۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
فوائد:… عرفہ کے دن روزہ رکھنا جائز ہے، بلکہ افضل ہے، اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے، کھانے پینے کے دن عید اور تشریق کے دن ہیں، اغلبی طور پر اس کو بھی ساتھ ذکر کر دیا گیا۔ یہ دن بھی جمعہ کی طرح مسلمانوں کے لیے عید ہے، اگر حجاج کرام کو دیکھا جائے تو وہ اس دن کو عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، دوسرے لوگ عید اور قربانیوں کی تیاری میں عجیب فرحت و مسرت کے ساتھ یہ دن گزارتے ہیں، نیزیہ دن کئی فضائل سے بھی متصف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی انداز اور ترتیب کے ساتھ نفلی روزے رکھا کرتے تھے، احادیث کی دوسری کتابوں میں ان کی تفصیل موجود ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت دور کر دیتاہے۔
Takhreej
(۳۸۹۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۷۲، وابن ماجہ: ۸۶۹۰، والترمذی: ۱۶۲۲(انظر: ۷۹۹۰)
فوائد:… اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذَالِکَ الْیَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْھِہٖسَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) ’’جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو وہ اس کے عوض آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔‘‘
’’فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں ’’فوائد ابی الطاھر الذھلی‘‘ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ…۔)) ’’جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔‘‘ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز بھی راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مَرُّ الظَّہْرَانِ کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکراور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: قریب ہو جاؤ اور کھانا کھائو۔ انہوں نے کہا: ہم تو روزے دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگو! اپنے اِن ساتھیوں کو سواریاں دو اور ان کے حصے کا کام بھی کرو۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ چونکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما روزے سے تھے، اس لیے دوسرے صحابہ کو چاہیے کہ وہ اِن کی خدمت کریں۔
۔ ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں اکٹھے ہو گئے، یزید تو سفر میں روزے رکھتا تھا، سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو کوئی بار یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب بندہ بیمارہو جائے یا سفر میں ہو تو اسے اتنا ہی اجر ملتا رہتا ہے، جتنا اجر اسے اس عمل کا ملتا تھا، جو وہ اقامت اورصحت کی حالت میں کرتا تھا۔
Takhreej
(۳۸۹۳) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۹۹۶(انظر: ۱۹۶۷۹)
Explanation
فوائد:… جس آدمی کی نفلی عبادت اس کی بیمارییا سفر کی وجہ متأثر ہو جائے، تو بغیر عمل کے اس کو اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر ایک روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ رمضان ہو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں حکم دے دیتا کہ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی جائے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کی جائے اور جس عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیرایک دن کا روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ ماہِ رمضان ہو۔
Takhreej
(۳۸۹۵) تخر یـج: انظر الحدیث السابق (انظر: ۷۳۴۲، ۷۳۴۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جب بیوی نفلی روزہ رکھنا چاہے یا فرضی روزے کی قضائی دینا چاہے، دونوں صورتوں میں اس کو چاہیے کہ وہ خاوند سے اجازت لے، کیونکہ خاوند کا حق ان حقوق میں سے ہے، جو فوراً واجب ہو جاتے ہیں، جبکہ نفلی روزوں کو ترک کیا جا سکتاہے اور فرض روزوں کی قضائی کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بیویوں کو اندازہ کر لینا چاہیے کہ ان کے خاوندوں کا ان پر کتنا حق ہے۔ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے کی ممانعت کی وجہ وظیفۂ زوجیت ہے۔
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشروب پیا اور مجھے بھی دیا۔ میں نے بعد میں کہا: میں تو روزے سے تھی، لیکن آپ کے جوٹھے کو چھوڑنا گوارا نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ روزہ ماہِ رمضان کی قضاء کا تھا تواس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اور اگر یہ نفلی تھا تو تمہاری مرضی ہے کہ قضائی دو یا نہ دو۔
۔ (دوسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آکر دائیں جانب بیٹھ گئیں، اتنے میں ایک لونڈی کوئی مشروب لائی، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پیا اور پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، اس نے )پینے کے بعد) کہا: میرا تو روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیایہ قضاء کا روزہ تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تجھے نقصان نہیں دے گا (یعنی کوئی حرج نہیں ہے)۔
