TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب الفضائل - کتاب الفضائل - Book 174 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 174 of Musnad Ahmad, with 66 chapters and 311 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

311 Hadith · 66 Chapters
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۷)۔ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ہَادِیَۃَ قَالَ: لَقِیتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ إِسْحَاقُ: فَقَالَ لِی: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَہْلِ عَمَّانَ، قَالَ: مِنْ أَہْلِ عَمَّانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَلَا أُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنِّی لَأَعْلَمُ أَرْضًا یُقَالُ لَہَا: عَمَّانُ، یَنْضَحُ بِجَانِبِہَا (وَقَالَ إِسْحَاقُ: بِنَاحِیَتِہَا) الْبَحْرُ، الْحَجَّۃُ مِنْہَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَیْنِ مِنْ غَیْرِہَا)) (مسند احمد: ۴۸۵۳)
حسن بن ہادیہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میری ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: میں اہل عمان میںسے ہوں، انہوںنے کہا: اہل عمان میں سے؟ میںنے کہا: جی ہاں!انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کر دوں؟ میںنے کہا: ضرور سنائیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں عمان نامی ایک جگہ جانتا ہوں، جس کے پہلو میں سمندر بہتا ہے، وہاں سے آکر ایک حج اداکرنا دیگر مقامات سے آکر دو حج کرنے سے بھی افضل ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن بن ھادیۃ مجھول الحال، اخرجہ البیھقی فی السنن : ۴/ ۳۳۵ (انظر: ۴۸۵۳)
12747
Zaeef
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۸)۔ وَعَنْ أَبِیْ بَرْزَۃَیَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا إِلٰی حَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ، فَضَرَبُوْہُ وَسَبُّوْہُ فَرَجَعَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَکَا ذٰلِکَ إِلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ أَہْلَ عَمَّانَ أَتَیْتَ مَا ضَرَبُوْکَ وَلَا سَبُّوْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰۹)
سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو کسی عربی قبیلے کی طرف نمائندہ بنا کر روانہ فرمایا، تو اس قبیلہ والوں نے اسے مارا اوربرا بھلا بھی کہا، اس نے واپس آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل عمان کے ہاں جاتے تو وہ تمہیں نہ مارتے اور نہ برا بھلا کہتے۔
Takhreej
(۱۲۷۴۸) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۵۴۴(انظر: ۱۹۷۷۱)
Explanation
فوائد:… بحرین کا ایک شہر عمان ہے۔
12748
Sahih
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْیَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، یَنْصُرُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، ہُمْ خَیْرُ مَنْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ۔)) قَالَ لِی مَعْمَرٌ: اذْہَبْ فَاسْأَلْہُ عَنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عدن ابین سے بارہ ہزار ایسے لوگ برآمد ہو ں گے، جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے، میرے اوران کے درمیان جتنے بھی لوگ ہیں وہ ان تمام لوگوں سے افضل ہوںگے۔ معمر نے مجھ سے کہا: تم جا کر اس حدیث کی بابت پوچھ کرآؤ۔
Takhreej
(۱۲۷۴۹) تخریج: رجالہ ثقات، اخرجہ ابویعلی: ۲۴۱۵، والطبرانی: ۱۱۰۲۹(انظر: ۳۰۷۹)
Explanation
فوائد:… عدن ابین یمن کی مشہور بندرگاہ اور شہر ہے۔ا ب بھی یمنی لوگوں میں خیر غالب ہے، وہ بڑی قد و قامت والے بہترین جنگجو ہیں۔
12749
Sahih
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۷۵۰)۔ عَنْ أَبِی ثَوْرٍ الْفَہْمِیِّ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَأُتِیَ بِثَوْبٍ مِنْ ثِیَابِ الْمَعَافِرِ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: لَعَنَ اللّٰہُ ہٰذَا الثَّوْبَ وَلَعَنَ مَنْ یَعْمَلُ لَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلْعَنْہُمْ فَإِنَّہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) قَالَ إِسْحَاقُ: وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ یَعْمَلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۶)
سیدنا ابو ثور فہمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ یمن کے معافر قبیلے کا بنا ہوا کپڑا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، سیدنا ابو سفیا ن نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس کپڑے پر اور اس کے بننے والے پر، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان پر لعنت نہ کرو، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔
Takhreej
(۱۲۷۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ تفرد بھذا الحدیث، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، وتلمیذہ اسحاق بن عیسی سمع منہ قبل احتراق کتبہ (انظر: ۱۸۷۱۹)
