TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 327 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى الْإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى ذُكِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ كَانَ يُهَرْوِلُ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَ الْإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَى تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَا:‏‏‏‏ الْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فَلَا بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْيِ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When the Iqamah is called for Salat do not come to it rushing, rather come to it walking, and while you have tranquility. What you catch of it then pray it, and what you missed of it, then complete it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ( اقامت ) کہہ دی جائے تو ( نماز میں سے ) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے: ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
327
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 327 In-book reference : Book 2, Hadith 179 English translation : Vol. 1, Book 2, Hadith 327
صحيح، ابن ماجة (775) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 327
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة ۱۸ (۹۰۸)، صحیح مسلم/المساجد ۲۸ (۶۰۲)، سنن ابی داود/ الصلاة ۵۷ (۵۷۲)، سنن النسائی/الإمامة ۵۷ (۸۶۲)، سنن ابن ماجہ/المساجد ۱۴ (۷۷۵)، (تحفة الأشراف : ۱۵۲۸۹)، موطا امام مالک/الصلاة ۱ (۴)، مسند احمد (۲/۲۳۷، ۲۳۸، ۲۳۹، ۲۷۰، ۲۷۲، ۲۸۲، ۳۱۸، ۳۸۲، ۳۸۷، ۴۲۷، ۴۵۲، ۴۶۰، ۴۷۳، ۴۸۹، ۵۲۹، ۵۳۲، ۵۳۳)، سنن الدارمی/الصلاة ۵۹ (۱۳۱۹)

Related Chapters

1,580
1
CHAPTER: What Has Been Narrated About (The Blessings Of) Walking To The Masjid In Darkness.
باب: اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of Walking To The Masjid And What Rewards Are Written For Each Step One Takes
باب: پیدل مسجد جانے اور ہر قدم پر اجر لکھے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: The virtue of taking many steps to the masjid
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
5
CHAPTER: What Has Been Narrated Regarding The Rewards Of Walking To The Prayer.
باب: نماز کے لیے مسجد چل کر جانے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
12
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
13
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
14
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
(37) CHAPTER. The superiority of going to the mosque (every) morning and in the afternoon and evening [for the congregational Salat (prayers)].
مسجد میں صبح اور شام آنے جانے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
16
(2) CHAPTER. The Masjid Quba (the Mosque of Quba).
مسجد قباء کی فضیلت
Sahih Bukhari
17
Chapter: Prohibiting one who has eaten garlic, onions, or leeks, and other things that have an offensive odor from coming to the masjid, until that smell has gone away, and such a person should be expelled from the masjid
جس شخص نے لہسن ، پیاز ، گندنا یا ان جیسی کوئی نا گوار بو والی چیز کھائی ہو تو اس کے لیے بوختم ہونے تک مسجد میں جانے کی ممانعت اور اسے مسجد سے نکالنا
Sahih Muslim
18
Chapter: The virtue of offering the obligatory prayers in congregation, the virtue of waiting for prayer and taking many steps towards the masjid, the virtue of walking to the masjid
فرض نماز باجماعت ادا کرنے اور نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
19
Chapter: The virtue of the Masjid of Quba', and the virtue of praying therein and visiting it
مسجد قباء اس میں نماز پڑھنے اور اس کی زیارت کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
20
Chapter: Telling The One Who Carries A Weapon In The Masjid, Marketplace Or Other Place Where People Gather, To Hold It By Its Point
جو شخص مسجد یا بازار میں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ پر ہتھیار لے کر چلے تو وہ انہیں ان کی نوکوں اور انیوں (کی طرف) سے پکڑے
Sahih Muslim
21
CHAPTER: The Virtue Of Sitting In The Masjid
باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: What Has Been Narrated Concerning Women Leaving (Their House) For The Masjid.
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Regarding Entering The Masjid With An Arrow.
باب: تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
Chapter: Walking To prayer
نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
25
(101)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman Getting Something From The Masjid
باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Exiting The Masjid After The Adhan
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Is Said When One Enters Into The Masjid
باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About 'When One Of You Enters The Masjid Let Him Perform Two Rak'ah'
باب: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Undesirability Of Taking The Grave As A Masjid
باب: قبروں پر مسجد بنانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Sleeping In The Masjid
باب: مسجد میں سونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Masjid Founded Upon Taqwa
باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: (What Has Been Related) About It Being Disliked To Spit In The Masjid
باب: مسجد میں تھوکنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Salat For The Deceased In The Masjid
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Developing Gray Hair In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جانے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
39
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے
Musnad Ahmad
41
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
43
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
44
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
45
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
47
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
48
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

55
Jam e Tirmazi
337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَلْنَا عَنْهَا فَوَصَلْنَا الصَّفَّ فَمَرَّتْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَلَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ.
