TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان - نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 16 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 17 · 7 Hadith
۔ (۶۹۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّیَقْرَأُ ثَلَاثَ آیَاتٍ: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْلَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ثُمَّ تَذْکُرُ حَاجَتَکَ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبۂ حاجت کی تعلیم دی، اور وہ خطبہ یہ تھا: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کے شرور سے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور وہ جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان تین آیات کی تلاوت کرتے تھے: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ایماندارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے، مگر اسلام کی حالت میں۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور پیدا کیا اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں۔ تم ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ (سورۂ نسائ: ۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کہو بات سیدھی وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ بڑی کامیابی کو پا لیتا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۷۰)پھر تم اپنی حاجت و ضرورت کا ذکر کرو۔
Takhreej
(۶۹۰۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۱۱۸، والترمذی: ۱۱۰۵، وابن ماجہ: ۱۸۹۲، والنسائی: ۶/ ۸۹(انظر: ۳۷۲۰)
Explanation
فوائد:… نکاح کرنے سے پہلے نکاح خواں کو چاہیے کہ وہ یہ خطبہ پڑھے اور ان تین آیات کا مختصر سا مفہوم بیان کر دے۔ ہمارے ہاں عید، نکاح، شادی اور خوشی کی دوسری تقریبات کو محض لطف اندوزی، تفریحِ طبع اور ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر شرعی حدود کا خیال نہ رکھنا، بے پردگی اور مرد و زن کا شدید اختلاط،بینڈ باجے بجانا، ناچنا، عریانی و فحاشی والے گانے گانا اور ایسے گندے کلام کو لاؤڈ سپیکروں میں پیش کرنا، مردوں کا سونے کا زیور پہننا، پٹاخے چلانا وغیرہ وغیرہ۔ ان امور کو شرارتی لڑکوں اور لڑکیوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔ لیکن شریعت کا مزاج کچھ اور ہے، جیسے عیدین جیسی عظیم خوشی کا آغاز مخصوص نماز اور خطبے سے ہوتا ہے، اسی طرح شادی کے موقع پر نکاح سے پہلے مذکورہ بالا خطبہ پڑھ کر تقوی اور اللہ کے خوف کا درس دیا جاتا ہے اور پھر خوشی کے موقعوں کے لیے شریعت نے خوشی کے طریقوں کیبھی وضاحت کر دی ہے، ان ہی تک محدود رہناچاہیے۔ لیکنیہ خطبہ نکاح کے لیے شرط نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نکاح درست ہو گا، جیسا کہ آپ a نے بھی اس خطبہ کے بغیر نکاح پڑھایا ہے، بہرحال ہر ممکن حد تک اس کا اہتمام ہونا چاہیے، اگر جلدی ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے بغیر بھی نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔
6908
Sahih
۔ (۶۹۰۹)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَیْنِ خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ وَخُطْبَۃَ الصَّلَاۃِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ، فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دو قسم کے خطبات سکھائے، ایک خطبۂ حاجت اور دوسرا خطبۂ نماز،خطبۂ حاجت یہ ہیں: بیشک ساری تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، … …۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔
Takhreej
(۶۹۰۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… خطبۂ نماز سے مراد نماز میں پڑھا جانے والا تشہد ہے۔
6909
Sahih
۔ (۶۹۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلَّمَ رَجُلًا فِیْ شِیْئٍ فَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۷۵)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ پھر اپنی بات پیش کی۔
Takhreej
(۶۹۱۰) تخریج:أخرجہ مسلم: ۸۶۸(انظر: ۳۲۷۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم میں مفصل حدیثیوں بیان کی گئی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس d کہتے ہیں: أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّۃَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَ ۃً وَکَانَ یَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ فَسَمِعَ سُفَہَائَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ،یَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّی رَأَیْتُ ہٰذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللّٰہَ یَشْفِیہِ عَلٰییَدَیَّ، قَالَ فَلَقِیَہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ وَإِنَّ اللّٰہَ یَشْفِی عَلٰییَدِی مَنْ شَاء َ فَہَلْ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔)) قَالَ فَقَالَ: أَعِدْ عَلَیَّ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَائِ۔ فَأَعَادَہُنَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِV ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَہَنَۃِ وَقَوْلَ السَّحَرَۃِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاء ِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَاء ِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ فَقَالَ: ہَاتِ یَدَکَ أُبَایِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ فَبَایَعَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((وَعَلَی قَوْمِکَ۔)) قَالَ وَعَلَی قَوْمِی قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِV سَرِیَّۃً فَمَرُّوا بِقَوْمِہِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِیَّۃِ لِلْجَیْشِ: ہَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ ہَؤُلَاء ِ شَیْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْہُمْ مِطْہَرَۃً فَقَالَ رُدُّوہَا فَإِنَّ ہَؤُلَاء ِ قَوْمُ ضِمَادٍ۔