TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9164 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 13 of 17 in this chapter
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۱۶۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسٍ فِیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَاَبِی سَمُرَۃُ جَالِسٌ اَمَامِی۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَیْسَا مِنَ الْاِسْلَامِ، وَاِنَّ اَحْسَنَ النَّاسِ اِسْلَامًا، اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۲۰)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے اور میرے باپ سمرہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بدگوئی اور بدزبانی، اسلام سے نہیں ہے اور اسلام کے لحاظ سے سب سے اچھے لوگ وہ ہیں، جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔
9164
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۱۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۱۴، وابویعلی: ۷۴۶۸، والطبرانی: ۲۰۷۲ (انظر: ۲۰۸۳۱)

Related Chapters

134
1
Chapter: What Has Been Related About Good Character
باب: اخلاق حسنہ کا بیان
Jam e Tirmazi
2
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
5
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
7
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
8
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
Musnad Ahmad
9
تواضع کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
10
توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
Musnad Ahmad
12
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
13
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
14
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
15
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
Sahih Bukhari
16
امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Character Of The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Most Excellent Character
باب: اعلیٰ اخلاق کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What has been Related About Encouraging (To Make) The Will
باب: وصیت کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About What Is Sufficient And Being Patient With It
باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب
Jam e Tirmazi
26
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
27
بَابٌ فِي أَخْلَاقِهِ وَشَمَائِلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم
نبی کریم ﷺ کے اخلاق و عادات کا بیان
Mishkat
28
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
29
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
Musnad Ahmad
30
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
31
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
Musnad Ahmad
32
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
33
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
34
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
Musnad Ahmad
35
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
Musnad Ahmad
36
باہمی صلح جوئی کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
37
عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
38
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
40
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
41
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
43
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
45
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
Musnad Ahmad
46
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
48
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
50
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

30
Musnad Ahmad
57
۔ (۵۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَجْلِسًا لَہُ فَجَائَ جِبْرِیْلُؑ فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِی بِالْاِسْلَامِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((الْاِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْہَکَ لِلّٰہِ وَ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ۔))، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ! فَحَدِّثْنِی مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ الْمَلَائِکَۃِ وَ الْکِتَابِ وَ النَّبِیِّیْنَ وَ تُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَ بِالْحَیَاۃِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ تُؤْمِنَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَ الْحِسَابِ وَالْمِیْزَانِ وَ تُوْمِنَ بِالْقَدْرِ کُلِّہِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔))قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ فَقَدْ آمَنْتَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِی مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْاِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تَرَہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَحَدِّثْنِی مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! فِی خَمْسٍ مِنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا ہُوَ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ بِمَعَالِمَ لَہَا دُوْنَ ذَالِکَ۔))