TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان

Chapter 36 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 36 of 43 · 7 Hadith
۔ (۱۳۰۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاَنْبِیَائُ اِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ، اُمَّہَاتُہُمْ شَتّٰی وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ، وَاَنَا اَوْلٰی النَّاسِ بِعِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ، لِاَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ وَاِنَّہُ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ رَجُلًا مَرْبُوْعًا اِلٰی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ، کَاَنَّ رَاْسَہُ یَقْطُرُ وَاِنْ لَمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَدْعُو النَّاسَ اِلَی الْاِسْلَامِ، فَیُہْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّہَا اِلَّا الْاِسْلَامَ وَیُہْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ وَتَقَعُ الْاَمَنَۃُ عَلٰی الْاَرْضِ حَتّٰی تَرْتَعَ الْاَسْوَدُ مَعَ الْاِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَیَلْعَبُ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ لَا تَضُرُّھُمْ، فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ ((وَیَدْفُنُوْنَہُ۔)) (مسند احمد: ۹۲۵۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیا علاتی بھائی ہیں، (یعنی ان کا باپ ایک ہے اور) مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور وہ (میری امت میں) اترنے والے ہیں۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ درمیانے قد کے ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، وہ دو سوتی چادروں میں ملبوس ہوں گے، جب وہ اتریں گے تو ایسے لگیں گے کہ گویا کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، اگرچہ ان کو گیلا نہیں کیا ہو گا، وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ (کا تصور) ختم ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میںاسلام کے علاوہ تمام (باطل) مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور مسیح دجال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ اور (ان کے زمانے میں) زمین میں اتنا امن ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، حضرت عیسی علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کرنے کے بعد فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر ان کو دفن کریں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۳۲۴ (انظر: ۹۲۷۰)
Explanation
فوائد:… علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی، یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔
13016
Sahih
۔ (۱۳۰۱۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْاَنْبِیَائُ۔)) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ اِلَّا اَنَّہُ قَالَ: ((حَتّٰییَہْلِکَ فِیْ زَمَانِہٖمَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ الْاَعْوَرُ الْکَذَّابُ)) (مسند احمد: ۹۶۳۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی پہلی سند والی حدیث کے ہم معنی ہی ہے، البتہ اس میں ہے: ان کے زمانے میں گمراہی والا کانا اور جھوٹا مسیح ہلاک ہوجائے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۱۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۵۷۵، وابن حبان: ۶۸۱۴ (انظر: ۹۶۳۳)
13017
Sahih
۔ (۱۳۰۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَزِیْدٌ اَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ حَنْظَلَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْزِلُ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ فَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَمْحُوْ الصَّلِیْبَوَتُجْمَعُ لَہُ الصَّلَاۃُ وَیُعْطِی الْمَالَ حَتّٰی لَایَقْبَلَہُ وَیَضَعُ الْخِرَاجَ وَیَنْزِلُ الرَّوْحَائَ وَیَحُجُّ مِنْہَا اَوْ یَعْتَمِرُ اَوْ یَجْمَعُہُمَا۔)) قَالَ: وَتَلَا اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖوَیَوْمَ الْقِیَامَۃِیَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔} فَزَعَمَ حَنْظَلَۃُ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ: یُوْمِنُ بِہٖقَبْلَمَوْتِہٖعِیْسٰی، فَلَا اَدْرِیْ ہٰذَا کُلُّہُ حَدِیثُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْشَیْئٌ قَالَہُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۸۹۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو مٹا دیں گے، ان کی آمد پر نماز با جماعت اداکی جائے گی، وہ لوگوں میں اس قدر مال و دولت تقسیم کریں گے کہ بالآخر کوئی مال قبول نہیں کرے گا، وہ جزیہ کو ختم کر دیںگے اور وہ روحاء مقام پر اتر کر وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھ کر روانہ ہوں گے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔}(سورۂ نسائ: ۱۵۹) (اور تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے)۔ حنظلہ کا خیال ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس طرح کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے، اب میں نہیں جانتا کہ یہ سارے الفاظ حدیث نبوی کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مسلم مختصرا بذکر الاھلال للحج او العمرۃ : ۱۲۵۲(انظر: ۷۹۰۳)
13018
Sahih
۔ (۱۳۰۱۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَیُہِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَائِ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا اَوْ لَیَثْنِیَنَّہَمَا۔)) (مسند احمد: ۷۲۷۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابن مریم علیہ السلام روحائ کے کشادہ راستے سے حج یا عمرے یا دونوں کا تلبیہ کہیں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۵۲(انظر: ۷۲۷۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ عیسی علیہ السلام حج و عمرہ کی ادائیگی بھی کریں گے۔
13019
Sahih
۔ (۱۳۰۲۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اِنْ طَالَ بِیْ عُمُرٌ اَنْ اَلْقٰی عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ علیہ السلام فَاِنْ عَجِلَ بِیْ مَوْتٌ، فَمَنْ لَقِیَہُ مِنْکُمْ فَلْیُقْرِئْہُ مِنِّیَ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امیدہے کہ اگر میری عمرطویل ہوئی تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے میری ملاقات ہوجائے گی اور اگر میری موت جلدی آ گئی تو تم میں سے جس کی ان سے ملاقات ہو، وہ انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۷۹۷۰)
13020
Sahih
۔ (۱۳۰۲۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ الْمَسِیْحُ بْنُ مَرْیَمَ اَنْ یَنْزِلَ حَکَمًا قِسْطًا وَاِمَامًا عَدْلًا فَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَتَکُوْنُ الدَّعْوَۃُ وَاحِدَۃً، فَاَقْرِؤُوْہُ اَوْ اَقْرِئْہُ السَّلَامُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَاُحَدِّثُہُ فَیُصَدِّقُنِیْ، فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ اَقْرِئْہُ مِنِّی السَّلَامَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۱۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب مسیح بن مریم علیہ السلام ایک عادل اور منصف حکمران کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، وہ خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور دین ایک ہوجائے گا، تم انہیں رسول اللہ کا سلام پہنچا دینا، اگر یہ ہوا کہ میں ان سے گفتگو کروں تو وہ میری تصدیق کریں گے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم انہیںمیری طرف سے سلام پہنچا دینا۔
Takhreej
(۱۳۰۲۱) تخریج: حدیث حسن، والمرفوع منہ صحیح (انظر: ۹۱۲۱)
13021
Sahih
۔ (۱۳۰۲۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَیْفَ بِکُمْ اِذَا نَزَلَ فِیْکُمْ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَاَمَّکُمْ اَوْ قَالَ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۶۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۰۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۴۹، ومسلم: ۱۵۵(انظر: ۷۶۸۰)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۱۰۴۱۸)والا اور اس سے پہلے باب ملاحظہ ہو، عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ضروری تفصیل اس باب میں گزر چکی ہے۔
13022
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.