TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3599 - اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 12 in this chapter
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۵۹۹) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَیْنِ مِنْ مَالِہِ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ، وَلِلْجَنَّۃِ اَبْوَابٌ، فَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصَّلَاۃِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلَاۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصَّدَقَۃِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الْجِہَادِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصِّیَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الرَّیَّانِ۔)) فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: وَاللّٰہِ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا عَلٰی اَحَدٍ مِنْ ضَرُوْرَۃٍ مِنْ اَیِّہَا دُعِیَ، فَہَلْ یُدْعٰی مِنْہَا کُلِّہَا اَحَدٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَإِنِّی اَرْجُوْا اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۲۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے جنت کے دروازوں سے آواز دی جائے گی، جنت کے کئی دروازے ہیں، جو آدمی نمازی ہو گا، اسے بَابُ الصَّلَاۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی صدقہ کرتا ہو گا، اسے بَابُ الصَّدَقَۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی جہاد کرتا ہو گا، اسے بَابُ الْجِہَاد سے بلایا جائے گا اور جو آدمی روزہ رکھتا ہو گا، اسے بَابُ الرَّیَّان سے بلایا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس کی تو کسی کو کوئی حاجت نہیں ہوگی کہ اسے جنت کے جس دروازے سے مرضی بلا لیا جائے (کیونکہ مقصود جنت میں داخل ہونا ہو گا)، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص بھی ہو گا، جس کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو گے۔
3599
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۹۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۸۹۷، ومسلم: ۱۰۲۷(انظر: ۷۶۳۳)

Related Chapters

2,862
1
Chapter: The virtue of Charity in the Cause of Allah, and its Manifold reward
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے صدقہ کرنے کی فضیلت اور اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Spending In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Developing Gray Hair In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جانے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Archery In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
6
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
8
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
9
(5) CHAPTER. To spend money in the right way.
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
10
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
11
(37) CHAPTER. The superiority of spending in Allah's Cause (i.e., for Jihad).
اللہ کی راہ ( جہاد میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
12
Chapter: The Virtue of Fasting for in the cause of Allah, for those who are able to without suffering any harm or neglecting other duties
اس شخص کےلیے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت جو نقصان اور حق کو ضائع کیے بغیر ‘اس کی طاقت رکھتا ہو
Sahih Muslim
13
Chapter: The virtue of Jihad and going out (to fight) in the cause of Allah
جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
14
Chapter: The virtue of Martyrdom in the cause of Allah
اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے کی فضیلت
Sahih Muslim
15
Chapter: The virtue of going out in the morning or the evening in the cause of Allah
صبح کو یا شام کو اللہ کی راہ میں سفر کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
16
CHAPTER: Regarding The Virtue Of Keeping Watch In The Cause Of Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
18
اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
19
اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
20
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
21
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back Charity
باب: صدقہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It's Being Disliked To Raise The Hand When One Sees the House (Ka'bah)
باب: بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The One Whose Two Feet Became Dusty In The Cause Of Allah
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں غبار آلود قدموں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About One Who Is Wounded In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں زخمی ہونے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About One Who Is Martyred While In Debt
باب: اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے پر قرض ہو تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About A Smiling And Cheerful Face
باب: خوش مزاجی اور مسکراہٹ سے ملنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Whoever Dies While He Bears Witness To La Ilaha Illallah
باب: موت کے وقت لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Repentance, And Seeking Forgiveness, And What Has Been Mentioned Of Allah’s Mercy To His Slaves
باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
بَاب فضل الصَّدَقَة
صدقہ کی فضیلت کا بیان
Mishkat
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
38
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
40
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
Musnad Ahmad
41
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
42
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
