۔ سیدنا عدی بن عدی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرما جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ بول کر اپنے نفس کے بارے میں وضاحت کرے گی اور کنواری کی رضامندی خاموشی ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۸۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۷۲ (انظر: ۱۷۷۲۴)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے وجود کی شادی میں مشورہ کیا کرو۔ کسی نے کہا: کنواری بچی تو بات کرنے سے ہی شرماتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔
Takhreej
(۶۸۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ایوب بن عتبۃ الیمامی، أخرجہ البیھقی: ۷/ ۱۲۳، وعبد الرزاق: ۱۰۲۷۷، وابویعلی: ۳۸۸۳ (انظر: ۲۴۴۹۴)
۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا : وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔
فوائد:… نکاح کے وقت سیدہ کی عمر چھ برس اور کچھ ماہ تھی، اسی لیے کبھی اس کسر کو پورا کر کے سات سال کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو چھوڑ کر چھ برس کہا جاتا ہے، ۲ھمیں سیدہ عائشہ c کی رخصتی ہوئی تھی۔
ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہc کا انتقال ہوا تھا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے، وہ سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصیت کی کہ وہ اس کی پرورش کرے، یہ دونوں قدامہ اور عثمان میرے ماموں تھے، میں نے سیدنا قدامہ کے ہاں ماموں عثمان کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، انہوں نے اس کی مجھ سے شادی کردی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی ماں کے پاس آئے اور انہیں مال کی رغبت دلائی، پس وہ مال کی طرف مائل ہو گئی اور اس کی بیٹی کا میلان ماں کی طرف ہو گیا، پس ان دونوں نے انکار کر دیا،یہاں تک کہ ان کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری بھتیجی ہے، میرے بھائی نے وصیت کے ذریعہ میرے سپرد کی ہے۔ میں نے اس کی پھوپھی کے بیٹے عبد اللہ بن عمر سے اس کی شادی کر دی ہے اور میں نے اس کی بہتر ی کے لیے کوئی کمی نہیں کی، لیکنیہ عورت ذات ہے، اس کی ماں مال کی طرف مائل ہو گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بچی سن تمیز والی ہے، اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ بچی میری ملکیت و زوجیت میں آنے کے بعد مجھ سے چھن گئی۔ انہوں نے اس کی رضا کے مطابق سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اس کی شادی کردی۔
Takhreej
(۶۸۹۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الدارقطنی: ۳/ ۲۳۰، وأخرجہ مختصرا دون المرفوع ابن ماجہ: ۱۸۷۸(انظر: ۶۱۳۶)
Explanation
فوائد:… وصییا کفیلیا سرپرست کو یتیم بچی پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یتیم بچی کسی کامل انسان کی طرح اپنا اختیار رکھتی ہے، نکاح کے معاملے میں اس کی رضامندی اور عدم رضامندی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اگلی روایات سے اس کے اختیار اور مرضی کی مزید وضاحت ہو رہی ہے۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ لیا جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہو گی اور اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کنواری لڑکی رضا مند ہو جائے تو ٹھیک ہے، اسے راضی ہونے کا حق ہے اور اگر وہ ناپسند کرے تو ولی کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیمبچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمرنے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی جانب تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایکیتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر نے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیتیتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔
فوائد:… ماؤں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنا اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ نکاح کے عقد میں ولی کی طرح کا کوئی اختیار رکھتی ہیں، بلکہ یہ حسن معاشرت کا تقاضا ہے، اس سے مائیں خوش ہو جائیں گی اور اس مشورے کی برکت سے بیٹیوں اور ان کے خاوندوں میں الفت، محبت اور اتفاق پیدا ہو گا، وگرنہ زیادہ تر بیٹیوں کا میلان ماؤں کی طرف ہوتا ہے، اس لیے اگر اس معاملے میں ماؤں کو راضی نہ کیا گیاتو فساد کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
۔ حجاج بن سائب سے مروی ہے کہ اس کی جدہ (دادییا نانی) ام سائب خناس بنت خذام ،ابو لبابہ کے زیر نکاح آنے سے پہلے ایک اور آدمی کی بیوی تھی، وہ آدمی فوت ہو گیا اور وہ بیوہ بن گئی، پھر اس کے باپ خذام نے بنو عمرو بن عوف بن خزرج کے ایک آدمی سے اس کی شادی کر دی، لیکن اس نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اوراس کییہی رٹ تھی کہ اس نے ابو لبابہ سے شادی کرنی ہے، مگر اس کا باپ اس چیز پر بضد تھا کہ یہ جائے گی تو صرف عوف قبیلہ کے آدمی کے گھر ہی جائے گی،یہاں تک کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خاتون اپنے اس معاملے کی زیادہ حقدار ہے، اس لیے تو اس کی مرضی کے مطابق اس کی شادی کر دے۔ پس اس کو عوفی سے علیحدہ کر لیا گیا اور اس نے ابو لبابہ سے شادی کرلی، ان سے سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوا تھا۔
Takhreej
(۶۸۹۸)اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ ، حجاج بن السائب من رجال ’’التعجیل‘‘، وقد تفرد بالروایۃ عنہ ابن اسحاق، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، وابن اسحاق مدلس وقد عنعن، واختلف علیہ فیہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۶۴۳، والدارقطنی: ۳/ ۲۳۱، والبیھقی: ۷/ ۱۱۹(انظر: ۲۶۷۹۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا صحیح سیاق اگلی حدیث میں مذکورہ ہے۔
۔ سیدنا خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے جس سے اس کی شادی کی، وہ اس کو ناپسند کرتی تھی، جبکہ وہ پہلے بیوہ بھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نکاح ردّ کروادیا۔