… ضماد مکہ مکرمہ آیا،یہ قبیلہ ازد شنوء ۃسے تعلق رکھتا تھا، یہ آدمی جنون اور جنوں کے اثر سے دم کرتا تھا، جب اس نے مکہ کے بیوقوف لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمد (a) مجنون اور پاگل ہو گیا ہے تو اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں،ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو میرے ہاتھ پر شفا دے دے، پس وہ آپ a کو ملا اور کہا: میں جنون اور جنوں کے اثر کا دم کرتا ہوں، اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے، میرے ہاتھ پر شفا دیتا ہے، کیا آپ کو اس کی رغبت ہے؟ آپ a نے جواباً یہ خطبہ پڑھا: ’’إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔‘‘ اس نے کہا: حضور! یہ کلمات دوبارہ دوہرانا، آپ a نے تین بار یہ کلمات دوہرائے، پھر اس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام، جادو گروں کی باتیں اور شعراء کے اشعار سنے ہیں، لیکن اس قسم کا کلام میں نے نہیں سنا، یہ کلمات تو سمندر کے وسط یا گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پس آپ a نے اس سے بیعت لے لی، پھر آپ a نے فرمایا: ’’اور تیری قوم۔‘‘ اس نے کہا: جی میری قوم بھی۔ بعد میں آپ a نے ایک جہادی لشکر روانہ کیا، جب وہ اس قوم کے پاس سے گزرے تو امیرِ لشکر نے مجاہدین سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں کی تو کوئی چیز نہیں لی؟ ایک بندے نے کہا: جی میں نے طہارت والا ایک برتن لیا ہے، اس نے کہا: واپس کر دو، یہ سیدنا ضماد b کی قوم ہے۔ ہم نے ’’ناعوس البحر‘‘ کی بجائے ’’قَامُوْسَ الْبَحْر‘‘ کے معانی لکھے ہیں،کیونکہ اس روایت میںیہی الفاظ مشہور ہیں، ملاحظہ ہو، شرح مسلم نووی۔
6910
Sahih
۔ (۶۹۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُطْبَۃُ الَّتِیْ (وَفِیْ لَفْظٍ: کُلُّ خُطْبَۃٍ) لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ۔
Takhreej
(۶۹۱۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۴۸۴۱، والترمذی: ۱۱۰۶ (انظر: ۸۵۱۸)
Explanation
فوائد:… شہادت سے مراد ’’أَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ‘‘ ہے۔ جیسے کٹے ہوئے ہاتھ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ خطبہ بھی خطیب کے لیے مفید نہیں ہوتا، جس میں توحید و رسالت کی شہادت نہ ہو۔
6911
Sahih
۔ (۶۹۱۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب کسی کی شادی ہوتی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ان الفاظ کے ساتھ مبارک دیتے: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ (اللہ تعالی تیرے لیے اور تجھ پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی میں اکٹھا کر دے۔)
Takhreej
(۶۹۱۲) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۲۱۳۰، والترمذی: ۱۰۹۱ (انظر: ۸۹۵۷)
Explanation
فوائد:… ہمارے ہاں ہر خوشی پر یہ الفاظ کہے جاتے ہیں: مبارک ہو۔ یہ لفظ مُبارَک ہے، مُبارِک نہیں ہے۔ اگرچہ ان الفاظ کے معانییہی ہیں کہ یہ خوشی تمہارے لیے باعث ِ برکت ثابت ہو، لیکن اب ان لفظوں کو معانی کا لحاظ رکھے بغیر محض لفظ کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے، لہذا زیادہ لائق یہی ہے کہ وہی الفاظ دوہرائے جائیں، جن کی آپa نے ان موقعوں پر تعلیم دی ہے، نیز درج ذیل حدیث پر غور کریں۔
6912
Sahih
۔ (۶۹۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَّمَدِ بْنِ عَقَیْلٍ قَالَ: تَزَوَّجَ عَقِیْلُ بْنُ اَبِی طَالِبٍ فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقُلْنَا بِالرِّفَائِ وَالْبَنِیْنِ، فَقَالَ: مَہْ لَا تَقُوْلُوْا ذٰلِکَ، فَاِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((قُوْلُوْا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۲)
۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقیل بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شادی کی، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، انھوں نے کہا: رک جاؤ، اس طرح نہ کہو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح کہا کرو بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا (اللہ تعالی تجھ میں برکت کرے اور تیرے لیے اس خاتون میں برکت کرے)۔
Takhreej
(۶۹۱۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۰۶، والنسائی: ۶/ ۱۲۸ (انظر: ۱۵۷۴۰)
6913
Sahih
۔ (۶۹۱۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِیْلَ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ جُشَمٍ فَدَخَلَ عَلَیْہِ الْقَوْمُ فَقَالُوْا: بِالرِّفَائِ وَالْبَنِیْنَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوْا ذٰلِکَ، قَالُوْا: فَمَا نَقُوْلُ یَا أَبَایَزِیْدَ؟ قَالَ: قُوْلُوْا بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ، إِنَّا کَذَالِکَ کُنَّا نُؤْمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا عقیل بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بنو جشم قبیلے کی ایک خاتون سے شادی کی، جب لوگ ان کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، لیکن انھوں نے کہا: اس طرح نہ کہو، لوگوں نے کہا: اے ابو یزید! تو پھر ہم کیا کہیں؟ انھوںنے کہا: تم اس طرح کہو بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے، اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے اور اللہ تعالی تم پر برکت کرے۔) ہمیںیہ دعائیہ کلمات کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
Takhreej
(۶۹۱۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عقیلbکی کنیت ابو یزید تھی۔ ’’اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں‘‘ بظاہر تو یہ دعا بھی اچھی ہے، لیکن سیدنا عقیلb نے وہ دعا کہنے کی ترغیب دلائی، جس کا حکم نبی کریمa نے دیا۔
6914
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.