Ibn Abbas narrated: I was a companion rider on a female donkey with Al-Fadl. We came while the Prophet and his Companions were performing Salat at Mina. He said: We dismounted from it and joined the row. The donkey then passed in front of them, and this did not invalidate their Salat.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر ( اپنے بھائی ) فضل رضی الله عنہ کے پیچھے سوار تھا، ہم آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھی سے اترے اور صف میں مل گئے۔ اور وہ ( گدھی ) ان لوگوں کے سامنے پھرنے لگی، تو اس نے ان کی نماز باطل نہیں کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، فضل بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، سفیان ثوری اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ هِيَ دُونَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ يَرَوْنَ صَلَاةَ الْكُسُوفِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ سِرًّا إِنْ كَانَ بِالنَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِتَكْبِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَثَبَتَ قَائِمًا كَمَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأَ أَيْضًا بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَنَحْوًا مِنْ آلِ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ تَامَّتَيْنِ وَيُقِيمُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ نَحْوًا مِمَّا أَقَامَ فِي رُكُوعِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَنَحْوًا مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِتَكْبِيرٍ وَثَبَتَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ.
Aishah narrated: The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah, so the Messenger of Allah led the people in prayer. He recited a lengthy recitation, then he bowed a lengthy bowing, then he raised his head and recited a lengthy recitation that was less than the first. Then he bowed a lengthy bowing that was less than the first. Then he raised his head and prostrated. Then he did (similar to) that in the second Rak'ah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور لمبی قرأت فرمائی، پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبی قرأت فرمائی، یہ پہلی قرأت سے کم تھی، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے ہلکا تھا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر اسی طرح دوسری رکعت میں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی حدیث کی بناء پر کہتے ہیں کہ گرہن کی نماز میں چار سجدوں میں چار رکوع ہے۔ شافعی کہتے ہیں: پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھے اور سورۃ البقرہ کے بقدر، اگر دن ہو تو سری قرأت کرے، پھر قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھائے۔ اور کھڑا رہے جیسے پہلے کھڑا تھا اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور آل عمران کے بقدر قرأت کرے پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے، پھر سر اٹھائے۔ پھر «سمع الله لمن حمده‏» کہے۔ پھر اچھی طرح دو سجدے کرے۔ اور ہر سجدے میں اسی قدر ٹھہرے جتنا رکوع میں ٹھہرا تھا۔ پھر کھڑا ہو اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور سورۃ نساء کے بقدر قرأت کرے پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنا سر اٹھائے اور سیدھا کھڑا ہو، پھر سورۃ المائدہ کے برابر قرأت کرے۔ پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے، پھر سر اٹھائے اور «سمع الله لمن حمده‏» کہے، پھر دو سجدے کرے پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔
Jam e Tirmazi
564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ وَاسْمُهُ زَيْدُ بْنُ صَامِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ ذَهَبَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ إِلَى حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ. وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْخَوْفِ عَلَى أَوْجُهٍ وَمَا أَعْلَمُ فِي هَذَا الْبَاب إِلَّا حَدِيثًا صَحِيحًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْتَارُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثَبَتَتِ الرِّوَايَاتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى أَنَّ كُلَّ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ فَهُوَ جَائِزٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا عَلَى قَدْرِ الْخَوْفِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ وَلَسْنَا نَخْتَارُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الرِّوَايَاتِ.
Salim narrated from his father: The Prophet prayed Salat Al-Khawf, praying one Rak'ah with one of the two groups, while the other group was facing the enemy. (When the first group finished they first Rak'ah with him), they went and took position (of the second group, facing the enemy). Then the second group came and he led them in another Rak'ah, then he said the Taslim to them, while the group proceeded to complete their (second) Rak'ah. Thereafter, the first group stood up to finish their (second) Rak'ah.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو صلاۃ خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا، پھر یہ لوگ پلٹے، اور ان لوگوں کی جگہ پر جو دشمن کے مقابل میں تھے جا کر کھڑے ہو گئے اور جو لوگ دشمن کے مقابل میں تھے وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ایک رکعت پوری کی۔ اور ( جو ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر، حذیفہ، زید بن ثابت، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، سہل بن ابی حثمہ، ابوعیاش زرقی ( ان کا نام زید بن صامت ہے ) اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- مالک بن انس صلاۃ خوف کے بارے میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کی طرف گئے ہیں ۱؎ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ۵- احمد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ خوف کئی طریقوں سے مروی ہے، اور میں اس باب میں صرف ایک ہی صحیح حدیث جانتا ہوں، مجھے سہل بن ابی حثمہ کی حدیث پسند ہے، ۶- اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صلاۃ خوف کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات ثابت ہیں، ان کا خیال ہے کہ صلاۃ خوف کے بارے میں جو کچھ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، وہ سب جائز ہے، اور یہ ساری صورتیں خوف کی مقدار پر مبنی ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ ہم سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کو دوسری حدیثوں پر فوقیت نہیں دیتے۔
Jam e Tirmazi
771
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صَوْمِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ وَعِيدٌ لِلْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْمُهُ سَعْدٌ وَيُقَالُ لَهُ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ هُوَ ابْنُ عَمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
Abu Ubaid, the freed slave of Abdur-Rahman bin Awf narrated: I witnessed Umar bin Al-Khattab on the Day of Nahr beginning with the Salat before the Khutbah. Then he said: 'I heard the Messenger of Allah prohibit fasting on these two days. As for the Day of Fitr, then it is for you to take a break from your fasting, and a celebration for the Muslims. As for the Day of Adha, then eat from the flesh that you have sacrificed.'
