۔ (۴۰۷۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالرَّوْحَائِ، فَلَقِیَ رَکْبًا فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((مَنِ الْقَوْمُ؟)) قَالُوْا: اَلْمُسْلِمُوْنَ، قَالُوْا: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ: ((رَسُوْلُ اللّٰہِ۔)) فَفَزِعَتِ امْرَأَۃٌ، فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِیٍّ فَأَخْرَجَتْہُ مِنْ مِحَفَّتِہَا، فَقَالَتْ: یاَ رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ لِہٰذَا حَجٌّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مکہ سے مدینہ کی طرف واپسی کے دوران) روحاء کے مقام پر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک قافلے سے ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سلام کہا اور پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہم مسلمان ہیں ، پھر انہوں نے پوچھا: اور آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر ایک خاتون نے گھبراہٹ کے عالَم میں اپنے بچے کو بازو سے پکڑا اور اس کو پالکی سے نکالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اوراجر تیرے لیے ہو گا۔
Takhreej
(۴۰۷۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۳۶(انظر: ۱۸۹۸)
Explanation
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادائیگی ٔحج کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا، روحاء کا مقام مدینہ منورہ سے چھتیس میل پر واقع ہے۔اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ بچے کا حج اس کو حجۃ الاسلام سے کفایت نہیں کرے گا، یعنی جب وہ بالغ ہونے کے بعد صاحب ِ استطاعت بنے گا تو دوبارہ اس پر حج فرض ہو جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ، ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ، فَعَلَیْہِ اَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً اُخْرٰی، وَاَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ، ثُمْ اُعْتِقَ، فَعَلَیْہِ اَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً اُخْرٰی۔)) …’’جو بچہ حج کرے اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور حج فرض ہو گا، اسی طرح جو غلام حج کرے اور پھر وہ آزاد ہو جائے تو اس پر ایک اور حج فرض ہو گا۔‘‘ (ابن ابی شیبہ، سنن بیہقی، وھو صحیح مرفوعا، انظر: ارواء الغلیل: ۴/ ۱۵۵)
بچے کے حج کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھ دیا جائے گا اور یہ ثواب اس کے باپ یا ماں کو بھی ملے گا جو اس کو حج کروائیں گے، بچے پر دورانِ حج احرام کی پابندیاں عائد ہوں گی، اگر اس کے لیے حج و عمرہ کی نیت اور اس کے الفاظ کی ادائیگی ناممکن ہو تو اس کا باپ یا ماں اس کی طرف سے یہ امور سرانجام دیں گے۔
4079
Sahih