۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔
۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔
Takhreej
(۶۸۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۸۰(انظر: ۲۷۳۲۴)
Explanation
فوائد:… آپ a کے الفاظ ’’جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔‘‘ یہ دراصل منگنی کی طرف اشارہ تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ a چاہتے تھے کہ فاطمہ بنت قیس، اسامہ سے شادی کر لے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ’’تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے ، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو منگنی کا پیغام دے تو اگر اس کو طاقت ہو تو وہ اس سے اس چیز کو دیکھ لے، جس کی وجہ سے وہ شادی کر رہا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بنو سلمہ کی ایک لڑکی کو منگنی کا پیغام بھیجا تھا اور میں اسے دیکھنے کے لئے کھجور کے پتوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی وہ چیز دیکھ لی، جو اس کے ساتھ نکاح کا سبب بنی تھی، پھر میں نے اس سے شادی کر لی تھی۔
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ بصرہ میں ایک خاتون کو دیکھنے کے لیے اس کے تعاقب میں رہتے تھے، پس میں نے ان سے کہا: تم اس خاتون کو دیکھتے ہو، جبکہ تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالی کسی کے دل میں کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجنے کا خیال ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس کو دیکھ لے۔
Takhreej
(۶۸۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال محمد بن سلیمان، وحجاج بن ارطاۃ مدلس، وقد عنعنہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۶۴(انظر: ۱۶۰۲۸)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابو جبیرہ کی بہن بثینہ بنت ضحاک کو دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ وہ ان کی اس چھت پر تھی، جس پر کوئی آڑ نہیں تھی، … الحدیث۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک عورت کا ذکر کیا کہ میں اس کو منگنی کا پیغام بھیجنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جائو، پہلے اسے دیکھ کر آئو،پس زیادہ لائق ہو گا کہ یہ چیز تمہارے درمیان محبت اور اتفاق کا باعث ہو۔ میں اس انصاری خاتون کے پاس گیا اور اس کے والدین کو منگنی کا پیغام دیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی سنا دیا۔ ایسے لگا کہ وہ اس چیز کو پسند نہیں کر رہے کہ میں اس کو دیکھو، لیکن اس عورت نے پسِ پردہ آواز سن لی اور اس نے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لے، وگرنہ میں تجھے قسم دیتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، پس میں نے اس کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پس اس میاں بیوی کی موافقت کی باتیں کی گئیں۔
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجے تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ صرف منگنی کی وجہ سے دیکھ رہا ہو، اگرچہ اس عورت کو اس کا علم نہ ہو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو اس عورت دیکھ لے، کیونکہ عموماً انصار کی آنکھوں میں کوئی نقص ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۸۷۶) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۴۲۴(انظر: ۷۹۷۹)
Explanation
فوائد:… نقص سے مراد کوئی ایسا عیب ہے، جس کی وجہ سے انسان طبعی طور پر متنفر ہو سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ مرد ایسی خاتون کو دیکھ لے، تاکہ اس کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔
نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے، اس مقصد کے لیے کوئی حیلہ بہانہ استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر گھریلوں عورتوں کے ذریعے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے اندازہ کر لیا جائے۔
میاں بیوی کے مابین اچھے تعلقات، بہترین معاشرے اور خاندان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں شریعت نے مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام قرار دیا ہے، وہاں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جواز کی گنجائش بھی پیدا کر دی ہے، اس سلسلے میں دونوں اطراف سے والدین کو دور رسی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے لڑکی
اور لڑکے کی ملاقات اور ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
پاکستان کے حالات کے مطابق لڑکے کا لڑکی کو پسند نہ کرنابچی کے لیے کسی قیامت صغری سے کم نہیں ہوتا، ایسے حالات میں منگیتر کو بچی دیکھنے کا موقع دیا جائے، اگرچہ بچی کے والدین اور بھائی وغیرہ باخبر نہ ہوں، تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی کیے بغیر شریعت کی رخصت پر عمل ہو جائے، جیسا کہ سیدنا جابر b نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور چھپ کر اس کو دیکھ لیا۔ اس سلسلے میں بچی کی سہیلیاں اور دور کی رشتہ دار عورتیں اچھا کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ خیرخواہ اور راز دار ہوں، اگر متعلقہ بچی کو بھی آگاہ نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ پسند نہ آنے کی صورت میں اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا،اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر اس آدمی نے اس عورت سے جماع کر لیا،تو اس کو اس جماع کی وجہ سے اسے مہر دینا ہو گا، اگر وہ اختلاف میں پڑ جائیں تو جس کا کوئی ولی نہیں ہو گا، سلطان اس کا ولی ہو گا۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں امام زہری سے ملا اور اس حدیث کے بارے میںپوچھا، لیکن وہ اس حدیث کو نہ پہنچان سکے،انھوں نے کہا: اور سلیمان بن موسی، پھر انھوں نے اس کی تعریف کی، عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہا: سلطان سے مراد قاضی ہے، کیونکہ عصمتوں سے متعلقہ معاملات اور احکام قاضی کی عدالت میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔
