TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب الفضائل - کتاب الفضائل - Book 174 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 174 of Musnad Ahmad, with 66 chapters and 311 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

311 Hadith · 66 Chapters
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
۔ (۱۲۶۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَدَعَنَّ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ الْمَدِینَۃَ وَہِیَ خَیْرُ مَا یَکُونُ مُرْطِبَۃٌ مُونِعَۃٌ۔)) فَقِیلَ: مَنْ یَأْکُلُہَا؟ قَالَ: ((الطَّیْرُ وَالسِّبَاعُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۵۵)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ، مدینہ کو چھوڑ جائیں گے، حالانکہ یہ ہر لحاظ سے خوش گوار اور آسودہ زندگی والاہو گا اور اس کے پھل خوب پکے ہوئے ہوں گے۔ کسی نے کہا: تب وہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے۔
Takhreej
(۱۲۶۶۷) تخریج: اخرجہ البخاری: ۱۸۷۴، ومسلم: ۱۳۸۹ (انظر: ۹۰۶۷)
12667
Sahih
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
۔ (۱۲۶۶۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِینَۃِ: ((لَتَتْرُکَنَّہَا عَلٰی خَیْرِ مَا کَانَتْ مُذَلَّلَۃً لِلْعَوَافِییَعْنِی السِّبَاعَ وَالطَّیْرَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے متعلق فرمایا: تم لوگ خوش حالی کے باوجود اس شہر کو درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے۔
Takhreej
(۱۲۶۶۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اگرچہ مدینہ منورہ سے خلافت شام و عراق کی طرف منتقل ہوجانے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حالات قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر نے مختلف شواہد بھی ذکر کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو :فتح الباری: ۴/ ۱۱۱، ۱۱۲)
12668
Sahih
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
۔ (۱۲۶۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُیَتْرُکُہَا أَہْلُہَا وَہِیَ مُرْطِبَۃٌ۔)) قَالُوْا: فَمَنْ یَأْکُلُہَایَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ۔)) قَالَ أَبُو عَوَانَۃَ: فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ: کَانَ فِی کِتَابِ سُلَیْمَانَ بْنِ قَیْسٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۱۱)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ اگر چہ تازہ کھجوروں والا ہوگا، مگر اہل مدینہ اسے چھوڑ جائیں گے۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہاں (کے پھل اور غلہ وغیرہ) کون کھائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ ابو عوانہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ ابو بشر نے کہا ہے کہ یہ حدیث سلیمان بن قیس کی کتاب میں تھی۔
Takhreej
(۱۲۶۶۹) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۴۵۵۷)
12669
Sahih
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
۔ (۱۲۶۷۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَسِیرَنَّ رَاکِبٌ فِی جَنْبِ وَادِی الْمَدِینَۃِ، لَیَقُولَنَّ لَقَدْ کَانَ فِی ہٰذِہِ مَرَّۃً حَاضِرَۃٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَثِیرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۳۴)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ کی وادی کے قریب سے کوئی سوار گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی ا س شہر میں اہل ایمان کی بہت بڑی آبادی ہوتی تھی۔
Takhreej
(۱۲۶۷۰) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۴۶۷۸)
12670
Sahih
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
۔ (۱۲۶۷۱)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیَسِیرَنَّ الرَّاکِبُ فِی جَنَبَاتِ الْمَدِینَۃِ، ثُمَّ لَیَقُولُ: لَقَدْ کَانَ فِی ہَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَثِیرٌ۔)) قَالَ أَبِی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَلَمْ یَجُزْ بِہِ حَسَنٌ الْأَشْیَبُ جَابِرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۴)
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سوار مدینہ کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی اس شہر میں اہل ایمان کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: حسن اشیب نے جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آگے تجاوز نہیں کیا۔ (یعنی عمر بن خطاب کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ مسند جابر کے انداز میں حدیث بیان کی ہے)
Takhreej
(۱۲۶۷۱) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۲۴)
12671
Sahih
