TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب الفضائل - کتاب الفضائل - Book 174 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 174 of Musnad Ahmad, with 66 chapters and 311 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

311 Hadith · 66 Chapters
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
۔ (۱۲۷۲۷)۔ وَعَنْ شُرَیْحٍیَعْنِی ابْنَ عُبَیْدٍ قَالَ: ذُکِرَ أَہْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَہُوَ بِالْعِرَاقِ، فَقَالُوْا: الْعَنْہُمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ!، قَالَ: لَا، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْأَبْدَالُ یَکُونُونَ بِالشَّامِ، وَہُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، کُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰہُ مَکَانَہُ رَجُلًا، یُسْقٰی بِہِمُ الْغَیْثُ، وَیُنْتَصَرُ بِہِمْ عَلَی الْأَعْدَائِ، وَیُصْرَفُ عَنْ أَہْلِ الشَّامِ بِہِمُ الْعَذَابُ۔)) (مسند احمد: ۸۹۶)
شریح بن عبید سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عراق میں تھے اور ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہونے لگا،لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپ ان پر لعنت کریں، انہوں نے کہا: نہیں، نہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، شریح بن عبید لم یُدرک علیا(انظر: ۸۹۶)
Explanation
فوائد:… ابدال کے بارے میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، ان تمام کی اسانید ضعیف ہیں اور وہ اس قابل نہیں ہیں کہ مطلب پورا ہو سکے۔
12727
Zaeef
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
۔ (۱۲۷۲۸)۔ وَعَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ الْأَسَدِیَّ،یَقُولُ: أَہْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ یَنْتَقِمُ بِہِمْ مِمَّنْ یَشَائُ کَیْفَیَشَائُ؟ وَحَرَامٌ عَلٰی مُنَافِقِیہِمْ أَنْ یَظْہَرُوْا عَلٰی مُؤْمِنِیہِمْ، وَلَنْ یَمُوتُوْا إِلَّا ہَمًّا أَوْ غَیْظًا أَوْ حُزْنًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۲)
سیدنا خریم بن فاتک اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اہل شام زمین پر اللہ کی لاٹھی ہیں، اللہ ان کے ذریعے جس سے جس طرح چاہے گا، انتقام لے گا، اہل شام کے منافقین وہاں کے مومنین پر غالب نہ آسکیں گے اور وہ کسی نہ کسی پریشانی غصے یا غم سے ہلاک ہوجائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۲۸) تخریج: اثر ضعیف، ایوب بن میسرۃ بن حلبس، لم یرو عنہ غیر اثنین، و قال ابن حجر: رایت لہ ما ینکر، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۱۶۳(انظر: ۱۶۰۶۵)
Explanation
فوائد:… عمیر بن اسود اور کثیر بن مرہ حضرمی کہتے ہیں کہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ابن سمط کہتے تھے: لَایَزَالُ الْمُسْلِمُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، وَذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((لَاتَزَالُ مِنْ أُمَّتِیْ عِصَابَۃٌ قَوَّامَۃٌ عَلٰی أَمْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَایَضُرُّھَا مَنْ خَالَفَھَا، تُقَاتِلُ أَعْدَائَ ھَا، کُلَّمَا ذَھَبَ حَرْبٌ نَشَبَ حَرْبُ قَوْمٍ آخَرِیْنَ، یَزِیْغُ اللّٰہُ قُلُوْبَ قَوْمٍ لِیَرْزُقَھُمْ مِنْہُ، حَتّٰی تَأْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ، کَأَنَّھَا قِطَعُ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فَیَفْزَعُوْنَ لِذٰلِکَ حَتّٰی یَلْبَسُوْا لَہٗ أَبْدَانَ الدُّرُوْعِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ أَھْلُ الشَّامِ۔)) وَنَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِإِصْبَعِہٖ، یُوْمِیُٔ إِلَی الشَّامِ حَتّٰی أَوْجَعَھَا۔ … مسلمان زمین میں قیامت کے برپا ہونے تک موجود رہیں گے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت اللہ کے حکم پر قائم دائم رہے گی، اس کا مخالف اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرتی رہے گی، جب کبھی ایک لڑائی ختم ہو گی تو دوسری جنگ چھڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو راہِ راست سے ہٹاتا رہے گا تاکہ ان سے (مالِ غنیمت کے ذریعے) ان کو رزق دیتا رہے، حتی کہ قیامت آ جائے گی، گویا کہ وہ اندھیری رات کے ٹکڑے ہوں گے، اس وجہ سے وہ گھبرا جائیں گے، حتی کہ وہ چھوٹی چھوٹی زرہیں پہنیں گے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اہل شام ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ زمین کو کریدا (یعنی شام کی طرف خط کھینچا)، حتی کہ آپ کو تکلیف بھی ہوئی۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۵۲۸، صحیحہ: ۳۴۲۵) امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر بُشْرٰی لِاَھْلِ الشَّامِ الْمُؤْمِنِیْنَ کی سرخی ثبت کی۔ جغرافیائی حدود تبدیل ہونے کی وجہ سے موجودہ شام اور احادیث میں مذکورہ شام کی حدود میں بہت زیادہ فرق ہے، قدیم شام کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے، معجم البلدان کے بیان کے مطابق جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ شام کہلاتا تھا، یہ علاقہ انطاکیہ ، موجودہ شام، اردن پر اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل تھا۔ مختلف احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاز، شام اور یمن اسلام و ایمان کے مراکز ہیں اور یہاں سے اسلام اور ایمان کاعلم بلند ہوتا رہے گا اور مدینہ سے مشرق کی جانب واقع عراق کا علاقہ فتنوں کا سرچشمہ اور ضلالت و گمراہی کا مرکز ہے، یہاں سے بہت سے فتنوں نے جنم لیا، یہاں خیر کم اور شر زیادہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن و شام کے لیے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔ اس لیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیدائشی اور آبائی علاقہ مکہ مکرمہ یمن کا اور مدینہ منورہ شام کا شہر تھا، جیسا کہ علامہ شرف الدین طیبی نے مشکوۃ المصابیح کی شرح میں کہا ہے۔ ان احادیث میں شام میں بسیرا کرنے والے ان لوگوں کے لیے بشارت ہے، جو سنت کی تائید کرنے والے، اس پر عمل کرنے والے، اس کا دفاع کرنے والے اور اس کی طرف دعوت دینے میں صبر کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دے اور ان کے زمرے میں ہمارا حشر کرے، جبکہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جھنڈے کے سائے میں ہوں۔ احادیث ِ مبارکہ میں سرزمینِ شام اور اہل شام کو سراہا گیا، ماضی میں یہ علاقہ اہل علم اور اہل تقوی لوگوں کی آماجگاہ بنا رہا، مستقبل میں بھی اس علاقے میں خیر و بھلائی زیادہ ہو گی۔ سیدنا ابن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انجام یہ ہو گا کہ تم مختلف لشکروں میں بٹ جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہو گا۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں یہ زمانہ پا لوںتو آپ میرے لیے کون سا علاقہ مختار (وپسندیدہ) سمجھیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کو لازم پکڑنا، یہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ زمین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مختار بندوں کو اس کی طرف لائے گا، اگر تم ایسا کرنے سے انکار کرو تو پھر یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے حوض سے پینا، بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے، (یعنی وہ فتنوں سے محفوظ رہیں گے)۔ (ابوداود: ۲۴۸۳)
12728
Zaeef
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
۔ (۱۲۷۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَتُفْتَحُ عَلَیْکُمُ الشَّامُ، فَإِذَا خُیِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِیہَا فَعَلَیْکُمْ بِمَدِینَۃٍیُقَالُ لَہَا: دِمَشْقُ، فَإِنَّہَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِینَ مِنَ الْمَلَاحِمِ، وَفُسْطَاطُہَا مِنْہَا بِأَرْضٍ یُقَالُ لَہَا: الْغُوطَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۰۹)
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تم شام کو فتح کروگے، اور جب تمہیں سکونت کے لیے کسی جگہ کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو تم دمشق نامی شہر کو منتخب کرنا، خون ریز لڑائیوں میں وہ مسلمانوں کی قرار گاہ ہوگا اور اس کا ایک حصہ شہر غوطہ مسلمانوں کے لیے خیمہ کی مانند جائے امن ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۷۲۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۷۴۷۰)
Explanation
فوائد:… دمشق کے قریب ایک شہر کا نام غوطہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس زمانے میں شام کی فضیلت بیان کی تھی، اس وقت کا ملک ِ شام مراد ہے، نہ کہ موجودہ، جغرافیائی حدود تبدیل ہو چکی ہیں۔
