TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان - ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 48 · 9 Hadith
۔ (۵۷۷۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ اَبِی الْعَاصِ عَلَی کِلَابِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَھُوَ جَالِسٌ عَلَی مَجْلِسِ الْعَاشِرِ بِالْبَصْرَۃِ، فقَالَ: مَایُجْلِسُکَ ھَاھُنَا؟ قَالَ: اِسْتَعْمَلَنِیْ ھٰذَا عَلٰی ھٰذَا الْمَکَانِیَعْنِیْ زِیَادًا، فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: اَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَانَ لِدَاوُدَ نَبِیِّ اللّٰہِ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌیُوْقِظُ فِیْہَا أَھْلَہُ فَیَقُوْلُ: یَا آلَ دَاوُدَ! قُوْمُوْا فَصَلُّوْا فَاِنَّ ھٰذِہٖسَاعَۃٌیَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ فِیْہَا الدُّعَائَ اِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عَشَّارٍ۔)) فَرَکِبَ کِلَابُ بْنُ أُمَیَّۃَ سَفِیْنَۃً فَأَتَی زِیَادًا فَاسْتَعْفَاہُ فَأَعْفَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۹۰)
۔ حسن بصری کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن ابی عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کلاب بن امیہ کے پاس سے گزر ہوا، وہ بصرہ میں ٹیکس وصول کرنے والے کی نشست پر بیٹھے ہوا تھا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے پوچھا: اے کلاب یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے کہا:مجھے زیاد نے (ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اس علاقے پر عامل مقرر کیا ہے، انھوں نے کہا: کیا میں تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سنا سکتا ہوں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنائیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات کے وقت ایک وقت کو خاص کر رکھا تھا، اس میں وہ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے ہوئے کہتے: اے آل داؤد! اٹھو اور نماز اداکرو، یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعا لیٰ دعائیں قبول کرتا ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، ایک جادو گر اور دوسرا ٹیکس لینے والا۔ یہ حدیث سنتے ہی کلاب بن امیہ کشتی پرسوار ہوکر زیاد کے پاس پہنچے اور اس ملازمت سے معذرت کی اور اس نے معذرت قبول کر لی۔
Takhreej
(۵۷۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۸۳۷۴(انظر: ۱۶۲۸۱)
5770
Zaeef
۔ (۵۷۷۱)۔ عَنْ اَبِی الْخَیْرِ قَالَ: عَرَضَ مَسْلَمَۃُ بْنُ مَخْلَدٍ وَکَانَ أَمِیْرًا عَلَی مِصْرَ عَلَی رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ یُوَلِّیَہُ الْعُشُوْرَ، فَقَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَاحِبُ الْمَکْسِ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۲۶)
۔ ابوالخیر سے روایت ہے کہ مصر کے امیر مسلمہ بن مخلد نے سیدنا رو یفع بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے یہ درخواست پیش کی کہ وہ اس کو ٹیکسوں کا مسئول بنا دیں۔ لیکن انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹیکس لینے والادوزخی ہے۔
Takhreej
(۵۷۷۱) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۴۴۹۳(انظر: ۱۷۰۰۱)
5771
Sahih
۔ (۵۷۷۲)۔ عَنْ حَرْبِ بْنِ ھِلَالٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ اَبِیْ أُمَیَّۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ تَغْلِبَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ عُشُوْرٌ، إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَ النَّصَارٰی۔)) مسند احمد: ۱۵۹۹۲)
۔ حرب بن ہلال کہتے ہیں کہ بنو تغلب کے ایک آدمی سیدنا ابو امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پرکوئی ٹیکس نہیں ہے، ٹیکس تویہود ونصاری سے وصول کئے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۵۷۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ۔ أخرجہ ا بوداود: ۳۰۴۸، ۳۰۴۹(انظر: ۱۵۸۹۷)
5772
Zaeef
