اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر ، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرح ہی ہیں،پھر جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: (جہنم کے داروغے) مالک کو سلام کہو، پس میں نے اس کو سلام کہا۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قریش نے بیت المقدس کی طرف اسراء کے سلسلے میں مجھے جھٹلا دیا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو واضح کر دیا، پس میں نے اس کو دیکھ کر قریشیوں کو اس کی نشانیوں کے بارے میں بتلانا شروع کر دیا۔
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موسم میں مِنٰی میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی ہوتا، وہ کہتا: یہ شخص تم کو حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے آباء کا دین چھوڑ دو، میں نے پوچھا کہ پیچھے والا آدمی کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ابو لہب ہے۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام عام کیا جائے اور لوگوں کی راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی کی، اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے، ایک منصوبے کا بیان اس حدیث میں ہے کہ حج کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے لوگ آتے تھے، ان کو آپ تبلیغ کرتے تھے، ممکن تھا کہ وہ خود اسلام قبول کر لیتےیا ان کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام عام ہو جاتا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی طرح یاد ہیں کہ آپ مِنٰی میں لوگوں کے پاس جاتے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا اور اپنے باپ کے ساتھ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ خوبصورت چہرے والا، بھینگی آنکھ والا اور دو چٹیوں والا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور پیچھے والا آدمی کہتا: یہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے آباء کے دین سے باز آ جاؤ، لات و عزی کو اور بنو مالک بن اُقیش میں سے اپنے حلیفوں کو چھوڑ دو اور اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت کو اختیار کر لو۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب عبد العزی بن عبد المطلب ہے ۔
۔ اشعث کہتے ہیں: بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ نے مجھے بیان کیا کہ اس نے ذو مجاز بازار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں گھستے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ اُدھر ابوجہل اپنے آپ پر مٹی ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا، لوگو! یہ تم کو تمہارے دین کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں اور لات و عزی کو چھوڑ دو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے، ہم نے اس بزرگ سے کہا: تم ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرو، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد معتدل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گوشت تھے، خوبصورت چہرے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال سخت سیاہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بہت سفید تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال بھرپور تھے۔
Takhreej
(۱۰۵۹۸) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۶۶۰۳)
Explanation
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
۔ بنو عبد الاشہل کے بھائی سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو جلیس انس بن رافع مکہ مکرمہ میں آیا، اس کے ساتھ سیدنا ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ اپنی قوم خزرج کی مخالفت میں قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آ کر بیٹھے اور ان سے فرمایا: جس مقصد کے لیے تم آئے ہو، کیا تم کو اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ انھوں نے کہا: وہ کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے بندوں کی طرف بھیجا ہے ، میں لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کا ذکر کیا اور قرآن مجید کی تلاوت بھی کی۔ یہ سن کر نو عمر لڑکے ایاس بن معاذ نے کہا: اے میری قوم! جس مقصد کے لیے تم آئے ہو، اللہ کی قسم ہے، یہ چیز اس سے بہتر ہے، یہ تبصرہ سن کر ابو جلیس انس نے وادیٔ بطحاء سے ایک چلو بھرا اور ایاس بن معاذ کے چہرے پر دے مارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ مدینہ کو واپس چلے گئے، جب اوس اور خزرج میں بعاث کی لڑائی واقع ہوئی تو سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ جلد ہی اس میں فوت ہو گئے۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری قوم کے جو لوگ ایاس کی موت کے وقت اس کے پاس موجود تھے، انھوں نے مجھے بتلایا کہ وہ ایاسکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے ہوئے سنتے رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہوئے ہیں، انھوں نے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے ہی اسلام کو سمجھ لیاتھا۔