12750
Zaeef
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۷۵۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی السَّکُونِ، وَالسَّکَاسِکِ، وَعَلٰی خَوْلَانَ الْعَالِیَۃِ، وَعَلَی الْأَمْلُوکِ أَمْلُوکِ رَدْمَانِ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۷۳)
سیدنا عمرو بن عبسہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمنی قبائل سکون، سکاسک، خولانِ عالیہ اور املوک ردمان کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔
Takhreej
(۱۲۷۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد الرحمن بن یزید الاملوکی، اخرجہ الطبرانی فی مسند الشامیین : ۵۵۲ (انظر: ۱۹۴۴۳)
12751
Zaeef
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
۔ (۱۲۷۵۲)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ لِیَّۃَ حَتّٰی إِذَا کُنَّا عِنْدَ السِّدْرَۃِ، وَقَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَہَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِہِ یَعْنِی وَادِیًا، وَقَفَ حَتّٰی اتَّفَقَ النَّاسُ کُلُّہُمْ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ صَیْدَ وَجٍّ وَعِضَاہَہُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّہِ۔)) وَذٰلِکَ قَبْلَ نُزُولِہِ الطَّائِفَ وَحِصَارِہِ ثَقِیفَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۶)
سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں لیہ سے واپس آرہے تھے، جب ہم بیری کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کالے رنگ کے چھوٹے پہاڑ کے کونے میں بیری کے بالمقابل کھڑے ہو کر ایک وادی کی طرف غور سے دیکھا اور وہاں رکے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وادیٔ وج کا شکار اور جھاڑیاںبھی حرم ہیں اور اللہ کے لیے لوگوں پر حرام کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ آپ کے محاصرہ طائف و ثقیف سے پہلے کا ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبد اللہ بن انسان، قال ابو حاتم الرازی: لیس بالقوی، وفی حدیثہ نظر، اخرجہ ابوداود: ۲۰۳۲ (انظر: ۱۴۱۶)
12752
Zaeef
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
۔ (۱۲۷۵۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَیَّا لَتَنَاوَلَہُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاء ِ فَارِسَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نےفرمایا: اگر علم ثریا ستاروں کے پاس ہوتا، پھر بھی اہل فارس اسے ضرور حاصل کر لیتے۔
Takhreej
(۱۲۷۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب (انظر: ۷۹۵۰)
12753
Zaeef
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
۔ (۱۲۷۵۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَیَّا لَتَنَاوَلَہُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاء ِ فَارِسَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر دین ثریا ستاروں پر ہوتا، پھر بھی فارس یا اہل فارس کا ایک آدمی جاکر اسے ضرور حاصل کرلیتا۔
Takhreej
(۱۲۷۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۴۶(انظر: ۸۰۸۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا تعلق سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہے، وہ فارس سے مدینہ منورہ کیسے پہنچے؟ یہ ایک ایسی داستان ہے، جس کے مکمل علم سے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)
12754
Sahih
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
۔ (۱۲۷۵۵)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَتَکُونُ بَعْدِی بُعُوثٌ کَثِیرَۃٌ، فَکُونُوْا فِی بَعْثِ خُرَاسَانَ، ثُمَّ انْزِلُوا مَدِینَۃَ مَرْوَ، فَإِنَّہُ بَنَاہَا ذُو الْقَرْنَیْنِ، وَدَعَا لَہَا بِالْبَرَکَۃِوَلَایَضُرُّ أَہْلَہَا سُوئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۰۶)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد بہت سے لشکر روانہ کیے جائیںگے، تم کوشش کرکے خراسان کی طرف جانے و الے لشکر میں شامل ہونا اور جا کر مرو شہر میں قیام کرنا، کیونکہ ذوالقرنین نے اس شہر کو بنایا تھا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی، یہاںکے لوگوں کو کوئی بری چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
Takhreej
(۱۲۷۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا شبہ موضوع، اوس بن عبد اللہ بن بریدۃ متروک الحدیث، وکذا اخوہ سھل، والحسن بن یحیی المروزی فیہ نظر، قالہ الحسینی، اخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۲۱۱ (انظر: ۲۳۰۱۸)
12755
Sahih
