۔ (۶۸۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ، وَالْیَتِیْمَۃُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمَتُہَا إِقْرَارُھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۸۷)
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کی شادی کے معاملے میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری بچی سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۸۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۱۰۰، والنسائی: ۶/ ۸۵ (انظر: ۳۰۸۷)
Explanation
فوائد:… کنواری بچی کی طرح بیوہ خاتون کے نکاح کے لیے بھی ولی کی اجازت ضروری ہے، اس حدیث کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولی کو بیوہ خاتون کے اختیار اور رائے کا بھی خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ اب وہ شادی والی زندگی گزار چکی ہے اور اس کو لوگوں اور ماحول کا اندازہ ہو چکا ہے۔
6883
Sahih