فوائد:… خاتون بیوہ ہو یا کنواری، نکاح میں اس کی رضامندی ضروری ہے، اس معاملے میں قطعی طور پر اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔ نکاح میں عورت کی رضامندی شرط ہے، وگرنہ نکاح باطل ہو گا۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو ودیعہ خذام نے ایک آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا، لیکن وہ بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہ شکایت کی کہ اس کا نکاح کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ ناپسند کر رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس خاوند سے علیحدہ کروا دیا اور فرمایا: عورتوں کو مجبور نہ کیا کرو۔ پھر اس نے ابو لبابہ انصاری سے شادی کر لی تھی، جبکہ وہ خاتون پہلے سے بیوہ تھی۔
Takhreej
(۶۹۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، عطاء بن ابی مسلم الخراسانی صاحب اوھام کثیرۃ، ثم ھو لم یسمع من ابن عباس، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۰۳۰۸(انظر: ۳۴۴۰)
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے با پ نے ایسے آدمی سے اس کی شادی کر دی ہے، جس کو وہ ناپسند کرتی ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیا۔
Takhreej
(۶۹۰۱) اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ ابوداود: ۲۰۹۶، وابن ماجہ: ۱۸۷۵ (انظر: ۲۴۶۹)
Explanation
فوائد:… ولی کو مصلحت اور حکمت کے ساتھ بچیوں کے نکاح کے معاملات طے کرنے چاہئیں اور ایسی سبیل پیدا کرنی چاہیے کہ وہ بھی راضی ہو اور اس کی بچیاں بھی اسی کی رائے کو ترجیح دیتی ہوں، زبردستی کرتے ہوئے بچی کو بظاہر راضی تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی زندگی میں سکون نہیں لایا جا سکتا، بلکہ بعد میں اس لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین کو بھی سخت ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اولیاء موجود نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی بھی ولی ایسا نہیں ہے، جو اس شادی کو ناپسند کرے، وہ حاضر ہو یا غائب۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے بیٹےسے کہا: اے عمر! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شادی کر دے، پس انہوں نے ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر دی۔
Takhreej
(۶۹۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن عمر بن ابی سلمۃ، أخرجہ مطولا ومختصرا ابن حبان: ۲۹۴۹، والحاکم: ۲/ ۱۷۸، وابویعلی: ۶۹۰۷ (انظر: ۲۶۵۲۹)
Explanation
فوائد:… ائمۂ ثلاثہ سمیت جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ بیٹا اپنی ماں کا ولی بن سکتا ہے ۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: : اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا:(۱)نماز کو ،جب اس کو وقت ہو جائے، (۲) جنازہ کو جب وہ حاضر ہو جائے اور (۳) عورت کی شادی کو، جب اس کا کفو اور ہمسر مل جائے۔
Takhreej
(۶۹۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ سعید بن عبد اللہ الجھنی، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۸۶، والترمذی: ۱۷۱، ۱۰۷۵ (انظر: ۸۲۸)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے، وہ میرے ساتھ شادی کو اس کے لیے سربلندی کا باعث بنانا چاہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاملے میں مجھے اختیار دے دیا، میں نے کہا: جو کچھ میرے باپ نے کیا ہے، میں اسی کو اختیار کرتی ہوں، لیکن میرا ارادہ یہ تھا کہ عورتوں کو علم ہو جانا چاہیے کہ ان کے اس معاملے میں ان کے آباء کا کوئی حق نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا والے جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔
Takhreej
(۶۹۰۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۱۹، والترمذی: ۳۲۷۱(انظر: ۲۰۱۰۲)
Explanation
فوائد:… ’’حسب مال ہے‘‘ اس سے مراد دنیا کا مال و دولت ہے، جس کے ذریعے جاہ و حشمت ملتی ہے۔ ’’کرم تقوی ہے‘‘ یعنی وہ کرم جو آخرت میں معتبر ہو گا اور جس کا نتیجہ بلند درجات کے ساتھ اکرام کی صورت میں نکلے گا، وہ تقوی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … ’’بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔‘‘ (سورۂ حجرات: ۱۳)
ایک قول کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: نبی کریمa کی مراد وہ امور تھے، جو لوگوں میں متعارف ہیں، لوگوں میں فقیر آدمی کا کوئی حسب نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی عزت ہوتی ہے اور نہ اس کو مجلس میں بٹھایا جاتا ہے، گویا کہ دنیا والوں کا حسب مال ہے، مال والا ہی لوگوں کے ہاں شرف و فضیلت والا قرار پاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے ہاں اس شخص کو عزت و کرم والا نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارگاہِ عالیہ میں معیار تقوی ہے، نہ کہ مال و دولت اور حسب و نسب، اس لیے اللہ تعالی کے ہاں کریم اور معزز وہ ہو گا، جو تقوی کے لباس سے مزین ہو گا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کے زیر نکاح تھی، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، ایک روایت میں ہے: جب اس کو آزاد کیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔
فوائد:… جب غلام اور لونڈی میاں بیوی ہوں اور بیوی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اپنے خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتا ہے۔ شادی میں کفو اور ہمسر کے بارے میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، مثلا: دین، آزادی، نسب، پیشہ، خوشحالی، عیب سے سلامتی، کمائی کا اچھا ذریعہ، صلاحیت، وغیرہ۔ لیکن حقیقتیہ ہے کہ معتبر وصف صرف اور صرف اسلام ہے، اس کے بعد لڑکے اور لڑکی کی رضامندی ہے، لیکن ان کو بھییہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ حسب و نسب، حسن و جمال اور مال و دولت کے بجائے دینداری کو ترجیح دیں، اسلام میں سب سے بڑی صفت تقوی اور پرہیز گاری ہے، اسی میں عزت ہے اور اسی میں حسن انجام ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} ’’بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔‘‘ (سورۂ حجرات: ۱۳)