۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن، عید کا دن ہے، پس تم اِس عید کے دن روزہ نہ رکھو کرو، الّا یہ کہ اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھ لو یا بعد والے دن۔
فوائد:… صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((وَلَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلَا تَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔))
’’جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ ‘‘
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الّایہ کہ دوسرے دنوں کی عادت چل رہی ہو۔
فوائد:… صحیح بخاری (۱۹۷۵) اور صحیح مسلم (۱۱۴۴) میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلّٰا یَوْمًا قَبْلَہٗاَوْبَعْدَہٗ)) ’’تممیں سے کوئی آدمی جمعہ کے روز کا روزہ نہ رکھے، الا یہکہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔‘‘
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر کہتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا اور اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا، (یہ جائز ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھنا، الّا یہ کہ دوسرے دنوں میںیا مہینے میں (ایک عادت کے ساتھ) روزے رکھے جا رہے ہوں اور یہ جمعہ کا دن بھی ان میں سے ایک ہو جائے، باقی رہا مسئلہ تمہارے خاموش رہنے کا تو میری عمر کی قسم! تمہارا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لیے بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔
۔ بنو حارث بن کعب کے ایک فرد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا: ابوہریرہ! آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا:نہیں، اللہ کی عمر کی قسم! البتہ اس حرمت کے ربّ کی قسم! میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن روزہ ہر گز نہ رکھے، الّایہ کہ یہ دن ایسے دوسرے دنوں میں آ جائے، جن کے وہ روزے رکھ رہا ہو۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر روزہ توڑ دو۔
Takhreej
(۳۸۷۳) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۴۳، وابن خزیمۃ: ۲۱۶۲، وابن حبان: ۳۶۱۱، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۷۵۳(انظر: ۶۷۷۱)
۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ روزہ سے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تمہارا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر روزہ افطار کر لو۔
Takhreej
(۳۸۷۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۸۶(انظر: ۲۶۷۵۵)
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کی بھی نیت رکھتا ہو، بصورت ِ دیگر جب اس کو اس مسئلے کا پتہ چلے گا، تو وہ روزہ توڑ دے گا۔
۔ محمد بن عباد سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن ر وزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!
فوائد:… ان روایات کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا منع ہے، البتہ درج ذیل روایت قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے ہر ماہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور جمعہ کے دن تو کم ہی افطار کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، نسائی) اگر درج بالا روایات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہیں رکھتے ہوں گے، بلکہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ملاتے ہوں گے، تو بہتر ہو گا اور اس سے ساری نصوص پر عمل ہو جائے گا۔
۔ حسان بن نوح حمصی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر کو دیکھا، انھوں نے کہا: لوگو! تم میرییہ ہتھیلی دیکھ رہے ہو؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے الّایہ کہ فرضی روزہ ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کھانے کے لیے کچھ نہ ملے، ما سوائے درخت کے چھلکے کے، تو وہی کھا کر (روزہ نہ ہونے کی نشاندہی کر دینی چاہیے)۔
Takhreej
(۳۸۷۷) قال الالبانی: صحیح، اخرجہ ابوداود: ۱۷۲۶، وابن ماجہ: ۱۷۲۶، والترمذی: ۷۴۴ (انظر: ۱۷۶۹۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہفتہ کا روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ یہ ان دنوں میں آ جائے کہ جن کے روزے تم پر فرض ہیں، اگر اس دن کو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، ما سوائے انگور کی لکڑییا درخت کے چھلکے کے، تو اسی کو چبا لے۔
۔ عبید اعرج کہتے ہیں: مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے، یہ ہفتہ کا دن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: آئو کھانا کھائو۔ لیکن انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کھا لو، کیونکہ ہفتہ کے دن کے روزہ کا نہ ثواب ملتا ہے اور نہ گناہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۸۷۹) تخر یـج: اسنادہ ضعیف للاختلاف فیہ علی ابن لھیعۃ (انظر: ۲۷۰۷۶)
Explanation
