۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ تو سفر میں روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب لگا اور نہ روزہ چھوڑنے والے پر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور ترک بھی کیا ہے۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا، جبکہ ہم روزہ کی حالت میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو، تمہارے لیے زیادہ طاقت روزہ نہ رکھنے میں ہے۔ چونکہ یہ رخصت تھی، اس لیے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا، اس کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صبح کو دشمنوں پر حملہ کرنے والے ہو اور تمہارے لیے زیادہ قوت روزہ نہ رکھنے میں ہے، لہذا تم روزہ نہ رکھو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لازمی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ رکھنا ترک کر دیا، بہرحال میں نے دیکھا کہ اس کے بعد بھی ہم صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمیں دشمن کے مقابلہ کی خبر دی اورروزہ ترک کرنے کا حکم دیا،پس ہم سب نے روزہ چھوڑ دیا۔
۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان میں سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں غزوہ کے لیے گئے، اور فتح مکہ بھی ماہ رمضان میں ہوئی تھی، بہرحال ہم نے ان دونوں غزووں میں روزہ نہیں رکھاتھا۔
۔ سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کے دوران ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، اس کے اوپر سایہ کیا گیا تھا اور لوگ بتا رہے تھے کہ یہ روزے دار آدمی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر میں روزہ رکھو۔
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو بلوایا،اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور اس سے فرمایا: کیا تیرے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ تو اللہ کے رسول کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلا ہوا ہے کہ تو پھر روزہ بھی رکھ رہا ہے۔
۔ سیدناکعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ ، جو اصحابِ سقیفہ میں سے تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
۔ ابوطعمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں( تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں)؟سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا، اسے عرفہ کے پہاڑوں جتنا گناہ ملتا ہے۔
Takhreej
(۳۸۳۹) تخر یـج:اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ (انظر: ۵۳۹۲)
۔ بشر بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: اگر میں تم کو بیان کروں تو تسلیم کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک نماز بھی قصر کرتے تھے اور روزہ بھی ترک کر دیتے تھے۔
Takhreej
(۳۸۴۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، الحارث بن عبید، وبشر بن حرب فیھما ضعف۔ اخرجہ الطیالسی: ۱۸۶۳(انظر: ۵۷۵۰)
Explanation
فوائد:… مزید کچھ احادیث اور ان کی فقہ ملاحظہ فرمائیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مَرَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِرَجُلٍ یُقَلِّبُ ظَھْرَہٗلِبَطْنِہٖ،فَسَأَلَعَنْہُ؟فَقَالُوْا: صَائِمٌیَا نَبِیَّ اللّٰہِ، فَدَعَاہُ فَأَمَرَہٗأَنْیُّفْطِرَ فَقَالَ: ((أَمَا یَکْفِیْکَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی تَصُوْمَ۔)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں پوچھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ روزے دار ہے۔ آپ نے اسے بلایا اور روزہ افطار کرنے کا حکم دیااور فرمایا: ’’کیا تجھے یہ (نیک عمل) کافی نہیں ہے کہ تو رسول اللہ کی صحبت میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے کہ تو نے روزہ رکھنا بھی شروع کر دیا۔‘‘ (أحمد: ۳/۳۲۷، ولہ طرق اخری عن جابر بنحوہ فی ’’الصحیحین‘‘ وغیرھما،الصحیحۃ: ۲۵۹۵)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑی واضح دلالت موجود ہے کہ اس وقت سفر میں روزہ رکھنا ناجائز ہو گا، جب مسافر کو اس کی وجہ سے تکلیف ہو گی، اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل دو احادیث کو محمول کیا جائے گا: ((لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ اَلصِّیَامُ فِی السَّفَرِ۔)) ’’سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ نہ توڑنے والوں کے بارے میں کہا تھا: ((اُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ۔)) ’’یہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘ جس آدمی کو دورانِ سفر روزہ رکھنے کی وجہ سے تکلیف نہ ہو رہی ہو تو اسے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار ہے،یہ اس باب کی مختلف احادیث کا خلاصہ اور جمع و تطبیق ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۹۵) سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّ ذٰلِکَ عَلَیْکَ أَیْسَرُ فَافْعَلْ۔)) ’’جو تمہارے لیے آسان ہے وہ کرلو۔‘‘ (تمام في’’الفوائد‘‘ق۱۶۱/۱، صحیحہ:۲۸۸۴)
اس حدیث ِ مبارکہ میں مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی رخصت دینے کا سبب بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے لوگوں کو آسانی فراہم کرنا۔ بلا شک و شبہ لوگوں کی قدرتوں اور طبیعتوں کو دیکھا جائے تو ’’آسانی‘‘ کا کوئی معین کلیہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں لوگوں کے ساتھ روزہ رکھ لینا آسان ہے اور بعد میں قضائی دینا مشکل ہے، اسی لیے وہ دورانِ سفر بھی روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ بعد میں قضائی دینا کوئی پریشان کن معاملہ نہیں ہے، اس لیے وہ رخصت پر عمل کرتے ہیں۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: {یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمْ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ} (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)…’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتے ہیں، نہ کہ مشکل کا۔‘‘