، قَالَ: أَجَلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ فَحَدِّثْنِیْ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا رَأَیْتَ الْأَمَۃَ وَلَدَتْ رَبَّتَہَا أَوْ رَبَّہَا وَ رَأَیْتَ أَصْحَابَ الشَّائِ تَطَاوَلُوْا بِالْبُنْیَانِ وَ رَأَیْتَ الْحُفَاۃَ الْجِیَاعَ الْعَالَۃَ کَانُوْا رُئُ وْسَ النَّاسِ فَذَالِکَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَۃِ وَ أَشْرَاطِہَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّائِ وَالْحُفَاۃُ الْجِیَاعُ الْعَالَۃُ؟ قَالَ: (( الْعَرَبُ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۲۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، اتنے میں جبرائیلؑآ گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بیان کرو کہ وہ کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کر دے اور یہ شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دے دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو یہ اعمال کرے گا تو تو مسلمان ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کِتَابُ پر، نبیوں پر، موت اور موت کے بعددوبارہ زندہ ہونے پر، جنت و جہنم پر، حساب اور میزان پر اور ساری کی ساری تقدیر پر، وہ اچھی ہو یا بری۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ اعمال کروں گا تو مؤمن ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو ایسا کرے گا تو مؤمن ہو جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تو بتلا د و کہ احسان کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح عمل کرے کہ گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، پس اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بیشک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بیان کرو کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، اس کا تعلق تو غیب والی ان پانچ چیزوں سے ہے، جن کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)، البتہ اگر تو چاہتا ہے تو میں تجھے اس کی علامتیں بیان کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بیان کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ یا آقا کو جنم دے گی اور بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور ننگے پاؤں والے بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن جائیں گے، یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکریوں کے چرواہوں اور ننگے پاؤں والے بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عرب۔
Musnad Ahmad
75
۔ (۷۵) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)أَنَّ رَجُلًا جَائَ فَدَخَلَ فِی الْاِسْلَامِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ الْاِسْلَامَ وَہُوَ فِی مَسِیْرِہِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِیْرِہِ فِی جُحْرِ یَرْبُوْعٍ فَوَقَصَہُ بَعِیْرُہُ فَمَاتَ، فَأَتٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) قَالَہَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۷۱)
۔ (تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا ) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے پاس آئے اور فرمایا: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شَق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔
Musnad Ahmad
6376
۔ (۶۳۷۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَامُسَاعَاۃَ فِیْ الْاِسْلَامِ، مَنْ سَاعٰی فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَدْ اَلْحَقْتُہُ بِعَصَبَتِہِ وَمَنِ ادَّعٰی وَلَدَہُ مِنْ غَیْرِ رِشْدَۃٍ فَلَایَرِثُ وَ لَایُوْرَثُ۔)) (مسند احمد: ۳۴۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔
Musnad Ahmad
6637
۔ (۶۶۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ مَاجِدٍ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِاِبْنِ أَخٍ لَہُ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا ابْنَ أَخِیْ وَقَدْ شَرِبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ کَانَ فِی الْاِسْلَامِ، امْرَأَۃٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ یَدُھَا فَتَغَیَّرَ لِذَالِکَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَغَیُّرًا شَدِیْدًا ثُمَّ قَالَ: {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}۔ (النور: ۲۲) (مسند احمد: ۳۷۱۱)
۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
Musnad Ahmad
8538
