TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان

Chapter 21 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 40 · 8 Hadith
۔ (۴۴۷۶) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی جَمْعًا فَصَلّٰی بِہِمُ الصَّلَاتَیْنِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ، ثُمَّ بَاتَ حَتّٰی أَصْبَحَ، ثُمَّ أَتٰی قُزَحَ فَوَقَفَ عَلٰی قُزَحَ، فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) ثُمَّ سَارَ حَتَّی أَتٰی مُحَسِّرًا، فَوَقَفَ عَلَیْہِ فَقَرَعَ نَاقَتَہُ، فَخَبَّتْ حَتّٰی جَاوَزَ الْوَادِیَ، ثُمَّ حَبَسَہَا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ وَسَارَ حَتّٰی أَتٰی الْجَمْرَۃَ فَرَمَاھَا ثُمَّ أَتَی الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ،…۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۵۶۲)
۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے، آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں،پھر وہیں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قزح پر گئے اور وہاں وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تا ہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ محسر تک آئے، وہاں آکر رک گئے اور پھر اپنی اونٹنی کو ہانکا، وہ دوڑ پڑی اور دوڑتی گئی،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وادی کو عبور کرگئے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹنی کو روک کر سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا اور چلتے چلتے جمرہ عقبہ پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی رمی کی اور اس کے بعد قربان گاہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے (جہاں میں نے قربانیاں کی ہیں) اور منی سارے کا سارا ہی قربانی کی جگہ ہے، …۔
Takhreej
(۴۴۷۶) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۲۲، ۱۹۳۵، والترمذی: ۸۸۵ (انظر: ۵۶۲)
Explanation
فوائد:… قُزَح ایک پہاڑ کا نام ہے، اسی کو مشعرِ حرام کہتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: جب فجر طلوع ہوئی، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی، پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئی اور مشعرِ حرام کے پاس آ گئے، وہاں آ کر قبلہ رخ ہوئے اور دعا، تکبیراور تہلیل اور ایسے اذکار میں مصروف ہو گئے، جن میں اللہ تعالی کے ایک ہونے کا اقرار کیا گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں کھڑے رہے، یہاں تک کہ بہت زیادہ روشنی ہو گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے اور سیدنا فضل کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ (صحیح مسلم) ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ} … ’’جب تم عرفات سے لوٹ تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ ‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۸)اگرچہ مزدلفہ میں مشعرِ حرام ایک پہاڑ کا نام ہے، لیکن اس آیت میں پورے مزدلفہ کو ہی مشعرحرام کہا جا رہا ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کے وقوف کے دوران ذکر ِ کثیر کا اہتمام کیا جائے۔وادیٔ محسر وہ جگہ ہے، جہاں ہاتھی والوں کو ہلاک کیا گیا تھا، سورۂ فیل میں اسی لشکر کا ذکر ہے، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وادی سے تیزی کے ساتھ گزر گئے تھے اور ایسا کرنا ہی مسنون ہے۔
4476
Sahih
۔ (۴۴۷۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَخْبَرَنِیَ الْفََضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَۃَ، قَالَ: فَرَاٰی النَّاسَ یُوْضِعُوْنَ، فَأَمَرَ مُنَادِیَہُ فَنَادٰی: لَیْسَ الْبِرُّ بِإِیْضَاعِ الْخَیْلِ وَالإِبِلِ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ عرفہ سے واپسی پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑا رہے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے، تم آرام آرام سے چلو۔
Takhreej
(۴۴۷۷) تخریج: حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف (انظر: ۱۸۰۳)
Explanation
