TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

197 Hadith · 51 Chapters
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
۔ (۱۰۶۳۴)۔ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ أَنَّ جُنَادَۃَ بْنَ أبِیْ أُمَیَّۃَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْضُھُمْ: اِنَّ الْھِجْرَۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أُنَاسًا یَقُوْلُوْنَ اِنَّ الْھِجْرَۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَقَالَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْھِجْرَۃَ لَا تَنْقَطِعُ مَا کَانَ الْجِھَادُ)) (مسند احمد: ۲۳۵۷۳)
۔ سیدنا جنادہ بن ابی امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرامf میں ایک بحث ہونے لگی، کسی نے کہا کہ ہجرت منقطع ہو چکی ہے، بہرحال اس بارے میں ان کا اختلاف ہو گیا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت منقطع ہو چکیہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک جہاد جاری رہے گا۔
Takhreej
(۱۰۶۳۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۳۱۸۶)
10634
Sahih
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
۔ (۱۰۶۳۵)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ قَالَ: ھَاجَرْنَا عَلٰی عَھْدِ أَبِیْ بَکْرٍ فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ طَلَعَ عَلَی الْمِنْبَرِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۹)
۔ سیدنا معاویہ بن حدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر وہ منبر پر چڑھ گئے۔
Takhreej
(۱۰۶۳۵) تخریج: اثر صحیح من روایۃ عقبۃ بن عامر (انظر: ۲۷۲۵۷)
Explanation
فوائد:… جب تک دنیا میں دار الکفر موجود ہے، اس وقت تک ہجرت اور جہاد کا حکم باقی رہے گا۔
10635
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَنِیَّۃٌ، وَاِذَا اسْتَنْفَرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۳۳۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم
Takhreej
(۱۰۶۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ص ۱۴۸۸ (انظر: ۳۳۳۵)
10636
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۳۷)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ اِسْحَاقَ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنِ أَخٍ لَہُ یُبَایِعُہُ عَلَی الْھِجْرَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا، بَلْ یُبَایِعُ عَلَی الْاِسْلَامِ فَاِنَّہُ لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَیَکُوْنُ مِنَ التَّابِعِیْنَ بِاِحْسَانٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۴۱)
۔ سیدنا مجاشع بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنا بھتیجا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اب اسلام پر بیعت ہو گی، فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، اب یہ آدمی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں میں سے ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۶۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۰۷، ۴۳۰۸، ومسلم: ۱۸۶۳ (انظر: ۱۵۸۴۷)
10637
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۳۸)۔ (عَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ بِأَخِیْ مَعْبَدٍ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جِئْتُکَ بِأَخِیْ لِتُبَایِعَہُ عَلَی الْھِجْرَۃِ، فَقَالَ: ((ذَھَبَ أَھْلُ الْھِجْرَۃِ بِمَا فِیْھَا (وَفِیْ لَفْظٍ: مَضَتِ الْھِجْرَۃُ لِأَھْلِھَا)۔)) فَقُلْتُ: عَلٰی أَیِّ شَیْئٍ تُبَایِعُہُ؟ قَالَ: ((عَلَی الْاِسْلَامِ وَالْاِیْمَانِ، وَالْجِھَادِ)) قَالَ: فَلَقِیْتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَکَانَ ھُوَ أَکْبَرَھُمَا فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۴۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوملا ، جبکہ وہ سیدنا مجاشع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۳۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔ وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔
10638