فوائد:… مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام بعاث ہے، زمانۂ جاہلیت میں اسی مقام پر اوس اور خزرج کے درمیان ایک لڑائی ہوئی تھی، جس میں دونوں قبیلوں کے سردار وں سمیت بہت سے لوگ قتل ہو گئے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے واقعۂ بعاث کے دن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے بنا دیا تھا، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کی جماعت تتر بتر ہو چکی تھے، اس کے سردار قتل ہو چکے تھے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے نرمی برتی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عرفات کے) موقف میں اپنے آپ کو لوگوں پر پیش کرتے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا آدمی ہے، جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں تک پہنچا سکوں، کیونکہ قریش نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا ہے؟ ہمدان سے ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہمدان سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری قوم کے پاس طاقت و عزت ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی قوم اس کو حقیر قرار دے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں اپنی قوم کے پاس جا رہا ہوں، ان کو یہ تفصیل بتاؤں گا اور پھر اگلے سال آپ کے پاس آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پس وہ چلا گیا اور پھر رجب میں انصاریوں کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۶۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ ابوداود: ۴۷۳۴، وابن ماجہ: ۲۰۱، والترمذی: ۲۹۲۵ (انظر: ۱۵۱۹۲)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیعت ِ عقبہ اولی میں موجود تھا، ہم کل بارہ مرد تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان امور پر بیعت کی، جن امور کا ذکر عورتوں کی بیعت میں ہے، یہ بیعت لڑائی اور جہاد فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی، ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، بہتان گھڑ کر نہیں لگائیں گے اور نیکی کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے، اگر تم نے یہ بیعت پوری کر دی تو تمہارے لیے جنت ہو گی اور اگر تم نے کسی چیز میںمخالفت کر دی تو تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گا، وہ چاہے تو تم کو عذاب دے اور چاہے تو تم کو بخش دے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، جو نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لڑائی کرنے پر بیعت کی، سیدنا عبادہ بن صامت بارہ افراد میں سے تھے، جنہوں نے عقبۂ اولی میں ان امور پر بیعت کی تھی، جن امور پر عورتوں کی بیعت ہوتی تھی، بیعتیہ تھی کہ بدحالی میں، خوشحالی میں، خوشی میں اور ناخوشی میں خلیفہ کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، امارت کے اہل لوگوں سے امارت نہیں چھینیں گے، حق کہیں گے، وہ جہاں بھی ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
Takhreej
(۱۰۶۰۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… بیرون مکہ جن ابتدائی سعادت مندوں نے اسلام قبول کیا، ان میں قبیلہ خزرج کے درج ذیل افراد تھے: سیدنا اسعد بن زرارہ، سیدنا قطبہ بن عامر، سیدنا عوف بن حارث، سیدنا عقبہ بن عامر، سیدنا رافع بن مالک اور سیدنا جابر بن عبد اللہ ۔
یہ لوگ ۱۱نبوتمیں حج کے لیے آنے والوں کے ساتھ آئے اور مِنٰی کی گھاٹی میں رات کے وقت باتیں کر رہے تھے کہ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے ساتھ بیٹھک ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے اور اگلے سال حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا۔
پس وعدے کے مطابق اگلے سال ۱۲نبوتکےموسمحجمیں بارہ آدمی حاضر ہوئے، دس خزرج سے اور دو اوس سے، یہ لوگ منی کی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسلام کی تعلیم دی۔
پانچ افراد تو مذکورہ بالا ہی تھی، باقی لوگ یہ تھے:
سیدنا معاذ بن حارث (معاذ بن عفرائ)، سیدنا ذکوان بن عبد القیس، سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنایزید بن ثعلبہ اور سیدنا عباس بن عبادہ ۔
قبیلہ اوس کے دو آدمییہ تھے: سیدنا ابو الہیثم بن التیہان اور سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہما ۔
اس کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ روانہ کیا، تاکہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں اور دین کی تعلیم دیں۔
