اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی خوشخبری سناؤں جو یاقوت والے موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اس میں شور وغل ہے نہ تعب و تکان۔
۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صحابی ٔ رسول سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوشخبری دی تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنت میںیاقوت کے موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی خوشخبری دی تھی، اس گھر میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ، ایک روایت میں ہے: اس میں شور یا لغو بات نہیں ہو گی اور نہ تھکاوٹ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں کی، جتنی مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آئی، حالانکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میرے ساتھ شادی کرنے سے تین سال پہلے وفات پا گئی تھیں، اس غیرت کی وجہ یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور ربّ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے گھر کی خوشخبری دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تھے تو اس میں کچھ حصہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو ارسال کرتے تھے۔
فوائد:… نبی کریم کی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والی، گھبراہٹوں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سہارا بننے والی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا سرمایا لٹا دینے والی آپ کی وفادار بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کی قدر کی اور انھیں جنت میں گھر کی بشار ت سنوا دی۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
فوائد:… سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
فوائد:… اس حدیث کا متن یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَسْبُکَ مِنْ نِسَاء ِ الْعَالَمِینَ مَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ وَخَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَفَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ۔)) … جہانوں کی خواتین میں چار عورتیں تجھے کافی ہیں: مریم بنت عمران، خدیجہ بنت ِ خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آسیہ، جو کہ فرعون کی بیوی تھیں۔
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف کرتے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا: آپ اس سرخ باچھ والی بڑھیا کا اس قدر زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بہترین متبادل عطا کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر متبادل نہیں دیا، خدیجہ تو وہ تھی جو اس وقت ایمان لائی، جو لوگ میرے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس نے اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اس نے اپنے مال کے ساتھ اس وقت میری ہمدردی کی، جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اس وقت اولاد عطا کی، جب وہ مجھے عورتوں کی اولاد سے محروم کر رہا تھا۔
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی، مجھ پر وہی غیرت غالب آ گئی، جو عورتوں پر غالب آ جاتی ہے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش کی اس سرخ باچھوں والی بڑھیا کا متبادل تو دے دیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس قدر بدلا کہ میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا، ما سوائے نزولِ وحی کے وقت یا بادل کے نمودار ہوتے وقت، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل جاتا کہ وہ رحمت ہے یا عذاب۔
Takhreej
(۱۰۵۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ کی سرخ باچھوں سے مراد یہ ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئی تھیں،یہاں تک کہ ان کے دانت گر گئے تھے اور اس وجہ سے منہ میں سفیدی ختم ہو گئی تھی اور بس مسوڑھوں کی سرخی باقی رہ گئی تھی، جواباً نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ کو بے مثال ام المؤمنین قرار دیتے ہوئے ان کے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار سیدہ کے عظیم کارنامے تھے۔
علمائے کرام نے اس موقع پر ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے اور وہ یہ کہ خواتین کے ساتھ ان کی جلن اور غیرت کے معاملے میں نرمی برتی گئی ہے، کیونکہ عام خواتین کییہ فطرت ہے، ان کی برداشت اور عدم برداشت کا کوئی کلیہ ضابطہ نہیں ہے، ان کا مزاج بڑی سے بڑی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتا اور بڑی سے بڑی برائیوں کو معاف کردیتا ہے ، صبح کو ایکخاتون کی تعریف کر رہی ہوں گی اور شام کو اسی کے خلاف محاذ آراہوں گی،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں ڈانٹا۔
بادل کے نمودار ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پریشانی کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہبادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ صرف ان کے گھر نظر آ رہے تھے، ہم مجرم قوم کو ایسا ہی بدلہ چکھاتے ہیں ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴،۲۵)
۔ سیدنا خالد عدوانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو ثقیف کی مشرقی جانب میں دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے اور ان سے مدد طلب کرنے کے لیے آئے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ} والی سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو مکمل کیا، میں نے دورِ جاہلیت میں شرک کی حالت میں بھییہ سورت یاد کی تھی، اور پھر مشرف باسلام ہو کر بھی اس کی تعلیم حاصل کی تھی، بنو ثقیف نے مجھے بلایا اور کہا: تو نے اس آدمی کو کیا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے جواباً ان کو سورۂ طارق سنائی، لیکن ان کے پاس موجود قریشی لوگوں نے کہا: ہم اپنے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو زیادہ جانتے ہیں، اگر ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس کی بات حق ہے تو ہم ضرور اس کی پیروی کرتے۔