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مولیٰ ابو عبید سعد کہتے ہیں کہ میں عمر بن الخطاب رضی الله عنہ کے پاس دسویں ذی الحجہ کو موجود تھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے سنا ہے، عید الفطر کے دن سے، اس لیے کہ یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن اور مسلمانوں کی عید ہے اور عید الاضحی کے دن اس لیے کہ اس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aishah narrated that : the Messenger of Allah said: Five are Fawasiq which may be killed in the Haram: the mouse, the scorpion, the crow, the kite, and the barbed dog.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جا سکتے ہیں: چوہیا، بچھو، کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sunnan Nisai
5350
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي طَلْحَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ .
It was narrated that Abu Talhah said: I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'The angels do not enter a house in which there is a dog or an image of an animate being.'
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ ایسے گھر میں جس میں مورتیاں ( مجسمے ) “۔
Jam e Tirmazi
165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ .
An-Nu'man bin Bashir said: I am the most knowledgeable among the people about the prescribed time of this prayer: Allah's Messenger would pray it when the moon set on the third (of the month).
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدْ عَفَوْتُ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رُوِيَ عَنْهُمَا جَمِيعًا.
Ali narrated that : the Messenger of Allah said: I have exempted charity on horses and slaves. So bring charity for silver, one Dirham for every forty Dirham. There is nothing for me (to collect) on one hundred and ninety Dirham, so when it reaches two hundred, then five Dirham of it (are due).
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۱؎ تو اب تم چاندی کی زکاۃ ادا کرو ۲؎، ہر چالیس درہم پر ایک درہم، ایک سو نوے درہم میں کچھ نہیں ہے، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اعمش اور ابو عوانہ، وغیرہم نے بھی یہ حدیث بطریق: «أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي» روایت کی ہے، اور سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: «أبي إسحاق عن الحارث عن علي» روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابواسحاق سبیعی سے مروی یہ دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، احتمال ہے کہ یہ حارث اور عاصم دونوں سے ایک ساتھ روایت کی گئی ہو ( تو ابواسحاق نے اسے دونوں سے روایت کیا ہو ) ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق اور عمرو بن حزم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
993
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِنْ غُسْلِهِ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ حَمْلِهِ الْوُضُوءُ يَعْنِي الْمَيِّتَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الَّذِي يُغَسِّلُ الْمَيِّتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ إِذَا غَسَّلَ مَيِّتًا فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ. وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ:‏‏‏‏ أَسْتَحِبُّ الْغُسْلَ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ وَلَا أَرَى ذَلِكَ وَاجِبًا، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا أَرْجُو أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْوُضُوءُ فَأَقَلُّ مَا قِيلَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا بُدَّ مِنَ الْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَغْتَسِلُ وَلَا يَتَوَضَّأُ مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ.
Abu Hurairah narrated that: The Prophet said: Ghusl for one who washed him and Wudu for one who carried himm.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو نہلانے سے غسل اور اسے اٹھانے سے وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ موقوفاً بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو میت کو غسل دے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جب کوئی کسی میت کو غسل دے تو اس پر غسل ہے، ۵- بعض کہتے ہیں: اس پر وضو ہے۔ مالک بن انس کہتے ہیں: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا میرے نزدیک مستحب ہے، میں اسے واجب نہیں سمجھتا ۱؎ اسی طرح شافعی کا بھی قول ہے، ۶- احمد کہتے ہیں: جس نے میت کو غسل دیا تو مجھے امید ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ہو گا۔ رہی وضو کی بات تو یہ سب سے کم ہے جو اس سلسلے میں کہا گیا ہے، ۷-اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: وضو ضروری ہے ۲؎، عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس نے میت کو غسل دیا، وہ نہ غسل کرے گا نہ وضو۔