TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب الفضائل - کتاب الفضائل - Book 174 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 174 of Musnad Ahmad, with 66 chapters and 311 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

311 Hadith · 66 Chapters
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۶۷)۔ عَنْ أَبِی حَلْبَسٍ یَزِیدَ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَا سَمِعْتُہُ یُکَنِّیہِ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا،یَقُولُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: یَا عِیسٰی! إِنِّی بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِکَ أُمَّۃً، إِنْ أَصَابَہُمْ مَا یُحِبُّونَ حَمِدُوا اللّٰہَ وَشَکَرُوْا، وَإِنْ أَصَابَہُمْ مَا یَکْرَہُونَ احْتَسَبُوْا وَصَبَرُوْا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ، قَالَ: یَا رَبِّ! کَیْفَ ہٰذَا لَہُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ؟ قَالَ: أُعْطِیہِمْ مِنْ حِلْمِیْ وَعِلْمِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۹۵)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا،راویہ ام درداء کہتی ہیں: میں نے ابودرداء کو اس سے پہلے یا اس کے بعد رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے نہیں سنا، بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں، اگر ان کو وہ چیز ملے جس سے وہ محبت کرتے ہوں، تو وہ میری حمد کریں گے اور شکر بجا لائیںگے اور اگر ان کو ایسے احوال پیش آئیں، جو بظاہر انہیں ناپسند ہوں گے، تب بھی وہ صبر کریں گے اور ثواب کی امید رکھیں گے اور ان کے پاس نہ بردباری ہو گی اور نہ علم ہوگا، عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! جب ان کے پاس حلم اور علم نہ ہوگا تو مذکورہ خصائص ان میں کیسے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنی طرف سے انہیں حلم اور علم سے نواز دوں گا۔
Takhreej
(۱۲۴۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃحال ابی حلبس یزید بن میسرۃ، اخرجہ البزار: ۲۸۴۵، والطبرانی فی الاوسط : ۳۲۷۶، والحاکم: ۱/ ۳۴۸ (انظر: ۲۷۵۴۵)
12467
Zaeef
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۶۸)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِینَ أُمَّۃً، أَنْتُمْ آخِرُہَا وَأَکْرَمُہَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ مِنْ مَصَارِیعِ الْجَنَّۃِ مَسِیرَۃُ أَرْبَعِینَ عَامًا، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَیْہِیَوْمٌ وَإِنَّہُ لَکَظِیظٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۷۸)
سیدنا معاویہ بن جیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم امتوں کے ستر کے عدد کو پورا کرنے والے ہو، ان میں سے تم سب سے آخری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزر اور مکرم ہو،جنت کے دروازوں کی جانبی لکڑیوں کے مابین چالیس برس کی مسافت ہے، لیکن جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تمہارے رش کی وجہ سے تنگ پڑجائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۶۸) تخریج: اسنادہ حسن، اخرج الشطر الاول الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۳۰، وأخرج الشطر الثانی ابن حبان: ۷۳۸۸ (انظر: ۲۰۰۲۵)
12468
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۶۹)۔ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: فُضِّلَتْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ، جُعِلَتْ لَہَا الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُہَا عَلٰی صُفُوفِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ ذَا: ((وَأُعْطِیتُ ہٰذِہِ الْآیَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہَا نَبِیٌّ قَبْلِی۔))قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: کُلُّہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۰)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۶۹) تخریج: اخرجہ البخاری: ۶۴۸۰، ومسلم: ۵۲۲ (انظر: ۲۳۲۵۱)
Explanation
فوائد:… سورۂ بقرہ کی آخری آیات سے مراد {آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ} سے سورت کے آخر تک دو آیات ہیں۔
12469
