باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
۔ (۱۲۶۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَیَدَعَنَّ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ الْمَدِینَۃَ وَہِیَ خَیْرُ مَا یَکُونُ مُرْطِبَۃٌ مُونِعَۃٌ۔)) فَقِیلَ: مَنْ یَأْکُلُہَا؟ قَالَ: ((الطَّیْرُ وَالسِّبَاعُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۵۵)
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ، مدینہ کو چھوڑ جائیں گے، حالانکہ یہ ہر لحاظ سے خوش گوار اور آسودہ زندگی والاہو گا اور اس کے پھل خوب پکے ہوئے ہوں گے۔ کسی نے کہا: تب وہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے۔
Takhreej
(۱۲۶۶۷) تخریج: اخرجہ البخاری: ۱۸۷۴، ومسلم: ۱۳۸۹ (انظر: ۹۰۶۷)
12667
Sahih