اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرامf میں ایک بحث ہونے لگی، کسی نے کہا کہ ہجرت منقطع ہو چکی ہے، بہرحال اس بارے میں ان کا اختلاف ہو گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت منقطع ہو چکیہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک جہاد جاری رہے گا۔
۔ سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر وہ منبر پر چڑھ گئے۔
Takhreej
(۱۰۶۳۵) تخریج: اثر صحیح من روایۃ عقبۃ بن عامر (انظر: ۲۷۲۵۷)
Explanation
فوائد:… جب تک دنیا میں دار الکفر موجود ہے، اس وقت تک ہجرت اور جہاد کا حکم باقی رہے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
۔ سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنا بھتیجا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اب اسلام پر بیعت ہو گی، فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، اب یہ آدمی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں میں سے ہو گا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد رضی اللہ عنہ کوملا ، جبکہ وہ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۳۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن اپنے باپ امیہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے باپ سے ہجرت کی بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں جہاد پر بیعت لوں گا، ہجرت تو منقطع ہو چکی ہے۔
۔ سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ا س سے کہا: ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں، میں (صفوان) نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ جا لوں، اس وقت اپنے اہل والوں کے پاس نہیں جاؤں گا، پس میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز ایسا نہیں ہے، اے ابو وہب، پس تو لوٹ جا مکہ کی وادیوں کی طرف۔
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، جنھوں نے ہجرت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہیں اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیاجائے تو تم نکل پڑو۔
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچ جائیں گے، اگرچہ تم لومڑی کے بل میں ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۶۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن جبیر بن مطعم (انظر: ۱۶۷۶۴)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو اس کے نیک عمل کا صلہ دیا جائے گا، اگر اس میں دار الکفر سے ہجرت کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ کے کامل اجر کا مستحق ہو گا اور جو استطاعت کے باوجود ہجرت نہیں کرے گا، یہ اس کی نافرمانی ہو گی، ممکن ہے کہ وہ اس ایک نافرمانی کی وجہ سے کئی گناہوں میں مبتلا ہو جائے، بہرحال اس کو اس کے نیک اعمال کا اجر و ثواب دیا جائے گا۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس کا معاملہ تو بڑا سخت ہے، اچھا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکوۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس میں سے عطیے بھی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گھاٹ والے دن ان کا دودھ دوہ کر لوگوں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بیشک سمندروں کے اس پار عمل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ تیرے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔
فوائد:… اس موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ آدمی ہجرت کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا، تو اس کو اس معاملے میں نہ پڑنے کی اجازت دے دی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے تھے، تمام علمائے کرام اور مبلغین اسلام کو مصلحت و حکمت کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن عوام الناس سے گزارش ہو گی کہ وہ صرف رخصت والی نصوص کو سامنے رکھ کر سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہ کریں، عزیمت والی نصوص کا بھی خیال رکھیں، پھر اگر واقعی کوئی معذور ہو تو رخصت پر عمل کر لے۔ اس مقام پر عطیے سے مراد وہ جانور ہے، جو کسی کو واپسی کی شرط پر کسی ضرورت کے لیے دیا جائے کہ وہ ضرورت پوری ہونے کے بعد لوٹا دے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورۂ نصر {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ} نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مکمل تلاوت کی اور پھر فرمایا: لوگ ایک فریق ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک فریق ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے۔ مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، جبکہ اس کے پاس سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے اور وہ اس کے پاس تخت پر بیٹے ہوئے تھے، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اگر یہ دو چاہیں تو یہ بھی تجھے یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں، لیکنیہ اپنی قوم کی ریاست چھن جانے سے ڈرتا ہے اور اس کو زکوۃ و صدقات کی وصول کا عہد ہ چھن جانے کا ڈر ہے، پس وہ دونوں خاموش رہے، لیکن جب مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو کوڑا مارنے کے لیے اٹھایا اور انھوں نے اس کاروائی کو دیکھا تو کہا: ابوسعید خدری سچ کہہ رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۶۴۴) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ الناس حیز وانا واصحابی حیز وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابو البختری الطائی لم یسمع من ابی سعید، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۴۴۴۴، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۴۹۸ (انظر: ۲۱۶۲۹)
Explanation
فوائد:… مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد اس شہر سے ہجرت کرنے کا حکم ختم ہو گیا ہے، اسی طرح جو علاقہ پہلے سے ہی دار الاسلام ہے، اس سے بھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں ہے۔ البتہ دار الکفر سے ہجرت کرنے کا حکم باقی ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیہات میںرہنے کی اجازت طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے اور سیدنا بریدہ بن حصیب کو ملے، انھوں نے کہا: اے سلمہ! کیا تم نے اپنی ہجرت کو چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر آیا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہو، ہواؤں کی بو سوسنگھ کر لطف اٹھاؤ اور گھاٹیوں میں رہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ڈرتے ہیں کہ اس سے ہماری ہجرت کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما ، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
۔ فرزدق بن حنان قاص کہتے ہیں: کیا تم کو ایسی حدیث بیان کروں، جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے اور میں ابھی تک اس کو نہیں بھولا، میں اور عبد اللہ بن حِیدہ شام کے راستے پر نکلے اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، … … باقی حدیث ذکر کی، پھر کہا تمہاری قوم کا ایک سخت اور جری بدو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہجرت آپ کی طرف ہو گی، آپ جہاں کہیں بھی ہوں، یا کسی خاص زمین کی طرف ہو گی،یا کسی خاص قوم کی طرف ہو گی اور جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو تو مہاجر ہی ہو گا، اگرچہ تو حضرمہ میں فوت ہو جائے۔ یہ مقامیمانیہ کے علاقے میں ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ شیخ العلاء بن رافع، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۷۷، والبزار: ۱۷۵۰، ۳۵۲۱ (انظر: ۶۸۹۰)
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام علاقے اللہ تعالیٰ کے علاقے ہیں اور تمام بندے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، لہٰذا جہاں بھی تجھے خیر ملے، تو وہیں اقامت اختیار کر۔
فوائد:… جب انسان کی روزی کا کوئی نہ کوئی سلسلہ چل رہا ہو اور وہ اپنے دین اور جان کے معاملے میں امن میں ہوتو ٹھیک، وگرنہ وہ کسی ایسے شہر کی طرف ہجرت کر جائے، جہاں اس کی جان اور دین محفوظ ہو جائے۔
۔ قلوص کہتے ہیں: سیدنا شہاب بن مدلج نے ایک دیہات میں اقامت اختیار کی، جب اس کے بیٹے نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا تو اس آدمی نے آگے سے کہا: اے اس باپ کے بیٹے، جس نے ہجرت ِ مدینہ کو باطل کر کے دیہات میں سکونت اختیار کر لی،یہ سن کر شہاب مدینہ میں آیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے افضل دو آدمی ہیں، ایک وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کیا،یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر اترا کہ جس سے دشمن کو تکلیف ہوئی اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کونے میںمقیم ہے، پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ، اپنے مال کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا شہاب رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور کہا: اے ابو ہریرہ! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے دیہات کی طرف لوٹ آئے اور وہاں سکونت اختیار کی۔
فوائد:… یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ثواب کو دیہاتوںکی طرف نکل جانے نے ضائع نہیں کیا۔ حالات کو دیکھ کر حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا،یہ اجازت ہر آدمی کے لیے نہیں ہے۔