43
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
45
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
46
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
47
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
48
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
Musnad Ahmad
49
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
50
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

82
Musnad Ahmad
10233
۔ (۱۰۲۳۳)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، لَا یَخْسِفَانِ لِمُوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ ذٰلِکَ فَافْزَعُوْا اِلَی الصَّلَاۃِ، وَاِلَی الصَّدَقَۃِ، وَاِلٰی ذَکْرِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۳۲)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اے لوگو! بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوںمیں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی سے، جب تم اس چیز کو دیکھو تو نماز، صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف پناہ حاصل کرو۔
Musnad Ahmad
11862
۔ (۱۱۸۶۲)۔ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الدِّمَشْقِیُّ، وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: یَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَۃَ صَاحِبَ الْعَقْلِ عَقْلِ الصَّدَقَۃِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ بِأَیِّ شَیْئٍ تَدَّعِی أَنَّکَ رُبُعُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: إِنِّی کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَرَی النَّاسَ عَلٰی ضَلَالَۃٍ وَلَا أَرَی الْأَوْثَانَ شَیْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُ عَنْ رَجُلٍ یُخْبِرُ أَخْبَارَ مَکَّۃَ وَیُحَدِّثُ أَحَادِیثَ، فَرَکِبْتُ رَاحِلَتِی حَتّٰی قَدِمْتُ مَکَّۃَ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْتَخْفٍ، وَإِذَا قَوْمُہُ عَلَیْہِ جُرَآئُ فَتَلَطَّفْتُ لَہُ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: ((أَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ۔)) فَقُلْتُ: وَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((رَسُولُ اللّٰہِ۔)) قَالَ: قُلْتُ آللَّہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قُلْتُ: بِأَیِّ شَیْئٍ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((بِأَنْ یُوَحَّدَ اللّٰہُ وَلَا یُشْرَکَ بِہِ شَیْئٌ وَکَسْرِ الْأَوْثَانِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ۔)) فَقُلْتُ لَہُ: مَنْ مَعَکَ عَلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: ((حُرٌّ وَعَبْدٌ أَوْ عَبْدٌ وَحُرٌّ۔)) وَإِذَا مَعَہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی قُحَافَۃَ وَبِلَالٌ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ، قُلْتُ: إِنِّی مُتَّبِعُکَ، قَالَ: ((إِنَّکَ لَا تَسْتَطِیعُ ذٰلِکَ یَوْمَکَ ہٰذَا وَلٰکِنْ ارْجِعْ إِلٰی أَہْلِکَ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِی قَدْ ظَہَرْتُ فَالْحَقْ بِی۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلٰی أَہْلِی وَقَدْ أَسْلَمْتُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُہَاجِرًا إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ حَتّٰی جَائَ رَکَبَۃٌ مِنْ یَثْرِبَ فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا الْمَکِّیُّ الَّذِی أَتَاکُمْ؟ قَالُوْا: أَرَادَ قَوْمُہُ قَتْلَہُ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوا ذٰلِکَ وَحِیلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَہُ وَتَرَکْنَا النَّاسَ سِرَاعًا، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ: فَرَکِبْتُ رَاحِلَتِی حَتّٰی قَدِمْتُ عَلَیْہِ الْمَدِینَۃَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: ((نَعَمْ أَلَسْتَ أَنْتَ الَّذِی أَتَیْتَنِی بِمَکَّۃَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِی مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ وَأَجْہَلُ، قَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتّٰی تَرْتَفِعَ، فَإِنَّہَا تَطْلُعُ حِینَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ، وَحِینَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قِیدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ فَصَلِّ، فَإِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ حَتّٰی یَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَإِنَّہَا حِینَئِذٍ تُسْجَرُ جَہَنَّمُ، فَإِذَا فَائَ الْفَیْئُ فَصَلِّ، فَإِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ، فَإِذَا صَلَّیْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّہَا تَغْرُبُ حِینَ تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ، وَحِینَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ۔)) قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِی عَنِ الْوُضُوئِ، قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَقْرَبُ وَضُوئَہُ، ثُمَّ یَتَمَضْمَضُ وَیَسْتَنْشِقُ وَیَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ فَمِہِ وَخَیَاشِیمِہِ مَعَ الْمَائِ حِینَ یَنْتَثِرُ، ثُمَّ یَغْسِلُ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مِنَ الْمَائِ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِہِ، ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا رَأْسِہِ مِنْ أَطْرَافِ شَعَرِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا قَدَمَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَقُومُ فَیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَیُثْنِی عَلَیْہِ بِالَّذِی ہُوَ لَہُ أَہْلٌ، ثُمَّ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: یَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَۃَ! انْظُرْ مَا تَقُولُ؟ أَسَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُعْطَی ہٰذَا الرَّجُلُ کُلَّہُ فِی مَقَامِہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّی وَرَقَّ عَظْمِی، وَاقْتَرَبَ أَجَلِی وَمَا بِی مِنْ حَاجَۃٍ، أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَعَلٰی رَسُولِہِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، لَقَدْ سَمِعْتُہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۴۴)
