سَبِیْلَہُ، وَإِذَا کَانَتْ لَہُ غَنَمٌ، (فَذَکَرَ نَحْوَالْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) فَقَالَ الْعَامِرِیُّ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ!؟ قَالَ أَنْ تُعْطِیَ الْکَرِیْمَۃَ وَتَمْنَحَ الْغَزِیْرَۃَ وَتُفْقِرَالظَّہْرَ، وَتَسْقِیَ اللَّبَنَ وَتُطْرِقَ الْفَحْلَ۔ (مسند احمد: ۱۰۳۵۵)
ابوعمر غدانی کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس کے بارے میں ان کو بتایا گیا کہ یہ اپنے قبیلہ کا امیر ترین آدمی ہے، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اسے میرے پاس بلائو، لوگوں نے اسے بلایا، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کافی مالدار ہو؟ عامری نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میرے پاس ایک سو گدھے اور ایک سو سفید رنگ کے اونٹ ہیں، پھر اس نے مختلف قسم کے اونٹوں، غلاموں اور گھوڑوں کا ذکر کیا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: تم ذرا اونٹوں کے پائوں اور بکریوں کے کھروں سے بچ کر رہنا۔ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اتنی بار یہ بات دوہرائی کہ اس عامری کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا، بالآخر اس نے کہا: اے ابوہریرہ! بھلا آپ کی اس بات کا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے، … … (پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی) اورجس کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگدستی و خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن خوب ہوشیار بن کر اور خوب موٹی تازی ہو کر آئیں گی، پھر ان کے لیے ایک چٹیل میدان تشکیل دیا جائے گا (اس مالک کو وہاں لٹا دیا جائے گا)، وہ گائیں اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی، جب آخری گائے گزر جائے گی تو پہلی کو دوبارہ لایا جائے گا، (یہ سزا اس وقت تک ہوتی رہے گی) جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے، جبکہ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ (جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف)۔ اور جس کے پاس بکریاں ہوں، … …(گزشتہ حدیث کی مانند حدیث ذکر کی)عامری نے کہا:اے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اونٹوں کا حق یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرتے وقت بہترین اونٹ ادا کرو، دودھ والا جانور کسی کو عاریۃً دے دیا کرو، ضرورت مند کو سواری کے لیے اونٹ دیا کرو، اسی طرح دودھ بھی لوگوں کو پلایا کرو اور جفتی کے لیے بھی عاریۃً نر اونٹ دے دیا کرو۔
Musnad Ahmad
3397
۔ (۳۳۹۷) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَأْخُذُ مِنَ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ صَدَقَۃً۔ (مسند احمد: ۱۱۳)
سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ وصول نہیں کی۔
Musnad Ahmad
3400
۔ (۳۴۰۰)عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ وَلَا صَدَقَۃَ فِیْہِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کرتا ہوں، ان میں کوئی زکوۃ نہیں۔
Musnad Ahmad
3402
۔ (۳۴۰۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ فَہَاتُوْاصَدَقَۃَ الرِّقَۃِ مِنْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ دِرْہَمًا دِرْہَمًا وَلَیْسَ فِی تِسْعِیْنَ وَمِائَۃٍ شَیْئٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مَائَتَیْنِ فَفِیْہَا خَمْسَۃُ دَرَاہِمَ۔)) (مسند احمد: ۷۱۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے،البتہ تم چاندی کے ہر چالیس درہموں میں سے ایک درہم بطور زکوۃ ادا کیا کرو،اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکوۃ نہیں ہے، جب وہ دو سو درہم ہو جائے تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔
Musnad Ahmad
3403
۔ (۳۴۰۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ مِائَتَیْنِ زَکَاۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۱۳)
(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم (چاندی) میں بھی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
6328
۔ (۶۳۲۸)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّۃَ مَمْلُوْکِیْنَ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ وَلَیْسَ لَہُ مَالٌ غَیْرُھُمْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّیَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِیْقِ فَجَزَّأَھُمْ ثَلَاثَۃَ أَجْزَائٍ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰۶)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