TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان - ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 17 · 6 Hadith
۔ (۶۸۷۷)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی عَنِ الْزُھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نَکَحَتِ الْمَرَأَۃُ بِغَیْرِ أَمْرِ مَوْلَاھَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ، فَاِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُھَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا، فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ۔)) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: فَلَقِیْتُ الزُّھْرِیَّ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَلَمْ یَعْرِفْہُ قَالَ: وَکَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی وَکَانَ فَأَثْنٰی عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ اَبِیْ: السُّلْطَانُ الْقَاضِیْ لِأَنَّ إِلَیْہِ أَمْرَ الْفُرُوْجِ وَالْأَحْکَامِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۰۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا،اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر اس آدمی نے اس عورت سے جماع کر لیا،تو اس کو اس جماع کی وجہ سے اسے مہر دینا ہو گا، اگر وہ اختلاف میں پڑ جائیں تو جس کا کوئی ولی نہیں ہو گا، سلطان اس کا ولی ہو گا۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں امام زہری سے ملا اور اس حدیث کے بارے میںپوچھا، لیکن وہ اس حدیث کو نہ پہنچان سکے،انھوں نے کہا: اور سلیمان بن موسی، پھر انھوں نے اس کی تعریف کی، عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہا: سلطان سے مراد قاضی ہے، کیونکہ عصمتوں سے متعلقہ معاملات اور احکام قاضی کی عدالت میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۶۸۷۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۱۰۲، وابن ماجہ: ۱۸۷۹(انظر: ۲۴۲۰۵)
Explanation
فوائد:… جمہور اہل علم کے نزدیک عورت کے ولی سے مراد اس کے زیادہ قریبی عصبہ رشتہ دار ہیں، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ ہے کہ ذوی الارحام (ماموں اور نانا وغیرہ) بھی اولیاء میں شامل ہیں۔
6877
Sahih
۔ (۶۸۷۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّّ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، سلطان اس کا ولی ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۷۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۰(انظر: ۲۲۶۰)
Explanation
فوائد:… امام حاکم نے ’’لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ‘‘ والی روایات ذکر کرنے کے بعد کہا: و فی الباب عن علی بن أبی طالب و عبد اللہ بن عباس و معاذ بن جبل و عبد اللہ بن عمر و أبی ذر الغفاری و المقداد بن الأسود و عبد اللہ بن مسعود و جابر بن عبد اللہ و أبی ہریرۃ و عمران بن حصین و عبد اللہ بن عمرو و المسور بن مخرمۃ و أنس بن مالک رضی اللہ عنہم و أکثرہا صحیحۃ و قد صحت الروایات فیہ عن أزواج النبی صلی اللہ علیہ و سلم عائشۃ و أم سلمۃ و زینب بنت جحش رضی اللہ عنہم أجمعین۔ …اس باب میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا عمران بن حصین، سیدنا عبد اللہ بن عمرو، سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا انس بن مالک eسے احادیث مروی ہیں، ان میں سے زیادہ تر صحیح ہیں، اور نبی کریمa کی بیویوں میں سے سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے احادیث مروی ہیں۔ (مستدرک:۲/۱۸۸ )
6878
Sahih
۔ (۶۸۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۷)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی نکاح نہیں ہے، مگر ولی کے ساتھ۔
Takhreej
(۶۸۷۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۱۰۱(انظر: ۱۹۵۱۸)
6879
Sahih
۔ (۶۸۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَجَعَلَتْ أَمْرَھَا إِلَی الْعَبَّاسِ فَزَوَّجَہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو منگنی کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے نکاح کا معاملہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کر دیا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان کا نکاح کر دیا۔
Takhreej
(۶۸۸۰) تخریج: حسن، أخرجہ ابویعلی: ۲۴۸۱، والطبرانی: ۱۲۰۹۳ (انظر: ۲۴۴۱)
6880
Sahih
۔ (۶۸۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَہُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْہُمَا، وَاِذَا بَاعَ مِنْ رَجُلَیْنِ فَہُوْ لِلْأَوَّلِ مِنْہُمَا)) قَالَ اَبِیْ: وَقَالَ یُوْنُسُ: ((وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَیْعًا ِمنْ رَجُلَیْنِ)) (مسند احمد: ۱۷۴۸۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ایک عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو پہلے ولی کا نکاح معتبر ہو گا، اسی طرح جب کوئی آدمی ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے، تو وہ پہلے کی ہو گی۔ یونس راوی کے الفاظ یہ ہیں: جب آدمی دو بندوں سے بیع کر دے۔
Takhreej
(۶۸۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، وفیہ عنعنۃ الحسن البصری، وقد قال ابن المدینی: لم یسمع الحسن من عقبۃ بن عامر شیئا، أخرجہ الترمذی: ۱۱۱۰، وابن ماجہ: ۲۱۹۰ (انظر: ۱۷۳۴۹)
6881
Zaeef
۔ (۶۸۸۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَیُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیْہِ أَوْ أَھْلِہِ فَہُوَ عَاھِرٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۶۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جو غلام بھی اپنے مالک یا گھر والوں کی اجازت کے بغیر شادی کرے گا، وہ زانی ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل تفرد بہ عن جابر، ومثلہ لا یقبل عند التفرد، أخرجہ ابوداود: ۲۰۷۸(انظر: ۱۴۲۱۲)