12729
Sahih
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
۔ (۱۲۷۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَبِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: ((وَاِنَّ بِہَا مَکَانًا یُقَالُ لَہُ: الْغُوطَۃُیَعْنِیْ دِمَشْقَ مِنْ خَیْرِ مِنَازِلِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمَلَاحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۹)
۔ ( دوسری سند)اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: شام میں ایک شہر کانام غوطہ ہوگا، خون ریز لڑائیوں میں وہ مسلمانوں کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۷۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12730
Sahih
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
۔ (۱۲۷۳۱)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِینَیَوْمَ الْمَلْحَمَۃِ الْغُوطَۃُ إِلٰی جَانِبِ مَدِینَۃٍیُقَالُ لَہَا دِمَشْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۸)
سیدنا ابو دردا ء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خون ریز لڑائی کے دنوں میں دمشق کے نواح میں واقع ایک مقام غوطہ مسلمانوں کے لیے خیمہ کی مانند ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۷۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابوداود: ۴۲۹۸(انظر: ۲۱۷۲۵)
12731
Sahih
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۲)۔ عَنْ حُمْرَۃَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ، قَالَ: سَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَی الشَّامِ بَعْدَ مَسِیرِہِ الْأَوَّلِ، کَانَ إِلَیْہَا حَتّٰی إِذَا شَارَفَہَا، بَلَغَہُ وَمَنْ مَعَہُ أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِیہَا، فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: ارْجِعْ، وَلَا تَقَحَّمْ عَلَیْہِ فَلَوْ نَزَلْتَہَا وَہُوَ بِہَا لَمْ نَرَ لَکَ الشُّخُوصَ عَنْہَا، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَعَرَّسَ مِنْ لَیْلَتِہِ تِلْکَ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْہُ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثْتُ مَعَہُ فِی أَثَرِہِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: رَدُّونِی عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَیْہِ لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِیہِ أَلَا! وَمَا مُنْصَرَفِی عَنْہُ مُؤَخِّرٌ فِی أَجَلِی، وَمَا کَانَ قُدُومِیہِ مُعَجِّلِی عَنْ أَجَلِی، أَلَا! وَلَوْ قَدْ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِی مِنْہَا، لَقَدْ سِرْتُ حَتّٰی أَدْخُلَ الشَّامَ، ثُمَّ أَنْزِلَ حِمْصَ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیَبْعَثَنَّ اللّٰہُ مِنْہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعِینَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ عَلَیْہِمْ، مَبْعَثُہُمْ فِیمَا بَیْنَ الزَّیْتُونِ وَحَائِطِہَا فِی الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۰)
حمر ہ بن عبد کلال سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے پہلے سفر کے بعد شام کی طرف روانہ ہوئے، جب شام کے قریب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں تو طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے، آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ آپ وہاں نہ جائیں اور یہیں سے واپس چلیں، کیونکہ اگر آپ ادھر جائیں گے تو ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ اسی میں مبتلا نہ ہوجائیں، پس آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس چل پڑے، واپسی کی پہلی رات کے کسی حصہ میں آپ ذرا سستانے کے لیے کسی جگہ رکے، سب لوگوں کی نسبت میں آپ کے سب سے زیادہ قریب تھا، آپ بیدار ہوئے تو میں بھی اٹھ بیٹھا، میں نے آپ کو سنا آپ کہہ رہے تھے، ـمیں شام تک جا پہنچا تھا ان لوگوں نے مجھے واپس کر دیا، محض اس لیے کہ وہاں طاعون تھا، حالانکہ میری وہاں سے واپسی میری موت کو مؤ خر نہیں کرسکتی اور میرا وہاں جانا میری موت کو جلدی نہ لاتا، خبردار! اب مدینہ جا کر اپنے ضروری کام تکمیل کر کے میں دوبارہ شام کی طرف جاؤں گا اور پھر حمص میں قیام کروں گا، میںرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سن چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھائے گا، جن پر کوئی حساب و عذاب نہ ہوگا، انہیں وہاں کے زیتون اور اس کے باغات کے درمیان میں برثِ ا حمر سے اٹھا لیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۷۳۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ، وحمرۃُ بن عبد کلال، قال الذھبی: لیس بعمدۃ ویجھل، اخرجہ الحاکم: ۳/ ۸۸ (انظر: ۱۲۰)