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۷۵۶)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّکُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ، وَہِیَ أَرْضٌ یُسَمَّی فِیہَا الْقِیرَاطُ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوہَا فَأَحْسِنُوا إِلٰی أَہْلِہَا، فَإِنَّ لَہُمْ ذِمَّۃً وَرَحِمًا، أَوْ قَالَ: ذِمَّۃً وَصِہْرًا، فَإِذَا رَأَیْتَ رَجُلَیْنِیَخْتَصِمَانِ فِیہَا فِی مَوْضِعِ لَبِنَۃٍ فَاخْرُجْ مِنْہَا۔)) قَالَ فَرَأَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ شُرَحْبِیلَ بْنِ حَسَنَۃَ وَأَخَاہُ رَبِیعَۃَ،یَخْتَصِمَانِ فِی مَوْضِعِ لَبِنَۃٍ فَخَرَجْتُ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۸۵۳)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب مصر کو فتح کرو گے، یہ وہ سر زمین ہے جس میں قیراط استعمال ہوتا ہے، جب تم اسے فتح کر لو تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کو امان حاصل ہے اور ان کا میرے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہے اورجب تم وہاںدو آدمیوں کو ایک اینٹ کے برابر جگہ کے بارے میں جھگڑتا دیکھو تو وہاں سے نکل آنا۔ میں نے شرجیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کے برابر جگہ کے بارے میں لڑائی کرتے دیکھا تو میں وہاں سے چلا آیا۔
Takhreej
(۱۲۷۵۶) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۵۴۳ (انظر: ۲۱۵۲۰)
Explanation
فوائد:… اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اہل مصر میں سے تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ سیدہ ماریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی اہل مصر میں سے تھیں۔ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزے کا بیان بھی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو قوت و شوکت ملی اور مختلف ممالک کو فتح کر لیا۔ دینار اور درہم کے ایک جزء کو قیراط کہتے ہیں۔
12756
Sahih
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۷۵۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تُفْتَحُ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیسِ، فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا إِلَّا رَجُلٌ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَائُ، فَیُقَالُ: أَنْظِرُوہُمَا حَتَّییَصْطَلِحَا مَرَّتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۹۰۴۱)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کے دن آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، جو بندے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے ان سب کی اس دن مغفرت کر دی جاتی ہے، لیکن جن دو مسلمانوں کی آپس میں دشمنی یا نفرت ہو ان کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ ان دونوں کا معاملہ مؤخر رکھو یہاں تک کہ یہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔
Takhreej
(۱۲۷۵۷) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۵۶۵(انظر: ۹۰۵۳)
12757
Sahih
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۷۵۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَعْمَالَ بَنِی آدَمَ تُعْرَضُ کُلَّ خَمِیسٍ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ فَلَا یُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے اعمال ہر جمعرات یعنی جمعہ کی رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں جو شخص قطع رحمی کرنے والا ہو، اس کے اعمال مقبول نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۱۲۷۵۸) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۰۲۷۲)
Explanation
فوائد:… اس وقت مسلمان باہمی دشمنی، نفرت اور قطع رحمی کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں اور خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت سے محروم ہو رہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
12758
Sahih
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
۔ (۱۲۷۵۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَُ بَارِکْ لِاُمَّتِیْ فِیْ بُکُوْرِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے ان کے صبح کے اوقات میں برکت فرما۔
Takhreej
(۱۲۷۵۹) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ البزار: ۶۹۶، وابویعلی: ۴۲۵ (انظر: ۱۳۲۰)
12759
Sahih
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
۔ (۱۲۷۶۰)۔ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ حَدِیدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لِأُمَّتِی فِی بُکُورِہَا۔)) قَالَ: وَکَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً أَوْ جَیْشًا بَعَثَہُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ، قَالَ: وَکَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَکَانَ یَبْعَثُ تِجَارَتَہُ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ، فَأَثْرٰی وَکَثُرَ مَالُہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۰۸)
سیدنا صخر غامدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت فرما۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے، صنحر ایک تاجر آدمی تھے، یہ اپنے غلاموں کو تجارت کے لیے صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے، اس کی برکت سے ان کے پاس اس قدر مال جمع ہوگیا کہ وہ مالدار بن گئے اور ان کا مال بہت زیادہ ہو گیا۔
