۔ منصور کلبی کہتے ہیں: سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں اپنی بستی سے عقبہ بستی کے نواح میں جانے کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے بھی روزہ رکھنا ترک کر دیا اور ان کے ساتھ والے بعض لوگوں نے بھی، جبکہ بعض نے روزہ چھوڑنے کو پسند نہ کیا، جب وہ اپنی بستی میں واپس پہنچے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج ایسی چیز دیکھی ہے کہ مجھے جس کو دیکھنے کی توقع نہ تھی، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے عمل سے اعراض کیا ہے۔ دراصل وہ یہ بات ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، پھر یہ دعا کرنے لگے: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔
Takhreej
(۳۸۴۹) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۱۳(انظر: ۲۷۲۳۱)
Explanation
فوائد:… ہم حدیث نمبر (۲۳۵۷)کے باب میں قصر کی مسافت پر سیر حاصل بحث کر آئے ہیں،یہ مسئلہ بھی اسی مسافت سے متعلقہ ہے، اس لیے قارئین کو اس بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
۔ بنو عبداللہ بن کعب کے ایک آدمی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو کہ انصاری نہیں ہیں، کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سواروں نے ہمارے قبیلے پر چڑھائی کر دی، ایک روایت میں ہے: میرے ہمسائے کا اونٹ لوٹ لیا گیا تھا، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قریب آجائو اور کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: میں تو روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جائو، میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز کی اور مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزوں کی رخصت دی ہے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور مرضعہ دونوں کا یا کسی ایک کا ذکر کیا تھا، ہائے افسوس! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھایا تھا۔
فوائد:… اس حدیث کے راوی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، وہ انس بن مالک نہیں ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم تھے اور عام روایات میں جن کا نام آتا ہے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث ہے، جو جز نمبر ۹، حدیث نمبر (۳۱) اور صفحہ نمبر (۲۳۹) میں باب الاحوال التی عرضت للصیام میں گزر چکی ہے، اس میں ہے:پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی… شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (سورۂ بقرہ: ۱۸۵) یعنی: ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) تو اللہ نے تندرست اور مقیم آدمی پر روزہ فرض کر دیا اور مریض اورمسافر کو رخصت دے دی اور جو عمر رسیدہ آدمی روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے لیے (مسکین کو) کھانا کھلانا مشروع ٹھہرا۔
فوائد:… یہ حوالہ مصنف کا ہے، آپ اگر پوری حدیث پڑھنا چاہیں تو کتاب الصیام کی حدیث نمبر (۳۶۷۳) کا مطالعہ کریں۔ مسافر، شفاء کی امید رکھنے والے مریض، مستقل مریض اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والا عمر رسیدہ آدمی، اِن چاروں افراد کے احکام واضح ہیں کہ اول الذکر دو افراد قضائی دیں گے اور مؤخر الذکر ہر روزے کے عوض ایک ایک مسکین کھانا کھلا کر کفارہ دیں گے۔ ہماری مراد وہ مریض ہے، جس کے لیے روزہ رکھنا بہت مشکل ہویا روزے کی وجہ سے اس کی بیماری بڑھ سکتی ہو یا شفا میں زیادہ تاخیر ہو سکتی ہو۔
حَامِلَہ (حمل والی) اور مُرْضِعَہ (دودھ پلانے والی) خواتین کے بارے میں سوال یہ ہے کہ وہ روزوں کی قضائی دیں گییا کفارہ ادا کریں گی؟ اس مسئلے کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ درج ذیل آیت منسوخ ہے یا محکم: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} ’’اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔‘‘ اس کے بارے میں دو آراء ہے، ایک رائے یہ کہ آیت منسوخ ہو چکی ہے اور درج ذیل آیت اس کی ناسخ ہے: {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} ’’اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔‘‘
اس دعوی کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں: سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} تو جو چاہتا (روزہ رکھ لیتا اور) جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور فدیہ دے دیتا،یہاں تک کہ اس سے بعد والی آیت کے نازل اور اس نے اس کو منسوخ کر دیا۔ (بخاری: ۴۵۰۷، مسلم: ۱۱۴۵) بعد والی آیت سے مراد {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} کے الفاظ ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت الفاظ اس طرح پڑھے {فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْن} اور کہا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، …… پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔‘‘)نیز فرمایا: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کی جگہ یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔ (یہ حدیث تفصیل کے ساتھ اس نمبر (۳۶۷۳)میں گزر چکی ہے)
لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں ہوئی، جیسا کہ عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیوں پڑھی: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطَوَّقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جن لوگوں کو روزہ رکھنے سے کلفت و مشقت ہوتی ہو، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) اور پھر کہا: یہ آیت منسوخ نہیں ہے، یہ عمر رسیدہ مرد اور بڑی عمر کی خاتون کے بارے میں ہے، جو روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، ان کو چاہیے کہ وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ (صحیح بخاری: ۴۵۰۵) اسی نظریے کو سامنے رکھ کر ہی سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا عبد اللہ بن عمر نے کہا: اَلْحَامِلُ وَ الْمُرْضِعُ تُفْطِرُ وَ لَا تَقْضِیْ۔ حاملہ اور مرضعہ روزہ ترک کر دیں گی اور قضائی بھی نہیں دیں گی، (یعنی کفارہ ادا کریں گی)۔ (سنن دارقطنی:۲/۲۰۷)
لیکن درج ذیل تین وجوہات کی بنا پر اول الذکر یعنی اس آیت کے منسوخ ہو جانے کی رائے قوی معلوم ہوتی ہے:
(۱) اکثر کی قراء ت ’’یُطِیْقُوْنَہ‘‘ ہے، نہ کہ ’’یُطَوَّقُوْنَہُ‘‘
(۲)ابن منذر نے کہا: اگر یہ الفاظ روزے کی طاقت نہ رکھنے والے لوگوں کے بارے میں ہوتے تو اسی آیت کے آخری کلمات {وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} (اور تمہارا روزہ رکھ لینا بہتر ہے) کی کوئی مناسبت باقی نہ رہتی۔ اس قول کی تفصیلیہ ہے کہ یہ کیا ہوا کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا روزہ رکھنا بہتر ہے، دراصل شروع شروع میں یہ رخصت تھی کہ جو لوگ روزہ کی صلاحیت ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھنا چاہتے تھے، وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتے تھے، ان کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ کفارے کی بجائے روزہ رکھ لیں تو بہتر ہے۔
(۳) اول الذکر رائے رکھنے والوں کی روایات بڑی واضح ہیں، جن سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} اس باب کی پہلی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور مرضعہ کو مسافر کے ساتھ ذکر کیاہے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان کا حکم بھی مسافر والا ہے۔ ابراہیم نخعی اور حسن بصری نے کہا: جب حاملہ اور مرضعہ کو اپنی جانوں کا یا اپنے بچوںکا ڈر ہو تو وہ روزہ چھوڑ دیں، لیکن پھر قضائی دیں۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر ۴۵۰۵ سے پہلے ) اس بحث کا خلاصہ یہ کہ حاملہ اور مرضعہ کا حکم مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کا ہے، کسی نقصان سے بچنے کے لیے وہ روزہ ترک کر سکتی ہیں، لیکن بعد میں قضائی دیں گی۔ اگر کسی خاتون کییہ صورتحال ہو کہ وہ ایک رمضان میں حاملہ ہوتی ہے اور اگلے رمضان میں مرضعہ، اگر اس کا لگاتار چھ سات سالوں تک یہی مسئلہ بنتا رہے اور اتنے برسوں کے روزے رہ جائیں تو وہ کیا کرے؟ اسے چاہیے کہ وہ اہل علم سے رابطہ کرے، اپنی صورت حال سے آگاہ کرے اور اہل علم غور کریں کہ کیا اتنے روزوںکی قضائی دینا اس کے بس کی بات ہے یا نہیں، اس مجلس میں قضائییا کفارے کا فیصلہ کر دیا جائے۔
اہم تنبیہ: اس بحث میں حاملہ اور مرضعہ سے مراد وہ خواتین ہیں کہ اگر وہ روزہ رکھیں تو ان کو یا ان کے بچوں کو کوئی نقصان ہونے کا خطرہ ہو یا عام روزے داروں کی بہ نسبت کوئی بڑی مشقت اٹھانا پڑتی ہے، ہم نے کئی ایسی خواتین کو دیکھا کہ آرام سے اپنا روزہ پورا کر لیتی ہیں، بہرحال بعض شہری خواتین ضرورت سے زیادہ نرم مزاج والی بن جاتی ہیں اور ان کییہ کوشش ہوتی ہے کہ کفارے والی رخصت ان کو مل جائے، ان سے گزارش ہے کہ کم از کم ان میں اتنا عذر ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو معذور ثابت کر سکیں۔
مسکین کو کھانا کھلانا، اس کے بارے میں دو سوالات باقی ہیں:
(۱) یہ بات معلوم ہے کہ ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے گا، لیکن کیا ایک وقت کا کھانا کافی ہے یا دو وقتوں کا؟
(۲) اس کھانے کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ رہا مسئلہ ایکیا دو وقت کے کھانے کا، تو نصوص کے الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک روزے کے عوض ایک مسکین کا ایک وقت کا کھانا مطلوب ہے۔ ایوب بن ابی تمیمہ کہتے ہے: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے تو انھوں نے ایک بڑے برتن میں ثرید کا کھانا تیار کروایا اور تیس مساکین کو بلا کر ان کو کھلا دیا۔ (ابو یعلی: ۷/ ۲۰۴، واسنادہ منقطع)
قتادہ کہتے ہیں: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنی وفات سے ایک سال قبل روزے رکھنے سے کمزور ہو گئے تو انھوں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا اور ہر روز کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا۔ (معجم کبیر: ۱/ ۲۴۲)
ایوب بن ابی تمیمہ ہی کہتے ہیں: جب ایک سال سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزہ رکھنے سے کمزور ہو گئے تو انھوں نے ایک بڑے برتن میں کھانا بنوایا اور تیس مسکینوں کو بلا کر ان کو سیرو سیراب کر دیا۔ (سنن دارقطنی: ۲/ ۲۰۷)