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۳۹)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ: جِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِیْ أُمَیَّۃُیَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَایِعْ أبِیْ عَلَی الْھِجْرَۃِ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَلْ أُبَایِعُہُ عَلَی الْجِھَادِ فقَدِ انْقَطَعَتِ الْھِجْرَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۲۲)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن اپنے باپ امیہ کو لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے باپ سے ہجرت کی بیعت لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب میں جہاد پر بیعت لوں گا، ہجرت تو منقطع ہو چکی ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۳۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۴۵ (انظر: ۱۷۹۵۸)
10639
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۴۰)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ قِیْلَ لَہُ: ھَلَکَ مَنْ لَمْ یُھَاجِرْ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا أَصِلُ اِلٰی أَھْلِیْ حَتّٰی آتِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَکِبْتُ رَاحِلَتِیْ فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! زَعَمُوْا أَنَّہُ ھَلَکَ مَنْ لَمْ یُھَاجِرْ، قَالَ: ((کَلَّا أَبَا وَھْبٍ فَارْجِعْ اِلٰی أَبَاطِحِِ مَکَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۸۹)
۔ سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ا س سے کہا: ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں، میں (صفوان) نے کہا: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہ جا لوں، اس وقت اپنے اہل والوں کے پاس نہیں جاؤں گا، پس میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز ایسا نہیں ہے، اے ابو وہب، پس تو لوٹ جا مکہ کی وادیوں کی طرف۔
Takhreej
(۱۰۶۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف (انظر: ۲۷۶۳۷)
10640
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۴۱)۔ عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ ھَاجَرَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَنِیَّۃٌ فَاِذَا اسْتَنْفَرْتُمْ فَأَنْفِرُوْا)) (مسند احمد: ۲۸۱۹۲)
۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، جنھوں نے ہجرت کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہیں اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیاجائے تو تم نکل پڑو۔
Takhreej
(۱۰۶۴۱) تخریج:حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ النسائی مختصرا: ۷/ ۱۴۵ (انظر: ۲۷۶۴۰)
10641
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۴۲)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنّھُمْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّہُ لَیْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَکَّۃَ، قَالَ: ((لَتَأْتِیَنَّکُمْ أُجُوْرُکُمْ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ جُحْرِ ثَعْلَبٍ۔)) قَالَ: فَأَصْغٰی اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَأْسِہِ، فَقَالَ: ((اِنَّ فِیْ أَصْحَابِیْ مُنَافِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۶)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچ جائیں گے، اگرچہ تم لومڑی کے بل میں ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۶۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن جبیر بن مطعم (انظر: ۱۶۷۶۴)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو اس کے نیک عمل کا صلہ دیا جائے گا، اگر اس میں دار الکفر سے ہجرت کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ کے کامل اجر کا مستحق ہو گا اور جو استطاعت کے باوجود ہجرت نہیں کرے گا، یہ اس کی نافرمانی ہو گی، ممکن ہے کہ وہ اس ایک نافرمانی کی وجہ سے کئی گناہوں میں مبتلا ہو جائے، بہرحال اس کو اس کے نیک اعمال کا اجر و ثواب دیا جائے گا۔
10642
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۴۳)۔ عَنْ أبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنِ الْھِجْرَۃِ، فَقَالَ: ((وَیْحَکَ اِنَّ شَانَھَا شَدِیْدٌ فَھَلْ لَکَ مِنْ اِبِلٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ تُؤَدِّیْ صَدَقَتَھَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ تَمْنَحُ مِنْھَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ تَحْلِبُھَا یَوْمَ وِرْدِھَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاعْمَلْ مِنْ وَرَائِ الْبِحَارِ فَاِنَّ اللّٰہَ لَنْ یَّتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس کا معاملہ تو بڑا سخت ہے، اچھا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکوۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس میں سے عطیے بھی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو گھاٹ والے دن ان کا دودھ دوہ کر لوگوں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر بیشک سمندروں کے اس پار عمل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ تیرے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۰۶۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۵۲، ۳۹۲۳، ۶۱۶۵، ومسلم: ۱۸۶۵ (انظر: ۱۱۱۰۵)