۔ (۸۵۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ اِرْتَدَّ عَنِ الْاِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِیْنَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [آل عمران: ۸۶]، فَبَعَثَ بِہَا قَوْمُہٗفَرَجَعَتَائِبًا،فَقَبِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذٰلِکَ مِنْہُ وَخَلّٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاء َھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔}… اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینایہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۶)۔ جب اس کی قوم نے اس تک یہ آیت پہنچائی تو وہ تائب ہو کر واپس آ گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے یہ چیز قبول کر لی اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔
Musnad Ahmad
8982
۔ (۸۹۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا جَائَ ہُ فَقَالَ: اَوْصِنِیْ، فَقَالَ: سَاَلْتَ عَمَّا سَاَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ قَبْلِکَ، اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہٗرَاْسُکُلِّشَیْئٍ، وَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فَاِنَّہُ رَھْبَانِیَّۃُ الْاِسْلَامِ، وَعَلَیْکَ بِذِکْرِ اللّٰہِ وَتَلاوَۃِ الْقُرْآنِ فَاِنَّہُ رَوْحُکَ فِی الْسَّمَائِ وَذِکْرُکَ فِی الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تھا (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہیہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔
Musnad Ahmad
9263
۔ (۹۲۶۳)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلَامِ، وَکاَنَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنَعَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۲)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی زندگی بقدر ضرورت روزی پر مشتمل ہو اور وہ قناعت کرے۔
Musnad Ahmad
9299
۔ (۹۲۹۹)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ، اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ! اِنْ کُنْتُ لَاَعْتَمِدُ بِکَبِدِیْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْجُوْعِ، وَاِنْ کَنْتُ لَاَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطَنِی مِنَ الْجُوْعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ یَوْمًا عَلَی طَرِیْقِھِمُ الَّذِیْیَخْرُجُوْنَ مِنْہُ، فَمَرَّ اَبُوْبَکْرٍ فَسَاَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِّنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا سَاَلْتُہُ اِلَّا لِیَسْتَتْبِعَنِی، فَلَمْ یَفْعَلْ، فَمَرَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَاَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِّنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا سَاَلْتُہُ اِلَّا لِیَِسْتَتْبِعَنِی فَلَمْ یَفْعَلْ، فَمَرَّ اَبُوْ الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَّفَ مَا فِی وَجْھِی، وَمَا فِی نَفْسِی، فَقَالَ: ((اَبَاھُرَیْرَۃَ۔)) قُلْتُ لَہُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((الْحَقْ۔))، وَاسْتَاْذَنْتُ فَاَذِنَ لِی فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِی قَدَحٍ قَالَ: ((مِنْ اَیْنَ لَکُمْ ھٰذَا اللَّبَنُ؟۔)) فَقَالُوْا: اَھْدَاہُ لَنَا فَلَانٌ اَوْ آلُ فَلَانٍ، قَالَ: ((اَبَا ھُرَیْرَۃَ۔))، قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((انْطَلِقْ اِلٰی اَھْلِ الصُّفَّۃِ فَادْعُھُمْ لِی۔))، قَالَ: وَاَھْلُ الصُّفَّۃِ اَضْیَافُ الْاِسْلَامِ، لَمْ یَاْوُوْا اِلیٰ اَھْلٍ وَلَا مَالٍ، اِذَا جَائَ تْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھَدِیَّۃٌ اَصَابَ مِنْھَا، وَبَعَثَ اِلَیْھِمْ مِنْھَا، قَالَ: وَاَحْزَنَنِی ذٰلِکَ، وَکُنْتُ اَرْجُوْا اَنْ اُصِیْبَ مِنَ اللَّبَنِ شَرْبَۃً اَتَقَوٰی بِھَا بَقِیَّۃَیَوْمِی وَلَیْلَتِی، فَقُلْتُ: اَنَا الرَّسُوْلُ فَاِذَا جَائَ الْقَوْمُ کُنْتُ اَنَا الَّذِییُعْطِیْھِمْ فَقُلْتُ: مَا یَبْقٰی لِی مِنْ ھٰذَا اللَّبَنِ ، وَلَمْ یَکُنْ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ وَطَاعَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُدٌّ، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُھُمْ، فَاَقْبَلُوْا، فَاسْتَاْذَنُوْا فَاَذِنَ لَھُمْ، فَاَخْذُوْا مَجَالِسَھُمْ مِنَ الْبَیْتِ ثُمَّ قَالَ: ((اَبَاھِرٍّ! خُذْ فَاَعْطِھِمْ۔))، فَاَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ اُعْطِیْھِمْ، فَیَاْخُذُ الرَّجُلُ الْقَدَحَ فَیَشْرَبُ حَتّٰییَرْوٰی، ثُمَّ یَرُدُّ الْقَدَحَ فَاُعْطِیْہِ الْآخَرَ فَیَشْرَبُ حَتّٰییَرْوٰی، ثّمَّ یَرُدَّ الْقَدْحَ حَتّٰی اَتَیْتُ عَلیٰ آخِرِھِمْ، وَدَفَعْتُ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَہُ فِییَدِہِ وَبَقِیَ فِیْہِ فَضْلَۃٌ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ فَنَظَرَ اِلَیْہِ وَتَبَسَّمَ فَقَالَ: ((اَبَاھِرٍّ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: بَقِیْتُ اَنَا وَاَنْتَ، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((فَاقْعُدْ فَاشْرَبْ۔))