شداد بن عبداللہ دمشقی، جن کو متعدد صحابۂ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ نے کہا کہ دیت (خون بہا) ادا نہ کر سکنے والوں کی طرف سے خون بہاادا کرنے والے عمرو بن عبسہ! آپ بنو سلیم میں سے ہیں، آپ کس طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے؟ انہوںنے کہا:میں دور جاہلیت میں بھی لوگوں کو گم راہ سمجھتا تھا اور میں بتوں کو کچھ اہمیت نہ دیا کرتا تھا، پھر میں نے ایک آدمی کو سنا وہ مکہ کی باتیں کیا کرتا اور بیان کیا کرتا تھا، میں سواری پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ آیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوشیدہ طور پر اسلام کی تبلیغ کرتے تھے اور آپ کی قوم آپ پر غالب تھی اور ظلم ڈھاتی تھی۔ میں نرم خوئی اختیار کرکے آپ کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، میں نے عرض کیا: آپ کا دعویٰ کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا نبی ہوں۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کا نبی ہونے سے کیا مراد ہے یا اس کا مفہوم کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول اور اس کا فرستادہ ہوں۔ میں نے دریافت کیا: آیا آپ کو اللہ نے رسول بنا کر مبعوث کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے پوچھا: اللہ نے آپ کو کیا پیغام اور دعوت دے کر مبعوث کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لایا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے، صلہ رحمی کی جائے۔ میں نے کہا: اس دعوت کے سلسلہ میں آپ کے ساتھ کس قسم کے لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آزادہے اور ایک غلام۔ ان دنوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کا متبع بننا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان حالات میں اس بات کی استطاعت نہیں رکھ سکتے، البتہ تم اپنے اہل میں واپس چلے جائو، جب تم میرے غالب ہونے کا سنو تو میرے پاس آجانا۔ اس کے بعد میں اپنے اہل میں واپس آگیا، میں اسلام قبول کر چکا تھا، اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے، میں حالات معلوم کرتا رہا یہاں تک کہ یثرب سے ایک چھوٹا سا قافلہ آیا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ مکی جو تمہارے ہاں آیا تھا، اس کی کیا پوزیشن ہے؟ انہوںنے بتلایا کہ ان کی قوم نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، مگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے، ان کے اور ان کے اس برے ارادہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکاوٹ آگئی اور لوگ بڑی تیزسے اس کے ساتھ مل رہے ہیں۔ پھر میں سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مجھے پہچانا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم وہی شخص نہیں ہو، جو میرے پاس مکہ میں آئے تھے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ سکھایا ہے اور میں اس سے واقف نہیں، آپ مجھے بھی اس کی تعلیم دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم فجر کی نماز ادا کر لو تو طلوع آفتاب تک نماز نہ پڑھو، آفتاب طلوع ہونے کے بعد بھی اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں، جب سورج ایک دو نیزوں کے برابر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ سکتے ہو، بے شک نماز کے وقت اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم سورج کے عین سر پر پہنچنے تک نماز پڑھ سکتے ہو، جب سورج عین سر پر ہو تو نماز نہ پڑھو کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، جب سایہ ڈھل جائے تو نماز پڑھو، نماز کے وقت اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، پھر تم عصر تک نماز پڑھ سکتے۔ جب تم عصر کی نمازادا کر لو تو غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے رکے رہو، جب سورج غروب ہوتا ہے اس وقت بھی کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے وضوء کے مسائل بھی بتلائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی وضو کے پانی کے قریب ہو کر کلی کرے، ناک میں پانی چڑھائے، ناک کو جھاڑے،تو اس کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے منہ سے اور نتھنوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ چہرہ اسی طرح دھوئے جیسے اس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیاہے تو اس کے گناہ پانی کے ساتھ اس کیداڑھی کے کناروں سے نکل جاتے ہیں۔ پھروہ اپنے بازوئوں کو کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ انگلیوں کے پوروں سے نکل جاتے ہیں، پھر وہ جب اپنے سرکا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ بالوں کے سروں سے نکل جاتے ہیں، پھر وہ اپنے قدموں کو یعنی پائوں کو اسی طرح دھوتا ہے، جیسے اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے گناہ پائوں کی انگلیوں کے کناروں سے نکل جاتے ہیں، اس کے بعد وہ کھڑا ہو کر اللہ کے شایان شان حمد و ثناء کرتا ہے اور دو رکعت نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا۔ عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شاگرد ابو امامہ نے دریافت کیا: اے عمرو بن عبسہ! ذرا خیال سے بولیں۔ کیا آپ نے یہ ساری بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خو دسنی ہے؟ کیایہ سب کچھ ایک آدمی کو ایک ہی وقت میں مل جاتا ہے؟ سیدنا عمروبن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابو امامہ!اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں، میری موت کا وقت قریب ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات ایک، دو یا تین مرتبہ ہی سنی ہوتی تو میں بیان نہ کرتا۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سات مرتبہ بلکہ اس سے بھی زائد مرتبہ سماع کر چکا ہوں۔
Musnad Ahmad
111