فوائد:… جمہور اہل علم کے نزدیک عورت کے ولی سے مراد اس کے زیادہ قریبی عصبہ رشتہ دار ہیں، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ ہے کہ ذوی الارحام (ماموں اور نانا وغیرہ) بھی اولیاء میں شامل ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، سلطان اس کا ولی ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۷۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۰(انظر: ۲۲۶۰)
Explanation
فوائد:… امام حاکم نے ’’لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ‘‘ والی روایات ذکر کرنے کے بعد کہا: و فی الباب عن علی بن أبی طالب و عبد اللہ بن عباس و معاذ بن جبل و عبد اللہ بن عمر و أبی ذر الغفاری و المقداد بن الأسود و عبد اللہ بن مسعود و جابر بن عبد اللہ و أبی ہریرۃ و عمران بن حصین و عبد اللہ بن عمرو و المسور بن مخرمۃ و أنس بن مالک رضی اللہ عنہم و أکثرہا صحیحۃ و قد صحت الروایات فیہ عن أزواج النبی صلی اللہ علیہ و سلم عائشۃ و أم سلمۃ و زینب بنت جحش رضی اللہ عنہم أجمعین۔ …اس باب میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا عمران بن حصین، سیدنا عبد اللہ بن عمرو، سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا انس بن مالک eسے احادیث مروی ہیں، ان میں سے زیادہ تر صحیح ہیں، اور نبی کریمa کی بیویوں میں سے سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے احادیث مروی ہیں۔ (مستدرک:۲/۱۸۸ )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو منگنی کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے نکاح کا معاملہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کا نکاح کر دیا۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ایک عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو پہلے ولی کا نکاح معتبر ہو گا، اسی طرح جب کوئی آدمی ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے، تو وہ پہلے کی ہو گی۔ یونس راوی کے الفاظ یہ ہیں: جب آدمی دو بندوں سے بیع کر دے۔
Takhreej
(۶۸۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، وفیہ عنعنۃ الحسن البصری، وقد قال ابن المدینی: لم یسمع الحسن من عقبۃ بن عامر شیئا، أخرجہ الترمذی: ۱۱۱۰، وابن ماجہ: ۲۱۹۰ (انظر: ۱۷۳۴۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو غلام بھی اپنے مالک یا گھر والوں کی اجازت کے بغیر شادی کرے گا، وہ زانی ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل تفرد بہ عن جابر، ومثلہ لا یقبل عند التفرد، أخرجہ ابوداود: ۲۰۷۸(انظر: ۱۴۲۱۲)
Explanation
فوائد:… نکاح کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا کئی احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔
البتہ امام ابو حنیفہ نے ولی کی اجازت کو ضروری نہیں قرار دیا، لیکنیہ رائے اس باب کی احادیث کی روشنی میں درست نہیں ہے اور اس رائے کے حق میں کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ولی سے مراد عصبہ رشتہ دار ہیں، جن میں سب سے پہلے باپ ہے، باپ کی غیر موجودگی میں دادا، پھر بھائی اور پھر چچا ہے، اگر کسی عورت کے دو یا زائد ولی ہوں اور نکاح کے موقع پر اختلاف واقع ہو جائے تو قریبی ولی کو ترجیح ہو گی، اور اگر دونوں ولی برابر حیثیت کے ہوں تو اختلاف کی صورت میں حاکم ولی ہو گا۔
قرآن اور حدیث دونوں میں کنواری عورت کی طرح بیوہیا مطلقہ عورت بھی اپنے اولیاء کے ماتحت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۲) …’’اگر وہ عورتیں اپنے (پہلی اور دوسری طلاق کی عدت گزر جانے کے بعد اپنے سابقہ خاوندوں سے) نکاح کرنا چاہیں تو تم انھیں مت روکو۔‘‘
اس آیت میں مطلقہ عورتوں، جن کی عدت گزر چکی ہو، کے اولیاء کو حکم دیا جار ہا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائیں تو اولیاء کو چاہئے کہ وہ نکاح کر دیا کریں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی عورت کو اولیاء روک بھی سکتے ہے۔ نیز صحیح بخاری کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ایک بھائی نے اپنی مطلقہ بہن کا سابقہ خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے سے انکار کر دیا تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کروا دیا۔ امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’بَاب مَنْ قَالَ لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِیٍّ لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالٰی {فَـلَا تَعْضُلُوہُنَّ} فَدَخَلَ فِیہِ الثَّیِّبُ وَکَذَلِکَ الْبِکْرُ وَقَالَ: {وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتّٰییُؤْمِنُوا} وَقَالَ: {وَأَنْکِحُوا الْأَیَامٰی مِنْکُمْ} امام اس باب میںیہ تین آیات بیان کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ولی کو بچی کے نکاح میں اختیار حاصل ہے، تبھی تو اللہ تعالی ان کو یہ حکم دے رہا ہے ۔ ‘‘
ولی کی شرط کے بارے میں دو آیات اور ان کی وضاحت:
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تُنْکِحُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰییُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَلَوْ اَعْجَبَکُمْ} … ’’اور مشرکین کو اپنی بچیوں کا نکاح کر کے نہ دو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور البتہ غلام مؤمن مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ اچھا لگے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۲۱)