12732
Zaeef
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۳)۔ عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی سَوْدَۃَ، عَنْ أَخِیہِ أَنَّ مَیْمُونَۃَ مَوْلَاۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفْتِنَا فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ((أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ ائْتُوہُ فَصَلُّوا فِیہِ فَإِنَّ صَلَاۃً فِیہِ کَأَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ۔)) قَالَتْ: أَرَأَیْتَ مَنْ لَمْ یُطِقْ أَنْ یَتَحَمَّلَ إِلَیْہِ أَوْ یَأْتِیَہُ، قَالَ: ((فَلْیُہْدِ إِلَیْہِ زَیْتًایُسْرَجُ فِیہِ فَإِنَّ مَنْ أَہْدٰیلَہُ کَانَ کَمَنْ صَلّٰی فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۷۸)
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے ، انھوںنے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگوں کے اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کی جگہ ہے، تم وہاں جا کر نماز پڑھا کرو، وہاں کی ایک نماز باقی مقامات کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ انہوں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی وہاں نہ جا سکے یا سفر کی مشقت برداشت نہ کر سکے تو کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ وہاں جلانے کے لیے زیتون کا تیل بھجوا دے، جس نے وہاں تیل بھجوا دیا، اس نے گویا وہاں نماز ادا کر لی۔
Takhreej
(۱۲۷۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، زیادہ بن ابی سودۃ ، قال الذھبی: فی النفس شیء من الاحتجاج بہ، واورد لہ ھذا الحدیث، وقال: ھذا حدیث منکر جدا، ثم نقل عن عبد الحق قولہ فیہ: لیس ھذا الحدیث بقوی، اخرجہ ابوداود: ۴۵۷ (انظر: ۲۷۶۲۶)
12733
Zaeef
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۴)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَام سَأَلَ اللّٰہَ ثَلَاثًا أَعْطَاہُ اثْنَتَیْنِ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَکُونَ لَہُ الثَّالِثَۃُ، فَسَأَلَہُ حُکْمًا یُصَادِفُ حُکْمَہُ فَأَعْطَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ، وَسَأَلَہُ مُلْکًا لَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ، وَسَأَلَہُ أَیُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ لَا یُرِیدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِیئَتِہِ مِثْلَ یَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ، فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ یَکُونَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۴)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیںکیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی دو دعائیں قبول کر لیں، ہمیں امیدہے کہ اللہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کر ے گا، انہوںنے اللہ سے دعا کی کہ ان کا فیصلہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق ہو، اللہ نے ان کی یہ دعا قبول کر لی، انہوںنے دوسری دعا یہ کی کہ اللہ ان کو ایسی حکومت دے کر ایسی حکومت ان کے بعد کسی اور کونہ ملے، اللہ نے ان کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ جو آدمی اپنے گھر سے محض نماز ادا کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ کو جائے، وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہوجائے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بھی قبول کرلی ہوگی۔
Takhreej
(۱۲۷۳۴) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۷۷ (انظر: ۶۶۴۴)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۱۲۶۹۹) والے باب میں بھی مسجد اقصی کا ذکر ہو چکا ہے۔
12734
Sahih