فوائد:… اس روایت کے ’’مِنْ عَرَفَۃَ‘‘ کے الفاظ کسی راوی کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل میں یہ الفاظ یوں تھے: ’’مِنْ جَمْعٍ‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد وغیرہ کی محفوظ روایات کے مطابق عرفہ سے مزدلفہ تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھنے والے سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ تھے اور مزدلفہ سے آگے سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌تھے، جبکہ مسند احمد کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مزدلفہ سے آگے کا سفر بیان کیا جا رہا ہے، اس لیے ہم نے ’’مِنْ جَمْعٍ‘‘ کے الفاظ کو درست قرار دیا، مزدلفہ کو ’’جَمْعٍ‘‘ کہتے ہیں۔
4477
Sahih
۔ (۴۴۷۸) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: إِنَّمَا کَانَ بَدْئُ الْإِیْضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ، کَانُوْا یَقِفُوْنَ حَافَتَیِ النَّاسِ حَتّٰییُعَلِّقُوْا الْعِصِیَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوْا تَقَعْقَعَتْ تِلْکَ، فَنَفَرُوْا بِالنَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ رُؤِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّ ذِفْرَیْ نَاقَتِہِ لَیَمَسُّ حَارِکَہَا وَھُوَ یَقُوْلُ بِیَدِہِ: ((یَا أَیُّہَاالنَّاسُ! عَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ،یَا أَیُّہَا النَّاسُ! عَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سواریوں کو تیز دوڑانے کی ابتدا دیہاتی لوگوں نے کی تھی، وہ دوسرے لوگوں کی گزرگاہ کے دونوں طرف کھڑے ہو جاتے اور انھوں نے اپنی سواریوں کے ساتھ لاٹھیاں، ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوتے، پھر جب وہ چلتے تو ان اشیاء سے آوازیں پیداہوتیں اور جانور ان آوازوں کو سن کر تیز دوڑنا شروع کر دیتے۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس موقع پر یوں دیکھا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی کو روکنے کے لئے اس کی مہار کو اپنی طرف کھینچے ہوئے تھے اور اونٹنی کے کان اس کے کندھے کی ہڈی کو لگ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جاتے تھے: لوگو! آرام سے چلو، لوگو! سکینت کو لازم پکڑو۔
Takhreej
(۴۴۷۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۸۶۳، والبیھقی: ۵/ ۱۲۶(انظر: ۲۱۹۳)
4478
Sahih
۔ (۴۴۷۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَائَ کُلُّ شَیْئٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ۔ (مسند احمد: ۳۰۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا، جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیزروشن ہوگئی،تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے چل پڑے۔
Takhreej
(۴۴۷۹) تخریج: حدیث صحیح ، وھذا اسناد ضعیف ۔ أخرجہ الترمذی: ۸۹۵ (انظر: ۳۰۲۰)
4479
Sahih
۔ (۴۴۸۰) عَنْ عَمْرِوْبْنِ مَیْمُوْنٍ قَالَ: صَلّٰی بِنَا عُمَرُ بِجَمْعٍ الصُّبْحَ، ثُمَّ وَقَفَ وَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ کَانُوْا لَا یُفِیْضُوْنَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَالَفَہُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۸۴)
۔ عمروبن میمون کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں نمازِ فجر پڑھائی اور اس کے بعدانہوں نے وقوف کیااور کہا: مشرکین طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ طلوع سے قبل ہی وہاں سے چل پڑے۔
Takhreej
(۴۴۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۸۴(انظر: ۸۴)
4480
Sahih
۔ (۴۴۸۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ کَانُوْا لَا یُفِیْضُوْنَ مِنْ جَمْعٍ حَتّٰی تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلٰی ثَبِیْرٍ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَاقِ: وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: أَشْرِقْ ثَبِیْر، کَیْمَا نُغِیْرْ،یَعْنِیفَخَالَفَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۷۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مشرکین اس وقت تک مزدلفہ سے روانہ نہیں ہوتے تھے، جب تک سورج ثبیر پہاڑ سے طلوع نہ ہوجاتا تھا۔ عبدالرزاق نے کہا ک وہ کہا کرتے تھے: اے ثبیر! سورج کو طلوع کر کے زمین کو روشنی کر تاکہ ہم منیٰ میں جاکر قربانیاں کریں، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئے۔
Takhreej
(۴۴۸۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ثبیر معروف پہاڑ ہے، بلکہ مکہ مکرمہ کا سب سے بڑا پہاڑ ہے، ہذیل قبیلے کے ثبیر نامی آدمی کو اس پہاڑ میں دفن کیا گیا تھا، اس وجہ سے اس کا نام ثبیر پڑ گیا۔مِنی کی طرف جاتے ہوئے بائیں طرف یہ پہاڑ پڑتا ہے۔