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۰)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَشِّرْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِالسَّنَائِ وَالرِّفْعَۃِ وَالدِّینِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْکِینِ فِی الْأَرْضِ۔)) وَہُوَ یَشُکُّ فِی السَّادِسَۃِ قَالَ: فَمَنْ عَمِلَ مِنْہُمْ عَمَلَ الْآخِرَۃِ لِلدُّنْیَا لَمْ یَکُنْ لَہُ فِی الْآخِرَۃِ نَصِیبٌ۔)) قَالَ عَبْد اللّٰہِ: قَالَ أَبِی أَبُو سَلَمَۃَ: ہٰذَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخُو عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیِّ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۳۹)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کو اللہ کے ہاں قدرو منزلت، بلند مرتبت، دین داری، تائید و نصرت اور زمین پر غلبہ کی بشارت دے دیں۔ راوی کو یہ پانچ چیزیں یاد رہیں اور چھٹی اس کے ذہن سے محو ہوگئی،اس کے بارے میں اسے شک ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا جوآدمی آخرت کا عمل دنیا کے لیے کرے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میرے والد نے بتلایا کہ اس حدیث کے راوی ابو سلمہ کا اصل نام مغیرہ بن مسلم ہے اور وہ عبدالعزیز بن مسلم قسملی کا بھائی ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۷۰) تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۱۱ (انظر: ۲۱۲۲۰)
12470
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۱)۔ وعَنِ أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أُمَّتِی أُمَّۃٌ مَرْحُومَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ، إِنَّمَا عَذَابُہُمْ فِی الدُّنْیَا الْقَتْلُ وَالْبَلَابِلُ وَالزَّلَازِلُ)) قَالَ أَبُو النَّضْرِ: بِالزَّلَازِلِ وَالْقَتْلِ وَالْفِتَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۱۴)
سیدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پر رحمت کر دی گئی ہے، اسے آخرت میں عذاب نہیں دیا جائے گا، میرے امتیوں کا عذاب دنیا میں قتل، پریشانیوں، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۷۱) تخریج: ضعیف، روی یزید بن ھارون و ھاشم بن القاسم عن عبد الرحمن بن عبد اللہ المسعودی بعد الاختلاط، اخرجہ ابوداود: ۴۲۷۸(انظر: ۱۹۶۷۸)
12471
Zaeef
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ مَرْحُوْمَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ اِلَّا عَذَابُہَا فِی الدُّنْیَا الْقَتْلُ وَالْبَلَائُ وَالزَّلَازِلُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۹۰)
سیدناابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہو گا، اس کا عذاب تو دنیا میں قتل، پریشانیوں اور زلزلوں کی صورت میں ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۷۲) تخریج: ضعیف، انظر الحدیث السابق (انظر: ۱۹۷۵۲)
12472
Zaeef
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: أَمَانَانِ کَانَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُہُمَا وَبَقِیَ الْآخَرُ: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} [الانفال: ۳۳]۔ (مسند احمد: ۱۹۸۳۶)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۷۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۸۲ (انظر:۱۹۶۰۷)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و امان کے دو اسباب تھے، ایک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی اور دوسرا استغفار، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے ایک سبب ختم ہو چکا ہے اور استغفار کا سبب باقی ہے۔ اس آیت سے استغفار کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔
12473
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۴)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَنْ یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ سَیْفَیْنِ، سَیْفًا مِنْہَا وَسَیْفًا مِنْ عَدُوِّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۹)
سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا،ایک تلوار اس امت کی اپنی اور دوسری دشمن کی۔
Takhreej
(۱۲۴۷۴) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ ابوداود: ۴۳۰۱ (انظر: ۲۴۸۸۹)
Explanation
فوائد:… امت ِمسلمہ کی تاریخ یہی ہے کہ جب تک خارجی دشمنوں سے مقابلہ جاری رہا، اس وقت تک اندرونی دشمنوں سے نجات ملی رہی۔
12474
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِی أَحْرَزَہُمُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ، عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْہِنْدَ، وَعِصَابَۃٌ تَکُونُ مَعَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۵۹)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کے دوگروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر لیا ہے، ایک وہ گروہ، جو ہندوستان پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ گروہ، جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۴۷۵) تخریج: حدیث حسن، اخرجہ النسائی: ۶/ ۴۲ (انظر: ۲۲۳۹۶)