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
۔ (۱۲۷۳۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَیْنِیُبْعَثُ مِنْہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ، وَیُبْعَثُ مِنْہَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُہَدَائَ وُفُودًا إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَبِہَا صُفُوفُ الشُّہَدَائِ، رُء ُوسُہُمْ مُقَطَّعَۃٌ فِی أَیْدِیہِمْ تَثِجُّ أَوْدَاجُہُمْ دَمًا، یَقُولُونَ: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلٰی رُسُلِکَ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ، فَیَقُولُ: صَدَقَ عَبِیدِی اغْسِلُوہُمْ بِنَہَرِ الْبَیْضَۃِ، فَیَخْرُجُونَ مِنْہَا نِقَائً بِیضًا، فَیَسْرَحُونَ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شَائُ وْا۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۸۹)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عسقلان، دو دلہنوںمیں سے ایک دلہن ہے، یہاں سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے لوگ اٹھائے جائیں گے، جن کا حساب نہیں لیا جائے گا اور یہاں سے پچاس ہزار شہدا اٹھائے جائیں گے، جو اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، یہاں ایسے شہداء کی صفیں ہوں گی، جن کے کٹے ہوئے سر ان کے ہاتھوںمیں ہوں گے اور ان کی رگوں سے خون پھوٹ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلٰی رُسُلِکَ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ (اے ہمارے رب!تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے فرما، بیشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔) اللہ فرمائے گا: میرے بندے سچ کہہ رہے ہیں، فرشتو! تم انہیں چمک والی نہر میں غسل دوـ، چنانچہ وہ وہاں سے ہر قسم کی میل کچیل سے پاک ہو کر صاف ستھرے ہو کر نکلیں گے اور جنت میں جہاں چاہیں گے گھومیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۳۵) تخریج: موضوع، ابو عقال ھلال بن زید مجمع علی طرح حدیثہ، وقال ابن حبان: روی عن انس اشیاء موضوعۃ ما حدث بھا انس قط، لایجوز الاحتجاج بہ بحال، اخرجہ ابن الجوزی فی الموضوعات : ۲/ ۵۳ (انظر: ۱۳۳۵۶)
12735
Sahih
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ رُوَیْمٍ قَالَ: أَقْبَلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ، وَہُوَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: حَدِّثْنِی بِحَدِیثٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَیْسَ بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ فِیہِ أَحَدٌ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((الْإِیمَانُیَمَانٍ ہٰکَذَا إِلٰی لَخْمٍ وَجُذَامٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۹)
عرو ہ بن رویم سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دمشق میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں گئے، جب وہ آئے تو سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم براہ راست سنی ہو اور آپ کے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو یمنی ہے، اسی طرح لخم اور جذام قبیلوں تک۔
Takhreej
(۱۲۷۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ البخاری تعلیقا فی التاریخ الکبیر : ۵/ ۸۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۸۵۷ (انظر: ۱۳۳۴۶)
12736
Sahih
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۷)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْیَمَنِ فَقَالَ: ((الْإِیمَانُ ہَاہُنَا۔)) قَالَ: ((أَلَا! وَإِنَّ الْقَسْوَۃَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِی الْفَدَّادِینَ عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ فِی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۹)
سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اصل ایمان یہاں ہے اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوںمیں ہے، جہاں شیطان کا سینگ نمودار ہو گا، ربیعہ اور مضر قبائل میں۔
Takhreej
(۱۲۷۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۰۲، ۵۳۰۳، ومسلم: ۵۱(انظر: ۲۲۳۴۳)
12737
Sahih