فوائد:… ثواب اور گناہ کا نہ ملنا اس صورت میں ہے، جب آدمی جہالت کی وجہ سے روزہ رکھ لے، وگرنہ اگر علم ہونے کے بعد یا بطورِ تعظیم ہفتہ کا روزہ رکھے گا تو گنہگار ہو گا۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ صرف ہفتہ کا روزہ رکھناممنوع ہے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۶۹) اور (۳۸۷۳) وغیرہ سے معلوم ہوا کہ جمعہ اور ہفتہ، دو دنوں کا لگاتار روزہ رکھا جا سکتا ہے، اس رخصت سے یہ استدلال کرنا بھی ممکن ہے کہ ہفتہ اور اتوار کا لگاتار روزہ رکھنا جائز ہے، حدیث نمبر (۳۹۶۸) سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کے ساتھ(۹) محرم کا روزہ رکھنے کا بھی عزم کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہودیوں کی مخالفت کرنا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے، اس نے حقیقت میں کوئی روزہ نہیں رکھا۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوگوں کو پلانے کے لیے پیش کیا، ان میں ایک آدمی روزے دار تھا، جب وہ مشروب اس کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: پیو۔ لیکن کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو روزہ ترک ہی نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس کو ترک کیا۔
۔ (دوسری سند) ان کے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اسے ترک کیا۔
۔ سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس کے اوپر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ہتھیلی کو بند کر کے کیفیت بیان کی۔
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کسی دن کے روزے کا ناغہ نہیں کرتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا ہے۔
فوائد:… ’’نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا۔‘‘ افطار نہ کرنے کا مفہوم تو واضح ہے کہ وہ کھانے پینے سے رکا رہا، روزہ نہ رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس معاملے میں مسنون طریقے کی مخالفت کی، اجر و ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرا اور اپنے آپ کو ایسے تکلیف دینے کے درپے ہو گیا کہ ممکن ہے کہ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالے اور جہاد اور کئی دوسرے حقوق سے عاجز ا ٓ جائے۔
اس مسئلہ سے متعلقہ ایک فقہی بحث
اگلے باب کی پہلی اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کو سب سے زیادہ فضیلت والا قرار دیا،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا۔ سوال یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہکے روزے ناجائز ہیں۔ امام اسحاق، اہل ظاہر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کی رائے یہ ہے کہ ان روزوں کا حکم کراہت کا ہے۔ ابن حزم اس انداز کے حرام ہونے کے قائل ہے اور قاضی عیاض نے کہا: جمہور اہل علم کا خیالیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عید الفطر، عیدالاضحی اور تین ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی تمام دنوں کے روزے رکھنا جائز ہے۔ امام شافعی اور ان کے اصحاب نے کہا: جب آدمی دونوں عیدوں اور ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی دنوں کے لگاتار روزے رکھنا جائز ہے، بلکہ مستحبّ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نہ اسے کوئی ضرر لاحق ہو اور کوئی دوسرا حق فوت ہو، بصورتِ دیگر اس کے لیےیہ روزے مکروہ ہوں گے، ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (( إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔)) اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔‘‘ (بخاری: ۱۹۴۲، ۱۹۴۳، مسلم: ۱۱۲۱) وجۂ استدلال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو لگاتار روزے رکھنے پر برقرار رکھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو طلحہ اور کئی سلف بھی لگاتار روزے رکھا کرتے تھے۔
اس رائے کے قائلین نے اس باب کی احادیث کے درج ذیل جوابات دیئے:
(۱)ان احادیث کو ان کے حقیقی معانی پر محمول کیا جائے گا، یعنی ان سے مراد یہ ہے کہ دونوں عیدوں اور ایام تشریق سمیت ہمیشہ کے روزے رکھے جائیں۔
(۲) یا ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جس کو اس طرح روزے رکھنے سے کوئی ضرر لاحق ہو جاتا ہے یا اس سے کوئی حق فوت ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْاَبَدَ۔)) ’’اس نے روزہ نہیں رکھا، جس نے ہمیشہ روزے رکھے۔‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا کہ یہ صحابی ان روزوں سے عاجز آ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو جن روزوں کی اجازت دی تھی، وہ بھی ان کے لیے مشکل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کیوں نہیں کی تھی۔
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لگاتار روزے رکھنے کی اجازت دے دی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندازہ تھا کہ یہ صحابی ضرر سے محفوظ رہے گا۔
