TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان - عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 17 · 2 Hadith
۔ (۶۸۹۶)۔ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَیْثٌ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ صَالِحٍ وَاِسْمُہُ الَّذِیْیُعْرَفُ بِہِ نُعِیْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمَّاہُ صَالِحًا، أَخْبَرَہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اخْطُبْ عَلَی ابْنَۃِ صَالِحٍ، فَقَالَ: اِنَّ لَہُ یَتَامٰی، وَلَمْ یَکْنُ لِیُؤْثِرَنَا عَلَیْہِمْ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللّٰہِ إِلٰی عَمِّہِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِیَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَیِدٌ إِلٰی صَالِحٍ فَقَالَ: اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِیْ إِلَیْکَیَخْطُبُ اِبْنَتَکَ، فَقَالَ: لِیْیَتَامٰی وَلَمْ أَکُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِیْ وَأَرْفَعَ لَحْمَکُمْ، أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَنْکَحْتُہَا فُلَانًا وَکَانَ ھَوٰی أُمِّہَا اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! خَطَبَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِیْ فَأَنْکَحَہَا أَبُوْھَا یَتِیْمًا فِیْ حَجْرِہِ وَلَمْ یُؤَامِرْھَا، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی صَالِحٍ فَقَالَ: ((أَ نَکَحْتَ ابْنَتَکَ وَلَمْ تُؤَامِرْھَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((اَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ)) وَھِیَ بِکْرٌ۔ فَقَالَ صَالِحٌ: فَاِنَّمَا فَعَلْتُ ھٰذَا لِمَا یُصْدِقُہَا ابْنُ عُمَرَ، فَاِنَّ لَہُ فِیْ مَالِیْ مِثْلَ مَا أَعْطَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۷۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیمبچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمرنے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جانب تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایکیتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر نے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔
Takhreej
(۶۸۹۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۴/ ۳۶۹ (انظر: ۵۷۲۰)
6896
Sahih
۔ (۶۸۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہ، خَطَبَ اِلٰی نَسِیْبٍ لَہُ ابْنَتَہُ قَالَ: فَکَانَ ھَوٰی أُمِّ الْمَرْأَۃِ فِی ابْنِ عُمَرَ، وَکَانَ ھَوٰی أَبِیْہَا فِیْیَتِیْمٍ لَہُ، قَالَ: فَزَوَّجَہَا الْأَبُ یَتِیْمَہُ ذَالِکَ، فَجَائَ تْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمِرُوْا النِّسَائَ فِیْ بَنَاتِہِنَّ۔)) (مسند احمد: ۴۹۰۵)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیتیتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔
Takhreej
(۶۸۹۷) تخریج: حدیث حسن، أخرج المرفوع منہ فقط ابوداود: ۲۰۹۵ (انظر: ۴۹۰۵)
Explanation
فوائد:… ماؤں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنا اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ نکاح کے عقد میں ولی کی طرح کا کوئی اختیار رکھتی ہیں، بلکہ یہ حسن معاشرت کا تقاضا ہے، اس سے مائیں خوش ہو جائیں گی اور اس مشورے کی برکت سے بیٹیوں اور ان کے خاوندوں میں الفت، محبت اور اتفاق پیدا ہو گا، وگرنہ زیادہ تر بیٹیوں کا میلان ماؤں کی طرف ہوتا ہے، اس لیے اگر اس معاملے میں ماؤں کو راضی نہ کیا گیاتو فساد کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
6897
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.