بعد ازاں اگلے سال دوسری بیعت ِ عقبہ پیش آئی، جس کا ذکر اگلے باب میں ہے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس برس تک مکہ میں رہے، عکاظ اور مجنہ میں لوگوں کے ڈیروں پر جاتے اور مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں جاتے اور فرماتے: کون مجھے جگہ فراہم کرے گا؟ کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچاؤں اور اس شخص کو جنت ملے گی۔ حتی کہ ایک آدمییمن سے یا مضر سے مکہ کے لیے نکلتا اور اس کی قوم اس کے پاس آتی اور کہتی: قریشی آدمی سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تجھے فتنے میں نہ ڈال دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھروں کے درمیان چلتے اور وہ انگلیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیںیثرت سے بھیجا، پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، پس ہم میں سے آدمی نکلتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا اور وہ بھی اس کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ انصاری محلوں میں سے کوئی محلہ نہ بچا، مگر اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے وجود پکڑ لیا، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے، پھر اِن سب لوگوں نے اکٹھا ہو کر مشورہ کیا اور ہم نے کہا: ہم کب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑے رکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں جگہ نہ دی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں ڈرتے رہیں، پس ہم میں سے ستر افراد روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حج کے موسم کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے، پہلے ہی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقبہ گھاٹی میں ملاقات کرنے کا طے کر لیا تھا، پس ہم ایک دو دو افراد کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتے گئے، یہاں تک کہ ہم سارے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہو گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میری بات کرو، اس بات پر کہ سنو گے اور اطاعت کرو گے، مستعدی میں اور سستیمیں (یعنی ہر حال میں)، بدحالی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے، نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حق میں بات کرو گے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس چیز پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو مجھے بھی ان (مکروہات سے) بچاؤ گے، جن سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنے بیٹوں کو بچاتے ہو، ان امور کے عوض تم کو جنت ملے گی۔ پس ہم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی اور سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ، جوکہ سب سے کم سن تھے، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے یثرب والو! ذرا ٹھیرو، ہم اسی لیے دور دراز کا سفر کرکے آئے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، لیکنیاد رکھو کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں سے لے جانا سارے عربوں کی دشمنی مول لینے کے، اپنے پسندیدہ افراد کو قتل کروانے اور تلواروں سے کٹنے کے مترادف ہے، اب یا تو تم ان آزمائشوں پر صبر کرو اور تمہارا اجر اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور اگر تمہیں بزدلی کا ڈر ہو تو ابھی وضاحت کر دو، یہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہو گا۔ باقی انصاریوں نے سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اسعد! ہٹ جاہمارے سامنے سے،اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی اس بیعت کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ اس کو واپس لیں گے، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ہم پر شرطیں لگائیں اور اس عمل کے عوض اللہ تعالیٰ ہم کو جنت دے گا، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔
Takhreej
(۱۰۶۰۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۱۷۵۶، وابن حبان: ۶۲۷۴، والبیھقی: ۸/ ۱۴۶ (انظر: ۱۴۴۵۶)
۔ سیدنا ابو غادیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، ابو سعید نے کہا: دائیں ہاتھ سے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ والے دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ سے ملاقات والے دن تک تمہارے خون اور اموال تم پر اس طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب سے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔
۔ عبید اللہ بن کعب، جو کہ انصاریوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو عقبہ میں حاضر ہوئے تھے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی قوم کے مشرک لوگوںکے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہم نماز بھی پڑھتے تھے اور ہمیں دین کی سمجھ بھی تھی، ہمارے ساتھ ہمارے بڑے اور ہمارے سردار سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے، جب ہم نے رخت ِ سفر باندھا اور مدینہ منورہ سے نکل پڑے تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، لیکنیہ میں نہیں جانتا کہ تم میری موافقت کرو گے یا نہیں؟ ہم نے کہا: وہ ہے کون سا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ میں کعبہ کی عمارت کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا اور میں اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں تو یہی بات پہنچی ہے کہ ہمارے نبی شام کی طرف نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت تو نہیں کر سکتے، لیکن انھوں نے کہا: میں تو کعبہ کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: لیکن ہم اس طرح نہیں کریں گے، اب صورتحال یہ تھی کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو ہم شام کی طرف رخ کر کے اور سیدنا براء کعبہ کیطرف منہ کر کے نماز ادا کرتے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے، میرے بھائی نے کہا: ہم نے اس کے کیے کو معیوب تو سمجھا ہے، میرے باپ کی قسم! البتہ اس سے مخالفت نہیں کی، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کر کے لاؤ، جو میں نے اس سفر میں کی ہے، جب سے میں نے دیکھا کہ تم لوگ میری مخالفت کر رہے ہو تو میرے نفس میں اس کے بارے میں شبہ پڑ گیا ہے، وہ کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے کے لیے نکلے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچانتے نہیں تھے، کیونکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا، جب مکہ مکرمہ کے ایک باشندے سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا، اس نے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: کیا تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، چونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بطورِ تاجر ہمارے پاس آتے رہتے تھے، اس لیے ہم ان کو پہچانتے تھے، بہرحال اس نے کہا: جب تم مسجد میں داخل ہو تو جو آدمی عباس کے ساتھ بیٹھا ہو گا، وہی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہوں گے، پس ہم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، ہم نے ان کو سلام کہا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو الفضل! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ اپنی قوم کا سردار براء بن معرور ہے اور یہ کعب بن مالک، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات نہیں بھولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جو شاعر ہے، وہ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اب سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس سفر میں نکلا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت دی ہوئی ہے، میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں کعبہ کی عمارت کو پشت پر نہیں رکھوں گا، بلکہ میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھوں گا، لیکن میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ اتفاق نہیں کیا،یہاں تک کہ میرے نفس میں تردّد پیدا ہو گیا۔ اے اللہ کے رسول! اب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو صبر کرتا تو تو قبلے پر ہی تھا۔ پس سیدنا براء نے فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ اختیار کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ سیدنا براء کے گھر والے تو یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مرتے دم تک کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، لیکنیہ دعوی درست نہیں ہے، ہم اس کے اہل کی بہ نسبت اس کو زیادہ جانتے ہیں، پھر ہم حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایام تشریق کے وسط میں عقبہ کے مقام پر ملنے کا وعدہ کیا، پس جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور وہ رات آ گئی، جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا، اُدھر ہمارے ساتھ ابو جابر عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ تھے، ہم اپنی قوم کے مشرک افراد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو چھپانا چاہتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو جابر! تم سرداروں اور اشراف میں سے ایک سردار اور شریف ہو، لیکن جس دین پر تم ہو، ہم اس سے بے رغبت ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کل آگ کا ایندھن بن جاؤ، پھر میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے وعدے کی خبر دی، پس وہ بھی مسلمان ہو گئے اور ہمارے ساتھ عقبہ میں شریک ہوئے، بلکہ ان کا نقیب بھی بنایا گیا، پس ہم اس رات کو اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائش گاہوں میں سو گئے، جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی رہائش گاہوں سے نکل پڑے اور چھپتے ہوئے قطا پرندے کی