TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب الفضائل - کتاب الفضائل - Book 174 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 174 of Musnad Ahmad, with 66 chapters and 311 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

311 Hadith · 66 Chapters
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
۔ (۱۲۶۸۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ زَادَ فِی الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَۃِ إِلَی الْمَقْصُورَۃِ، وَزَادَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((نَبْغِی نَزِیدُ فِی مَسْجِدِنَا)) مَا زِدْتُ فِیہِ۔ (مسند احمد: ۳۳۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مسجد نبوی میں معروف ستون سے مقصورہ (پتھر) تک اضافہ کیا تھا اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اضافہ کیا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تھا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہم اپنی اس مسجد میں توسیع کرنا چاہتے ہیں تو میں اس میں توسیع نہ کرتا۔
Takhreej
(۱۲۶۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن عمر بن حفص العمری، اخرجہ البزار: ۱۵۷ (انظر: ۳۳۰)
Explanation
فوائد:… جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مسجد ِ نبوی کی تعمیرِ نو کی تو فتوحات اور مال غنیمت کی کثرت کے باوجود انھوں نے سادگی کو برقرار رکھا، جیسا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنیاد رکھی تھی، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے عہد میں مسجد میں جو زینت اختیار کی ممکن ہے کہ وہ غلو اور ممنوعہ سجاوٹ سے کم ہو ، بہرحال بعض صحابہ نے اس معاملے میں ان پر انکار بھی کیا تھا۔ مساجد کو مزین کرنے والا سب سے پہلا شخص ولید بن عبد الملک تھا، یہ صحابہ کا آخری زمانہ تھااور اکثر اہل علم فتنے کے خوف کی وجہ سے خاموش رہے۔
12687
Zaeef
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۸۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۲۲۲)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور منبرکے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۳۳۵، ومسلم: ۱۳۹۱ (انظر: ۷۲۲۳)
12688
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۸۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَیْنَ مِنْبَرِیْ اِلٰی حُجْرَتِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَاِنَّ مِنْبَرِیْ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۵۵)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے منبر اور میرے حجرے کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۹) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابویعلی: ۱۷۸۴، والبزار: ۱۱۹۶، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۸۸۳ (انظر: ۱۵۱۸۷)
12689
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہٗسَمِعَرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مِنْبَرِیْ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) فَقُلْتُ لَہُ: مَا التُّرْعَۃُیَا اَبَا الْعَبَّاسٍ؟ قَالَ: اَلْبَابُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲۹)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔ راوی نے کہا:: ابوالعباس! التُّرْعَۃ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: دروازہ۔
Takhreej
(۱۲۶۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۷۷۹، والبیھقی: ۵/ ۲۴۷ (انظر: ۲۲۸۴۱)
12690
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْبَرِی ہٰذَا عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۰۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ منبرجنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ النسائی فی الکبری : ۴۲۸۸ (انظر: ۸۷۲۱)
12691
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۲)۔ حَدَّثَنَا مَکِّیٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ: کُنْتُ آتِی مَعَ سَلَمَۃَ الْمَسْجِدَ فَیُصَلِّی مَعَ الْأُسْطُوَانَۃِ الَّتِی عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا مُسْلِمٍ! أَرَاکَ تَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ عِنْدَ ہَذِہِ الْأُسْطُوَانَۃِ، قَالَ: فَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ عِنْدَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۳۱)
یزید بن ابی عبیدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مسجدنبوی میں آیا کرتا تھا، وہ مصحف کے قریب والے ستون کے قریب نماز ادا کیا کرتے تھے، میںنے ان سے کہا: ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے قریب نماز ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ستون کے قریب نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۲۶۹۲) تخریج: اخرجہ البخاری: ۵۰۲، ومسلم: ۵۰۹ (انظر: ۱۶۵۱۶)
12692
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سَلَمَۃَ اَنَّہُ کَانَ یَتَحَرّٰی مَوْضِعَ الْمُصْحَفِ، وَذَکَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَرّٰی ذٰلِکَ الْمَکَانَ، وَکَانَ بَیْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَۃِ مَمَرُّ شَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۵۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مصحف کے قریب والی جگہ پر نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس مقام پر خصوصی التزام و اہتمام کیا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر اور قبلہ کے مابین ایک بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔
Takhreej
(۱۲۶۹۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12693
