TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9735 - نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 12 in this chapter
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: افْتَخَرَ اَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ، وَالْخُیَلَائُ فِیْ اَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ اَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی اَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ اَنَا وَاَنَا اَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں کے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔
9735
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۷۳۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۳۷۰ (انظر: ۱۱۹۱۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوں کیتدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)

Related Chapters

178
1
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
2
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Reeds And The Like
باب: بانس وغیرہ سے ذبح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: About Waiting For Relief And Other Than That
باب: کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان
Jam e Tirmazi
8
بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا
برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان
Mishkat
9
بَاب الْمُفَاخَرَة
مفاخرت اور عصبیت کا بیان
Mishkat
10
گزشتہ باب کے متعلقات (میراثِ نبوی ﷺ وغیرہ) کا بیان
Mishkat
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
12
اس معاملے میں رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
13
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
15
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
17
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
18
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
Musnad Ahmad
20
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
21
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
22
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
Musnad Ahmad
23
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
26
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
27
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
28
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
Musnad Ahmad
29
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
30
مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
32
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
33
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
34
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
35
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
Musnad Ahmad
36
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
37
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
38
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
Musnad Ahmad
40
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
Musnad Ahmad
43
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
44
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
45
دودھ ، اس کو پینے اور اس کو دوہنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
46
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
47
خارش وغیرہ کی وجہ سے ریشم پہننے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
48
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
49
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
50
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
10472
۔ (۱۰۴۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: إِفْتَخَرَ أَھْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْإِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِأَھْلِیْ بِجَیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔
Musnad Ahmad
5755
۔ (۵۷۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اِفْتَخَرَ أَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی وَھُوْ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابوسعید حذری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میںاو نٹوں اور بکریوں کے مالکان ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکان میں اور سکون اور وقار بکریوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام کو مبعو ث کیا گیا تو وہ اپنے اہل کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیاگیا تو میں بھی جیاد میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔
Musnad Ahmad
4973
۔ (۴۹۷۳)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ مِنْ الْغَیْرَۃِ مَا یُحِبُّ اللّٰہُ،وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللّٰہُ، وَمِنْ الْخُیَلَائِ مَا یُحِبُّ اللّٰہُ، وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللّٰہُ، فَالْغَیْرَۃُ الَّتِی یُحِبُّ اللّٰہُ الْغَیْرَۃُ فِی الرِّیبَۃِ، وَالْغَیْرَۃُ الَّتِی یُبْغِضُ اللّٰہُ الْغَیْرَۃُ فِی غَیْرِ رِیبَۃٍ، وَالْخُیَلَائُ الَّتِی یُحِبُّ اللّٰہُ اخْتِیَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِہِ لِلّٰہِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَاخْتِیَالُہُ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْخُیَلَائُ الَّتِی یُبْغِضُ اللّٰہُ الْخُیَلَائُ فِی الْفَخْرِ وَالْکِبْرِ)) أَوْ کَالَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عتیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کی بعض صورتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند ، اسی طرح وہ فخر کی بعض قسموں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے اور جس غیرت کو ناپسند کرتاہے، اس میں کوئی تہمت اور گمان نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جس فخر کو پسند کرتا ہے، وہ ہے بندے کا قتال کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کے ساتھ فخر کرنا اور صدقہ کے ساتھ فخر کرنا اور وہ جس فخر کو ناپسند کرتا ہے، اس کا تعلق تکبر سے ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
12738
۔ (۱۲۷۳۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الْإِیمَانُیَمَانٍ، وَالْفِقْہُ یَمَانٍ، وَالْحِکْمَۃُیَمَانِیَۃٌ، أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ فَہُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَۃً وَأَلْیَنُ قُلُوبًا، وَالْکُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِی أَہْلِ الْخَیْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِینَ أَہْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّکِینَۃُ فِی أَہْلِ الْغَنَمِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۲۹)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان یمنیوں کاہے، فقاہت بھی یمن کی اور حکمت و دانائی بھی یمن کی بہتر ہے، تمہارے پا س اہل یمن آئے ہیں، یہ بہت زیادہ نرم دل ہیں اور کفر مشرق کی طرف زیادہ ہے اور فخراورتکبر اونٹ اورگھوڑے پالنے والوں اور دیہاتی لوگوں میں ہے اور بکریاں پالنے والوں میں سکینت اور نرم خوئی ہے۔