Takhreej
(۱۰۵۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد الرحمن بن خالد العدوانی، وتفرد بہ عبد اللہ بن عبد الرحمن الطائفی، وھو ضعیفیعتبر بہ فی الشواھد والمتابعات، ولم یتابعہ احد ھنا، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۱۳۸، وابن خزیمۃ: ۱۷۷۸، والطبرانی فی الکبیر : ۴۱۲۶ (انظر: ۱۸۹۵۸)
Explanation
فوائد:… ثقیف کا تعلق ہوازن قبیلہ سے تھا اور یہ بنو ثقیف قبیلے کا بڑا باپ تھا، ا س قبیلے کا مسکن طائف تھا، جب قریشیوں نے ابو طالب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت اذیتیں پہنچائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے گفتگو کی اور اس کام میں دس دن گزار دیے، لیکن کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات نہ مانی، بلکہ یہ کہا کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ اور اپنے بچوں، اوباشوں اور غلاموں کو شہ دے دی، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوںجانب لائن لگا کر گالیاں دینی اور بدزبانی کرنی شروع کی، پھر پتھر برسانے لگے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑیاں اور پاؤں زخمی ہو گئے اور جوتے خون سے تر ہو گئے، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ آپ کو بچاتے رہے اور ان کے سر پر بھی کئی زخم آ گئے اور سفاکی کا یہ سلسلہ یہاں تک جاری رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عتبہ اور شیبہ فرزندانِ ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینا پڑی، باقی اگلی حدیث کے فوائد میں۔
۔ سیدنا جندب بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلی کسی چیز اور ایک راوی کی روایت کے مطابق پتھر لگنے سے خون آلود ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انگلی سے فرمایا: تو ایک انگلی ہی ہے جو خون آلود ہوئی ہے اور اللہ کے راستے میں اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فوائد:… درج ذیل حدیث میں سفرِ طائف کا ذکر ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: ہَلْ أَتٰی عَلَیْکَیَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ یَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ: ((لَقَدْ لَقِیتُ مِنْ قَوْمِکِ مَا لَقِیتُ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِیتُ مِنْہُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِی عَلَی ابْنِ عَبْدِ یَالِیلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ یُجِبْنِی إِلٰی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا
مَہْمُومٌ عَلٰی وَجْہِی فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِی فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ أَظَلَّتْنِی فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِیہَا جِبْرِیلُ فَنَادَانِی فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوا عَلَیْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہُ بِمَا شِئْتَ فِیہِمْ فَنَادَانِی مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! فَقَالَ ذٰلِکَ فِیمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَیْہِمُ الْأَخْشَبَیْنِ۔)) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَلْ أَرْجُو أَنْ یُخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلَابِہٖمْمَنْیَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا۔)) … کیایوم احد سے بھی سخت دن آپ پر آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کو پورا نہیں کیا، پھر میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب میں پہنچا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا، میں نے جو دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے، اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ایسے کافروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کہا، پھر کہا: اے محمد! یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے اگر آپ چاہیں تو میں أَخْشَبَیْنکو ان کافروں پر لا کر رکھ دو۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۳۱، صحیح مسلم: ۳۳۵۲)
أَخْشَبَیْن سے مراد مکہ کے دو پہاڑ ہیں: اباقبیس اور اس کے سامنے والا قعیقعان۔
اَبْوَابُ قِصَّۃُ الْاِسْرَائِ وَالْمِعْرَاجِ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسراء اور معراج کے قصے کے ابواب
اسراء و معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے، اہل ایمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ اس معجزہ سے متعلقہ جتنی احادیث ِ صحیحہ منقول ہیں، وہ ان کو تسلیم کریں،یہ معجزہ مکی دور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِ اطہر اور روحِ مقدس سمیت پیش آیا، اسرا سے مراد راتوں رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک اور معراج سے مراد بیت المقدس سے عالم بالا میں تشریف لے جانا ہے، مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک چالیس دنوں کا سفر ہے۔اسراء و معراج کا واقعہ پانچ سن نبوییا ستائیس رجب دس سن نبوییا سترہ رمضان بارہ سن نبوییا محرم یا سترہ ربیع الأول تیرہ سن نبوی کو پیش آیا۔