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۴)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَوَائِمُ مِنْبَرِیْ رَوَاتِبُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۰۹)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے منبر کے پائے جنت میں گڑھے ہوئے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۶۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ النسائی: ۲/ ۳۵ (انظر: ۲۶۴۷۶)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا تمام روایات کو سمجھنے کے لیے درج ذیل بحث پر غور کریں: فضیلۃ الشیخ محمد عطاء اللہ بھوجیانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: ممکن ہے کہ زمین کے جس حصے میں منبر پڑا تھا، وہ جنت سے منتقل کی گئی ہو، یا پھر اس منبر کو جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ (التعلیقات السلفیۃ: ۱/۸۰) درج ذیل حدیث پر غور کریں: سیدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔)) (بخاری: ۱۸۸۸)… میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان والا (زمین کا قطعہ) جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: علمائے کرام کے اقوال کا خلاصہ اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ۱۔ زمین کا یہ حصہ نزولِ رحمت اور حصولِ سعادت کے اعتبار سے جنت کے باغیچے کی طرح ہے، بالخصوص آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں۔ ۲۔ اس حصے میں کی جانے والی عبادت جنت کا سبب بنتی ہے۔ ۳۔ اس حدیث کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے کہ یہ قطعہ جنت کا حقیقی باغیچہ ہے اور اسے آخرت میں جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ رہا مسئلہ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ کا تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر حوض پر نصب کیا جائے گا، اکثر علماء و فقہاء کی یہ رائے ہے کہ اس سے مراد وہی منبر ہے، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کریہ ارشاد فرما رہے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ منبر ہے، جو قیامت کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے رکھا جائے گا، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ (فتح الباری: ۴/۱۲۵) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((بُطْحَانُ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) … وادیٔ بطحان جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچے پر ہے۔ (صحیحہ: ۷۶۹، دیلمی: ۲/ ۱/ ۱۶) مذکورہ بالا احادیث کی توضیح سے اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس باب میں مندرج روایات سمیت اس قسم کے مبہم مفہوم پر مشتمل تمام احادیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ صحابہ کرام نے یہ فرمودات ِ نبوی سننے پر ہی اکتفا کیا، اور ان مقامات کی فضیلت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ جو مفہوم بادی النظر میں سمجھ آتا ہے، اسے تسلیم کر لیا جائے۔ بہرحال سلف صالحین کے چند اقوال نقل کر دیے گئے ہیں، تاکہ قارئین کی تشنگی ختم ہو سکے۔
12694
Sahih
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۵)۔ عَنِ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحْلِفُ عِنْدَ ہٰذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَۃٌ عَلٰییَمِینٍ آثِمَۃٍ، وَلَوْ عَلٰی سِوَاکٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۲۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس منبر کے قریب کوئی مرد یا عورت گناہ والی قسم اٹھائے، خواہ وہ ایک تازہ مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۹۵) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۲۶(انظر: ۱۰۷۱۱)
Explanation
فوائد:… زمان و مکاں کی وجہ سے نیکی کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور برائی کی قباحت بھی بڑھ جاتی ہے۔
12695
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
۔ (۱۲۶۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ کَانَ جِذْعُ نَخْلَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ یُسْنِدُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ظَہْرَہُ إِلَیْہِ، إِذَا کَانَ یَوْمُ جُمُعَۃٍ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ یُرِیدُ أَنْ یُکَلِّمَ النَّاسَ، فَقَالُوْا: أَلَا نَجْعَلُ لَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! شَیْئًا کَقَدْرِ قِیَامِکَ؟ قَالَ: ((لَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَفْعَلُوْا۔)) فَصَنَعُوْا لَہُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ۔ قَالَ: فَجَلَسَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَخَارَ الْجِذْعُ کَمَا تَخُورُ الْبَقَرَۃُ جَزَعًا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَالْتَزَمَہُ وَمَسَحَہُ حَتّٰی سَکَنَ۔ (مسند احمد: ۵۸۸۶)
سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میںکھجور کا ایک تنا تھا، جمعہ کے دن یا کسی خاص موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتے تو اپنی پشت اس کے ساتھ لگا کر کھڑے ہوجاتے، لوگوںنے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کھڑے ہونے کے لیے بلند چیز نہ بنادیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو انہوں نے تین سیڑھیوں ولاا ایک منبر تیار کر دیا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی پر غمگین ہو کر وہ تنا اس طرح بلند آواز سے جزع فزع کرنے لگا، جیسے گائے جزع فزع کرتی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر اسے سینہ سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔
Takhreej