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۳۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الْإِیمَانُیَمَانٍ، وَالْفِقْہُ یَمَانٍ، وَالْحِکْمَۃُیَمَانِیَۃٌ، أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ فَہُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَۃً وَأَلْیَنُ قُلُوبًا، وَالْکُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِی أَہْلِ الْخَیْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِینَ أَہْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّکِینَۃُ فِی أَہْلِ الْغَنَمِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۲۹)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان یمنیوں کاہے، فقاہت بھی یمن کی اور حکمت و دانائی بھی یمن کی بہتر ہے، تمہارے پا س اہل یمن آئے ہیں، یہ بہت زیادہ نرم دل ہیں اور کفر مشرق کی طرف زیادہ ہے اور فخراورتکبر اونٹ اورگھوڑے پالنے والوں اور دیہاتی لوگوں میں ہے اور بکریاں پالنے والوں میں سکینت اور نرم خوئی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۳۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البخاری: ۴۳۸۹، ومسلم: ۵۲(انظر: ۸۹۴۲)
Explanation
فوائد:… فقہ سے مراد دین کی سمجھ بوجھ ہے اور حکمت سے مراد احکام شریعت کا وہ علم ہے، جس سے بصیرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو، اس سے حق کے ثبوت اور اس پر عمل کرنے میں مدد ملے اور اس کی روشنی میں بندہ خواہش پرستی اور باطل پرستی سے محفوظ رہے۔
12738
Sahih
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۳۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ کَقِطَعِ السَّحَابِ خَیْرُ أَہْلِ الْأَرْضِ۔)) فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ عِنْدَہُ وَمِنَّا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((کَلِمَۃً خَفِیَّۃً إِلَّا أَنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۰)
سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھا کر فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، بادلوں کے ٹکڑوں کی مانند خوش منظر اور مفید ہیں، یہ روئے زمین کے تمام لوگوں سے زیادہ بھلائی والے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آہستہ سے فرمایا: تمہارے سوا۔
Takhreej
(۱۲۷۳۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۱۸۳، وابویعلی: ۷۴۰۱، والطبرانی فی الکبیر : ۱۵۴۹ (انظر: ۱۶۷۵۸)
12739
Sahih
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطَرِیقِ مَکَّۃَ إِذْ قَالَ: ((یَطْلُعُ عَلَیْکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ کَأَنَّہُمُ السَّحَابُ، ہُمْ خِیَارُ مَنْ فِی الْأَرْضِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَلَا نَحْنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَسَکَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَسَکَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ کَلِمَۃً ضَعِیفَۃً: ((إِلَّا أَنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۰۱)
۔ (دوسری سند)سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کے راستے پر تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، گویا کہ وہ بادل کے ٹکڑوں کی مانند ہیں، یہ روئے زمین کے تمام لوگوں سے زیادہ بھلائی والے ہیں۔ ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ اس کی بات پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر خاموش رہے، اس نے تیسری بار کہا: اے اللہ کے رسول! اور کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ تو آپ نے تیسری مرتبہ آہستہ سے فرمایا: ما سوائے تمہارے۔
Takhreej
(۱۲۷۴۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12740
Sahih
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الْعَنْ أَہْلَ الْیَمَنِ فَإِنَّہُمْ شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ، کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ، حَصِینَۃٌ حُصُونُہُمْ، فَقَالَ: ((لَا۔)) ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْأَعْجَمِیِّینَ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا مَرُّوا بِکُمْ یَسُوقُونَ نِسَائَہُمْ یَحْمِلُونَ أَبْنَائَہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ فَإِنَّہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۷)