طرح سرکنے لگے، یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں جمع ہو گئے، ہم کل ستر مرد تھے اور ہمارے ساتھ دو عورتیں تھیں، ایک خاتون ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا اور دوسری خاتون ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی تھیں، ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، ہم لوگ گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرنے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے، البتہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا معاملہ دیکھیں اور اعتماد حاصل کر لیں، جب وہاں بیٹھ گئے تو سب سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بات کی اور کہا: اے خزرج کی جماعت! بیشک تم جانتے ہو کہ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم میں سے ہیں، ہم نے اپنی قوم سے ان کی حفاظت کی ہوئی ہے، یہاں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنے قوم میں عزت کے ساتھ اور اپنے شہر میں قوت کے ساتھ ہیں۔ عرب لوگ انصاریوں کے اس قبیلے کو خزرج کہتے تھے، ہم نے کہا: ہم نے تمہاری بات سن لی ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ بات کریں اور اپنی پسند کے مطابق اپنی ذات کے لیے اور اپنے ربّ کے لیے جو معاہدے لینے ہیں، وہ لے لیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو کی، قرآن مجید کا کچھ حصہ تلاوت کیا، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، ان کو اسلام کی رغبت دلائی اور فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم ہر اس چیز سے مجھے تحفظ فراہم کرو گے، جس سے اپنی عورتوں اور بیٹوں کی حفاظت کرتے ہو۔ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! ہم آپ کو اس چیز سے بچائیں گے، جس سے اپنی خواتین کو بچاتے ہیں، پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، ہم لڑائیوں والے اور اسلحہ والے تھے، یہ چیز ہم کو نسل در نسل ورثے میںملی تھی، ابھی تک سیدنا براء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھے کہ بیچ میں بنو عبد الاشہل کے حلیف سیدنا ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ بول پڑے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارے اور یہودیوں کے مابین معاہدے ہیں اور آپ کی وجہ سے ہم ان کو توڑ دینے والے ہیں، لیکن کیایہ ممکن ہے کہ جب ہم یہ سب کچھ کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے تو آپ اپنی قوم کی طرف واپس آ جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں؟یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: نہیں، بلکہ اب تو جہاں تمہارا خون طلب کیا جائے گا، وہاں میرا خون بھی طلب کیا جائے گا اور جہاں تمہارے خون کو رائیگاں قرار دیا جائے گا، وہاں میرے خون کو بھی رائیگاں قرار دیا جائے گا، اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جن سے تم لڑو گے، میں بھی ان سے لڑوں گا اور جن سے تم صلح کرو گے، میں بھی ان سے صلح کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اپنے بارہ نقیب میری طرف نکالو، جو اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں گے۔ پس انھوں نے بارہ نقیب منتخب کیے، نو خزرج سے تھے اور تین اوس سے، معبد بن کعب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: پہلا شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے، پھر باقی لوگ پے در پے بیعت کرنے لگے، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر لی تو گھاٹی کی چوٹی سے شیطان بہت بلند آواز میں بولا، میں نے ایسی اونچی آواز کبھی نہیں سنی تھی، اور اس نے کہا: اے ان رہائش گاہوں والو! کیا تمہیں مذمَّم کی فکر ہے، بے دین لوگ تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے اس کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن شیطان نے محمد نہیں کہا، بلکہ مذمّم کہا، یہ آواز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس گھاٹی کا اَزَبّ شیطان ہے، یہ ابن اَزْیَب ہے، سن اے اللہ کے دشمن! خبردار! اللہ کی قسم ہے، میں تیرے لیے ضرور ضرور فارغ ہونے والا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ سیدنا عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم کل اپنی تلواریں لے کر اہلِ مِنٰی پر حملہ کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تک مجھے اس چیز کا حکم نہیں دیا گیا۔ پس ہم لوٹ آئے اور اپنے اپنے مقام پر سو گئے، جب صبح ہوئی تو سردارانِ قریش ہمارے پاس ہماری رہائش گاہوں میں پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: اے خزرج کی جماعت! ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ تم ہمارے اس صاحب کے پاس گئے ہو اور اب اس کو ہمارے درمیان سے نکالنا چاہتے ہو اور ہمارے ساتھ لڑائی کرنے پر اس کی بیعت کر رہے ہو، اللہ کی قسم! ہر عرب کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ ہمارے اور تمہارے ما بینلڑائی بھڑک اٹھے، اب بتاؤ کہ کیا معاملہ ایسے ہی ہے؟ ہماری قوم کے مشرک لوگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ان کے لیے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ اس قسم کی کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، بلکہ ہمیں تو ایسے معاملے کا علم ہی نہیں ہے، وہ لوگ سچ بول رہے تھے، کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہم (ستر افراد) رات کو کیا کر کے آئے ہیں، البتہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر وہ لوگ اٹھ پڑے، ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی بھی تھے، (یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے) انھوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی ایک بات کہی ہے، گویا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں بھی لوگوں کے منفی جواب میں شریک ہو جاؤں، ہم نے کہا: اے ابو جابر! کیا آپ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے بھیاس قریشی نوجوان کے جوتوں کی طرح جوتے ہوں، جبکہ آپ ہمارے سردار ہیں؟ جب حارث نے یہ بات سنی تو اس نے وہ جوتے اتار دیئے اور ان کو میری طرف پھینک دیا اور کہا: اللہ کی قسم! تو ضرور ضرور ان کو پہنے گا، اس نے کہا: تو نے نوجوان کو ناراض کر دیا ہے، اب یہ جوتے اس کو واپس کر دے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میںیہ واپس نہیں کروں گا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہٹھیک ہیں، اگر یہ فال سچی ہے تو میں اس سے بطورِ سلب لوں گا۔ یہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی عقبہ کے بارے میں اور جو کچھ انھوں نے وہاں دیکھا تھا، اس کے بارے میں حدیث ہے۔
۔ سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ عقبہ کے پاس درخت کے نیچے ستر انصاریوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں جس بندے نے بات کرنی ہے، وہ بات کرے اور خطاب کو لمبا نہ کرے، کیونکہ مشرکوں کا جاسوس تمہاری تاڑ میں ہے اور اگر ان کو تمہاری اس کاروائی کا پتہ چل گیا تو وہ تمہیں رسوا کر دیں گے۔ پس ان کے بات کرنے والے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے محمد! اپنے ربّ کے لیے جو مطالبہ کرنا ہے کرو، اور پھر اپنے نفس اور اپنے صحابہ کے لیے جو چاہتے ہو، ہم سے سوال کرو، پھر ہمیں بتاؤ کہ اگر ہمیہ ذمہ داریاں نبھا دیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا اجر و ثواب کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اپنے ربّ کے لیےیہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے اور اپنے صحابہ کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوںکہ تم لوگ ہمیں جگہ فراہم کرو، ہماری مدد کرو اور ان امور سے ہماری بھی حفاظت کرو، جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو جنت ملے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو آپ نے مطالبہ کیا ہے، وہ پورا کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۶۰۷) تخریج: مرسل صحیح، عامر الشعبی لم یدرک النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، قال العجلی: مرسل الشعبی صحیح، لایکادیرسل الا صحیحا، أخرجہ البیھقی فی الدلائل : ۲/ ۴۵۰ (انظر: ۱۷۰۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے اور وہ ابو مسعود عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔
Takhreej
(۱۰۶۰۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یثرب میں دین کی تعلیم اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اور کئی لوگ مسلمان ہو گئے، ۱۳نبوتکےموسمحجمیںیثرب سے بہت سے مسلمان اور مشرکین حج کے لیے آئے، مسلمانوں نے طے کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے اور خوف و ہراس کے عالم میں نہیں چھوڑیں گے، چنانچہ انھوں نے درپردہ رابطہ کیا اور ایام تشریق کے درمیانے روز، رات کے وقت جمرۂ عقبہ کے پاس گھاٹی میں اجتماع منعقد کرنے پر اتفاق کیا، مقررہ دن یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ اپنے ڈیروں میں سو گئے اور جب رات کا پہلا تہائی گزر چکا تو چپکے چپکے ایک دو دو آدمی نکل کر عقبہ کے پاس پہنچ گئے، یہ کل تہتر آدمی تھے، باسٹھ خزرج کے اور گیارہ اوس کے، ان کے ساتھ یہ دو عورتیں بھی تھیں: سیدہ نسیبہ بنت کعب اور سیدہ اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہما ۔ پھر اس مجلس میں جو امور طے پائے، ان کا بیان اسی باب میں کیا جا چکا ہے۔