ہمارے ہاں واقعۂ اسرا و معراج کی مناسبت سے ہر سال ستائیس رجب کی رات کو مخصوص انداز میں گزارا جاتا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی حتمی بات نہیں کہ یہ معجزہ ستائیس رجب کو ہی عطا کیا گیا تھا، جیسا کہ مذکورہ بالا تاریخوں سے پتہ چل رہا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس مناسبت سے کوئی مخصوص عمل کرنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ جس پاک ہستی نے یہ معجزہ وصول کیا، اس نے اس دن کوئی مخصوص عمل پیش نہیں کیا، اب اس واقعہ سے متعلقہ طویل احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا، میرے پاس ایک آنے والا یعنی جبریل رضی اللہ عنہ آیا اور اس نے اپنے ساتھی سے کہا: ان تینوں میں درمیان میں لیٹے ہوئے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں، پس وہ میرے پاس آیا اور اس جگہ سے اس جگہ تک لمبائی میں چاک کردیا، قتادہ کہتے ہیں: میں نے اپنے پہلو میں بیٹھنے والے جارود سے پوچھا: اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد کیا تھی؟ انھوں نے کہا: ہنسلی کیہڈیوں کے درمیان والی پست جگہ سے لے کر شرمگاہ کے بال اگنے والی جگہ تک پیٹ کو چاک کر دیا، پھر میرا دل نکالا گیا، ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا سونے کا تھال میرے پاس لایا گیا، پھر میرے دل کو دھو کر ایمان اور حکمت سے بھر دیا گیا اور پھر اصل حالت میںلوٹا دیا گیا، بعد ازاں میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لایا گیا، وہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا لگ رہا تھا۔ جارود راوی نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ جانور براق تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس جانور کا قدم اس کی منتہائے نگاہ تک جاتا تھا، میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اس پر سوار کر لیا گیا اور حضرت جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ مجھے آسمانِ دنیا تک لے آئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: آپ کو مرحبا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آنا بہترین آمد ہے، پس آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آدم علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہ آپ کے باپ آدم ہیں، ان کو سلام کہو، میں نے ان پر سلام کہا، انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بیٹے اور صالح نبی کو مرحبا،پھر جبریل آگے بڑھے اور دوسرے آسمان تک پہنچ گئے، وہاں دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: اور تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں، کہا گیا: مرحبا، یہ بہترین آمد ہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا اور جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیm تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہیحییٰ اور عیسی ہیں، ان کو سلام کہو، پس میں سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید، پھر وہ مجھے لے کر تیسرے آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس کہا گیا: آپ کو مرحبا، آپ کا آنا بہترین آمد ہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا اور جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھا وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تشریف فرما تھے، جبریل نے کہا: یہ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، آپ ان کو سلام کریں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید، پھر وہ آگے کو بڑھے، یہاں تک کہ چوتھے آسمان تک پہنچ گئے اور کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس کہا گیا: مرحبا، ان کاآنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا گیا، پھر جب میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ادریس ہیں، آپ ان کو سلام کریں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: صالح بھائی اورصالح نبی کو مرحبا۔بعد ازاں جبریل علیہ السلام پانچویں آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے، اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا، جب میں اس سے آگے گزرا تو دیکھا کہ ہارون علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انھوں نے کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا، پھر انھوں نے چڑھنا شروع کیا،یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچ گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے داخل ہوا تو دیکھا موسی علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ موسی ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا، جب میں ان سے آگے بڑھا تو انھوں نے رونا شروع کر دیا، ان سے کہا گیا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ ایک آدمی میرے بعد مبعوث کیا گیا، لیکن میری امت کی بہ نسبت اس کی امت کی اکثریت جنت میں داخل ہو گی، پھر وہ آگے کو بڑھے اور ساتویں آسمان تک پہنچ گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل، کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: مرحبا، یہ بہترین آنا آئے، پس دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے آگے گزرا تو دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بیٹے اور صالح نبی کو مرحبا، پھر میرے لیے سدرۃالمنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھوں کے کانوں کی طرح تھے، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ سدرۃ المنتہی ہے، وہاں چار نہریں تھیں، دو نہریں مخفی تھیں اور دو ظاہری، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں، پھر میرے لیے بیت ِ معمور کو بلند کیا گیا۔ امام حسن بصری نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت ِ معمور کو دیکھا، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر وہ دوبارہ نہیں آ سکتے، پھر راوی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا، ایک دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا، میں نے دودھ پکڑ لیا، اس نے کہا: یہ فطرت ہے، آپ اور آپ کی امت فطرت پر ہیں، پھر مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، لیکن جب میں لوٹا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: بیشک تیری امت پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں بنی بنو اسرائیل کے ساتھ بڑی سخت مشق کی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں، پھر جب میں لوٹا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں چالیس نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا ہے، انھوں نے کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں چالیس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل کے ساتھ معاملات کو بڑی سختی سے نمٹایا ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، سو میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں، پھر میں موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے کہا: آپ کو کس عمل کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں تیس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں تیس نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، میں آپ سے پہلے لوگوں کو پرکھ چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ بڑی سختی سے معاملات انجام دیئے ہیں، لہٰذا آپ لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس لوٹا تو انھوں نے وہی سوال کیا کہ آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے، میں نے کہا: جی ایک دن میں بیس نمازوں کا، انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ آپ کی امت ایک دن میں بیس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنواسرائیل کے ساتھ بڑی سخت مشق کی ہے، لہٰذا اپنے ربّ کی طرف لو جاؤ اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کرو، پس میں لوٹ گیا اور مجھے ایک دن میں دس نمازوں کا حکم دیا گیا، لیکن جب میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے تو میں نے کہا: جی ایک دن میں دس نمازوں کا، انھوں نے اب کی بار پھر کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں دس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کی جانچ پڑتال کر چکا ہوں اور میں نے بنو اسرائیل بڑی سختی کے ساتھ آزمایا ہے، لہٰذا تو اپنے ربّ کی طرف لوٹ جا اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کر، پس میں پھر لوٹ گیا اور مجھے ایک دن میں پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا، میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے پوچھا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا؟ میں نے کہا: مجھے ایک دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے پھر کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میںپانچ نمازیں ادا نہیں کر سکتی اور میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنو اسرائیل کے ساتھ بڑی سختی کے ساتھ مشق کی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، اب کی بار میں نے کہا: میں نے اپنے ربّ سے اتنی بار سوال کر لیا ہے کہ میں اس سے شرماتا ہوں، اب میں اسی پر راضی ہوتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں، پس جب میں آگے کو گزرا تو آواز دینے والے نے آواز لگائی: تحقیق میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں پر تخفیف بھی کی ہے۔‘‘
۔ (دوسری سند) سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ کسی بات کرنے والے کییہ آواز سنی: ان تینوں میں سے ایک ہے، … …، پھر میرے لیے بیت ِ معمور کو بلند کیا گیا، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشے داخل ہوتے ہیں اور جب وہ نکل جاتے ہیں تو آخرتک دوبارہ نہیں آ سکتے، پھر میرے لیے سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، … …، میں نے کہا: میں اپنے ربّ کے پاس اتنی بار جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے، اب میں نہیںجاؤں گا، بلکہ میں راضی ہوتا ہے اور تسلیم کرتا ہوں، پھر جب میں موسی علیہ السلام سے آگے کو گزرا تو مجھے یہ آواز دی گئی: بیشک میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے اور اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے اور ہر نیکی کا دس گناہ اجر وثواب کر دیا ہے۔
۔ (تیسری سند) سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بیت اللہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ تین میں ایک آدمی دو افراد کے درمیان متوجہ ہوا، پھر میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا، وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پس اس فرشتے نے میرے گلے سے پیٹ کے نیچے والے نرم مقام تک کے حصے کو چاک کر دیا، میرے دل کو زمزم کے پانی کے ساتھ دھو کر اس میں حکمت اور ایمان کو بھر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا، وہ خچر سے چھوٹا تھا اور گدھے سے بڑا تھا، پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چل پڑے، ہم آسمانِ دنیاتک جا پہنچے، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہاگیا: تیری ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: ان کو خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، … …۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا، جبکہ میں مکہ میں تھا، جبریل اترے، انھوں نے میرا سینہ چاک کیا، اس کو زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کا ایک تھال لے کر آئے، وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس کو میرے