کھانے کی مقدار معلوم کرنے کے لیے درج ذیل بحث کو سمجھنا ضروری ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖفَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ} ’’البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) اس آیت میں حج وعمرہ سے متعلقہ احکام بیان کیے جا رہے ہیں، جب ایک صحابی کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہوئی، جبکہ اس نے عمرے کا احرام پہن رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((اِحْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاۃً نُسُکًا اَوْ صُمْ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ اَوْ اَطْعِمْ ثَلَاثَۃَ آصُعٍ مِِنْ تَمْرٍ عَلٰی سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ۔)) (بخاری: ۱۸۱۴، ۱۸۱۶، مسلم: ۱۲۰۱، واللفظ لابی داود، وفی روایۃ للبخاری: ((اَوْ اَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفَ صَاعٍ۔)) ’’تو اپنا سر مونڈ دے اور بطورِ قربانی ایک بکری ذبح کر دے، یا تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھجوروں کے تین صاع کھلا دے۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ’’یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دے، ہر مسکین کو نصف صاع۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر بطورِ کفارہ کسی مسکین کو کھانا کھلانا پڑ جائے تو اس کی مقدار نصف صاع (تقریباً ایک کلو پچاس گرام) ہونی چاہیے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۱۹) والے باب کے مطابق جس آدمی نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو یہ مقصد پورا کرنے کے لیے پندرہ صاع کھجوریں دیں تھیں، اس طرح سے ہر مسکین کو صاع کاچوتھائی حصہ (تقریباً۵۲۵ گرام) آتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں کھانا کھلانے کا معیار ہی اس سے مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، ویسےیوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم میں سے کسی پر اس قسم کا کوئی کفارہ پڑ جائے تووہ مروجہ کھانوں میں سے کوئی کھانا مساکین کو اس طرح کھلائے کہ وہ خوب سیرو سیراب ہو جائیں، بعض صحابہ کے عمل سے یہی بات ثابت ہوتی ہے، ہمارے ہاں روٹی اور سالن کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کسی کا ذہن اس بات پر مطمئن نہ ہو تو وہ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ’’یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دے، ہر مسکین کو نصف صاع‘‘ پر عمل کرتے ہوئے ہر مسکین کو نصف صاع کے بقدر کھانا کھلا دے۔ باقی مذکورہ بالا دو احادیث ِ مبارکہ آپ کے سامنے ہیں، آپ خود فیصلہ کریں، اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کو پالے، جبکہ سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء اس کے ذمے باقی ہو تو اس کے اِس رمضان کے روزے قبول نہیں ہوں گے، اسی طرح جو آدمی نفلی روزے رکھ رہا ہو، جبکہ اس کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضا ہو تو اس وقت تک یہ نفلی روزے قبول نہیں ہو گے جب تک وہ اُن کی قضائی نہ دے لے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میرا معمول یہ تھا کہ میں ماہ رمضان کے روزوں کی قضا شعبان میں دیا کرتی تھی،یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے۔
فوائد:… رمضان میں رہ جانے والے روزوں کی قضائی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـعِـدَّۃٌ مِّـنْ اَیَّامٍ اُخَرَ} ’’دوسرے دنوں میں گنتی کو پورا کرنا ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۸۴) یہ آیت مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں لگائی گئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دس ماہ کے بعد شعبان میں روزوں کی قضائی دیا کرتی تھیں، اس لیے کسی وقت بھی قضائی دی جا سکتی ہے، اگلے رمضان کے بعد تک تاخیر کی جا سکتی ہے، لیکن اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ بغیر عذر کے اگلے رمضان کے بعد تک تاخیر کر دینا مکروہ ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ کئی آیات اور احادیثیہ رغبت دلائی گئی ہے کہ اس قسم کی ذمہ داریوں کو جلدی جلدی اد اکر لینا چاہیے، کیونکہ موت اور بیماری کا کوئی علم نہیں ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ میں روزے ہوں تو اس کا رشتہ دار اس کی طرف سے روزے رکھے۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری امی فوت ہو گئی ہے، جبکہ اس کے ذمہ میں ایک مہینہ کے روزے تھے، کیا اب میں اس کی طرف سے روزوں کی قضائی دے سکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہاری والدہ پر قرضہ ہوتا تو کیا تم نے وہ ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس امر کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، جبکہ اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے قضائی دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم نے اسے ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔
Takhreej
(۳۸۵۶) تخر یـج: انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۳۳۶)
Explanation
