TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11844 - سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
۔ (۱۱۸۴۴)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَیِّیئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُہُ فَأَعْرَضَ عَنِّی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ مِنْ حِیَالِ وَجْہِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّی، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَضَحِکَ حَتَّی اِسْتَلْقٰی لِقَفَاہُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفَکَ، آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوْا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوْا وَوَفَیْتَ إِذ غَدَرُوْا، وإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوُجُوْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ عَدِیِّ جِئْتَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ سَادَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوْبُہُمْ مِنَ الْحُقُوْقِ۔ (مسند احمد: ۳۱۶)
سیدناعدی بن خاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طی ٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرے کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کی بل لیٹ گئے اور پھر کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی، جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔
11844
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۸۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۹۴، ومسلم: ۲۵۲۳(انظر: ۳۱۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… کتنی قابل غور بات ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خوبیوںکے معترف بھی ہیں اور وہ بار بار اِن کے سامنے اس مقصد سے آ رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ مال ودولت دے دیا جائے، لیکن ان دو چیزوں کے باوجود ان کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا، کیونکہ بڑی مصلحت اور منفعت اس میں تھی کہ دوسرے لوگوں میں مال تقسیم کر دیا جائے۔

Related Chapters

2,023
1
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
2
عدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد اور قبولِ اسلام
Musnad Ahmad
3
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
4
خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
Musnad Ahmad
5
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
6
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
7
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
8
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
9
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
10
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
11
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
12
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
13
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
14
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
21
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
22
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
27
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
29
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
32
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
33
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
35
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
Musnad Ahmad
36
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
37
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
40
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
41
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
42
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
46
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

91
Musnad Ahmad
3451
۔ (۳۴۵۱) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَیِّیئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُہُ فَأَعْرَضَ عَنِّی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ مِنْ حِیَالِ وَجْہِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّی، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَضَحِکَ حَتّٰی اِسْتَلْقَی لِقَفَاہُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُکَ، آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوْا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوْا وَوَفَیْتَ إِذ غَدَرُوْا، وإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوُجُوْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ عَدِیٍّ جِئْتَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ سَادَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوْبُہُمْ مِنَ الْحُقُوْقِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶)
۔ سیدناعدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طیٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرہ کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کے بل لیٹ گئے اور پھر فرمایا: جیہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔
Musnad Ahmad
155
۔ (۱۵۵)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((یَا أَبَا أُمَامَۃَ! اِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَنْ یَلِیْنُ لِیْ قَلْبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۵۵)
سیدنا ابوامامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے فرمایا: ابو امامہ! بیشک بعض مؤمن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔
Musnad Ahmad
468
۔ (۴۶۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مَہْدِیُّ قَالَ: ثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخْعِیِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: رَأَتْنِیْ عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِیْنَ (ؓ) أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَۃٍ أَصَابَتْ ثَوْبِیْ فقَالَتْ: مَا ہٰذَا؟ قُلْتُ: جَنَابَۃٌ أصَابَتْ ثَوْبِیْ، فَقَالَتْ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا وَاِنَّہُ یُصِیْبُ ثَوْبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا یَزِیْدُ عَلَی أَنْ یَقُوْلَ بِہِ ہٰکَذَا، وَوَصَفَہُ مَہْدِیٌّ حَکَّ یَدَہُ عَلَی الْأُخْرٰی۔ (مسند أحمد: ۲۵۲۰۹)
اسود بن یزید کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو دھو رہا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جنابت ہے، جو میرے کپڑے کو لگ گئی تھی، انھوں نے کہا: میں بھی اپنے آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے کو جنابت لگ جاتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح کرنے سے زیادہ تو کچھ نہیں کرتے تھے۔ مہدی نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر کھرچ کر کیفیت کو بیان کیا۔
Musnad Ahmad
568
۔ (۵۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ فِی الْمَسْجِدِعَلَی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصْابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا۔ (اَلْحَدِیْثَ سَیَأْتِیْ بِطُوْلِہِ فِیْ بَابِ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی) (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو دکھاؤ، یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن میرے پاس لاؤ، پس انھوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ میں آئے گی۔)
Musnad Ahmad
718
۔ (۷۱۸)۔عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَؓأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَہُ بِکُوْزٍ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا یَا عُمَرُ؟)) قَالَ: مَائٌ تَوَضَّأْ بِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((مَا أُمِرْتُ کُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَالِکَ کَانَتْ سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۵۰)
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔
Musnad Ahmad
728
۔ (۷۲۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَی ابْنُ عُمَرَ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ ہَذَا؟ فَقَالَ سَعْدٌ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ ؓ، فَقَالَ سَعْدٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اَفْتِ ابْنَ أَخِیْ فِی الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ، فَقَالَ عُمَرُ ؓ: کُنَّا وَنَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَمْسَحُ عَلٰی خِفَافِنَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ؓ: وَاِنْ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَولِ؟ فَقَالَ عُمَرُ ؓ: نَعَمْ وَاِنَ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَالِکَ یَمْسَحُ عَلَیْہِمَا مَا لَمْ یَخْلَعْہُمَا وَمَا یُوَقِّتُ لِذَالِکَ وَقْتًا، قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: فَحَدَّثْتُ بِہِ مَعْمَرًا فَقَالَ: حَدَّثَنِیْہِ أَیُّوْبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷)
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے سیدنا سعد ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھ کر کہا: تم لوگ بھی یہ مسح کرتے ہو؟ انھوںنے کہا: جی ہاں۔ پھر جب ہم سیدنا عمرؓ کے پاس جمع ہوئے تو سیدنا سعد ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے بھتیجے (ابن عمر) کو موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فتوی دو۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اگرچہ بندہ پیشاب اور پائخانہ سے فارغ ہو کر آیا ہو؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، اگرچہ وہ پیشاب اور پائخانہ کر کے آیا ہو۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ؓ جب تک موزے اتارتے نہیں تھے، اس وقت تک ان پر مسح کرتے رہتے تھے اور اس کے لیے وقت کی کسی مقدار کا تعین بھی نہیں کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
840
۔ (۸۴۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: ثَنَا یَحْیٰی بْنُ آدَمَ قَالَ: ثَنَا زُہَیْرٌوَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحٰقَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی حَبِیْبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِیْ حَبِیبَۃَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ وَکَانَ عَقَبِیًّا بَدَرِیًّا، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِیْلَ لَہُ: اِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ یُفْتِی النَّاسَ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ: یُفْتِی النَّاسَ بِرَأْیِہِ فِی الَّذِیْ یُجَامِعُ وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَ: أَعْجِلْ بِہِ، فَأَتٰی بِہِ فَقَالَ: یَا عَدُوَّ نَفْسِہِ! أَوَ قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِیَ النَّاسَ فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَأْیِکَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِیْ عُمُومَتِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَیُّ عُمُومَتِکَ؟ قَالَ: أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ زُہَیْرٌ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ وَرِفَاعَۃُ بْنُ رَافِعٍ: فَالْتَفَتَ اِلَیَّ وَقَالَ: مَا یَقُوْلُ ھٰذَا الْفَتٰی؟ وَقَالَ زُہَیْرٌ: مَا یَقُولُ ھٰذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: کُنَّا نَفْعَلُہُ فِی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُمْ عَنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَہْدِہِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلٰی أَنَّ الْمَائَ لَا یَکُونُ الِاَّ مِنَ الْمَائِ اِلَّا رَجُلَیْنِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِھٰذَا أَزْوَاجُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَرْسَلَ اِلٰی حَفْصَۃَ فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِیْ، فَأَرْسَلَ اِلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ یَعْنِی تَغَیَّظَ ثُمَّ قَالَ: لَا یَبْلُغُنِیْ أَنَّ أَحَدًا فَعَلَہُ وَلَا یَغْتَسِلُ اِلَّا أَنْہَکْتُہُ عُقُوْبَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۱۳)
سیدنا رفاعہ بن رافعؓ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت مسجد میں لوگوں کو اپنے رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس کو جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ اس کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتوے دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی اور سیدنا معاذؓ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہؓ کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہؓکی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔
Musnad Ahmad
967
۔ (۹۶۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ (ؓ) قَالَتْ: أَتَیْتُ عَائِشَۃَؓ فَقُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَدْ خَشِیْتُ أَنْ لَا یَکُوْنَ لِیْ حَظٌّ فِی الْاِسْلَامِ وأَنْ أَکُوْنَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، أَمْکُثُ مَا شَائَ اللّٰہُ مِنْ یَوْمِ أُسْتَحَاضُ فَلَا أُصَلِّیْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃً، قَالَتْ: اجْلِسِیْ حَتّٰی یَجِیْئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ تَخْشٰی أَنْ لَا یَکُوْنَ لَہَا حَظٌّ فِی الْاِسْلَامِ وأَنْ تَکُوْنَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، تَمْکُثُ مَا شَائَ اللّٰہُ مِنْ یَوْمِ تُسْتَحَاضُ فَلَا تُصَلِّیْ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاۃً، فَقَالَ: ((مُرِیْ فَاطِمَۃَ بِنْتَ أَبِیْ حُبَیْشٍ فَلْتُمْسِکْ کُلَّ شَہْرٍ عَدَدَ أَیَّامِ أَقْرَائِہَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِیْ وَتَسْتَثْفِرُ وَتَتَنَظَّفُ ثُمَّ تَطَہَّرُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ، فَاِنَّمَا ذٰلِکِ رَکْضَۃٌ مِنَ الشَّیْطَانِ أَوْ عِرْقٌ اِنْقَطَعَ أَوْ دَائٌ عَرَضَ لَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۸۳)
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔
Musnad Ahmad
985
۔ (۹۸۵)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّا نَمْکُثُ الشَّہْرَ وَالشَّہْرَیْنِ لَا نَجِدُ الْمَائَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَکُنْ لِأُصَلِّیَ حَتّٰی أَجِدَ الْمَائَ، فَقَالَ عَمَّارٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! تَذْکُرُ حَیْثُ کُنَّا بِمَکَانِ کَذَا کَذَا وَنَحْنُ نَرْعَی الْاِبِلَ فَتَعْلَمُ أَنَّنَا أَجْنَبْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ تَمَرَّغْتُ بِالتُّرَابِ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثْتُہُ فَضَحِکَ وَقَالَ: ((کَانَ الصَّعِیْدُ کَافِیَکَ۔)) وَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الْاََرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَبَعْضَ ذِرَاعَیْہِ۔ قَالَ: اِتَّقِ اللّٰہَ، یَا عَمَّارُ! قَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْکُرْہُ مَا عِشْتُ أَوْ مَا حَیِیْتُ، قَالَ: کَلَّا وَاللّٰہِ، وَلٰکِنْ نُوَلِّیْکَ مِنْ ذٰلِکَ مَا تَوَلَّیْتَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۰۸۸)
عبد الرحمن بن ابزی کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ؓ کے پاس تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم ایک ایک اور دو دو ماہ ٹھہرتے ہیں اور پانی نہیں پاتے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: رہا مسئلہ میرا، تو میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھوں گا، جب تک مجھے پانی نہیں ملے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمار ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو یاد ہو گا کہ جب ہم فلاں جگہ پر اونٹ چرا رہے تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمار ؓ نے کہا: پس میں مٹی میں لیٹا تھا اور جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آکر یہ بات ذکر کی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہنس پڑے تھے اور فرمایا تھا: تجھے مٹی ہی کافی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور ان کو اپنے چہرے اور بازوؤں کے بعض حصوں پر پھیر دیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے عمار! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: اے امیرے المؤمنین! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں زندگی بھر یہ چیز بیان نہیں کروں گا، سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! تم جس چیز کی ذمہ داری خودلینا چاہتے ہو، ہم تم کو اس کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں۔