سینے میں بہا دیا اور پھر اس کو بند کر دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے، جب آسمانِ دنیا کے پاس پہنچے تو دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پہرے دار نے کہا: یہ کون آیا ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، اس نے کہا: کیا تیرے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس نے کہا: کیا ان کو پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، جب ہم آسمان دنیا سے اوپر کو چڑھے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس کے دائیں طرف بھی کچھ وجود ہیں اور بائیں طرف بھی، وہ دائیں طرف دیکھ کر مسکراتا ہے اور بائیں طرف دیکھ کر روتا ہے، اس نے مجھے کہا: صالح نبی اور صالح بیٹے کو مرحبا، میں نے جبریل سے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں بائیں جو وجود نظر آ رہے ہیں،یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں، اسی وجہ سے یہ دائیں طرف والوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں اور بائیں طرف والوں کو دیکھ کر روتے ہیں، پھر جبریل مجھے لے کر آگے کو بڑھے اور دوسرے آسمان تک جا پہنچے اور پہرے دار سے کہا: دروازہ کھولو، اس نے آگے سے وہی باتیں کیں، جو آسمان دنیا والے پہرے دار نے کہی تھیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر انھوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمانوں میں آدم، ادریس، موسی، عیسی اور ابراہیمh کو پایا، لیکنیہ بات مجھے یاد نہ رہ سکی کہ ان کی منزلیں کیسی تھیں، (یعنی کون کس آسمان میں تھا) البتہ اتنا یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدم علیہ السلام کو آسمانِ دنیا میں اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں پایا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب جبریل علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ادریس کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: یہ کون ہے؟ جبریل نے کہا:یہ ادریس علیہ السلام ہیں، پھر میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں نے مجھے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا:یہ موسی علیہ السلام ہیں پھر میں عیسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا:یہ عیسی بن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں ے کہا: صالح نبی اور صالح بیٹے کو خوش آمدید، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن حزم نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس اور سیدنا ابو حبہ انصاریfنے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ مجھے لے کر آگے کو بڑھے، یہاں تک کہ میں ایسی سطح پر چڑھ گیا کہ مجھے قلمیں چلنے کی آواز سنائی دی۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میں ان کے ساتھ واپس آیا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: آپ کے ربّ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، موسی علیہ السلام نے مجھ سے کہا: آپ اپنے ربّ سے رجوع کریں، کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھی، پس میں نے اپنے ربّ سے مراجعہ کیا اور اس نے نصف نمازیں کم کر دیں، میں دوبارہ موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور ان کو صورتحال سے آگاہ کیا، انھوں نے کہا: آپ اپنے ربّ کے پاس واپس جائیں، آپ کی امت یہ عمل نہیں کر سکتی، پس میں پھر اپنے ربّ کے پاس گیا، اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ پانچ ہیں اور یہ پچاس ہیں، میرے ہاں قول تبدیل نہیں ہوتا، پس میں موسی علیہ السلام کے طرف لوٹا، انھوں نے پھر کہا کہ آپ ابھی تک اپنے ربّ سے مراجعہ کریں، لیکن میں نے کہا: اب تو میں اپنے ربّ تعالیٰ سے شرماتا ہوں، پھر جبریل مجھے لے کر سدرۃ المنتہی کی طرف گیا، اس پر کئی رنگ تھے اور میں نہیں جانتا کہ وہ کون کون سے تھے، پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا، اس میں دیکھا کہ لؤلؤ موتیوں کے قبے تھے اور اس کی مٹی کستوری تھی۔
۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایاگیا، وہ گدھے سے بڑا اور خچرسے چھوٹاسفید رنگ کا لمبا جانور تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی۔ میں اُس پر سوار ہوا،(اور چل پڑا) حتیٰ کہ بیت المقدس میں پہنچ گیا، میں نے اُس کو اُس کڑے کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ دوسرے انبیاء بھی باندھتے تھے،پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ جب میں وہاں سے نکلا تو حضرت جبریل علیہ السلام شراب کا اور دودھ کا ایک ایک برتن لائے، میں نے دودھ کا انتخاب کیا۔ جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو پسند کیاہے۔ پھر ہمیں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ (جب ہم وہاں پہنچے تو) جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ پھر کہاگیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ کہاگیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ اُس نے کہا: (جی ہاں) انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا ، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعا کی۔پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف اٹھایاگیا۔ جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پوچھا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ فرشتوں نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: (جی ہاں!ان کو بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیاگیا۔ میں نے خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم اوریحییٰ بن زکریا کو دیکھا، اُن دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی۔