Takhreej
(۱۲۷۶۰) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، اخرجہ ابوداود: ۲۶۰۶، والترمذی: ۱۲۱۲، وابن ماجہ: ۲۲۳۶ (انظر: ۱۹۴۷۹)
Explanation
فوائد:… اس وقت کے مبارک ہونے کی تین وجوہات ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت کا نازل ہونا، طبیعت کا تازہ دم ہونا اور (۲) وقت کی مقدار کا زیادہ ہونا۔ اب پاکستان میں ماہِ اگست شروع ہواہے، ۳۰:۴ پر لوگ نماز فجر سے فارغ ہو جاتے ہیں، ۳۰:۴ سے نماز ظہر تک آٹھ نو گھنٹوں کا پیریڈ بنتا ہے، جبکہ اہل پاکستان کی عادت یہ ہے کہ وہ نو دس بجے اپنی زندگی کے معمولات شروع کرتے ہیں اور دن کے شروع کے برکت والے پانچ چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔ کراچی (پاکستان) میں گاڑیوں کے ایک مکینک کو یہ حدیث سناکر نمازِ فجر کے فوراً بعد ورکشاپ کھولنے کی تجویز دی گئی، آہستہ آہستہ اس کے اس وقت کی شہرت ہونے لگی اور کئی مالکان کے لیے یہ بڑا مناسب وقت ثابت ہوا، پھر اس وقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی آمدنی میں اتنی برکت ڈالی کہ اب وہ ایک فیکٹری کا مالک ہے۔
12760
Sahih
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۶۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْبَاقِییَہْبِطُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَائِ، ثُمَّ یَبْسُطُیَدَہُ، فَیَقُولُ: ہَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطٰی سُؤْلَہُ، فَلَا یَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰییَطْلَعَ الْفَجْرُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے: ہے کوئی سوالی، جو مانگے اور وہ اسے دے دیا جائے، طلوع فجر تک یہی کیفیت رہتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۶۱) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابویعلی: ۵۳۱۹(انظر: ۳۶۷۳)
12761
Sahih
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۶۲)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَۃَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَائَ کَ شَیْئًا تَعْلَمُہُ وَأَجْہَلُہُ لَا یَضُرُّکَ، وَیَنْفَعُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ، ہَلْ مِنْ سَاعَۃٍ أَفْضَلُ مِنْ سَاعَۃٍ، وَہَلْ مِنْ سَاعَۃٍیُتَّقٰی فِیہَا؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ سَأَلْتَنِی عَنْ شَیْئٍ مَا سَأَلَنِی عَنْہُ أَحَدٌ قَبْلَکَ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَتَدَلّٰی فِی جَوْفِ اللَّیْلِ، فَیَغْفِرُ إِلَّا مَا کَانَ مِنَ الشِّرْکِ وَالْبَغْیِ، فَالصَّلَاۃُ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ، فَصَلِّ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ۔)) اَلْحَدِیْثُ ذُکِرَ مُطَوَّلاً فِیْ مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ عَبْسَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۵۳)
سیدناعمر وبن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ایک بات جسے آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں، آپ بتلا دیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اسے فائدہ پہنچا دے گا، آیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے افضل بھی ہوتی ہے؟ اور کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے، جس میں عبادت کرنے سے بچنا چاہیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی بات دریافت کی کہ جس کے بارے میں تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیںپوچھا، آدھی رات کے بعد اللہ تعالیٰ عرش سے نیچے آجاتا ہے اس وقت شرک اور بغاوت کے علاوہ باقی گناہ کرنے والے سب لوگوں کو بخش دیتا ہے، ہر نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم صبح کی نماز طلوع آفتاب تک پڑھ سکتے ہو، جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ، یہ حدیث عمر وبن عبسہ کے مناقب میں مفصل بیان ہوچکی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ بین سلیم بن عامر وعمرو بن عبسۃ، علی خطأ فی متنہ، واختلف فیہ علی یزید بن ھارون (انظر: ۱۹۴۳۳)
12762
Zaeef
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
۔ (۱۲۷۶۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَطَّلِعُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی خَلْقِہِ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَیَغْفِرُ لِعِبَادِہِ إِلَّا لِاثْنَیْنِ مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ۔) (مسند احمد: ۶۶۴۲)
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی مخلوق پر نظر ڈالتا ہے اور اپنے تمام بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے، ما سوائے دو قسم کے آدمیوں کے، کسی سے بغض رکھنے والا اور کسی کا قاتل۔
Takhreej
(۱۲۷۶۳) تخریج: حدیث صحیح بشواہدہ (انظر: ۶۶۴۲)
Explanation