۔ (تیسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے میرے ہاں تشریف لائے، آپ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پھر مجھے دے دیا ، میں نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی عبادت کرنے والا اپنا امیر خود ہوتا ہے، اس لیے اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو افطار کر دو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک بکری کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا، جبکہ ہم دونوں روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ افطار کرادیا، آخر وہ اپنے (عظیم باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) ہی کی بیٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے عوض ایک ایک روزہ رکھ لینا۔
Takhreej
(۳۸۹۹) اسنادہ ضعیف، سفیان بن حسین الواسطی ضعیف فی الزھری، وقد اختلف علی الزھری فی وصلہ وارسالہ، وارسالہ ھو الصواب۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۵۷، والترمذی: ۷۳۵(انظر: ۲۶۰۰۷)
Explanation
فوائد:… اس مسئلہ سے متعلقہ مزید احادیث: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور چند صحابہ کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا لگا دیا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میرا تو روزہ ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ذَالِکُمْ اَخُوْکُمْ وَتَکَلَّفَ لَکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ لَہٗ: ((اَفْطِرْ،وَصُمْمَکَانَہٗیَوْمًا اِنْ شِئْتَ۔)) یہ تمہارا بھائی ہے اور اس نے تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی فرمایا: ’’تو اب روزہ توڑ دے اور اگر تیری چاہت ہو تو اس کی جگہ پر ایک دن روزہ رکھ لینا۔‘‘ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۷۹)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَاْتِیَہَا وَہُوَ صَائِمٌ، فَیَقُوْلُ: ((اَصْبَحَ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ تُطْعِمُوْنِیْہِ؟)) فَتَقُوْلُ: لاَ، مَا اَصْبَحَ عِنْدَنَا شَیْئٌ کَذَاکَ، فَیَقُوْلُ: ((إِنِّی صَائْمٌ۔)) ثُمَّ جَاَء َہَا بَعْدَ ذَلِکَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جاَئَ یَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: اُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَخَبَأْ نَاہَا لَکَ، قَالَ: ((مَا ہِیَ؟)) قَالَتْ: حَیْسٌ، قَالَ: ((قَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔)) فَاَکَلَ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: ’’تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ’’تو پھر میں روزے دار ہوں۔‘‘پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ’’وہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھا لیا۔ (مسلم: ۱۱۵۴،مسند احمد: ۲۴۷۲۴)
سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھا لیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بڑا تعجب ہوا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے پاس روزے کی حالت میں تشریف لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حَیْس کھا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، یَا عَائِشَۃُ! اِنَّمَا مَنْزِلَۃُ مَنْ صَامَ فِیْ غَیْرِ رَمَضَانَ أَوْ غَیْرِ قَضَائِ رَمَضَانَ اَوْ فِیْ التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ اَخْرَجَ صَدَقَۃَ مَالِہٖفَجَادَمِنْھَابِمَاشَائَفَاَمْضَاہُوَبَخِلَمِنْھَابِمَابَقِیَ فَاَمْسَکَہٗ۔)) ’’جی ہاں، عائشہ! جس آدمی نے رمضان اور قضائے رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال میں سے صدقہ کے لیے (کچھ رقم) نکالے، لیکن پھر اس میں سے جتنی مقدار چاہے صدقہ کر دے اور جتنی مقدار چاہے روک لے۔‘‘
نسائی کی ایک اور روایت میں ہے: فَاَکَلَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا مِثْلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مِثْلُ الرَّجُلِ یُخْرِجُ مِنْ مَالِہٖالصَّدَقَۃَ فَاِنْ شَائَ اَمْضَاھَا وَاِنْ شَائَ حَبَسَھَا۔)) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھایا اور فرمایا: ’’نفلی روزہ رکھنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال سے صدقہ کے لیے کچھ مال نکالتا ہے، لیکن پھر چاہے تو اسے صدقہ کر دے اور چاہے تو روک لے۔‘‘