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا ہٰذَا، لِیَتَعَلَّمَ خَیْرًا أَوْ لِیُعَلِّمَہُ، کَانَ کَالْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَمَنْ دَخَلَہُ لِغَیْرِ ذٰلِکَ کَانَ کَالنَّاظِرِ إِلٰی مَا لَیْسَ لَہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ جَائَ لِغَیْرِ ذٰلِکَ فَہُوَ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ یَنْظُرُ اِلٰی مَتَاعِ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۵۸۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ہماری اس مسجد میں بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اورجو آدمی اس مقصد کے علاوہ کسی دوسری غرض سے آئے گا تو وہ گویا ایسی چیز کو دیکھ رہا ہے جو اس کی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: اور جو آدمی کسی دوسری غرض سے آئے گا، وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو دوسرے کے سامان کی طرف دیکھ رہا ہو۔
Takhreej
(۱۲۶۷۲) تخریج: حدیث ضعیف، واختلف علی سعید المقبری فی اسنادہ، اخرجہ مالک فی المؤطا : ۱/ ۱۶۰ (انظر: ۸۶۰۳)
12672
Zaeef
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہٗاِلَّاالْمَسْجِدَالْحَرَامَ۔)) (مسنداحمد: ۱۶۰۵)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی ہوئی ایک نماز عام مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۳) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابویعلی: ۷۷۴، والبزار: ۴۲۶ (انظر: ۱۶۰۵)
12673
Sahih
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا اَفْضَلُ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہٗمِنَالْمَسَاجِدِاِلَّاالْمَسْجِدَالْحَرَامَفَہُوْاَفْضَلُ۔)) (مسنداحمد: ۴۸۳۸)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں اد ا کی ہوئی ایک نمازعام مسجد میں ادا کی ہوئی ہزار نمازوں سے بہتر ہے، ما سوائے مسجد حرام کے، وہاں کی نماز اس نماز سے افضل ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۹۵(انظر: ۴۸۳۸)
12674
Sahih
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۵)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا کَاَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَساجِدِ اِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۹۴ (انظر: ۹۱۵۳)
12675
Sahih
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۶)۔ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شَکْوٰی، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ فَتَجَہَّزَتْ تُرِیدُ الْخُرُوجَ، فَجَاء َتْ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَلِّمُ عَلَیْہَا، فَأَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِی فَکُلِی مَا صَنَعْتُ وَصَلِّی فِی مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((صَلَاۃٌ فِیہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۶۳)
ابراہیم بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک عورت بیمار پڑگئی اور اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوںگی، وہ تندرست ہوگئی اور اس نے جانے کی تیار ی کی اور سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئی، انہیں سلام کہا اور اپنے ارادہ سے ان کو مطلع کیا، سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: بیٹھو اور جو کچھ میں نے تیار کیا، وہ کھاؤ اور مسجد نبوی میں ہی نماز پڑھ لو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے کعبہ کی مسجد کے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مسلم: ۱۳۹۶ (انظر: ۲۶۸۲۶)
12676
Sahih
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَدَّعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا فَقَالَ لَہُ: ((أَیْنَ تُرِیدُ؟)) قَالَ: أُرِیدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَصَلَاۃٌ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ یَعْنِی مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍفِی غَیْرِہِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۵۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کو الوادع کرنے لگے تو اس سے پوچھا: اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا ارادہ کہاں کا ہے؟ اس نے کہا: بیت المقدس جانے کا ارادہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ ابن حبان: ۱۶۲۴، والبزار: ۴۲۹ (انظر: ۱۱۷۳۴)
12677
Sahih
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
۔ (۱۲۶۷۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی فِی مَسْجِدِی أَرْبَعِینَ صَلَاۃً لَا یَفُوتُہُ صَلَاۃٌ، کُتِبَتْ لَہُ بَرَائَ ۃٌ مِنَ النَّارِ، وَنَجَاۃٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۱)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح باجماعت ادا کیں کہ کوئی نماز فوت نہ ہوئی تو اس کے لیے جہنم سے آزادی، عذاب سے نجات اور نفاق سے بری ہونے کا پروانہ لکھ دیاجاتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ نبیط بن عمر، اخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۵۴۴۰ (انظر: ۱۲۵۸۳)
12678
Zaeef
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
۔ (۱۲۶۷۹)۔ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ مَسْجِدَنَا ہٰذَا مُشْرِکٌ بَعْدَ عَامِنَا ہٰذَا غَیْرَ أَہْلِ الْکِتَابِ وَخَدَمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۳)
سیدنا جا بر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میںکوئی مشرک داخل نہ ہو گا، البتہ اہل کتاب اور ان کے خدام آسکیں گے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من جابر، وشریک النخعی واشعث بن سوار ضعیفان، اخرجہ عبد الرزاق: ۹۹۸۲ (انظر: ۱۴۶۴۹)