Explanation
فوائد:… نکاح کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا کئی احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہ نے ولی کی اجازت کو ضروری نہیں قرار دیا، لیکنیہ رائے اس باب کی احادیث کی روشنی میں درست نہیں ہے اور اس رائے کے حق میں کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ولی سے مراد عصبہ رشتہ دار ہیں، جن میں سب سے پہلے باپ ہے، باپ کی غیر موجودگی میں دادا، پھر بھائی اور پھر چچا ہے، اگر کسی عورت کے دو یا زائد ولی ہوں اور نکاح کے موقع پر اختلاف واقع ہو جائے تو قریبی ولی کو ترجیح ہو گی، اور اگر دونوں ولی برابر حیثیت کے ہوں تو اختلاف کی صورت میں حاکم ولی ہو گا۔ قرآن اور حدیث دونوں میں کنواری عورت کی طرح بیوہیا مطلقہ عورت بھی اپنے اولیاء کے ماتحت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۲) …’’اگر وہ عورتیں اپنے (پہلی اور دوسری طلاق کی عدت گزر جانے کے بعد اپنے سابقہ خاوندوں سے) نکاح کرنا چاہیں تو تم انھیں مت روکو۔‘‘ اس آیت میں مطلقہ عورتوں، جن کی عدت گزر چکی ہو، کے اولیاء کو حکم دیا جار ہا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائیں تو اولیاء کو چاہئے کہ وہ نکاح کر دیا کریں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی عورت کو اولیاء روک بھی سکتے ہے۔ نیز صحیح بخاری کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ایک بھائی نے اپنی مطلقہ بہن کا سابقہ خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے سے انکار کر دیا تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کروا دیا۔ امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’بَاب مَنْ قَالَ لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِیٍّ لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالٰی {فَـلَا تَعْضُلُوہُنَّ} فَدَخَلَ فِیہِ الثَّیِّبُ وَکَذَلِکَ الْبِکْرُ وَقَالَ: {وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتّٰییُؤْمِنُوا} وَقَالَ: {وَأَنْکِحُوا الْأَیَامٰی مِنْکُمْ} امام اس باب میںیہ تین آیات بیان کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ولی کو بچی کے نکاح میں اختیار حاصل ہے، تبھی تو اللہ تعالی ان کو یہ حکم دے رہا ہے ۔ ‘‘ ولی کی شرط کے بارے میں دو آیات اور ان کی وضاحت: ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تُنْکِحُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰییُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَلَوْ اَعْجَبَکُمْ} … ’’اور مشرکین کو اپنی بچیوں کا نکاح کر کے نہ دو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور البتہ غلام مؤمن مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ اچھا لگے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۲۱) امام قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا: فی ھذہ الآیۃ دلیل بالنص علی ان لا نکاح الا بولی۔ … یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں (تبھی تو اولیاء کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کا مشرک سے نکاح نہ کریں)۔ (تفسیر قرطبی: ۳/ ۴۹) اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اَذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ} … ’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے پہلے والے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو، جب وہ آپس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۲) اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کیا، لیکن اس نے اس کو طلاق دے دی،یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، جب عدت گزر گئی تو اسی صحابی نے دوبارہ پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن بھائی آڑے آ گیا اور اس نے اپنی بہن کا نکاح کرنے سے انکار کردیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر نے کہا: ’’وہی أصرح دلیل علی اعتبار الولی وإلا لما کان لعضلہ معنی ولانہا لو کان لہا أن تزوج نفسہا لم تحتج إلی أخیہا ومن کان أمرہ إلیہ لا یقال أن غیرہ منعہ منہ۔‘‘ … یہ آیت ولی کے معتبر ہونے پر سب سے زیادہ واضح دلیل ہے اور اگر ولی کا اعتبار نہ ہوتا تو اس کو روکنے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا، اگر سیدنا معقل b کی بہن کے لیے اپنا نکاح خود کرنا جائز ہوتا تو وہ اپنے بھائی کی محتاج نہ ہوتی اور اختیار جس کے ہاتھ میں ہو اس کے بارے میںیہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے غیر نے اس کو روک دیا ہے۔‘‘ (فتح الباری: ۹/ ۹۴) لڑکیوں کا گھروں سے فرار ہو کر اور عدالت میں جا کر اپنے عاشقوں سے شادی عصر حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے اور چھپییاری کی حوصلہ افزائی ہے، اس سے نہ صرف والدین کی ذلت و رسوائی لازم آتی ہے، بلکہ معاشرے کی ساری فضا متأثر ہوتی ہے، جبکہ یہ نکاح فاسد ہوتا ہے۔ ولی کی اجازت کے ساتھ ساتھ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ میں اسلام کا انتہائی معتدل اور عدیم النظیرقانون پیش کیا گیا ہے، سلسلۂ نکاح میںجہاں اولیاء کی رضامندی ضروری ہے، وہاں لڑکی کو کسی صورت میں بے اختیار نہیں سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ رفیقِ حیات کے انتخاب میں اس کی پسند یا عدم پسند کا مکمل لحاظ رکھا جائے گا۔
6882
Zaeef

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.