Explanation
فوائد:… مولانا عطاء اللہ بھوجیانی نے کہا: سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں ۴۴ ھ میں مسلمانوں نے ہند پر چڑھائی کی تھی، پھر چوتھی سن ہجری میں محمود غزنوی نے بلادِ ہند میںجہاد کیا اور کافروں کو قتل کیا اور قیدی بنایا اور سومنات میں داخل ہو کر بڑے بت کو توڑا، جس کی وہ عبادت کرتے تھے، پھر وہ امن و سلامتی کے ساتھ لوٹ گئے۔ (التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی: ۲/ ۵۶) اس کے بعد بھی بلادِ ہند میں جہاد بعض صورتوںمیں جاری رہا اور اب بھی ہے۔
12475
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ صَاحِبُ الْبَصْرِیِّ سُلَیْمَانُ بْنُ أَیُّوبَ، حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ دِینَارٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ: مَیْمُونُ بْنُ سُنْبَاذَ، یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((قِوَامُ أُمَّتِی بِشِرَارِہَا۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۳۳۴)
سیدنا میمون بن سنباذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نامی ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کا استحکام برے لوگوں سے ہوگا۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔
Takhreej
(۱۲۴۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، ومتنہ منکر، ھارون بن دینار العجلی البصری ضعیف وابوہ دینار مجھول، ومیمون بن سنباذ مختلف فی صحبتہ، اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر : ۲۰/ ۸۳۵ (انظر: ۲۱۹۸۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دومفہوم بیان کیے گئے ہیں: (۱) سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ۔)) … اللہ تعالیٰ اس دین کو فاجر آدمی کے ذریعے مضبوط کرے گا۔ (صحیح ابن حبان: ۱۶۰۷، طبرانی کبیر: ۸۹۶۳،۹۰۹۴، صحیحہ: ۱۶۴۹) اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کے ذریعے اپنے دین کی نصرت کیسے کرتا ہے، اس کی ایک صورت درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے، ایک آدمی مسلمان ہونے کا دعوی کرتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ جہنمی ہے۔ جب ہم نے جنگ لڑنا شروع کی تو اس آدمی نے (لشکرِ اسلام کی طرف سے) بڑی زبردست لڑائی کی۔ خود اس کو بھی ایک زخم لگ گیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، وہ تو آج بہت خوب لڑا اور شہید ہو گیا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ قریب تھا کہ بعض مسلمان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کی وجہ سے شک میں پڑ جائیں۔ اتنے میں کہا گیا کہ وہ آدمی تو ابھی تک نہیں مرا، لیکن شدید زخمی ضرور ہے۔ رات کا وقت تھا، اس نے زخم پر صبر نہ کیا اور خود کشی کر لی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس صورتحال پر مطلع کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کریں: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری: ۳۰۶۲، مسلم) (۲) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کے اکثر زمانے میں برے اور ظالم امراء و حکام رہیں گے، جبکہ بیچ میں اللہ تعالیٰ کے دین کا کام بھی ہوتا رہے گا، گویا برے لوگ اس امت کے استحکام کاسبب بنے ہوئے ہیں۔
12476
Zaeef
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أُمَّتِی لَمَنْ یَشْفَعُ لِأَکْثَرَ مِنْ رَبِیعَۃَ وَ مُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِی لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُونَ رُکْنًا مِنْ أَرْکَانِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۱۳)
سیدناابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو قبیلہ ربیعہ اور مضر کے افراد سے زیادہ لوگوں کے حق میں سفارش کریں گے اور میری ہی امت میں بعض ایسے افراد بھی ہوں گے، جو جہنم کے لیے بڑے ہو جائیں گے، یہاں تک جہنم کا کونہ بھر جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۴۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن قیس جھّلہ علی ابن المدینی والذھبی وابن حجر أخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۴۳۲۳(انظر: ۱۷۸۵۸)
12477
Zaeef