عقبہ کی اس دوسری بیعت کے بعد عام مسلمانوں نے مدینے کے لیے ہجرت شروع کر دی، جبکہ بعض صحابہ اس سے پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مسلمانوں کا دار الہجرت دکھلایا جا چکا تھا، جس کی علامتوں کا مصداق یثرب بن رہا تھا۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے صحابہ یہ تھے: سیدنا مصعب بن عمیر اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما ، یہ دونوں لوگوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے، پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال اور سعدfبھی پہنچ گئے، ان کے بعد بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی اہل مدینہ اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے خوش ہوئے، یہاں تک کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ کہہ رہے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے سورۂ اعلی سمیت بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں نے مکہ میں ایک رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا، کسی نے کہا: جب صبح ہو تو اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بیڑیوں سے باندھ دو، کسی نے کہا: نہیں، بلکہ اس کو قتل کردو، کسی نے کہا: بلکہ اس کو نکال دو، اُدھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان باتوں پر مطلع کر دیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نکل کر غارِ ثور میں پناہ گزیں ہوگئے، مشرکوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، ان کا خیال تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ دے رہے ہیں، جب صبح ہوئی تو وہ ٹوٹ پڑے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا مکر ردّ کر دیا، انھوں نے کہا: علی! تیرا ساتھی کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشانات کی تلاش میں چل پڑے، جب اُس پہاڑ تک پہنچے تو معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا، پس یہ پہاڑ پر چڑھے اور غارِ ثور کے پاس سے گزرے، لیکن جب انھوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالہ دیکھا تو انھوں نے کہا: اگر وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس غار میں داخل ہوا ہوتا تو مکڑی کا یہ جالہ تو نہ ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی غار میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
Takhreej
(۱۰۶۱۰) تخریج: اسنادہ ضعف، عثمان الجزری، قال احمد: روی احادیث مناکیر زعموا انہ ذھب کتابہ، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۷۴۳، والطبرانی: ۱۲۱۵۵ (انظر: ۳۲۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے پہنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر سو گئے، مشرک لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے، اُدھر سے جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے، جبکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگے سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بئر میمون کی طرف نکل گئے ہیں، تم ان کو جا ملو، پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اُدھر چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارے جاتے تھے، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتھر مارے جانے لگے، لیکن وہ تکلیف سے تڑپ اٹھتے تھے اور انھوں نے اپنے سر پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا، انھوں نے سر کو باہر نہ نکالا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر جب انھوں نے سر سے کپڑا اتارا تو مشرکوں نے کہا: بیشک تو گھٹیا درجے کا ہے، جب ہم تیرے ساتھی کو مارتے تھے تو وہ نہیں تڑپتے تھے اور تو تڑپ اٹھتا تھا، ہم پہلے سے اس چیز کا انکار کر چکے ہیں (یعنی ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ یہ سونے والا آدمی محمد نہیں ہے)۔
Takhreej
(۱۰۶۱۱) تخریج: وھو حدیث طویل واسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، ابو بلج، وان وثّقہ غیر واحد، قد قال فیہ البخاری: فیہ نظر، واعدل الاقوال فیہ انہ یقبل حدیثہ فیما لا ینفرد بہ (انظر: ۳۰۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور یہ آیت آپ پر اتاری گئی: اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما۔ (سورۂ بنو اسرائیل: ۸۰)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالی، اس وقت سے میں نے اپنے والدین کو دینِ اسلام پر پایا، کوئی دن نہیں گزرتا تھا، مگر اس کے صبح و شام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آتے تھے، جب اسلام کی وجہ سے مسلمانوں پر مصائب ڈھائے گئے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکل پڑے، جب (مکہ سے پانچ دنوں کی مسافت پر واقع) برک الغماد مقام پر پہنچے تو ابن دَغِنّہ ان کو ملے، جو کہ قارہ قبیلے کے سردار تھے، ابن دغنہ نے کہا: ابوبکر! کہاں جا رہے ہو، انھوں نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، … … باقی حدیث ذکر کی، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہاری ہجرت گاہ مجھے دکھائی جا چکی ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کھجوروں