۔ (۶۸۷۷)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی عَنِ الْزُھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِذَا نَکَحَتِ الْمَرَأَۃُ بِغَیْرِ أَمْرِ مَوْلَاھَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ، فَاِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُھَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا، فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ۔)) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: فَلَقِیْتُ الزُّھْرِیَّ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَلَمْ یَعْرِفْہُ قَالَ: وَکَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی وَکَانَ فَأَثْنٰی عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ اَبِیْ: السُّلْطَانُ الْقَاضِیْ لِأَنَّ إِلَیْہِ أَمْرَ الْفُرُوْجِ وَالْأَحْکَامِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۰۹)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا،اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر اس آدمی نے اس عورت سے جماع کر لیا،تو اس کو اس جماع کی وجہ سے اسے مہر دینا ہو گا، اگر وہ اختلاف میں پڑ جائیں تو جس کا کوئی ولی نہیں ہو گا، سلطان اس کا ولی ہو گا۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں امام زہری سے ملا اور اس حدیث کے بارے میںپوچھا، لیکن وہ اس حدیث کو نہ پہنچان سکے،انھوں نے کہا: اور سلیمان بن موسی، پھر انھوں نے اس کی تعریف کی، عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہا: سلطان سے مراد قاضی ہے، کیونکہ عصمتوں سے متعلقہ معاملات اور احکام قاضی کی عدالت میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۶۸۷۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۱۰۲، وابن ماجہ: ۱۸۷۹(انظر: ۲۴۲۰۵)
Explanation
فوائد:… جمہور اہل علم کے نزدیک عورت کے ولی سے مراد اس کے زیادہ قریبی عصبہ رشتہ دار ہیں، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ ہے کہ ذوی الارحام (ماموں اور نانا وغیرہ) بھی اولیاء میں شامل ہیں۔
6877
Sahih