شیخ البانی نے کہا: سفر میں رمضان کے روزے رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں علماء و فقہاء کے اقوال معروف ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ دورانِ سفر روزہ ترک کرنا رخصت ہے، ہمارا خیال ہے کہ یہی عمل محبوب ہے، الا یہ کہ روزے کی قضا دینا مشکل سمجھی جاتی ہو، ایسی صورت میں روزہ رکھ لینا ہی پسندیدہ عمل ہو گا۔ واللہ اعلم۔ اس موضوع پر وسیع مطالعہ کے خواہش مندوں کو نیل الاوطار اور اہل علم و تحقیق کی دوسری کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۹۳۲) سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، (اگر میں ایسے کروں تو) کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: (( ھِیَ رُخْصَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَمَنْ أَخَذَبِھَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَصُوْمَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ۔)) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کرے گا، سو اچھی بات ہو گی اور جو روزہ رکھنا چاہے، تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔‘‘(صحیح مسلم)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے (المنتقی) میں کہا: اس حدیث میں قوی دلالت پائی جاتی ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔ اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’(روزہ رکھنے والے پر) کوئی گناہ نہیں ہوگا۔‘‘ ان الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ دورانِ سفر روزہ رکھنے کی بہ نسبت روزہ نہ رکھنا راجح اور افضل ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس حدیث کا یہ ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، کیونکہیہاں گناہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اور ایسا کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے۔
البتہ درج ذیل حدیث سے یہ استدلال کرنا ممکن ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے: نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُؤتٰی رُخَصُہٗکَمَایَکْرَہُ اَنْ تُؤتٰی مَعْصِیَتُہٗ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا یُحِبُّ اَنْ تُؤتٰی عَزَائِمُہُ۔)) ’’بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسے وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانیوں کاارتکاب کیا جائے۔ اور ایک روایت میں ہے: جیسے وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لازمی امور پر عمل کیا جائے۔‘‘
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بالکل درست ہے کہ دورانِ سفر روزہ نہ رکھنا افضل ہے، لیکن ممکن ہے کہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہو جو قضا دیتے وقت تنگی محسوس نہ کرتا ہو اور سفر میں روزہ کی وجہ سے اسے کوئی مشقت پیش آتی ہو، وگرنہ رخصت کا مقصود فوت ہو جائے گا۔ مزید آپ خود سوچ لیں۔ آپ تقریباً سترہ اٹھارہ احادیث اور بعض کے فوائد کا مطالعہ کر چکے ہیں، ہر قاری کے لیے فیصلہ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے، اگر سفر کے موجودہ ذرائع اور سہولیات کو دیکھا جائے تو روزہ رکھ لینا ہی بہتر ہے، الّایہ کہ کوئی بڑی مشقت لاحق ہونے کا خطرہ ہو، بہرحال ہر سفر میں بندے کو روزہ ترک کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور اگر کوئی آدمی حضر کی بہ نسبت سفر کے روزہ میں بہت زیادہ تکلیف محسوس کرے، تو اس کا یہ عمل (سفر میں روزہ رکھنا) قابل مذمت ہو گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نوش فرمایا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دوسرے مسلمانوں نے روزہ رکھا ہو اتھا،جب کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکڑی کے پیالے میں پانی منگوایا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی پی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہے تھے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو روزہ توڑ دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا۔
Takhreej
(۳۸۴۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… کدید مقام، مدینہ منورہ سے سات دنوں کی مسافت پر ہے، اس کے قریب ہی قُدَید مقام ہے اور یہ دونوں عسفان کے ما تحت انتظامی علاقے ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے (سفر میں) دن روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ قدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے روزہ توڑ دیا اور لوگوں کو بھی افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اوراسے اپنے ہاتھ پر رکھا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ اسی لیے سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ (سفر میں) جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔(قانون یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔کسی نے سفیان سے پوچھا: یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری کے ہیںیا سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے؟ انہوں نے کہا: اسی طرح اس حدیث میں ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سفر کے دوران) بارانی پانی کی ایک نہر پر پہنچے، گرمی سخت تھی اور لوگ روزے سے تھے اور پیدل سفر کر رہے تھے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی پی لو۔ لیکن لوگوں نے پانی نہ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ آسانی والا ہوں، میں تو سوار ہوں۔ لیکن لوگ (روزہ نہ توڑنے پر) اڑے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ران موڑی، نیچے اترے اورپانی پی لیا اور (یہ منظر دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ پانی پینے کا نہیں تھا۔