۔ (۵۷۷۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ عَنْ خَالِہٖقَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ لَہُ أَشْیَائً فَسَأَلَہُ فَقَالَ: أَعْشُرُھَا؟ فَقَالَ: ((إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی، وَلَیْسَ عَلٰی أَھْلِ الْإسلامِ عُشُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۱)
۔ (دوسری سند) حرب بن عبید اللہ ثقفِیْ اپنے ماموں سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کچھ چیزوں کا ذکرکیا، اس کے بعد میں نے کہا: کیا میں ٹیکس لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہودونصاری پر لاگو کیے جاتے ہیں، اہل اسلام پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۷۷۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
5773
Zaeef
۔ (۵۷۷۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ عَنْ خَالِہٖقَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ لَہُ أَشْیَائً فَسَأَلَہُ فَقَالَ: أَعْشُرُھَا؟ فَقَالَ: ((إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی، وَلَیْسَ عَلٰی أَھْلِ الْإسلامِ عُشُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۱)
۔ (تیسری سند)بکر بن وائل اپنے ماموں سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیامیں اپنی قوم سے ٹیکس لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹیکس توصرف یہود و نصاری پرلگائے جاتے ہیں، اہل اسلام پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۵۷۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
5774
Zaeef
۔ (۵۷۷۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ صَاحِبُ مَکْسٍ۔)) یَعْنِی الْعَشَّارَ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۲۶)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹیکس لینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۵۷۷۵) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۳۷(انظر: ۱۷۲۹۴)
5775
Sahih
۔ (۵۷۷۶)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَتَاھِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا لَقِیْتُمْ عَاشِرًا فَاقْتُلُوْہُ)) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَصَّرَ عَنْ بَعْضِ اْلإِسْنَادِ وَقَالَ: یَعْنِیْ بِذٰلِکَ الصَّدْقَۃَیَأْخُذُھَا عَلٰی غَیْرِ حَقِّہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۲۱)
۔ سیدنا مالک بن عتا ہیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم ٹیکس وصول کرنے والے کو ملو تو اس کو قتل کردو۔ (سند میں مذکور ایک راوی کے بقول) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد وہ شخص ہے جو بغیر کسی حق کے یہ چیز وصول کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۷۶) تخریج: اسنادھما ضعیف من اجل ابن لھیعۃ فھو سییء الحفظ، ولجھالۃ مخیس ابن ظبیان، ولابھام شیخہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۶۷۱ (انظر: ۱۸۲۲۱)
5776
Zaeef
۔ (۵۷۷۷)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! اِحْمَدُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ رَفَعَ عَنْکُمُ الْعُشُوْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۴)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عرب کے لوگو! اس اللہ کی تعریف کیا کرو، جس نے تم سے ٹیکسوں کو اٹھا لیا ہے۔
Takhreej
(۵۷۷۷) اسنادہ ضعیف، ابراہیم بن المھاجر لین الحدیث، والراوی عن عمرو بن حریث لا یعرف۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۱۹۷، وابویعلی: ۹۶۴، والطحاوی فی ’’شرح المعانی‘‘: ۲/ ۳۱ (انظر:)
5777
Zaeef
۔ (۵۷۷۷)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! اِحْمَدُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ رَفَعَ عَنْکُمُ الْعُشُوْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۴)
۔ سیدنا مقد ام بن معد یکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے قدیم! تو کامیاب ہو جا ئے گا، بشرطیکہ تو نہ امیر بنے، نہ مال وصول کرنے والابنے اور نہ سردار بنے۔
Takhreej
(۵۷۷۸) اسنادہ ضعیف، لضعف صالح بن یحیی بن المقدام۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۳۳ (انظر: ۱۷۲۰۵)
Explanation