Explanation
فوائد:… اس موقع پر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ یہ آدمی ہجرت کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا، تو اس کو اس معاملے میں نہ پڑنے کی اجازت دے دی،یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حکمت و دانائی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے تھے، تمام علمائے کرام اور مبلغین اسلام کو مصلحت و حکمت کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن عوام الناس سے گزارش ہو گی کہ وہ صرف رخصت والی نصوص کو سامنے رکھ کر سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہ کریں، عزیمت والی نصوص کا بھی خیال رکھیں، پھر اگر واقعی کوئی معذور ہو تو رخصت پر عمل کر لے۔ اس مقام پر عطیے سے مراد وہ جانور ہے، جو کسی کو واپسی کی شرط پر کسی ضرورت کے لیے دیا جائے کہ وہ ضرورت پوری ہونے کے بعد لوٹا دے۔
10643
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
۔ (۱۰۶۴۴)۔ عَنْ اَبِی الْبُخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ: {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ} قَالَ: قَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی خَتَمَھَا وَقَالَ: ((اَلنَّاسُ حَیِّزٌ، وَأَنَا وَأَصْحَابِیْ حَیِّزٌ)) وَقَالَ: ((لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَنِیَّۃٌ۔)) فَقَالَ لَہُ: مَرْوَانُ کَذَبْتَ وَعِنْدَہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَھُمَا قَاعِدَانِ مَعَہُ عَلَی السَّرِیْرِ، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: لَوْ شَائَ ھٰذَانِ لَحَدَّثَاکَ وَلٰکِنْ ھٰذَا یَخَافُ أَنْ تَنْزِعَہُ عَنْ عَرَافَۃِ قَوْمِہِ، وَھٰذَا یَخْشٰی أَنْ تَنْزِعَہُ عَنِ الصَّدَقَۃِ، فَسَکَتَا فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَیْہِ الدُّرَّۃَ لِیَضْرِبَہُ فَلَمَّا رَأَیَا ذٰلِکَ قَالَا: صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۶۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سورۂ نصر {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ} نازل ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی مکمل تلاوت کی اور پھر فرمایا: لوگ ایک فریق ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک فریق ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے۔ مروان نے سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، جبکہ اس کے پاس سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی موجود تھے اور وہ اس کے پاس تخت پر بیٹے ہوئے تھے، سیدناابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: اگر یہ دو چاہیں تو یہ بھی تجھے یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں، لیکنیہ اپنی قوم کی ریاست چھن جانے سے ڈرتا ہے اور اس کو زکوۃ و صدقات کی وصول کا عہد ہ چھن جانے کا ڈر ہے، پس وہ دونوں خاموش رہے، لیکن جب مروان نے سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کوڑا مارنے کے لیے اٹھایا اور انھوں نے اس کاروائی کو دیکھا تو کہا: ابوسعید خدری سچ کہہ رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۶۴۴) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ الناس حیز وانا واصحابی حیز وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابو البختری الطائی لم یسمع من ابی سعید، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۴۴۴۴، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۴۹۸ (انظر: ۲۱۶۲۹)
Explanation
فوائد:… مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد اس شہر سے ہجرت کرنے کا حکم ختم ہو گیا ہے، اسی طرح جو علاقہ پہلے سے ہی دار الاسلام ہے، اس سے بھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں ہے۔ البتہ دار الکفر سے ہجرت کرنے کا حکم باقی ہے۔
10644
Sahih
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