سیدناعتبہ بن عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ اہل یمن پر لعنت کریں، کیونکہ وہ بڑے جنگجو ہیں، تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان کے قلعے بھی مضبوط ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، میں ان پر لعنت نہیں کروں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عجمیوں پر لعنت فرمائی۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ یمنی اپنی عورتوں کو اپنے ساتھ لے کر اور اپنے بچوں کو کاندھوں پر اٹھائے تمہارے قریب سے گزریں گے، یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
Takhreej
(۱۲۷۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولید یدلس تدلیس التسویۃ، وقد عنعن، فلا یقبل حدیثہ الا ان یصرح بالسماع فی جمیع طبقات السند، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۳۰۴ (انظر: ۱۷۶۴۷)
12741
Zaeef
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اطَّلَعَ قِبَلَ الْیَمَنِ، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِہِمْ۔)) وَاطَّلَعَ مِنْ قِبَلِ کٰذَا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِہِمْ، وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِنَا وَمُدِّنَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۶)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوںکو ہماری طرف پھیرے دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیرے دے اور ہمارے صاع اور مد میں برکت فرما۔
Takhreej
(۱۲۷۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ الترمذی: ۳۹۳۴ (انظر: ۲۱۶۱۰)
12742
Sahih
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَمَنِ، فَقَالَ: ((لَعَلَّکَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِی وَمَسْجِدِی، وَقَدْ بَعَثْتُکَ إِلٰی قَوْمٍ رَقِیقَۃٍ قُلُوبُہُمْ، یُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ مَرَّتَیْنِ، فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مِنْہُمْ مَنْ عَصَاکَ، ثُمَّ یَعُودُونَ إِلَی الْإِسْلَامِ حَتّٰی تُبَادِرَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَہَا وَالْوَلَدُ وَالِدَہُ وَالْأَخُ أَخَاہُ، فَانْزِلْ بَیْنَ الْحَیَّیْنِ السَّکُونِ وَالسَّکَاسِکِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۳)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں جن کے دل خوب نرم ہیں اور یہ حق کے لیے لڑتے ہیں۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبار بیان فرمائی ان میں سے جو لوگ تمہاری اطاعت کریں انہیں ساتھ لے کر ان لوگوں سے قتال کرنا، جو تمہاری حکم عدولی کریں، پھر وہ اسلام کی طرف لوٹیں گے، یہاں تک کہ بیوی اپنے خاوند سے، بیٹا اپنے والد سے اور بھائی اپنے بھائی سے سبقت کرنے لگیں گے اور تم وہاں کے دو قبیلوں سکون اور سکاسک میں قیام کرنا۔
Takhreej
(۱۲۷۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال یزید بن قطیب السکونی، ثم ھو منقطع، یزید لم یدرک معاذا، اخرجہ البیھقی: ۹/ ۲۰، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۱۷۱ (انظر: ۲۲۰۵۳)
12743
Zaeef
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۴)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ الْأَشْعَرِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نِعْمَ الْحَیُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِیُّونَ، لَا یَفِرُّونَ فِی الْقِتَالِ، وَلَا یَغُلُّونَ، ہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) قَالَ عَامِرٌ: فَحَدَّثْتُ بِہِ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ: لَیْسَ ہٰکَذَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلٰکِنَّہُ قَالَ: ((ہُمْ مِنِّی وَإِلَیَّ۔)) فَقَالَ: لَیْسَ ہٰکَذَا حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلٰکِنَّہُ قَالَ: ((ہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) قَالَ: فَأَنْتَ إِذًا أَعْلَمُ بِحَدِیثِ أَبِیکَ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ہٰذَا مِنْ أَجْوَدِ الْحَدِیثِ مَا رَوَاہُ إِلَّا جَرِیرٌ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۹۸)
