TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان - کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 17 · 10 Hadith
۔ (۶۸۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ، وَالْیَتِیْمَۃُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمَتُہَا إِقْرَارُھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۸۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ کی شادی کے معاملے میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری بچی سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۸۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۱۰۰، والنسائی: ۶/ ۸۵ (انظر: ۳۰۸۷)
Explanation
فوائد:… کنواری بچی کی طرح بیوہ خاتون کے نکاح کے لیے بھی ولی کی اجازت ضروری ہے، اس حدیث کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولی کو بیوہ خاتون کے اختیار اور رائے کا بھی خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ اب وہ شادی والی زندگی گزار چکی ہے اور اس کو لوگوں اور ماحول کا اندازہ ہو چکا ہے۔
6883
Sahih
۔ (۶۸۸۴)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ فِیْ نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری بچی سے اس کے نفس کے بارے میں اس سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۱(انظر: ۱۸۸۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں لفظ ’’احق‘‘ میںمشارکت پائی جاتی ہے، یعنی نکاح میں شوہر دیدہ کا حق بھی ہے اور ولی کا بھی اور عورت کے حق کی زیادہ اہمیت ہے، بہرحال دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ نیز درج ذیل حدیث سے ’’احق بنفسھا‘‘ کے معنی کی وضاحت ہو تی ہے۔ سیدنا عدی کندیb بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِی أَنْفُسِھِنَّ۔)) فَقَالَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِھَا بِلِسَانِھَا، وَالْبِکْرُ رِضَاھَا صُمَاتُھَا۔)) (صحیحہ: ۱۴۵۹) … ’’عورتوں سے ان کے نفسوںکے بارے میں مشورہ کیا کرو۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس سے مشورہ کیسے کیا جائے)؟ آپ aنے فرمایا: ’’بیوہ تو اپنے بارے میں خود وضاحت کرتی ہے اور کنواری کی رضامندی اس کا خاموش ہو جانا ہے۔‘‘
6884
Sahih
۔ (۶۸۸۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلثَّیِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا، وَالْبِکْرُ یَسْتَأْمِرُھَا أَبُوْھَا فِیْ نَفْسِہَا وَاِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری کا باپ اس سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… حدیث کے پہلے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ بیوہ کا بھی حق ہے اور اس کے ولی کا بھی حق ہے، ولی کا حق یہ ہے کہ اس کے واسطے کے بغیر نکاح نہ کیا جائے اور بیوہ کا حق یہ ہے کہ جب وہ کسی شخص کو بطورِ خاوند قبول نہ کرے تو اس کو مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ اب اس معاملے میں بیوہ کا حق زیادہ ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ ولی نے ایسی خاتون کی کسی مرد سے شادی کرنا چاہی، لیکن وہ رضامند نہ ہوئی تو اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا اور ولی اپنا ارادہ ترک کر دے، لیکن جب ایسی خاتون کسی مرد سے شادی کرنے پر رضامند ہو جائے گی اور ولی رضامند نہیں ہو گا تو ولی کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ رضامندی کا اظہار کرے اور اس کی شادی کر دے۔
6885
Sahih
۔ (۶۸۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَالثَّیِّبُ تُشَاوَرُ۔))، قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰـہِ! اِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْ، قَالَ: ((سُکُوْتُھَا رَضَاھَا۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور بیوہ سے مشورہ کیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرماتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی رضا ہے۔
Takhreej
(۶۸۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۷۰، ومسلم: ۱۴۱۹(انظر: ۷۴۰۴)
Explanation
فوائد:… بیوہ کا اصل حق یہ ہے کہ اس کی شادی کے بارے میں اس سے مشورہ کیا جائے اور اس کی رائے کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
6886
Sahih
۔ (۶۸۸۷)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلثَّیِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِیْ نَفْسِہَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ۔))، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ إِذْنُہَا؟ قَالَ: ((أَنْ تَسْکُتَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۷)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ سے اس کے بارے میں مشورہ لیا جائے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا۔
Takhreej
(۶۸۸۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6887
Sahih
۔ (۶۸۸۸)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیِّ نِ الْکِنْدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ۔))، فَقَالُوْا: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِہَا بِلِسَانِہَا وَالْبِکْرُ رَضَاھَا صَمْتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۷۶)
۔ سیدنا عدی بن عدی کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرما جاتی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ بول کر اپنے نفس کے بارے میں وضاحت کرے گی اور کنواری کی رضامندی خاموشی ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۷۲ (انظر: ۱۷۷۲۴)
6888
Sahih
۔ (۶۸۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَأْمِرُوْا النِّسَائَ فِیْ إِبْضَاعِہِنَّ۔)) قِیْلَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْ أَنْ تَکَلَّمَ، قَالَ: ((سُکُوْتُہَا إِذْنُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے وجود کی شادی میں مشورہ کیا کرو۔ کسی نے کہا: کنواری بچی تو بات کرنے سے ہی شرماتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۴۶، ۶۹۷۱، ومسلم: ۱۴۲۰ (انظر: ۲۵۶۷۲)
6889
Sahih
۔ (۶۸۹۰)۔ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ یَحْیٰی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یُزَوِّجَ شَیْئًا مِنْ بَنَاتِہِ جَلَسَ إِلٰی خِدْرِہَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًایَذْکُرُ فُلَانَۃًیُسَمِّیہَا وَیُسَمِّی الرَّجُلَ الَّذِییَذْکُرُہَا فَإِنْ ہِیَ سَکَتَتْ زَوَّجَہَا وَإِنْ کَرِہَتْ نَقَرَتْ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْہُ لَمْ یُزَوِّجْہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔
Takhreej
(۶۸۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ایوب بن عتبۃ الیمامی، أخرجہ البیھقی: ۷/ ۱۲۳، وعبد الرزاق: ۱۰۲۷۷، وابویعلی: ۳۸۸۳ (انظر: ۲۴۴۹۴)
6890
Zaeef
۔ (۶۸۹۱)۔ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جَارِیَۃٍیُنْکِحُہَا أَھْلُہَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُسْتَأْمَرُ))، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ لَہُ: فَاِنَّہَا تَسْتَحْیِیْ فَتَسْکُتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَذَالِکَ إِذْنُہَا إِذَا ھِیَ سَکَتَتْ)) (مسند احمد: ۲۵۸۳۸)
۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا : وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔
Takhreej
(۶۸۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۰(انظر: ۲۵۳۲۴)
6891
Sahih
۔ (۶۸۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا ابْنَۃُ سِتِّ سِنِیْنَ(وَفِیْ لَفْظٍ: سَبْعِ سِنِیْنَ) بِمَکَّۃَ مُتَوَفّٰی خَدِیْحَۃَ وَدَخَلَ بِیْ وَأَنَا ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِیْنَ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔
Takhreej
(۶۸۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۹۴، ۵۱۳۳، ۵۱۳۴، ومسلم: ۱۴۲۲، ابوداود!: ۴۹۳۳، ۴۹۳۴ (انظر: ۲۴۸۶۷)
Explanation
فوائد:… نکاح کے وقت سیدہ کی عمر چھ برس اور کچھ ماہ تھی، اسی لیے کبھی اس کسر کو پورا کر کے سات سال کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو چھوڑ کر چھ برس کہا جاتا ہے، ۲؁ھمیں سیدہ عائشہ c کی رخصتی ہوئی تھی۔ ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہc کا انتقال ہوا تھا۔ اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔
6892
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.