۔ (۱۰۶۴۵)۔ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أبِیْ عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَیَعْنِی ابْنَ الْأَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْبَدْوِ فَأَذِنَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۲۲)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دیہات میںرہنے کی اجازت طلب کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔
Takhreej
(۱۰۶۴۵) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۷۰۸۷، ومسلم: ۱۸۶۲ (انظر: ۱۶۵۰۸)
10645
Sahih
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
۔ (۱۰۶۴۶)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَیَّاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ أَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَہُ بُرَیْدَۃُ بْنُ الْحَصِیْبِ فَقَالَ: اِرْتَدَدْتَ عَنْ ھِجْرَتِکَ یَاسَلَمَۃُ! فَقَالَ: مَعَاذَ اللّٰہِ اِنِّیْ فِیْ اِذْنٍ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ابْدُوْا یَاأَسْلَمُ تَنَسَّمُوْا الرِّیَاحَ وَاسْکُنُوْا الشِّعَابَ۔)) فَقَالُوْا: اِنَّا نَخَافُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ یَضُرَّنَا ذٰلِکَ فِیْ ھِجْرَتِنَا، فَقَالَ: ((اَنْتُمْ مُھَاجِرُوْنَ حَیْثُ کُنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۶۸)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے اور سیدنا بریدہ بن حصیب کو ملے، انھوں نے کہا: اے سلمہ! کیا تم نے اپنی ہجرت کو چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لے کر آیا ہوں اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہو، ہواؤں کی بو سوسنگھ کر لطف اٹھاؤ اور گھاٹیوں میں رہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ڈرتے ہیں کہ اس سے ہماری ہجرت کا نقصان نہ ہو جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
Takhreej
(۱۰۶۴۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۲۶۵، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۱/ ۲۱ (انظر: ۱۶۵۵۳)
10646
Sahih
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
۔ (۱۰۶۴۷)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جَرْھَدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا یَقُوْلُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ: مَنْ بَقِیَ مَعَکَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَقِیَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَسَلَمَۃُ بْنُ الْاَکْوَعِ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَمَّا سَلَمَۃُ فَقَدْ اِرْتَدَّ عَنْ ھِجْرَتِہِ، فَقَالَ جَابِرٌ: لَا تَقُلْ ذٰلِکَ فَاِنَّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ابْدُوْا یَاأَسْلَمُ!)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ ھِجْرَتِنَا، فقَالَ: ((اِنَّکُمْ أَنْتُمْ مُھَاجِرُوْنَ حَیْثُ کُنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۵۳)
۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
Takhreej
(۱۰۶۴۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۶/ ۱۶۶، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۷۳۱ (انظر: ۱۴۸۹۲)
Explanation
فوائد:… یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہجرت کا ثواب ملے گا، اگرچہ وہ اس شہر میں سکونت اختیار نہ کریں۔
10647
Sahih
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
۔ (۱۰۶۴۸)۔ عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَّانَ الْقَاصِّ، قَالَ: اَلَا اُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ لَمْ اَنْسَہُ بْعَدُ، خَرَجْتُ اَنَا وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ حِیْدَۃَ فِیْ طَرِیْقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ: جَائَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِکُمَا اَعْرَابِیٌّ جَافٍ جَرِیْیئٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیْنَ الْھِجْرَۃُ اِلَیْکَ حَیْثُمَا کُنْتَ اَمْ اِلٰی أَرْضٍ مَعْلُوْمَۃٍ أَوَ لِقَوْمٍ خَاصَّۃً اَمْ اِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعَۃً ثُمَّّ قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْھِجْرَۃِ؟)) قَالَ: ھَا أَنَا ذَا، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلَاۃِ وَآتَیْتَ الزَّکَاۃَ فَأَنْتَ مُھَاجِرٌ وَاِنْ مِتَّ بِالْحَضْرَمَۃِ۔)) یَعْنِیْ أَرْضًا بِالْیَمَانِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۶۸۹۰)