والی شور والی زمین ہے اور دو حرّوں کے درمیان واقع ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے لوگ نکل پڑے، اور جو لوگ اللہ تعالیٰکے لیے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئے تھے، وہ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کر دی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھیر جاؤ، مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ بھی اس چیز کی امید رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو روک لیا اور چارماہ تک اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے درخت کے پتوں کا چارہ دیتے رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن ہم ابتدائے زوال کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر ڈھانپا ہوا ہے اور ایسے گھڑی میں تشریف لا رہے کہ پہلے اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں آیا کرتے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خاص معاملے کی وجہ سے اس وقت میں تشریف لا رہے ہیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داخل ہوتے ہی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے پاس والے افراد کو باہر نکال دو۔ انھوں نے کہا: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ آپ کے اہل ہی ہیں، (ایک آپ کی بیوی عائشہ ہے اور ایک آپ کی سالی اسماء ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں بھی آپ کی صحبت کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، ان دو اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیمت سے لوں گا۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے بہت خوبصورت انداز میں ان دو اونٹنیوں کو تیار کیا، چمڑے کے تھیلے میں زادِ راہ رکھا، پھر سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا نے اپنیپیٹی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلے کو باندھا، اسی وجہ سے ان کو ذَاتُ النِّطَاقَیْنِ کہتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ثور پہاڑ کی ایک غار میں پہنچ گئے اور اس میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
فوائد:… ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی پیٹی کو دو حصوں میں پھاڑ دیا، ایک سے زادِ راہ والا تھیلا باندھا اور ایک سے مشکیزے کا منہ باندھا، اس وجہ انکا یہ لقب پڑ گیا۔
صحیح بخاری میں اس حدیث کا بقیہ حصہ یہ ہے:
یَبِیتُ عِنْدَہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَہُوَ غُلَامٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ فَیُدْلِجُ مِنْ عِنْدِہِمَا بِسَحَرٍ فَیُصْبِحُ مَعَ قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ کَبَائِتٍ فَـلَا یَسْمَعُ أَمْرًا یُکْتَادَانِ بِہٖإِلَّاوَعَاہُحَتَّییَأْتِیَہُمَا بِخَبَرِ ذَلِکَ حِینَیَخْتَلِطُ الظَّلَامُ وَیَرْعٰی عَلَیْہِمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ مِنْحَۃً مِنْ غَنَمٍ فَیُرِیحُہَا عَلَیْہِمَا حِینَ تَذْہَبُ سَاعَۃٌ مِنْ الْعِشَاء ِ فَیَبِیتَانِ فِی رِسْلٍ وَہُوَ لَبَنُ مِنْحَتِہِمَا وَرَضِیفِہِمَا حَتّٰییَنْعِقَ بِہَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ بِغَلَسٍ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ تِلْکَ اللَّیَالِی الثَّلَاثِ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِی الدِّیْلِ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ بْنِ عَدِیٍّ ہَادِیَا خِرِّیتًا وَالْخِرِّیتُ الْمَاہِرُ بِالْہِدَایَۃِ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِی آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّہْمِیِّ وَہُوَ عَلٰی دِینِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَأَمِنَاہُ فَدَفَعَا إِلَیْہِ رَاحِلَتَیْہِمَا وَوَاعَدَاہُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَیَالٍ بِرَاحِلَتَیْہِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ وَانْطَلَقَ مَعَہُمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ وَالدَّلِیلُ فَأَخَذَ بِہٖمْطَرِیقَ السَّوَاحِلِ۔ …عبداللہ بن ابی بکر جو نوجوان ہوشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہیں رات گزاری ہے اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتییہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرات ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے حتیٰ کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ) بنو ویل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امینبنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا ( چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا) اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا ۔