(۱۲۶۹۶) تخریج: حدیث حسن، اخرجہ بنحوہ البخاری: ۳۵۸۳ (انظر: ۵۸۸۶)
12696
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
۔ (۱۲۶۹۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْمِنْبَرِ مِنْ أَیِّ عُودٍ ہُوَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُ مِنْ أَیِّ عُودٍ ہُوَ؟ وَأَعْرِفُ مَنْ عَمِلَہُ؟ وَأَیُّیَوْمٍ صُنِعَ؟ وَأَیُّیَوْمٍ وُضِعَ؟ وَرَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ یَوْمٍ جَلَسَ عَلَیْہِ، أَرْسَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَۃٍ لَہَا غُلَامٌ نَجَّارٌ، فَقَالَ لَہَا: ((مُرِی غُلَامَکِ النَّجَّارَ أَنْ یَعْمَلَ لِی أَعْوَادًا، أَجْلِسُ عَلَیْہَا إِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ۔)) فَأَمَرَتْہُ فَذَہَبَ إِلَی الْغَابَۃِ فَقَطَعَ طَرْفَائَ فَعَمِلَ الْمِنْبَرَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَأَرْسَلَتْ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ فِی مَوْضِعِہِ ہٰذَا الَّذِی تَرَوْنَ فَجَلَسَ عَلَیْہِ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ فَکَبَّرَ ہُوَ عَلَیْہِ، ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرٰی فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ، ثُمَّ عَادَ حَتّٰی فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ہٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِی وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِی۔)) فَقِیلَ لِسَہْلٍ: ہَلْ کَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا یَقُولُ النَّاسُ، قَالَ: قَدْ کَانَ مِنْہُ الَّذِی کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۵۹)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر کس چیز سے بنا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوںکہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے؟ اسے کس نے کب بنایا ہے اور کس دن لا کر اسے رکھا گیا؟ اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہلے دن اس پر تشریف رکھتے دیکھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک خاتون کو پیغام بھیجا تھا، جس کا غلام بڑھئی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنی غلام بڑھئی سے کہو کہ وہ لوگوں سے میرے مخاطب ہوتے وقت بلند جگہ بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کوئی چیز تیار کردے۔ اس خاتون نے اس غلام کو اس کا حکم دیا، تو وہ جنگل میں گیا اور وہاں سے جھاؤ کی لکڑی کاٹ کر لایا اور اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر تیار کر دیا، چنانچہ اس خاتون نے وہ منبر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھجوادیا، چنانچہ اسے اس کی اسی جگہ پر رکھا گیا، جہاں تم اسے اب دیکھ رہے ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے دن اس منبرپر بیٹھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی پر اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا اس کے بعد الٹے پاؤں نیچے اتر کر زمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر منبر پر چلے گئے، تاآنکہ نماز سے فارغ ہوئے، نما ز سے فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے عمداً یہ کام کیا ہے، تاکہ تم میری اقتدا کرسکو اور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا گیا: اس تنے کا کوئی ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جو لوگ بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایسا ہوا تھا۔
Takhreej
(۱۲۶۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۸، ۲۰۹۴، ومسلم: ۵۴۴ (انظر: ۲۲۸۷۱)
12697
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
۔ (۱۲۶۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: کَانَ مِنْ اَثَلِ الْغَابَۃِ،یَعْنِیْ مِنْبَرَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: منبر نبوی جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔
Takhreej
(۱۲۶۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12698
Sahih
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
۔ (۱۲۶۹۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، أَنَّہُ قَالَ: لَقِیَ أَبُو بَصْرَۃَ الْغِفَارِیُّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ، وَہُوَ جَائَ مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّیْتُ فِیہِ، قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَکْتُکَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَیْہِ مَا رَحَلْتَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِی ہٰذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۵۱)
عمر بن عبدالرحمن بن حارث سے روایت ہے کہ ابو بصرہ غفاری کی طور سے واپسی پرسیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے کہا: کہاں سے آرہے ہو؟ انھوں نے کہا: طور سے، میں وہاں نماز ادا کرنے گیا تھا، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم روانگی سے قبل مجھ سے ملتے تو تم وہاں نہ جاتے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پالانوں کو نہ کسا جائے، یعنی سفر کا خصوصی اہتمام نہ کیا جائے، مگر تین مساجد کی طرف، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔
Takhreej
(۱۲۶۹۹) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ الطیالسی: ۱۳۴۸، والطبرانی فی الکبیر : ۲۱۶۰ (انظر: ۲۳۸۵۰)
12699
Sahih
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
۔ (۱۲۷۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، اِلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِیْ ہٰذَا، وَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف بطور خاص سفر نہ کیا جائے۔