۔ فرزدق بن حنان قاص کہتے ہیں: کیا تم کو ایسی حدیث بیان کروں، جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے اور میں ابھی تک اس کو نہیں بھولا، میں اور عبد اللہ بن حِیدہ شام کے راستے پر نکلے اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، … … باقی حدیث ذکر کی، پھر کہا تمہاری قوم کا ایک سخت اور جری بدو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہجرت آپ کی طرف ہو گی، آپ جہاں کہیں بھی ہوں، یا کسی خاص زمین کی طرف ہو گی،یا کسی خاص قوم کی طرف ہو گی اور جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو تو مہاجر ہی ہو گا، اگرچہ تو حضرمہ میں فوت ہو جائے۔ یہ مقامیمانیہ کے علاقے میں ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ شیخ العلاء بن رافع، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۷۷، والبزار: ۱۷۵۰، ۳۵۲۱ (انظر: ۶۸۹۰)
10648
Zaeef
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
۔ (۱۰۶۴۹)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِلَادُ بِلَادُ اللّٰہِ وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللّٰہِ فَحَیْثُمَا أَصَبْتَ خَیْرًا فَأَقِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰)
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام علاقے اللہ تعالیٰ کے علاقے ہیں اور تمام بندے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، لہٰذا جہاں بھی تجھے خیر ملے، تو وہیں اقامت اختیار کر۔
Takhreej
(۱۰۶۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ ثلاثۃ مجاھیل: جبیر بن عمرو القرشی، وابو سعید الانصاری، وابو یحییٰ مولی آل الزبیر، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۵۰ (انظر: ۱۴۲۰)
Explanation
فوائد:… جب انسان کی روزی کا کوئی نہ کوئی سلسلہ چل رہا ہو اور وہ اپنے دین اور جان کے معاملے میں امن میں ہوتو ٹھیک، وگرنہ وہ کسی ایسے شہر کی طرف ہجرت کر جائے، جہاں اس کی جان اور دین محفوظ ہو جائے۔
10649
Zaeef
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
۔ (۱۰۶۵۰)۔ عَنِ الْقَلُوْصِ اَنَّ شِھَابَ بْنَ مُدْلِجٍ نَزَلَ الْبَادِیَّۃَ فَسَابَّ اِبْنُہُ رَجُلًا فَقَالَ: یَاابْنَ الَّذِیْ تَعَرَّبَ بِھٰذِہِ الْھِجْرَۃِ، فَأَتَی شِھَابٌ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَ اَبَا ھُرَیرَۃَ فَسَمِعَہُ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفْضَلُ النَّاسِ رَجُلَانِ، رَجُلٌ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ حَتّٰییَھْبِطَ مَوْضِعًا یَسُوْئُ الْعَدُوَّ، وَرَجُلٌ بِنَاحِیَۃِ الْبَادِیَۃِیُقِیْمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَیُؤَدِّیْ حَقَّ مَالِہِ وَیَعْبُدُ رَبَّہُ حَتّٰییَأْتِیَہُ الْیَقِیْنُ۔)) فَجَثَا عَلٰی رُکْبَتَیْہِ قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَا أَبَا ھُرَیرَۃَیَقُوْلُہُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاَتٰی بَادِیَتَہُ فَاَقَامَ بِھَا۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۶)
۔ قلوص کہتے ہیں: سیدنا شہاب بن مدلج نے ایک دیہات میں اقامت اختیار کی، جب اس کے بیٹے نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا تو اس آدمی نے آگے سے کہا: اے اس باپ کے بیٹے، جس نے ہجرت ِ مدینہ کو باطل کر کے دیہات میں سکونت اختیار کر لی،یہ سن کر شہاب مدینہ میں آیا اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے افضل دو آدمی ہیں، ایک وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کیا،یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر اترا کہ جس سے دشمن کو تکلیف ہوئی اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کونے میںمقیم ہے، پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ، اپنے مال کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور کہا: اے ابو ہریرہ! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے دیہات کی طرف لوٹ آئے اور وہاں سکونت اختیار کی۔
Takhreej
(۱۰۶۵۰) تخریج: صحیح، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۴/ ۲۳۵ (انظر: ۱۰۷۶۶)
Explanation
فوائد:… یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ثواب کو دیہاتوںکی طرف نکل جانے نے ضائع نہیں کیا۔ حالات کو دیکھ کر حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا،یہ اجازت ہر آدمی کے لیے نہیں ہے۔
10650
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.