فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
۔ (۱۲۶۸۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ عُمَرَ رضی اللہ عنہ زَادَ فِی الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَۃِ إِلَی الْمَقْصُورَۃِ، وَزَادَ عُثْمَانُ رضی اللہ عنہ ، وَقَالَ عُمَرُ رضی اللہ عنہ : لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((نَبْغِی نَزِیدُ فِی مَسْجِدِنَا)) مَا زِدْتُ فِیہِ۔ (مسند احمد: ۳۳۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں معروف ستون سے مقصورہ (پتھر) تک اضافہ کیا تھا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اضافہ کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہم اپنی اس مسجد میں توسیع کرنا چاہتے ہیں تو میں اس میں توسیع نہ کرتا۔
Takhreej
(۱۲۶۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن عمر بن حفص العمری، اخرجہ البزار: ۱۵۷ (انظر: ۳۳۰)
Explanation
فوائد:… جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد ِ نبوی کی تعمیرِ نو کی تو فتوحات اور مال غنیمت کی کثرت کے باوجود انھوں نے سادگی کو برقرار رکھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں مسجد میں جو زینت اختیار کی ممکن ہے کہ وہ غلو اور ممنوعہ سجاوٹ سے کم ہو ، بہرحال بعض صحابہ نے اس معاملے میں ان پر انکار بھی کیا تھا۔ مساجد کو مزین کرنے والا سب سے پہلا شخص ولید بن عبد الملک تھا، یہ صحابہ کا آخری زمانہ تھااور اکثر اہل علم فتنے کے خوف کی وجہ سے خاموش رہے۔
12687
Zaeef