Takhreej
(۱۲۷۰۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۸۹، ومسلم: ۱۳۹۷(انظر: ۷۱۹۱)
12700
Sahih
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
۔ (۱۲۷۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۵۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۲۷(انظر: ۱۱۰۴۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ تبرّک، حصول برکت اور خاص ثواب کے ساتھ نماز پڑھنے کی نیت سے کسی مقام کی طرف سفر نہیںکیا جا سکتا، ما سوائے مسجد ِ حرام، مسجد ِ نبوی اور مسجد ِ اقصی کے۔ تجارت، حصول علم یا کسی اور جائز مقصد کے لیے سفر کرنا اور بات ہے۔ شیخ ولی اللہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی مسجد کی طرف بطور خاص سفر نہ کیا جائے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دورِ جاہلیت میں لوگ بزعم خود تعظیم والی جگہوں کی طرف سفر کر کے جاتے، ان کی زیارت کرتے اور ان سے تبرک حاصل کرتے، جبکہ ایسا کرنے میں واضح طور پر دین میں تحریف اور فساد پیدا ہو گا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث کے ذریعے یہ دروازہ ہی بند کر دیا، تاکہ غیر شعائر کو شعائر کے ساتھ نہ ملایا جائے اور غیر اللہ کی پوجا پاٹ کا کوئی سبب پیدا نہ ہو جائے، میری رائے کے مطابق حق یہ ہے کہ اس معاملے میں قبر، کسی ولی کی عبادت کا محل اور کوہِ طور وغیرہ، ان سب کا حکم ایک ہے (کہ تبرّک کے حصول اور خاص اجر و ثواب کی نیت سے ان مقامات کی طرف سفر کرنا منع ہے)۔ (حجۃ اللہ البالغۃ)
12701
Sahih
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
۔ (۱۲۷۰۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَرَجَ حَتّٰییَاْتِیَ ہٰذَا الْمَسْجِدَ یَعْنِی مَسْجِدَ قُبَائَ، فَیُصَلِّیَ فِیْہِ کَانَ کَعَدْلِ عُمْرَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۶۰۷۷)
سیدناسہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے گھر سے روانہ ہو کر مسجد ِ قباء میں جاکر نماز ادا کرے، اس کا یہ عمل عمرہ کے برابر ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۰۲) تخریج: صحیح بشواہدہ، اخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۱۲، والنسائی: ۲/ ۳۷ (انظر: ۱۵۹۸۱)
12702
Sahih
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
۔ (۱۲۷۰۳)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَزُوْرُہُ رَاکِبًا وَ مَاشِیًایَعْنِیْ مَسْجِدَ قُبَائَ۔ (مسند احمد: ۵۳۳۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی سو ار اور کبھی پیدل جا کر قباء مسجد کی زیارت کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۲۷۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۹۱، ومسلم: ۱۳۹۹(انظر: ۵۳۳۰)
12703
Sahih
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
۔ (۱۲۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَائَ عَلٰی بَغْلَۃٍ لِی، قَدْ صَلَّیْتُ فِیہِ، فَلَقِیتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مَاشِیًا، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِی، ثُمَّ قُلْتُ: اِرْکَبْ أَیْ عَمِّ! قَالَ: أَیِ ابْنَ أَخِی، لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْکَبَ الدَّوَابَّ لَرَکِبْتُ، وَلٰکِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی إِلٰی ہٰذَا الْمَسْجِدِ حَتّٰییَأْتِیَ فَیُصَلِّیَ فِیہِ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِیَ إِلَیْہِ کَمَا رَأَیْتُہُیَمْشِی، قَالَ: فَأَبٰی أَنْ یَرْکَبَ وَمَضٰی عَلٰی وَجْہِہِ۔ (مسند احمد: ۵۹۹۹)
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں قبا ء میں واقع مسجد بنی عمرو بن عوف میں نماز پڑھ کر اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس آرہا تھا، راستے میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیدل چلتے مل گئے، میں نے انہیں دیکھا تو میں اپنے خچر سے اترآیا اورمیں نے کہا: چچا جان! آ پ اس پر سوار ہو جائیں، انہوں نے کہا: بھتیجے! میںسواری پر سوار ہونا چاہتا تو ہوسکتا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل چل کرجاتے دیکھا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر وہاں نماز ادا کی، پس میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیدل جاتے دیکھا ہے، میں بھی پیدل ہی جاؤں اور انہوںنے سوار ہونے سے انکا ر کر دیا اور اسی طرح روانہ ہوگئے۔
Takhreej
(۱۲۷۰۴) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۵۹۹۹)
12704
Sahih
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
۔ (۱۲۷۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ اِلیٰ قُبَائَ، (مسند احمد: ۱۱۰۵۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیر کے دن قباء کی طرف گئے۔
Takhreej
(۱۲۷۰۵) تخریج: اخرجہ مسلم: ۳۴۳ (انظر: ۱۱۰۴۳)
12705
Sahih
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
۔ (۱۲۷۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِفَضِیْخٍ فِیْ مَسْجِدِ الْفَضِیْخِ فَشَرِبَہُ فَلِذٰلِکَ سُمِّیَ۔ (مسند احمد: ۵۸۴۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں مسجد فضیخ میں فضیخ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ نو ش فرمایا، اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام فضیخ رکھ دیا گیا۔
Takhreej
(۱۲۷۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبدا للہ بن نافع، اخرجہ ابویعلی: ۵۷۳۳(انظر: ۵۸۵۵)
Explanation
فوائد:… کچی کھجور سے تیار شدہ مشروب کو فضیخ کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد وہ مشروب ہے، جو نشہ آور نہ ہو۔
12706
Zaeef

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.