فوائد:… اسی رات کو ہمارے ہاں شب ِ براء ت کہتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے بارے میں صرف مذکورہ بالا حدیث صحیح ہے، لیکن اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس رات کا خصوصی قیام کیا جائے اور اس کے دن کا خصوصی روزہ رکھا جائے، خاص عبادت کے لیے خاص دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حدیث میں نصف شعبان کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے، یہ ہر سوموار اور جمعرات کی فضیلت بھی ہے۔
12763
Sahih
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
۔ (۱۲۷۶۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِیعِ، رَافِعٌ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ، فَقَالَ لِی: ((أَکُنْتِ تَخَافِینَ أَنْ یَحِیفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ وَرَسُولُہُ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۴۶)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوگھر میں موجود نہ پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلی تو آپ بقیع میں تھے آپ نے اپنا سرمبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس بات سے ڈر گئی کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کرے گا؟ کہتی ہیں، میں نے کہا: میں سمجھی تھی کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہوں گے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی نصف رات کوپہلے آسمان پر تشریف لاتاہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ انسانوں کی مغفرت فرماتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ، ولانقطاعہ، یحیی بن ابی کثیر لم یسمع من عروۃ، والحجاج بن ارطاۃ لم یسمع من یحیی بن ابی کثیر، اخرجہ الترمذی: ۷۳۹، وابن ماجہ: ۱۳۸۹ (انظر: ۲۶۰۱۸)
12764
Zaeef
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
۔ (۱۲۷۶۵)۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَانَ فُلَانٌ رَدِیفَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَتٰییُلَاحِظُ النِّسَائَ وَیَنْظُرُ إِلَیْہِنَّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْرِفُ وَجْہَہُ بِیَدِہِ مِنْ خَلْفِہِ مِرَارًا، قَالَ: وَجَعَلَ الْفَتٰییُلَاحِظُ إِلَیْہِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اِبْنَ أَخِی! إِنَّ ہٰذَا یَوْمٌ مَنْ مَلَکَ فِیہِ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ وَلِسَانَہُ غُفِرَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۰۴۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ کے دن فلاں آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا، وہ آدمی عورتوں کی طرف غور سے دیکھنے لگا اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے پیچھے سے اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے چہرے کو دوسری طرف پھیرتے تھے، لیکن وہ آدمی عورتوں کی طرف برابر دیکھتا رہا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: بھتیجے! آج کے دن جو آدمی اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کو کنٹرول میں رکھ لے گا، اسکی مغفرت کر دی جائے گی۔
Takhreej
(۱۲۷۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، سُکین بن عبد العزیز مختلف فیہ، وابوہ عبد العزیز بن قیس العبدی مجھول، اخرجہ الطیالسی: ۲۷۳۴، وابویعلی: ۲۴۴۱، وابن خزیمۃ: ۲۸۳۴ (انظر: ۳۰۴۱)
Explanation
فوائد:… رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔ عرفہ کے دن کی فضیلت ثابت ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗ لَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ (صحیح مسلم)
12765
Zaeef
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
۔ (۱۲۷۶۶)۔ وَعَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃَ، فَلَمْ اَسْمَعْہُ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا حَدِیثًا، کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُتِیَ بِجُمَّارَۃٍ فَقَالَ: ((إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃً مَثَلُہَا کَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ۔)) فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: ہِیَ النَّخْلَۃُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَکَتُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ہِیَ النَّخْلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۴۵۹۹)
مجاہدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ تک سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سفر کیا، دروانِ سفر میں نے ان سے صرف ایک حدیث سنی، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ میں نے کہنا چاہا کہ اس درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے، مگر میں نے دیکھا کہ میں حاضرین مجلس میں سب سے کم سن ہوں، اس لیے میں خاموش رہا، بعدمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ہی فرما دیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۶۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۲، ومسلم: ۲۸۱۱ (انظر: ۴۵۹۹)
12766
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.