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: ((لَا تَعْجِزُ أُمَّتِی عِنْدَ رَبِّی أَنْ یُؤَخِّرَہَا نِصْفَ یَوْمٍ۔)) وَسَأَلْتُ رَاشِدًا ہَلْ بَلَغَکَ مَاذَا النِّصْفُ یَوْمٍ؟ قَالَ خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجزنہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب میں نصف یوم تک روکے رکھے۔ ابو بکر کہتے ہیں: میں نے راشد سے کہا: کیاآپ کو اس بارے میں کوئی خبر پہنچی کہ نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
Takhreej
(۱۲۴۷۸) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ ابوداود: ۴۳۵۰ (انظر: ۱۴۶۴)
12478
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۷۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَعْجِزَ أُمَّتِی عِنْدَ رَبِّی، أَنْ یُؤَخِّرَہُمْ نِصْفَ یَوْمٍ۔)) فَقِیلَ لِسَعْدٍ: وَکَمْ نِصْفُ یَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجز نہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب کے لیے نصف یوم تک روکے رکھے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے پوچھا: نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوںنے کہا: پانچ سو سال۔
Takhreej
(۱۲۴۷۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت حشر کے میدان میں نصف دن تک صبر کر سکے گی۔
12479
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((کُلُّ أُمَّتِییَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا مَنْ أَبٰی۔)) قَالُوْا: وَمَنْ یَأْبٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبٰی۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں جائے گی، ما سوائے ان لوگوں کے جو خود جنت میں جانے سے انکاری ہوں۔ صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں جانے سے کون انکارکرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میںجائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔
Takhreej
(۱۲۴۸۰) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۲۸۰ (انظر: ۸۷۲۸)
12480
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْکَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی ثَبَجَ الْبَحْرِ، أَوْ ثَبَجَ ہٰذَا الْبَحْرِ، ہُمُ الْمُلُوکُ عَلَی الْأَسِرَّۃِ، أَوْ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۵۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک قوم اس سمندر کی سطح پر سوار ہوگی، وہ یوں لگیں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔
Takhreej
(۱۲۴۸۱) تخریج: اخرجہ البخاری: ۲۷۸۸، ۶۲۸۲، ومسلم: ۱۹۱۲ (انظر: ۱۳۵۲۰)
12481
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ: ((مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِییَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۲۱)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: وہ اللہ کی راہ میں غز وۂ کرتے ہوئے اس بحرا خضر کی سطح پر سوار ہوں گے، ان کی مثال یوں ہوگی جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔
Takhreej
(۱۲۴۸۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث میں بحری جہاد کا ذکر ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷) والا باب
12482
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۳)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ أُمَّتِی مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْرٰی أَوَّلُہُ خَیْرٌ أَمْ آخِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۸۷)
سیدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔
Takhreej
(۱۲۴۸۳) تخریج: حدیث قوی بطرقہ وشواھدہ، اخرجہ ابن حبان: ۷۲۲۶، والطیالسی: ۶۴۷ (انظر: ۱۸۸۸۱)
12483
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِی مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْرٰی أَوَّلُہُ خَیْرٌ أَوْ آخِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۵۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔
Takhreej
(۱۲۴۸۴) تخریج: حدیث قوی بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۲۸۶۹ (انظر: ۱۲۳۲۷)
12484