فوائد:… ابن قیم کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد نذر کے روزے ہیں، لیکن صحیحین کی روایت عام ہے، اس لیے اس سے مراد ہر وہ روزہ ہے، جو میت کے ذمے ہو، وہ نذر کا ہویا رمضان کا۔ جیسا کہ خطابی نے کہا: اس حدیث میں میت کا وہ روزہ مراد ہے، جو اس پر فرض تھا، وہ نذر کی صورت میں ہو یا رمضان کے روزوں کی قضا دینے کی صورت میں۔
۔ ابوعبید کہتے ہیں: عید کے موقع پر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں موجود تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) عید الفطر(ایک ماہ کے) روزوں سے تمہاری افطاری کا دن ہوتا ہے اور عید الاضحیٰ ویسے قربانی کا دن ہے، اس لیے اس میں قربانی کا گوشت کھایا کرو۔
۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ منی میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کرتے ہوئے کہا: میں نے نذر مانی ہوئی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا، لیکن اب یہ دن عید الاضحی کے دن آرہا ہے، اس کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عیدا الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔ اس آدمی کو یہ خیال آیا کہ شاید انھوں نے اس کا سوال نہیں سنا تھا، اس لیے اس نے دوبارہ کہا:میں نے ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہوئی ہے، لیکن اس دفعہ یہ دن عید الاضحی کے دن آرہا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، انہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا حتی کہ پہاڑ پر چڑھ گئے۔
فوائد:… عید الافطر اور عید الاضحی کو ہر قسم کا روزہ رکھنا منع ہے، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ آخری حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نذر کو پورا کرنے والا حکم عام ہے اور عید کے دن کا روزہ رکھنے سے ممانعت کا حکم خاص ہے، اور قانون یہ ہے کہ خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے۔
۔ ام عمرو کہتی ہیں: ہم منیٰ میں تھے، اچانک سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، لہذا کوئی آدمی ان دنوں کا روزہ نہ رکھے۔ وہ اونٹ پر سوار تھے، لوگوں کو اپنے پیچھے لگا رکھا تھا اور بآواز بلند یہاعلان کرتے جا رہے تھے۔
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: منیٰ کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم دیایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! اٹھو اور منی میں یہ اعلان کرو کہ یہ کھانے کے پینے کے دن ہیں، اس لیے ان دنوں میں کوئی روزہ نہیںہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایام تشریق تھے۔
۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: ہم ایام تشریق کے درمیانی دن کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اتنے میں کھانا لایا گیا اور لوگ کھانے کے قریب ہوئے، لیکن ان کا ایک بیٹا ذرا دور ہو گیا، سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: قریب ہو کر کھانا کھاؤ۔ لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔
Takhreej
(۳۸۶۲) تخر یـج: حسن بالمتابعات والشواھد۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۹۰۳، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۲۰، وابن خزیمۃ: ۲۱۴۸ (انظر: ۴۹۷۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کو بھی عید کا دن قرار دیا گیا ہے، لیکن اس دن کو روزہ رکھنا افضل ہے، اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم پھر کر یہ اعلان کریں کہ لوگو! ان دنوں کا روزہ نہ رکھو، کیونکہیہ کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔
۔ ایک صحابی رسول کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ منی والے دنوں میں اپنی سواری پر سوار ہو کر بآواز بلند یہ اعلان کریں کہ کوئی آدمی بھی ان دنوں میں روزہ نہ رکھے کیونکہیہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ سواری پر سوار ہو کر یہ اعلان کر رہے تھے۔
۔ مولائے ام ہانی ابو مُرّہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے والد سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور کہا: کھائو۔ اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ان دنوں میںافطار کرنے کا حکم دیا ور ان کا روزہ رکھنے سے منع کر دیا۔ امام مالک امام مالک نے کہا: یہ ایامِ تشریق تھے۔
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ خبردار! جنت میں صرف مومن ہی جائے گااور یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایامِ تشریق تھی۔
فوائد:… اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ حج تمتع میں ایک ہدی (یعنی ایک بکرییا پھر اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے) کی قربانی دینی پڑتی ہے، لیکن جس حاجی کو قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ کل دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات واپس گھر لوٹ کر، جبکہ ایام حج، جن میں روزے رکھنے ہیں، وہ ذوالحجہ کی (۹) تاریخ اور ایام تشریق ہیں۔ اس لیے ایسا حاجی ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، امام مالک، امام احمد، امام اوزاعی اور امام اسحاق کی بھییہی رائے ہے۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کتاب الحج میں آئے گی۔