امام قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا: فی ھذہ الآیۃ دلیل بالنص علی ان لا نکاح الا بولی۔ … یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں (تبھی تو اولیاء کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کا مشرک سے نکاح نہ کریں)۔ (تفسیر قرطبی: ۳/ ۴۹)
اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اَذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ} … ’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے پہلے والے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو، جب وہ آپس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۲)
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کیا، لیکن اس نے اس کو طلاق دے دی،یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، جب عدت گزر گئی تو اسی صحابی نے دوبارہ پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن بھائی آڑے آ گیا اور اس نے اپنی بہن کا نکاح کرنے سے انکار کردیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حافظ ابن حجر نے کہا: ’’وہی أصرح دلیل علی اعتبار الولی وإلا لما کان لعضلہ معنی ولانہا لو کان لہا أن تزوج نفسہا لم تحتج إلی أخیہا ومن کان أمرہ إلیہ لا یقال أن غیرہ منعہ منہ۔‘‘ … یہ آیت ولی کے معتبر ہونے پر سب سے زیادہ واضح دلیل ہے اور اگر ولی کا اعتبار نہ ہوتا تو اس کو روکنے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا، اگر سیدنا معقل b کی بہن کے لیے اپنا نکاح خود کرنا جائز ہوتا تو وہ اپنے بھائی کی محتاج نہ ہوتی اور اختیار جس کے ہاتھ میں ہو اس کے بارے میںیہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے غیر نے اس کو روک دیا ہے۔‘‘ (فتح الباری: ۹/ ۹۴)
لڑکیوں کا گھروں سے فرار ہو کر اور عدالت میں جا کر اپنے عاشقوں سے شادی عصر حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے اور چھپییاری کی حوصلہ افزائی ہے، اس سے نہ صرف والدین کی ذلت و رسوائی لازم آتی ہے، بلکہ معاشرے کی ساری فضا متأثر ہوتی ہے، جبکہ یہ نکاح فاسد ہوتا ہے۔
ولی کی اجازت کے ساتھ ساتھ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ میں اسلام کا انتہائی معتدل اور عدیم النظیرقانون پیش کیا گیا ہے، سلسلۂ نکاح میںجہاں اولیاء کی رضامندی ضروری ہے، وہاں لڑکی کو کسی صورت میں بے اختیار نہیں سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ رفیقِ حیات کے انتخاب میں اس کی پسند یا عدم پسند کا مکمل لحاظ رکھا جائے گا۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کی شادی کے معاملے میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری بچی سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گا۔
فوائد:… کنواری بچی کی طرح بیوہ خاتون کے نکاح کے لیے بھی ولی کی اجازت ضروری ہے، اس حدیث کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولی کو بیوہ خاتون کے اختیار اور رائے کا بھی خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ اب وہ شادی والی زندگی گزار چکی ہے اور اس کو لوگوں اور ماحول کا اندازہ ہو چکا ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری بچی سے اس کے نفس کے بارے میں اس سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۱(انظر: ۱۸۸۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں لفظ ’’احق‘‘ میںمشارکت پائی جاتی ہے، یعنی نکاح میں شوہر دیدہ کا حق بھی ہے اور ولی کا بھی اور عورت کے حق کی زیادہ اہمیت ہے، بہرحال دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔
نیز درج ذیل حدیث سے ’’احق بنفسھا‘‘ کے معنی کی وضاحت ہو تی ہے۔
سیدنا عدی کندیb بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِی أَنْفُسِھِنَّ۔)) فَقَالَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِھَا بِلِسَانِھَا، وَالْبِکْرُ رِضَاھَا صُمَاتُھَا۔)) (صحیحہ: ۱۴۵۹) … ’’عورتوں سے ان کے نفسوںکے بارے میں مشورہ کیا کرو۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس سے مشورہ کیسے کیا جائے)؟ آپ aنے فرمایا: ’’بیوہ تو اپنے بارے میں خود وضاحت کرتی ہے اور کنواری کی رضامندی اس کا خاموش ہو جانا ہے۔‘‘
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری کا باپ اس سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… حدیث کے پہلے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ بیوہ کا بھی حق ہے اور اس کے ولی کا بھی حق ہے، ولی کا حق یہ ہے کہ اس کے واسطے کے بغیر نکاح نہ کیا جائے اور بیوہ کا حق یہ ہے کہ جب وہ کسی شخص کو بطورِ خاوند قبول نہ کرے تو اس کو مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ اب اس معاملے میں بیوہ کا حق زیادہ ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ ولی نے ایسی خاتون کی کسی مرد سے شادی کرنا چاہی، لیکن وہ رضامند نہ ہوئی تو اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا اور ولی اپنا ارادہ ترک کر دے، لیکن جب ایسی خاتون کسی مرد سے شادی کرنے پر رضامند ہو جائے گی اور ولی رضامند نہیں ہو گا تو ولی کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ رضامندی کا اظہار کرے اور اس کی شادی کر دے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور بیوہ سے مشورہ کیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرماتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی رضا ہے۔
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ سے اس کے بارے میں مشورہ لیا جائے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا۔