(۳) ’’لَا صَامَ‘‘ کے الفاظ اس آدمی کے حق میں بمعنی خبر ہیں، نہ کہ بمعنی دعا، جو ان روزوں سے بڑی مشقت محسوس کرتا ہے۔ رہا اس آدمی کا مسئلہ جو نہ مشقت محسوس کرتا اور نہ کوئی دوسرا حق فوت ہونے دیتا ہے اور نہ ممنوعہ دنوں کے روزے رکھتا ہے تو اس کے لیے تو لگاتار روزے مستحبّ ہوں گے، جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انھوں نے کہا: کنا نعد اولئک فینا من السابقین۔ … ہم اپنے اندر ایسے لوگوں کو آگے بڑھ جانے والوں میں شمار کرتے تھے۔ (سنن بیہقی)
عروہ کہتے ہیں: سفر ہو یا حضر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ کے روزے رکھتی تھیں۔ (سنن بیہقی) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے عہد ِ نبوی میں روزے نہیں رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے ان کو عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ روزہ ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری) امام نووی نے ’’المجموع‘‘ میں دو عیدوں اور ایام تشریق کے علاوہ ہمیشہ کے روزے رکھنے والوں کے نام ذکر کیے ہیں، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو امامہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ۔ سعید بن مسیب، ابو عمرو بن حماس، سعید بن ابراہیم، اسود بن یزید وغیرہ نے بھی ہمیشہ کے روزے رکھے، سعید بن ابراہیم نے چالیس سال لگاتار روزے رکھے تھے۔ جمہور اہل علم کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
۔ سیدناابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اپنی بیعت کے حق ہونے پر راضی ہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرا آدمی اٹھا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی ہمیشہ کے روزے رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔ اس نے پوچھا: دو دن روزہ اور ایک دن ناغہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی استطاعت کون رکھتا ہے؟کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اتنی طاقت دے دیتا۔ اس نے پوچھا: ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی دائود علیہ السلام کا روزہ اسی طرح ہوتا تھا۔ اس نے پوچھا: سوموار اور جمعرات کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن کو میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا۔ اس نے پوچھا: ہر مہینہ میں تین روزے اور رمضان کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمیشہ کے روزے بھی ہیں اور ہمیشہ کا افطار بھی ہے۔ اس نے پوچھا: عرفہ کے دن کا روزہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ اس نے پوچھا: یوم عاشوراء (دس محرم) کا روزہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
Takhreej
(۳۸۸۶) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۶۲(انظر: ۲۲۵۳۷)
Explanation
فوائد:… حدیث کے شروع والے حصے پر غور کریں، دراصل سائل کو اس طرح سوال کرنا چاہیے تھا کہ وہ کتنے اور کیسے روزے رکھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی ذات کا اندازہ کر کے اس کے بارے میں کسی لائحہ عمل کی خبر دیتے۔ اس کا براہِ راست یہ سوال کر دینا کہ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت کیا ہے، جس کی وضاحت میں مصلحتیں نہیں ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات وصال کر رہے ہوتے ہیں، جو امت کے لیے ناپسندیدہ ہے، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لگاتار روزے رکھ رہے ہوتے ہیں، جو عام آدمی کے مشکل ہیں اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلسل کے ساتھ روزے ترک کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی وضاحت سے سائل کو یہ نقصان ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی رخصت کو اپنائے رکھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس وقت مسلمانوں، مہمانوں اور اپنی بیویوں کے دوسرے حقوق اور مصلحتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رات کے قیام کو دیکھیں، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ تیرہ اور کم از کم سات رکعتیں ادا کی ہیں، کم رکعتوں کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر رسیدگی تھی، اس لیے ہر خواہش مند کو دیکھنایہ چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں مسئلے کے بارے میں مختلف احادیث کے ذریعے کون سا شرعی قانون پیش کیا ہے، اس میں رخصت و عزیمت اور اختیار و اجبار کی صورتوں کو کیسے مد نظر رکھا گیا، ان امور کو سامنے رکھ کر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
۔ ایک ام المومنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوذوالحجہ،یومِ عاشورا اور ہر ماہ کے تین روزے رکھا کرتے تھے، یعنی ہر ماہ کا پہلا سوموار اور دو جمعراتیں۔
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار کاموں کو ترک نہیں کرتے تھے: یوم عاشورائ، عشرہ ذوالحجہ اور ہر ماہ میں سے تین دنوں کے روزے اور نماز فجر سے پہلے والی دو سنتیں۔