، قَالَ: فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِی: ((اِشْرَبْ۔)) فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ یَقُوْلُ لِی: ((اِشْرَبْ۔)) فَاَشْرَبُ حَتّٰی قُلْتُ: لا وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، مَا اَجِدُ لَھَا فِیَّ مَسْلَکًا، قَالَ: ((نَاوِلْنِی الْقَدَحَ۔)) فَرَدَدْتُ اِلَیْہِ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنَ الْفَضْلَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۹۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں بھوک کی وجہ سے اپنے جگر کو زمین پر ٹیک دیتا تھا، اور میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ گزرتے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پا س سے گزرے، میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں (اور کھانا کھلائیں گے)، لیکن انھوں نے ایسے نہ کیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزرے، میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، ان سے بھی سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے، لیکن انھوں نے بھی ایسے نہ کیا، اتنے میں ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گزرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے چہرے اور میرے نفس کی بات پہچان لی اور فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ چلو۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کے اندر چلے گئے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اندر جانے کی اجازت طلب اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت دے دی، پس میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے کہا: جی فلاں یا آل فلاں نے ہمارے لیے تحفہ بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ صفہ والے لوگ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی اہل خانہ تھا اور نہ مال و دولت، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کچھ حصہ ان کو بھی بھیجتے تھے، لیکن اب کی بار تو مجھے اس چیز نے غمگین کر دیا، کیونکہ مجھے امید تھی کہ میں یہ دودھ پیوں گا اور دن رات کا باقی حصہ قوت حاصل کروں گا، لیکن اب مسئلہ یہ بنا ہے کہ قاصد بھی میں ہوں، جب اہل صفہ آ جائیں گے تو میں نے ہی ان کو پلانا ہو گا اور میرے لیے دودھ باقی نہیں رہے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کی اطاعت کے بغیر بھی کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ سو میں گیا اور اُن کو بلا کر لے آیا، پس وہ آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت دے دی، وہ گھر میں آکر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ہر! دودھ پکڑو اور اِن کو پلاؤ۔ پس میں نے پیالہ پکڑا اور اُن کو دینا شروع کیا، ایک آدمی پیالہ پکڑتا اور پیتا،یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا، پھر وہ پیالہواپس کر دیتا اور میں دوسرے کو دیتا، پس وہ پیتا ،یہاں تک سیراب ہو جاتا اور پھر پیالہ واپس کر دیتا،یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ میں آخری بندے تک پہنچ گیا، اور پھر میں نے وہ پیالہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پکڑا اور اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا، ابھی تک اس میں دودھ کی کچھ مقدار باقی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پس اس کی دیکھا اور مسکرانے لگے اور فرمایا: ابو ہر! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور تو، ہم دو باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو بیٹھو اور پیو۔ پس میں بیٹھ گیا اور پیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اور پیو۔ میں نے اور پیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرماتے رہے کہ اور پیو۔ اور میں پیتا رہا، یہاں تک کہ میں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر پیالہ مجھے پکڑا دو۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیالہ دے دیا، پھر باقی ماندہ دودھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پی لیا۔
Musnad Ahmad
9356
۔ (۹۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، اَنَّ رَجُلا لَقِیَ امْرَاَۃً کَانَتْ بَغِیًّا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَجَعَلَ یُلاعِبُھَا، حَتّٰی بَسَطَ یَدَہُ اِلَیْھَا، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: مَہْ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ ذَھَبَ بِالشِّرْکِ، (وَقَالَ: عَفَّانُ مَرَّۃً) ذَھَبَ بِالْجَاھِلِیَّۃِ وَجَائَ نَا بِالْاِسْلَامِ، فَوَلَّی الرَّجُلُ، فَاَصَابَ وَجْھَہُ الْحَائِطُ فَشَجَّہُ، ثُمَّ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ: ((اَنْتَ عَبْدٌ اَرَادَ اللّٰہُ لَکَ خَیْرًا، اِذَا اَرَادََ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجِلَ لَہُ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ،وَاِذَااَرَادَبِعَبِدٍشَرًّااَمْسَکَعَلَیْہِ بِذَنْبِہٖحَتّٰییُوَفَّی بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّہُ عَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میںجلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