TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Book 3 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 3 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

129 Hadith · 16 Chapters
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۴۴، ۱۴۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۲۳)
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم نے اعلان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا سحیم ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔
Takhreej
(۱۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۶۲، ومسلم: ۱۱۱ (انظر: ۸۰۹۰)
144
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۴۴، ۱۴۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۲۳)
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم نے اعلان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا سحیم ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔
Takhreej
(۱۴۴، ۱۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۴۷۶۴)
145
Zaeef
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۴۴، ۱۴۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۲۳)
سیدنا محمود بن لبیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو دنیا (اور اس کے مال و اسباب) سے بچاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے تم اپنے بیمار آدمی پر ڈرتے ہوئے اور اس کو کھانے پینے سے بچاتے ہو۔
Takhreej
(۱۴۶) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ البیھقی فی شعب الایمان : ۱۰۴۵۰(انظر: ۲۳۶۲۷)
Explanation
فوائد: …ممکن ہے کہ اگر مؤمن بندے کو دنیوی مال و اسباب دے دیئے جائیں تو وہ ان کے برے اثرات میں ملوث ہو جائے اور ان سے دھوکہ کھا کر بغاوت اور سرکشی پر اتر آئے، جیسا کہ سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے، مگر وہ جس پر اللہ تعالیٰ خصوصی رحمت کر دے۔
146
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۴۷)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرَیِّ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ فِی الدُّنْیَا عَلٰی ثَلَاثَۃِ أَجْزَائٍ، الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَ الَّذِیْ یَاْمَنُہُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ ،ثُمَّ الَّذِیْ اِذَا أَشْرَفَ عَلٰی طَمَعٍ تَرَکَہُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۶۵)
سیدنا ابو سعیدخدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دنیا میں مومنوں کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک میں نہ پڑے اور اللہ کے راستے میں مال و جان سے جہاد کیا، (۲) وہ آدمی کہ جس کے بارے میں دوسرے لوگوں کو اپنے مالوں اور جانوں پر امن رہتا ہے اور (۳)پھر وہ آدمی جو حرص پر جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اسے ترک کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد المصری (انظر: ۱۱۰۵۰)
Explanation
فوائد: …بہرحال مومن کو طمع اور حرص سے محفوظ رہ کر اعمالِ صالحہ کے ذریعے بلندیٔ درجات کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
147
Zaeef
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۴۸)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: اِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ کَرِیْمٌ وَ اِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِیْمٌ۔ (مسند أحمد: ۹۱۰۷)
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور بزرگی والا ہوتاہے اور فاجر آدمی مکار، (دغاباز) اور کمینہ ( اور رذیل) ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۴۸) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۷۹۰، والترمذی: ۱۹۶۴(انظر: ۹۱۰۷)
Explanation
فوائد: …ابوجعفر طحاویؒ نے کہا: عرب لوگ اس شخص کو غِرّ کہتے ہیں، جس میں فتنہ و فساد اور مکاری و چالاکی جیسا کوئی وصف نہ پایا جائے، اس کا ظاہر و باطن ایک ہو۔ ظاہر ہے کہ جو آدمی ایسے اوصاف سے متصف ہو گا، دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے امن میں رہیں گے اور یہی مومنوں کی صفات ہیں۔ جبکہ فاجر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے، جس کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہو، کیونکہ ایسے آدمی کا باطن مکروہ ہوتا ہے اور اس کا ظاہر باطن کے مخالف ہوتا ہے، یعنی وہ منافق کی طرح ہوتا ہے جو بظاہر ایسی چیز سے متصف ہوتا ہے، جو پسندیدہ ہوتی ہے اور وہ اسلام ہے، جس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اس کے باطن میں اسلام کی مخالفت ہوتی ہے، یعنی کفر، جس کی مسلمان مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ حدیث ِ مبارکہ میں مومن اور فاجر کے مابین پیش کئے گئے موازنہ کو سمجھیں اور مومن والی صفات سے متصف رہنے اور فاجر والی صفات سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ مومن کے بھولا بھالا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مکرو فریب، افترا و کذب، ابن الوقتی اور ظاہرو باطن میں پائے جانے والے فرق سے پاک ہوتا ہے، کسی کی عیب جوئی نہیں کرتا اور نہ کسی کی ٹوہ اور جاسوسی میں رہتا ہے، وہ مستقل مزاج ہوتا ہے اور وقت کی تیز ہوائیں اس کے رخ کو بدلنے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ سمجھدار یا دور اندیش نہیں ہوتا۔
148
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۴۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْمُؤْمِنُ عِنْدِیْ بِمَنْزِلَۃِ کُلِّ خَیْرٍ یَحْمَدُنِیْ وَ أَنَا أَنْزِ عُ نَفْسَہُ مِنْ بَیْنِ جَنْبَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۱۶)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میرے نزدیک مومن ہر قسم کی خیروبھلائی کی منزلت پر ہے، میں اس کے پہلوؤں سے اس کی جان کو کھینچ رہا ہوتا ہوں اور وہ اس وقت بھی میری تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۴۹) تخریج: اسنادہ جیّد۔ أخرجہ البزار: ۷۸۱، والبیھقی فی شعب الایمان : ۴۴۹۴ (انظر: ۸۷۱۶)
Explanation
