TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان - منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 17 · 6 Hadith
۔ (۶۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ حَتّٰییَدَعَہَا الَّذِیْ خَطَبَہَا أَوَّلَ مَرَّۃٍ اَوْ یَأْذَنَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۶۰۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے، الّا یہ کہ پہلے منگنی کا پیغام بھیجنے والا اس خاتون کو چھوڑ دے یا دوسرے کو بھی اجازت دے دے۔
Takhreej
(۶۸۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۴۲ (انظر: ۶۰۳۶)
Explanation
فوائد:… جب کسی خاتون کا ایک مرد کی طرف میلان ہو جائے اور وہ دونوں شادی کے لیے راضی ہوں، بس صرف نکاح باقی ہو، تو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیادہ حق مہر کی پیش کش کر کے یا اپنے سرمائے یا حسن کا اظہار کر کے اس عورت کو اپنی طرف مائل کر لے۔
6865
Sahih
۔ (۶۸۶۶)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ مُسْلِمٍ یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ حَتَّییَتْرُکَ، وَلَا یَبِعْ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ حَتّٰییَتْرُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۶۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اسی طرح کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، الّا یہ کہ وہ اسے چھوڑ دے۔
Takhreej
(۶۸۶۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۱۴(انظر: ۱۷۳۲۹)
6866
Sahih
۔ (۶۸۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ، وَلَا یَسُوْمُ عَلٰی سَوْمِ أَخِیْہِ، وَلَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَاتَسْأَلُ طَلَاقَ اُخْتِہَا لِتَکْفِیئَ مَا فِیْ صَحْفَتِہَا وَلِتَنْکِحْ، فَاِنَّمَا لَھَا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۱۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پرمنگنی کا پیغام نہ بھیجے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،کسی عورت سے اس کی پھوپھییا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ وہ اس کے پیالے کی چیز کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ بھی نکاح کر لے، بے شک اسے وہ مل کر رہے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے لیے لکھا ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۶۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۰۸(انظر: ۱۰۶۰۵)
6867
Sahih
۔ (۶۸۶۸)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ اَوْ یَبْتَاعَ عَلٰی بَیْعِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۷۶)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔
Takhreej
(۶۸۶۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۹۱۲، والبزار: ۱۴۲۰، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۹۸۹۸ (انظر: ۲۰۱۱۵)
6868
Sahih
۔ (۶۸۶۹)۔ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِیْ زَوْجِیْ ثَلَاثًا فَأَمَرَنِیْ رَُسوْلُ اللّٰـہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِیْ بَیْتِ ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۸۸)
۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
Takhreej
(۶۸۶۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الدارمی: ۲۲۷۵، والطبرانی: ۲۴/ ۹۳۵ (انظر: ۲۷۳۴۵)
Explanation
فوائد:… یہ فاطمہ cابو عمرو بن حفص کی زوجیت میں تھیں۔ دو طلاقیں وہ پہلے دے چکے تھے۔ پھر اس نے تیسری آخری طلاق بھی دے دی۔
6869
Sahih
۔ (۶۸۷۰)۔ ) عَنْ سُفْیَانَ سَمِعَہُ مِنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِی الْجَہْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَحْلَلْتِ فَآذِنِیْنِیْ۔)) فَآذَنْتُہُ فَخَطَبَہَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَانَ وَأَبُو الْجَہْمِ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَامَالَ لَہُ، وَأَمَّا اَبُو الْجَہْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلٰکِنْ اُسَامَۃَ۔))، قَالَ: فَقَالَتْ بَیَدِھَا ھٰکَذَا اُسَامَۃُ تَقُوْلُ لَمْ تُرِدْہُ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((طَاعَۃُ اللّٰہِ وَطَاعَۃُ رَسُوْلِہِ خَیْرٌ لَکِ۔)) فتَزَوَّجَتْہُ فَاغْتَبَطَتْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۶۷)
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔
Takhreej
(۶۸۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۸۰(انظر: ۲۷۳۲۴)
Explanation
فوائد:… آپ a کے الفاظ ’’جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔‘‘ یہ دراصل منگنی کی طرف اشارہ تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ a چاہتے تھے کہ فاطمہ بنت قیس، اسامہ سے شادی کر لے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ’’تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵) یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے ، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6870
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.