۔ (۱۱۱)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْ یُسْئَلُ شَیْئًا عَلٰی الْاِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاہُ، قَالَ: فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ فَأَمَرَ لَہُ بِشَائٍ کَثِیْرٍ بَیْنَ جَبَلَتَیْنِ مِنْ شَائِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَرَجَعَ اِلٰی قَوْمِہِ فَقَالَ: یَاقَوْمِ! أَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا یُعْطِی عَطَائً مَا یَخْشَی الْفَاقَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۷۴)
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسلام پر جو چیز بھی مانگ لی جاتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہ دے دیتے تھے، ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو بہت ساری بھیڑ بکریاں دینے کا حکم دیا، یہ زکوۃ کی بکریاں تھیں اور دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی ان سے بھر جاتی تھی۔ وہ بندہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور ان سے کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح کثرت سے دیتے ہیں کہ ان کو فاقے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
1002
۔ (۱۰۰۲)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ بِمَا افْتَرَضَ اللّٰہُ عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: ((اِفْتَرَضَ اللّٰہُ عَلٰی عِبَادِہِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا۔)) قَالَ: ھَلْ عَلَیَّ قَبْلَہُنَّ أَوْ بَعْدَہُنَّ؟ قَالَ: ((اِفْتَرَضَ اللّٰہُ عَلٰی عِبَادِہِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! لَا أَزِیْدُ فِیْہِنَّ شَیْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((دَخَلَ الْجَنَّۃَ اِنْ صَدَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۵۱)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو نمازیں فرض کی ہیں، مجھے ان کے بارے میں بتلائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اِن سے پہلے یا اِن کے بعد بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ تین دفعہ ارشاد فرمایا، پھر اس بندے نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ مین میری جان ہے! نہ میں ان میں کسی چیز کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Musnad Ahmad
1072
۔ (۱۰۷۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِیْمِ نِ الضَّبِّیِّ أَنَّہُ خَافَ زَمَنَ زَیَادٍ أَوِ ابْنِ زَیَادٍ فَأَتَی الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَ أَبَاھُرَیْرَۃَؓ، قَالَ: فَانْتَسَبَنِیْ فَانْتَسَبْتُ لَہُ فَقَالَ: یاَ فَتٰی أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَنْفَعَکَ بِہِ؟ قُلْتُ: بَلٰی! رَحِمَکَ اللّٰہُ، قَالَ: ((اِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الصَّلَاۃِ، قَالَ: یَقُوْلُ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ: أُنْظُرُوْا فِیْ صَلَاۃِ عَبْدِیْ أَتَّمَہَا أَمْ نَقَصَہَا؟ فَاِنْ کَانَتْ تَامَّۃً کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً وَاِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْہَا شَیْئًاقَالَ: انْظُرُوْا ھَلْ لِعَبْدِیْ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَاِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوْا لِعَبْدِیْ فَرِیْضَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی ذٰلِکُمْ۔)) قَالَ یُوْنُسُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَأَحْسِبُہُ قَدْ ذَکَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۹۴۹۰)
انس بن حکیم ضبّی کہتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں ڈرنے لگا، اس لیے مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس آگیا، انھوں نے مجھ سے نسب دریافت کیا، میں نے وہ بیان کر دیا، پھر انھوں نے کہا: اے نوجوان! کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کر دوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے کوئی فائدہ دے دے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزِ قیامت بندوں کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہے۔ ہمارا ربّ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا، جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اس کو پوری طرح ادا کیا ہے یا ناقص؟ پس اگر وہ پوری ہوئی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کوئی نقص ہوا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: تم دیکھو کہ کیا میرے بندے کی کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفلی نماز ہوئی تو وہ کہے گا: میرے بندے کی فرض نماز کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا محاسبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
1078
۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔
Musnad Ahmad
1094
۔ (۱۰۹۴)۔عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ سَبْرَۃَ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِیْنَ أُمِرَ بِالصَّلَاۃِ، فَاِذَا بَلَغَ عَشْرًا ضُرِبَ عَلَیْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۱۴)
سیدنا سبرہ جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب بچے کی عمر سات سال ہو جائے تو اس کو نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال ہو جائے تو (نماز چھڑنے پر) اس کی پٹائی بھی کی جائے۔
Musnad Ahmad
1265
۔ (۱۲۶۵) عَنْ نَافِع أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیَنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَیَجْتَمِعُوْنَ فَیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلَاۃَ وَلَیْسَیُنَادِیْ بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ بَعَضُہُمْ: اِتَّخِذُوْا نَاقُوْساً مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثلَ قَرْنَ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَاتَبْعَثُونَ رَجُلَا یُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))(مسند احمد: ۶۳۵۷)
نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیںبھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔
Musnad Ahmad
1266
۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