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ الْیَہُودِ وَالنَّصَارٰی، کَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ یَعْمَلُ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِلٰی نِصْفِ النَّہَارِ عَلٰی قِیرَاطٍ قِیرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ الْیَہُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ إِلٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ عَلٰی قِیرَاطٍ قِیرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ: مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ إِلٰی غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلٰی قِیرَاطَیْنِ قِیرَاطَیْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِینَ عَمِلْتُمْ فَغَضِبَ الْیَہُودُ وَالنَّصَارٰی، قَالُوْا: نَحْنُ کُنَّا أَکْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَائً، قَالَ: ہَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ شَیْئًا؟ قَالُوْا: لَا، قَالَ: فَإِنَّمَا ہُوَ فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو بہت سے لوگوں کو بطور مزدور لگائے اور ان سے کہے: کون ہے جو صبح سے نصف النہار تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ یہودیوں نے اس شرط پر کام کیا، اس نے پھر کہا: کون ہے جو نصف النہار سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ نصاریٰ نے اس شرط پر کام کرنا منظور کر لیا، اس نے بعد ازاں کہا: کون ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض پر کام کرے گا۔ خبردار! وہ تم ہی ہو، جو تھوڑا وقت اور زیادہ معاوضہ پرکام کرنے والے ہو، یہ سن کر یہود اور نصاریٰ غضبناک ہوئے کہ ہم نے محنت زیادہ کی اور مزدوری تھوڑی ملی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کچھ کمی کی ہے یا اجرت کے سلسلہ میں تم پر کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، یہ میں جسے چاہتا ہوں، دے دیتا ہوں۔
Takhreej
(۱۲۴۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۶۸، ۳۴۵۹ (انظر: ۴۵۰۸)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت پر اتنا کرم کیا کہ اس کو تھوڑے وقت کے عوض معاوضہ زیادہ دیا۔ اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ نمازِ عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہوتا ہے، اس موضوع پر متعلقہ ابواب میں بحث ہو چکی ہے۔
12485
Sahih
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۸۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ الْأَنْمَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَثَلُ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا وَعِلْمًا فَہُوَ یَعْمَلُ بِہِ فِی مَالِہِ فَیُنْفِقُہُ فِی حَقِّہِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ عِلْمًا وَلَمْ یُؤْتِہِ مَالًا فَہُوَ یَقُولُ: لَوْ کَانَ لِی مِثْلُ مَا لِہٰذَا عَمِلْتُ فِیہِ مِثْلَ الَّذِییَعْمَلُ۔)) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہُمَا فِی الْأَجْرِ سَوَائٌ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَمْ یُؤْتِہِ عِلْمًا فَہُوَ یَخْبِطُ فِیہِیُنْفِقُہُ فِی غَیْرِ حَقِّہِ، وَرَجُلٌ لَمْ یُؤْتِہِ اللّٰہُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَہُوَ یَقُولُ: لَوْ کَانَ لِی مَالٌ مِثْلُ ہٰذَا عَمِلْتُ فِیہِ مِثْلَ الَّذِییَعْمَلُ۔)) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہُمَا فِی الْوِزْرِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۷)
سیدناابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار آدمیوں کی مانند ہے، ایک کو اللہ تعالیٰ مال اور علم سے نوازے،وہ اپنے علم کو مال میں استعمال کرے اور مال حاصل کرکے اس کے جائز مقامات پر صرف کرے،دوسرے کو اللہ تعالیٰ علم عطا فرمائے اور مال نہ دے، وہ کہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اسے اس کی طرح اس کے جائز مقامات پر صرف کرتا،تیسرے کو اللہ تعالیٰ مال تو دے مگر علم نہ دے، وہ اپنے مال ہی میںمگن رہے، نہ تو صلہ رحمی کرے اور نہ کسی حقدار کو حق ادا کرے بلکہ وہ اس مال کو ناحق خرچ کرتا ہے اور چوتھے کو اللہ تعالیٰ نہ مال دے اور نہ علم اور وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس کی طرح ناجائز کا موں میں خرچ کروں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گناہ میں یہ اور وہ دونوں برابر ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۸۶) تخریج: حدیث حسن، اخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۲۸ (انظر: ۱۸۰۲۴)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اس امت کے افراد کی کل چار قسمیں ہیں، ہر آدمی اپنا جائزہ لے کر بآسانی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
12486
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.