4481
Sahih
۔ (۴۴۸۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّ عَبْدَ ا للّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَبّٰی حِیْنَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِیْلَ: أَعْرَابِیٌّ ھٰذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَنَسِیَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوْا؟ سَمِعْتُ الَّذِیْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقْرَۃِیَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ: ((لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ۔)) (مسند احمد: ۳۵۴۹)
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو تلبیہ پکارا، لیکن ان کے بارے میں یہ کہا گیا: کیایہ بدّو ہے (کہ اب تلبیہ کہہ رہا ہے)؟ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ لوگ بھول گئے ہیںیا گمراہ ہوگئے ہیں ؟ جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ‘میں نے اس کو اس مقام پر لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے سنا تھا۔
Takhreej
(۴۴۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۸۳(انظر: ۳۵۴۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے سورۂ بقرہ کا خاص طور پر ذکر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورت مناسک ِ حج کے بڑے بڑے مناسک پر مشتمل ہے، نیز سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے اپنی ذات پر ہونے والے اعتراض کا کتنی خوبصورتی کے ساتھ جواب دیا، عالم اور مفتی لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔
4482
Sahih
۔ (۴۴۸۳) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ جَمْعٍ إِلٰی مِنًی فَبَیْنَا ھُوَ یَسِیْرُ إِذْ عَرَضَ لَہُ أَعْرَابِیٌ مُرْدِفًا ابْنَۃً لَہُ جَمِیْلَۃً، وَکَانَ یُسَایِرُہُ، قَالَ: فَکُنْتُ أَنْظُرُ إِلَیْہَا فَنَظَرَ إِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَلَبَ وَجْھِیْ عَنْ وَجْہِہَا، ثُمَّ أَعَدْتُّ النَّظَرَ فَقَلَبَ وَجْھِیْ عَنْ وَجْہِہَا، حَتّٰی فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا وَأَنَا لَا أَنْتَہِی، فَلَمْ یَزَلْیُلَبِّی حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵)
۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مزدلفہ سے منٰی کی طرف واپسی کے وقت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوارتھا ‘ اسی دوران ایک اعرابی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا، اس نے سواری پراپنے ساتھ اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو سوارکیا ہوا تھا اور وہ دوران سفر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا، میں بار بار اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا، لیکن جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا، میں نے پھر اس کی طرف دیکھا تو آپ نے پھر میرا چہرہ دوسری طرف کردیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح کیا، جبکہ میں باز نہ آ رہا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔
Takhreej
(۴۴۸۳) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۸۰۵)
Explanation
فوائد:… مزدلفہ کو ’’جَمْع‘‘ اور مشعرِ حرام بھی کہتے ہیں۔ اِن دو ابواب کی احادیث میں بیان کیے گئے احکام بالکل واضح ہیں، فوائد میں حسب ِ ضرورت وضاحت ہو چکی ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے: حجاج کرام عشاء کے وقت مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی قصر نمازیں جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کریں گے، بعد ازاں آرام کریں گے اور نماز فجر کو اس کے اول وقت میں ادا کر کے طلوع آفتاب کے قریب تک ذکر میں مصروف ہو جائیں گے، وقوف مزدلفہ کا کوئی مخصوص ذکر نہیں ہے، بہرحال تلبیہ، تکبیر اور تہلیل جیسے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، امام کو چاہیے کہ وہ مزدلفہ میں نماز فجر ادا کے قزح پہاڑ کے پاس آ جائے، پھر طلوع آفتاب سے پہلے پہلے مزدلفہ سے مِنٰی کی طرف روانہ ہو جائیں۔ یہ سفر بھی سکون اور وقار کے ساتھ ہونا چاہیے، البتہ وادیٔ محسر کو تیزی کے ساتھ عبور کرنا چاہیے۔ مزدلفہ سے روانہ ہونے کے مزید احکام اگلے ابواب میں آ رہے ہیں۔
4483
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.