12679
Zaeef
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
۔ (۱۲۶۸۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: ((اِلاَّ اَہْلُ الْعَہْدِ وَخَدَمُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۹۱)
دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: ذمی لوگ اور ان کے خدام آسکیں گے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، مشرک مسجد میں آ سکتا ہے۔
12680
Zaeef
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
۔ (۱۲۶۸۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُولُ: اخْتَلَفَ رَجُلَانِ أَوْ امْتَرَیَا، رَجُلٌ مِنْ بَنِی خُدْرَۃَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِی الْمَسْجِدِ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی، قَالَ الْخُدْرِیُّ: ہُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْعَمْرِیُّ: ہُوَ مَسْجِدُ قُبَائَ، فَأَتَیَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَاہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((ہُوَ ہٰذَا الْمَسْجِدُ لِمَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: فِی ذَاکَ خَیْرٌ کَثِیرٌ،یَعْنِی مَسْجِدَ قُبَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو خدرہ اور بنو عمر بن عوف کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا کہ قرآن کریم میں جس مسجد کے متعلق آیا ہے کہ اس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس سے کون سی مسجد مراد ہے؟ بنو حذرہ کے شخص نے کہا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور بنو عمر بن عوف کے آدمی نے کہا: اس سے مراد مسجد ِ قباء ہے۔ وہ دونوں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد تو میری یہی مسجد یعنی مسجد نبوی ہے، ہاں مسجد قباء میں بھی بہت زیادہ خیر و بھلائی ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳ (انظر: ۱۱۱۷۸)
12681
Sahih
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
۔ (۱۲۶۸۲)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھُوَ مَسْجِدِیْ ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۱)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میری یہی مسجد ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۲) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۳۷۰، وابن حبان: ۱۶۰۴، والطبرانی فی الکبیر :۶۰۲۵ (انظر: ۲۲۸۰۵)
Explanation
فوائد:… ویسے تو مسجد ِ نبوی اور مسجد قباء دونوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس اختلاف سے مراد یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں کس مسجد کا ذکر ہے: {لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ۔} … یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو ۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۰۸) ان احادیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی، اس سے مراد مسجد ِ نبوی ہے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ آیت میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس سے مراد مسجد قباء ہے اور آیت کا ظاہری معنی اور سیاق و سباق کا تقاضا بھی یہی ہے۔ حق یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس آیت کے آخری الفاظ فِیْہِ رِجَالٌ … اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس آیت میں مسجد ِ قباء کا ذکر ہے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ فِیْہِ رِجَالٌ … اہل قباء کے حق میں نازل ہوئی۔ تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جواب میں راز یہ ہو گا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وہم کو دور کرنا چاہتے ہیں کہ صرف مسجد ِ قباء ایسی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری و تحفۃ الاحوذی)
12682
Sahih
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
۔ (۱۲۶۸۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِبَنِی النَّجَّارِ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِکِینَ، فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ثَامِنُونِی بِہِ۔)) فَقَالُوْا: لَا نَأْخُذُ لَہُ ثَمَنًا، وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْنِیہِ وَہُمْ یُنَاوِلُونَہُ وَہُوَ یَقُولُ: ((أَلَا إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْآخِرَہْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی قَبْلَ أَنْ یُبْنَی الْمَسْجِدُ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۰۲)
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
Takhreej
(۱۲۶۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۷۴، ۳۹۳۲، ومسلم: ۵۲۴ (انظر: ۱۲۱۷۸)
Explanation