سیدناابو عامر اشعری سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: بہترین قبیلہ بنو اسداور اشعریوں کا ہے اوریہ لوگ میدان قتال سے پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگتے اور خیانت نہیں کرتے، وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ عامر نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا معاویہ کو بیان کی،انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح نہیں بلکہ یوں فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور ان کا میرے ساتھ تعلق ہے۔ عامر نے کہا: میرے والد نے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس طرح بیان نہیں کیا بلکہ یوں کہا کہ وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ نے کہا: تم اپنے والد کے بیان کردہ الفاظ کو بہتر جانتے ہو، عبداللہ بن اما م احمد نے کہا یہ عمدہ احادیث میں سے ہے اس کو صرف جریر نے روایت کیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ مجھولان، عبد اللہ بن ملاذ، ومالک بن مسروح، اخرجہ الترمذی: ۳۹۴۷ (انظر: ۱۷۱۶۶)
12744
Zaeef
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنِّی لَبِعُقْرِ حَوْضِی أَذُودُ عَنْہُ لِأَہْلِ الْیَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَایَ حَتّٰییَرْفَضَّ عَلَیْہِمْ۔)) فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِہِ، فَقَالَ: ((مِنْ مُقَامِی إِلٰی عُمَانَ۔)) وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِہِ فَقَالَ: ((أَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ، یَنْشَعِبُ فِیہِ مِیزَابَانِیَمُدَّانِہِ مِنْ الْجَنَّۃِ، أَحَدُہُمَا مِنْ ذَہَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۹۰)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اپنے حوض کے کنارے پر موجود ہوں گا لوگوں کو پیچھے ہٹاؤں گا تاکہ اہل یمن قریب آکر آسانی سے پانی پی سکیں، میں اپنا عصا لوگوں کے اوپر سے لہراؤں گا۔ آپ سے حوض کو ثر کے عرض کے بارے میں پوچھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا عرض میری اس جگہ سے عمان تک کے برابر ہوگا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے مشروب کی ہیئت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، جنت سے دو پر نالے بہہ کر اس میں گررہے ہیں گے، ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔
Takhreej
(۱۲۷۴۵) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۳۰۱ (انظر: ۲۲۴۲۶)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں اور بعد میں یمن سے جتنے لوگ مسلمان ہو کر آئے وہ اچھی صفات سے متصف تھے، جیسے اویس قرنی اور ابو مسلم خولانی ہیں، ان کے دلوں میں سلامتی اور ایمان میں قوت تھی۔ ایمان کو ان کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایمان مکمل تھا۔ اہل یمن کی عظمت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اویس نامی ایک یمنی آدمی آئے گا، وہ یمن میں اپنے اہل و عیال میں سے صرف والدہ کو چھوڑ کر آئے گا،اسے پھل بہری کی بیماری تھی، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے ایک درہم یا دینار کے بقدر جسم کے حصے کے علاوہ اس کی بیماری کو دور کر دیا، تم میں سے جو آدمی اسے ملے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے لیے اس سے مغفرت کی دعا کروائے۔ (مسلم) کتنی عظیم منقبت ہے کہ صحابہ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اویس قرنی سے اپنے لیے بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کریں۔
12745
Sahih
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
۔ (۱۲۷۴۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنِّی لَأَعْلَمُ أَرْضًا یُقَالُ لَہَا: عَمَّانُ، یَنْضَحُ بِنَاحِیَتِہَا الْبَحْرُ، بِہَا حَیٌّ مِنَ الْعَرَبِ، لَوْ أَتَاہُمْ رَسُولِیمَا رَمَوْہُ بِسَہْمٍ وَلَا حَجَرٍ۔)) (مسند احمد: ۳۰۸)
سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں عمان نامی ایک سرزمین کو جانتا ہوں، جس کے ایک پہلو میں سمندر بہتا ہے، وہاں عرب کا ایک ایسا قبیلہ آباد ہے، اگرمیرا نمائندہ ان کے پاس جاتا تو وہ اس پر نہ تیر چلاتے اور نہ پتھر مارتے۔
Takhreej
(۱۲۷۴۶) تخریج: صحیح بشاھدہ ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابولبید لمازۃ بن زبار لم یدرک عمر ولا ابابکر، اخرجہ ابویعلی: ۱۰۶ (انظر: ۳۰۸)
12746
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.