Takhreej
(۳۸۴۶) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابویعلی: ۱۰۸۰، وابن حبان: ۳۵۵۶ (انظر: ۱۱۴۲۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کے دو مسائل تو بالکل واضح ہیں، ایکیہ کہ دوران رمضان سفر کے لیے جانا درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر رمضان کی گیارہ تاریخ کو مدینہ منورہ سے نکلے تھے اور بیس تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچ گئے تھے، دوسرا یہ کہ رمضان کا دورانِ سفر رکھا ہوا روزہ توڑا جا سکتا ہے، درج بالا احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس روزے کو توڑا ہے، اس کی ابتداء بھی سفر سے ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک آدمی حضر میں روزے کا آغاز کرتا ہے، پھر وہ دن کے کسی حصے میں سفر پر چلا جاتا ہے، کیا ایسے شخص کو روزہ توڑنے کا یا پورا کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ ظاہر بات تو یہی ہے کہ اسے یہ اختیار حاصل ہے، امام احمد اور امام اسحق کییہی رائے ہے، اس مسلک پر دلالت کرنے والی درج ذیل دلیلیں ہیں:
(۱) نصوصِ شرعیہ میں سفر اور مرض کو مطلق طور پر روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر قرار دیا گیا ہے، اب یہ قید لگانا درست نہیں ہے کہ یہ رخصت اس شخص کے لیے ہے جو سحری سے پہلے سفر شروع کر دے، کیونکہیہ تو بلا دلیل مطلق کو مقید کرنے والی بات ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس رخصت کا سبب مشقت ہے اور وہ اپنی جگہ پر برقرار ہے۔
(۲)جیسے روزے کے دوران بیمار ہو جانے والے کو روزہ چھوڑنے کا اختیار ہوتا ہے، اسی طرح کا معاملہ سفر شروع کرنے والے کا ہے۔ اب اس میں یہ فرق کرنا درست نہیں ہے کہ مرض کا روزے دار کے اختیار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جبکہ سفر تو اختیاری چیز ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ سفر اختیاری ہی ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ شریعت نے مرض اور سفر کو عذر قرار دیا ہے اور اختیار و اجبار کا کوئی فرق نہیں کیا۔
(۳)محمد بن کعب کہتے ہیں: اَتَیْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فِیْ رَمَضَانَ وَھُوَ یُرِیْدُ سَفَرًا ، وَقَدْ رُحِلَتْ لَہٗرَاحِلَتُہٗ،وَلَبِسَثِیَابَ السَّفَرِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَاَکَلَ۔ فَقُلْتُ لَہٗ: سُنَّۃٌ؟ قَالَ: سُنَّۃٌ، ثُمَّ رَکِبَ۔ میں ماہِ رمضان میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، ان کی سواری تیاری کی گئی تھی اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، پس انھوں نے کھانا منگوا کر کھایا۔ میں نے پوچھا: کیایہ سنت ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سنت ہے، پھر وہ سوار ہو کر سفر کے لیے نکل پڑے۔(ترمذی: ۷۹۹)
(۴) جعفر بن جبر کہتے ہیں: میں صحابی رسول سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ماہِ رمضان میں وہ کشتی میں سوار ہو کر فسطاط سے نکلے، ابھی تک انھوں نے اس شہر کے گھروں سے تجاوز نہیں کیا تھا کہ انھوںنے دسترخوان منگوایا اور مجھے کہا: قریب آ جاؤ (اور کھانا کھاؤ)۔ میںنے کہا: کیا آپ کو گھر نظر نہیں آ رہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کرنا چاہتے ہو۔ پس انھوں نے کھانا کھا لیا۔ (ابوداود: ۲۴۱۲) اگلے باب کی پہلی حدیثیہی ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مسافر کو روزہ توڑنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔
۔ عبید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ فسطاط سے اسکندریہ جانے کے لیے ایک کشتی پر سوار ہوا، جب ہم اپنی بندرگاہ سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دستر خوان منگوایا، پس وہ ان کے قریب کیا گیا، پھر انہوں نے مجھے کھانے کی د عوت دی،یہ رمضان کا واقعہ تھا۔ میں نے کہا: ابو بصرہ! اللہ کی قسم! ابھی تو ہمارے مکانات ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے؟ یہ سن کر انہوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کھائو، پھر ہم نے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے تک کوئی روزہ نہ رکھا۔
Takhreej
(۳۸۴۷) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۱۲(انظر: ۲۷۲۳۳)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں ابو بصرہ کے ساتھ ایک کشتی پر سوار ہوا، وہ اسکندریہ جا رہے تھے، …۔
Takhreej
(۳۸۴۸) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس حدیث اور پچھلے باب کی حدیث (۳۸۴۶)کے فوائد میں مذکورہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک آدمی طلوع فجر کے بعد کسی وقت سفر کا قصد رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ ترک کر سکتا ہے، یہ بات بالکل ایسے ہی ہے،جیسے روزے کی صلاحیت رکھنے والے ایک آدمی کے بارے میں ڈاکٹر حضرات نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ فلاں دن اس شخص کا آپریشن کیا جائے گا، تو اس دن نہ وہ آدمی روزہ رکھے گا اور نہ کوئی اسے رکھنے دے گا۔