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی صدقہ کی نیت سے اپنے مال میں سے کچھ مال علیحدہ کرتا ہے، لیکن ابھی تک اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سارے معین مال کا صدقہ کر دے یا سارے کو روک لے، یا کچھ روک لے اور کچھ صدقہ کر دے۔ بالکل اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ روزہ توڑ بھی سکتا ہے اور پورا بھی کر سکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کسی جا سکتی ہے، لیکنیہ اس صورت میں ہو گا کہ متعلقہ آدمی نے سحری سے لے کر اس وقت تک کھایا پیا نہ ہو۔ اس باب سے ثابت ہوا کہ نفلی روزہ بلا عذر توڑا جا سکتا ہے اور اس کی قضاء بھی لازم نہیں ہے، مستحبّ ہے، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدناعبد اللہ بن مسعود، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا عبدا للہ بن عباس اور سیدنا جابر بن عبداللہ اور امام سفیان ثوری، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہیہ کہتے ہیں کہ نفلی روزے کو پورا کرنا ضروری ہے اور بلا عذر اس کو افطار نہیں کر سکتا اور اس نے کسی عذر کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو اس کی قضائی لازم ہو گی۔ لیکنیہ مسلک مرجوح ہے۔
۔ نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! آپ مجھے رمضان کے بعد کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیں گے؟ انہوں نے کہا: میں نے کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، ما سوائے ایک آدمی کے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ماہِ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہِ محرم کے روزے رکھو، یہ اللہ کا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی ماہ میں ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔
Takhreej
(۳۹۰۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی وجھالۃ النعمان بن سعد۔ اخرجہ الترمذی: ۷۴۱(انظر: ۱۳۲۲)
Explanation
فوائد:… تعظیم کے لیے ماہِ محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔
جیسے بیت اللہ (اللہ کا گھر) کعبہ کے لیے ناقۃ اللہ (اللہ کی اونٹنی) صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے لیے اور روح اللہ (اللہ کی روح) عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بولتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے کسی بھی وقت میں نماز۔ پھر کسی نے کہا: رمضان کے بعد کونسے روزے افضل ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس مہینے کے، جسے تم محرم کہتے ہو۔
Takhreej
(۳۹۰۱) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۶۳(انظر: ۸۰۲۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَفْضَلَ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْمَفْرُوْضَۃِ الصَّلَاۃُ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ، وَاَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَھْرُ اللّٰہِ الَّذِیْ تَدْعُوْنَہٗالْمُحَرَّمَ۔)) ’’بیشک فرضی نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کے کسی بھی حصے میں پڑھی جانے والی نماز ہے اور رمضان کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے اللہ تعالیٰ کے اس ماہ کے روزے ہیں، جس کو تم محرم کہتے ہیں۔‘‘ (معجم کبیر: ۲/ ۱۶۹)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رمضان کے بعد ماہِ محرم کے روزے افضل ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم کی بہ نسبت ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے کیوں رکھتے تھے؟ اس سوال کا جواب اس درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے کہا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَاکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ لَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ مِثْلَ مَاتَصُوْمُ فِیْہِ؟ قَالَ: ((أَیُّ شَھْرٍ؟)) قُلْتُ: شَعْبَانَ۔قَالَ: ((شَعْبَانُ بَیْنَ َرَجَبَ وَرَمَضَانَ، یَغْفِلُ النَّاسُ عَنْہُ، تُرْفَعُ فِیْہِ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لاَّیُرْفَعَ عَمَلِی إِلاَّ وَأَنَا صَائِمٌ۔)) اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے کسی بھی ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے، (کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کون سا مہینہ؟‘‘ میں نے کہا: شعبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’شعبان، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے، سے کئی لوگ غافل ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں۔‘‘ (صحیحہ:۱۸۹۸، نسائی:۱/۳۲۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس سلسلے میں شعبان اور ذوالحجہ کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، یعنی اپنی جگہ پر ہر ایک کی فضیلت مسلّم ہے، لیکن مطلق طور پر ذوالحجہ کی فضیلت زیادہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ میں کسی عذر کی بنا پر روزے نہ رکھتے ہوں۔
بنیادی طور پر اس حدیث میں دن کے مقابلہ میں رات کی نفلی نماز کی فضیلت بیان ہو رہی ہے یہ بات الگ ہے کہ رات کے کون سے حصہ میں نفلی نماز پڑھنا زیادہ فضیلت والا عمل ہے۔ وہ احادیث سے ثابت ہے کہ رات کا آخری تہائی حصہ اس حوالہ سے زیادہ اہمیت وفضیلت والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)