فوائد:… سردار سے مراد قوم یا خاندان کا سردار اور منتظم ہے، اسلامی معاشرے کے قیام کے لیےیہ تینوں عہدے ضروری ہیں، لیکن ان عہدوں کے حقوق کو پورا کرنے والے بہت کم ہیں،یہی دیکھا گیا کہ امیر اور حکمران ظالم بن جاتا ہے، مال وصول کرنے والا خائن بن جاتا ہے اور سردار اپنی قوم کی شریعت کی طرف رہنمائی نہیں کرتا، اس طرح یہ تین قسم کے افراد انجام کے لحاظ سے خسارے میں چلے جاتے ہیں۔ اس باب میں ٹیکس اور اس کے وصول کنندہ کی مذمت کی گئی، ان کے بارے میںمزید روایاتیہ ہیں: سیدنا بریدہb بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا خالد b نے اس عورت کو برابھلا کہا، جس کو بدکاری کی وجہ سے سنگسار کیا جا رہا تھا، جبکہ توبہ کرتے ہوئے برائی کا اعتراف اس نے خود کیا تھا، اس وقت آپ a نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا خَالِدُ! فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہٗ۔)) …’’خالد! رہنے دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کر لے تو اسے بخش دیا جائے گا۔‘‘ (مسلم: ۱۶۹۵) امام نوویl نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلا کہ ٹیکس لینا قبیح ترین اور مہلِک گناہ ہے، کیونکہ ٹیکس وصول کنندہ بغیر کسی حق کے لوگوں سے بار بار ٹیکس وصول کرتا رہتا ہے، جبکہ اس پر لوگوں کے مطالبات بڑھتے رہتے ہیں۔ (شرح مسلم نووی) شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو بغیر کسی عوض اور حق کے لوگوں سے ٹیکس وصول کرتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۴۴۲) سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفیb سے روایت ہے، نبی کریمa نے فرمایا: ((تُفْتَحُ اَبْوَابُ السَّمَائِ نِصْفَ اللَّیْلِ، فَیُنَادِيْ مُنَادٍ: ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَیُسْتَجَابَ لَہُ، ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَیُعْطٰی،ھَلْ مِنْ مَکْرُوْبٍ فَیَفْرُجَ عَنْہُ، فَـلَا یَبْقیٰ مُسْلِمٌیَدْعُوْ بِدَعْوَۃٍ اسْتَجَابَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ، اِلاَّ زَانِیَۃً تَسْعٰی بِفَرْجِھَا، اَوْعَشَّارًا۔)) … ’’نصف رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک اعلان کرنے والا آواز لگاتا ہے: کوئی ہے پکارنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کیا کوئی ہے سوال کرنے والا کہ اس کو عطا کیا جائے اور کیا کوئی ہے تکلیف زدہ کہ اس کی تکلیف دور کر دی جائے۔ کوئی ایسا مسلمان نہیں ہوتا کہ وہ دعا کرے اور اللہ تعالی اس کی دعا قبول نہ کرے، مگر زانی عورت جو اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمائی کرتی ہے اور ٹیکس وصول کنندہ (ان دو کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں)۔‘‘ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۸۸/ ۲، صحیحہ: ۱۰۷۳) کسی کی رضامندی کے بغیر اس کا مال و دولت نہیں لیا جا سکتا، ٹیکس بھی اسی قسم کی ایک صورت ہے، عصر حاضر میں تو ٹیکسز کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ مثلا: چھجہ ٹیکس، ڈرینج ٹیکس، انکم ٹیکس، ملبہ ٹیکس، ٹال ٹیکس، ہاؤس ٹیکس، وہیکل ٹیکس، وغیرہ وغیرہ۔ حکومت کا عوام الناس کی جائداد میں کوئی حق نہیں ہوتا، ہاں اگر لوگ گورنمنٹ کے اخراجات سے بنائی ہوئی کوئی چیز استعمال کر رہے ہوں اور اس کی مرمت پر حکومت کا خرچہ ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں ٹیکس لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، مثلا روڈ پر چلنے کا ٹیکس، لیکنیہ ضروری ہے کہ ادا کی گئییہ رقم مسلمانوں کے بیت المال میں پہنچے۔ آجکل ٹیکسوں کی وصولی کی بھرمار نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے، بالخصوص جو بھاری ٹیکس تاجروں سے وصول کیا جاتا ہے، اس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس کا سارے کا سارے بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ حکومتی عہدیداران کو علم ہونا چاہیے کہ وہ کسی چیز کے عوض عوام سے ٹیکس وصول کرسکتے ہیں، بشرطیکہ وہ رقم بیت المال میں جمع کروائی جائے یا حکومت کی تحویل میں دے دی جائے، مثلا روڈ پر چلنے کا ٹیکس۔ ٹیکسوں کی تمام اقسام جو کسی عوض کے بغیر وصول کی جاتی ہیں، ان کی وصولی حرام ہے، مثلا تاجروں اور صنعت کاروں سے ان کی تجارت اور صنعت کی وجہ سے ٹیکس وصول کرنا۔
5778
Zaeef

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.