پھرہمیں تیسرے آسمان کی طرف اٹھایاگیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا ۔فرشتوں نے پوچھا: کون؟اس نے کہا: جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ کہاگیا: کیا ان کو بلایا گیا ہے؟جبریل نے کہا :جی ہاں! انہیںبلایا گیا ہے۔سو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، وہاں میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا،(ان کی خوبصورتی سے معلوم ہوتا تھا کہ) نصف حسن ان کو عطا کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔پھرہمیں چوتھے آسمان کی طرف اٹھایا گیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ پوچھا گیا: کون؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ کہاگیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ اُس نے کہا: جی ہاں! اُن کو بلایا گیا ہے، پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انہوںنے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم نے ادریس کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا، اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا: کون ؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں۔ کہاگیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پوچھاگیا: کیا انہیںبلایا گیا ہے؟ جبریل نے جواب دیا: جی ہاں! انہیں بلایا گیا ہے،پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں حضرت ہارون صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور چھٹے آسمان پر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا: کون؟اس نے کہا: جبریل ہوں۔ کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پھر پوچھا گیا: کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں! پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے وہاں موسیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ۔اُنہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھرہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور دروازہ کھولنے کے لیے کہا گیا۔ پوچھا گیا: کون؟ اس نے کہا:جبریل ہوں۔ کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ کہا گیا:کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا : ہاں! ان کو بلایا گیا ہے۔ سو دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے ابراہیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ۔وہ بیتِ معمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (بیتِ معمور کی کیفیتیہ ہے کہ) ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیںاور پھردوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔ پھر جبریل مجھے سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس لے گئے، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اُس کا پھل مٹکوں کی مانند ۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی چیز سے اسے ڈھانکا گیا تو (اس کی کیفیتیوں) بدل گئی کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی اس کا حسن بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی اور ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں اُتر کر موسیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا،انہوں نے پوچھا: تیرے رب نے تیری امت پر کیا کچھ فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اپنے ربّ کے پاس جاؤ اور تخفیف کا سوال کرو، تیری امت (کے افراد) میں اتنی استطاعت نہیں ہے، میں نے بنی اسرائیل کو آزما لیاہے اور اُن کا تجربہ کر چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا:پس میں اپنے پروردگار کی طرف واپس چلا گیا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت کے لیے (نمازوں والے حکم میں) تخفیف کیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردی۔ پھر میں موسیٰ کی طرف لوٹا اور ان کو بتلایا کہ مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئی ہیں، انہوں نے کہا: تیری امت کو اتنی طاقت بھی نہیں ہو گی، اس لیے اپنے رب کے پاس جاؤ اور اس سے (مزید) کمی کا سوال کرو۔ آپ نے فرمایا: میں اسی طرح اپنے پروردگار اور موسیٰ کے درمیان آتا جاتا رہا،حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد ! ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، ہر نماز (کے عوض) دس نمازوں کا ثواب ہے،(اس طریقے سے یہ) پچاس نمازیں ہوں گئیں اور (مزید سنو کہ) جس نے نیکی کا قصد کیا اور (عملًا) نہیں کی تو اُس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر اُس نے وہ نیکی عملًا کرلی تو اُس کے لیے دس گنا ثواب لکھ دیاجائے گا اور جس نے برائی کا ارادہ کیا اور عملًا اُس کا ارتکاب نہیں کیا،تو اُس (کے حق میں کوئی گناہ) نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اُس نے عملًا برائی کا ارتکاب کر لیا تو (پھر) اُس کے لیے ایک برائی لکھ دی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نیچے اترا اور موسیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا اور اُن کو (ساری صورتحال کی) خبر دی۔انہوں نے پھر کہا: اپنے پرودگار کی طرف لوٹ جائو اور اُس سے مزید تخفیف کا سوال کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف (بار بار) لوٹ چکا ہوں۔ اب تو میں اپنے ربّ سے شرماتا ہوں۔