فوائد:… جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو چکے تو اس سلسلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ جگہ خریدی، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی، یہ دو یتیم بچوں کی زمین تھی، تقریباً سو ہاتھ لمبی اور سو ہاتھ چوڑی تھی، اس میں مشرکین کی کچھ قبریں تھیں، کچھ ویرانہ تھا اور کھجور کے اور غرقد کے چند درخت بھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبریں اکھڑوا دیں، ویرانہ ختم کرا دیا، درخت اور کھجوریں کٹوا دیں اور انھیں قبلے کی جانب لگوا دیا، دیواریں مٹی اور کچی اینٹوں سے اٹھوائیں، دروازے کے دونوں بازو پتھر کے لگائے گئے، چھت کھجور کی شاخون کی اور شہتیر کھجور کے تنوں کے، فرش پر ریت اور کنکریاں بچھائی گئیں، مسجد میں تین دروازے رکھے گئے، قبلہ شمال میں بیت المقدس کی طرف تھا، بعد میں کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا تھا۔
12683
Sahih
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
۔ (۱۲۶۸۴)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِبِنَائِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَۃً لَبِنَۃً، وَکَانَ عَمَّارٌ یَنْقُلُ لَبِنَتَیْنِ لَبِنَتَیْنِ فَتَتَرَّبُ رَأْسُہُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِیأَصْحَابِی وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ جَعَلَ یَنْفُضُ رَأْسَہُ وَیَقُولُ: ((وَیْحَکَیَا ابْنَ سُمَیَّۃَ تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۲۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، جبکہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، اس وجہ سے ان کا سر غبار آلود ہوگیا، سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنا، البتہ میرے ساتھیوں نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور ساتھ ساتھ فرما رہے تھے: سمیہ کے بیٹے! اللہ تجھ پر رحم کرے، ایک باغی گروہ تجھے قتل کر ے گا۔
Takhreej
(۱۲۶۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۷، ۲۸۱۲، ومسلم: ۲۹۱۵ (انظر: ۱۱۰۱۱)
12684
Sahih
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
۔ (۱۲۶۸۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّہُمْ کَانُوْا یَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَائِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَارِضٌ لَبِنَۃً عَلَی بَطْنِہِ، فَظَنَنْتُ أَنَّہَا قَدْ شُقَّتْ عَلَیْہِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِیہَایَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خُذْ غَیْرَہَایَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! فَإِنَّہُ لَا عَیْشَ إِلَّا عَیْشُ الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام f مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا تو دیکھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک بڑی اینٹ اپنے پیٹ پرلگا کر اٹھائے آرہے تھے، میں نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کاا ٹھانا مشکل ہور ہاہے، اس لیے میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم اور اٹھا لاؤ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، المطلب بن عبد اللہ بن حنطب لم یسمع من ابی ھریرۃ (انظر: ۸۹۵۱)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث معنی اور متن کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے وقت موجود ہوں، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۷ہجری میں مدینہ منورہ تشریف لائے، جبکہ ۱ ہجری میں مسجد ِ نبوی کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔
12685
Zaeef
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
۔ (۱۲۶۸۶)۔ عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ، أَخْبَرَہُ أَنَّ الْمَسْجِدَ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَبْنِیًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُہُ الْجَرِیدُ، وَعُمُدُہُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ یَزِدْ فِیہِ أَبُو بَکْرٍ شَیْئًا، وَزَادَ فِیہِ عُمَرُ وَبَنَاہُ عَلٰی بِنَائِہِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّبِنِ وَالْجَرِیدِ، وَأَعَادَ عُمُدَہُ خَشَبًا، ثُمَّ غَیَّرَہُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِیہِ زِیَادَۃً کَثِیرَۃً، وَبَنٰی جِدَارَہُ بِالْحِجَارَۃِ الْمَنْقُوشَۃِ وَالْقَصَّۃِ، وَجَعَلَ عُمُدَہُ مِنْ حِجَارَۃٍ مَنْقُوشَۃٍ، وَسَقْفَہُ بِالسَّاجِ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۹)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں مسجد نبوی اینٹوں سے تعمیر ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے عہد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا، البتہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ والی بنیادوں پر ہی اسکی بنیادیں اٹھائیں اور انہوں نے اسے اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی کے بنائے، بعد ازاں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے تعمیر کیا اور اس میںبہت زیادہ توسیع بھی کی، انہوں نے اس کی دیوار وں کو منقش پتھروں سے چونا گچ کیا اور اس کے ستون منقش پتھروں سے اور چھت ساگواں کی لکڑی سے بنائی۔
Takhreej
(۱۲۶۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۶(انظر: ۶۱۳۹)
12686
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.