۔ سیدنا زِرّ بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں چلا یا ہم چلے، اور اسی طرح چلنے پر بر قرار رہے، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس کے پاس پہنچ گئے۔ پھر نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبریل علیہ السلام اس میں داخل نہیں ہوئے، میں (زِرّ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے اور اس میں نماز بھی پڑھی تھی، انھوں نے کہا:او گنجے! تیرا نام کیا ہے؟ میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، لیکن تیرے نام کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات کو وہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا: قرآن مجید نے مجھے یہ خبر دی ہے، انھوں نے کہا: جس نے قرآن کے ساتھ بات کرے وہ تو غالب آ جاتا ہے، اچھا دلیل کی تلاوت کرو، میں نے یہ آیت تلاوت کی: {سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ…} انھوں نے کہا: اس آیت میں تو اس قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہے، او گنجے! کیا اس آیت میں تجھے ایسی کوئی چیز نظر آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ دونوں ہستیاں براق سے ہٹی ہی نہیں کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ان دونوں نے جنت، جہنم اور آخرت کے تمام وعدے دیکھے، اور پھر وہ وہاں لوٹ آئے، جہاں سے انھوں نے سفر شروع کیا تھا، پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اتنے ہنسے کہ میں نے ان کی داڑھیں دیکھ لیں۔ پھر انھوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براق کو اس لیے باندھا تھا کہ وہ بھاگ نہ جائے، حالانکہ مخفی اور ظاہری چیزوں کو جاننے والی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس براق کو مسخر کیا تھا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد اللہ! کون سا جانور براق ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس طرح کا سفید رنگ کا لمبا سا جانور ہوتا ہے اور اس کاقدم منتہائے نگاہ تک جاتا ہے۔
فوائد:… ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کے ابتدائی الفاظ فَلَقِیْنَا کی درست صورت یہ ہے فَبَقِیْنَا ، کیونکہ دوسرے طریق میں فَلَمْ نُزَایِلْ ظَھْرَہ کے الفاظ ہیں، ہم نے درست الفاظ کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا زِرّ بن حبیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق کو لایا گیا،یہ سفید رنگ کا لمبا سا جانور تھا، اپنے منتہائے نگاہ تک اپنا قدم رکھتا تھا، میں اور جبریل اس کی کمر سے جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ میں بیت المقدس آیا اور پھر ہمارے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی، جبکہ سیدنا زِرّ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: او گنجے! تیرا نام کیا ہے، میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، البتہ تیرے نام کی پہچان نہیں ہے، میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا اِنَّہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} انھوں نے کہا: تو اس آیت میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہوتی تو تم کو بھی وہاں نماز ادا کرنا پڑتی، جیسا کہ تم مسجد ِ حرام میں نماز پڑھتے ہو، سیدنا زِرّ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو اس کنڈے کے ساتھ باندھا تھا، جس کے ساتھ انبیائے کرامR باندھتے تھے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھاگ جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۵۷۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… چونکہ دوسرے صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھائی تھی، اس لیے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نفی کو ان کے علم نہ ہونے پر محمول کریں گے، فقہی قانون یہ ہے کہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔ اُدھر سفرِ معراج میں موسی علیہ السلام آپ کو ملے اور اُمّی نبی کو مرحبا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمیتھے، ان کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا کانوں سے اوپر تک آ رہے تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ حضرت موسی علیہ السلام ہیں، پھر آپ آگے چلے اور عیسی علیہ السلام آپ کو ملے اور مرحبا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عیسی علیہ السلام ہیں، پھر آگے چلے اور ایک بزرگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے، وہ بڑے جلال اور ہیبت والے تھے، انھوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرحبا کہا اور آپ کو سلام کہا، بلکہ تمام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ میں دیکھا تو کچھ لوگوں کو مردہ لاشیں کھاتے ہوئے پایا اور پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ وہ لو ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے، یعنی ان کی غیبت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایکاور شخص دیکھا، وہ سرخ رنگ کا تھا، اس کی آنکھیں نیلی تھیں، وہ کوتاہ قد تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : جبریل! یہ کو ن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد ِ اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پس جب متوجہ ہوئے اور پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ سارے کے سارے انبیائے کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ لے کر اس کو پی لیا، جس فرشتے کے پاس پیالہ تھا، اس نے کہا: تو نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۵۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، قابوس مختلف فیہ، وقد ورد فی معنی ھذا الحدیث احادیث عن انس وغیرہ من الصحابۃ (انظر: ۲۳۲۴)
Explanation
فوائد:… لیکن اس معنی میں دوسری احادیث ِ صحیحہ ثابت ہیں۔
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس f) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ان کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، اورمیں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کے بال سیدھے تھے۔