فوائد: …مؤمن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنا گہرا تعلق ہوتا ہے کہ جب اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی جان اس سے چھینی جا رہی ہوتی ہے تو اس وقت بھی وہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر اس کی تعریف کرتا ہے، کیونکہ یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو رہا ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے، وہ اس قدر مناسب اور درست ہوتا ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان ہونی چاہیے۔
149
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۰)۔وَ عَنْہُ فِیْ أُخْرٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیُنْضِی شَیَاطِیْنَہُ کَمَا یُنْضِی أَحَدُکُمْ بَعِیْرَہُ فِی السَّفَرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۲۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنے شیطانوں کو اس طرح تھکا دیتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے اونٹ کو سفر میں تھکا دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۸۹۴۰)
Explanation
فوائد: …مومن، اعمال صالحہ کو سرانجام دینے میں مصروف رہتا ہے،کھانے پینے سے پہلے اور گھر میں داخل ہونے سے پہلے جیسے امور میں اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے ماکولات و مشروبات میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور نہ شیطان اس کے گھر رات گزار سکتا ہے، علاوہ ازیں شیطانی خواہشات اور وساوس اس پر کارگر ثابت نہیں ہوتے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شیطان اپنی تمام کاروائیوں میں ناکام اور ضعیف اور مغلوب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پاسداری، اس کی نواہی سے اجتناب اور نفسانی شہوات سے دوری کی وجہ سے شیطان کی حیثیت قیدی اور مجبور سے زیادہ نہیں رہتی، بلکہ وہ اس جانور کی طرح ہو جاتا ہے، جس کو سفروں نے کمزور اور لاغر کر دیا ہو۔
150
Zaeef
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۱)۔عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَ لَا أُخْبِرُکُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ، وَالْمُجَاہِدُ مَنْ جَاہَدَ نَفْسَہُ فِی طَاعَۃِاللّٰہِ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ الْخَطَایَا وَ الذُّنُوْبَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۵۸)
سیدنا فضالہ بن عبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: کیا میں تم کو مؤمن کے بارے میں نہ بتلا دوں، مؤمن وہ ہے کہ لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں جس سے امن میں رہیں ،مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔
Takhreej
(۱۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۳۴(انظر: ۲۳۹۵۸)
Explanation
فوائد:…یہ حقیقی ایمان، جہاد اور ہجرت کے تقاضے ہیں، دورِ حاضر کے مسلمان ان ہدایات سے محروم ہیں، دوسروں کی پریشانیاں ان کو پریشان نہیں کرتیں اور دوسروں کی خوشیوں سے ان کے نفسوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔
151
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مؤمن کون ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن وہ ہے کہ دوسرے مؤمن اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میںجس سے امن میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور اس سے اجتناب کرے۔
Takhreej
(۱۵۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۰۱۷)
152
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)
اور اس سے ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان امور کو چھوڑ دے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔
Takhreej
(۱۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی خواہ اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میں یا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔ اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ یاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔
153
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَا یَأْ لَفُ وَلَا یُؤْلَفُ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۸۷)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن ایسا وجود ہے، جس میں مانوسیت پائی جاتی ہے اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے، جو نہ کسی سے انس کرتا ہے اور نہ اس سے مانوس ہوا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۵۴) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۲۳، والبیھقی: ۱۰/ ۲۳۶، والبزار: ۳۵۹۱ (انظر:۹۱۹۸)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہی معاملہ اساتذہ، ڈاکٹر حضرات اور دوسرے لوگوں کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔
154
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۵)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((یَا أَبَا أُمَامَۃَ! اِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَنْ یَلِیْنُ لِیْ قَلْبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۵۵)
سیدنا ابوامامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے فرمایا: ابو امامہ! بیشک بعض مؤمن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ بقیۃ بن الولید، وھو ضعیف عند التفرد ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۶۵۵(انظر: ۲۲۲۹۹)
Explanation
فوائد: …مؤمنوں کے درجے مختلف ہوتے ہیں، کوئی بہت جلدی مطیع ہونے والا اور خیر و بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والا ہوتا ہے، جبکہ بعض دوسرے لوگوں میں اس چیز کی رغبت کم ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَّمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا، پھر بعضے تو ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ (سورۂ فاطر: ۳۲)
155
Zaeef
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَـلَاأَجِدُ قَلْبِیْ یَعْقِلُ عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ قَلْبَکَ حُشِیَ الْاِیْمَانَ وَ اِنَّ الْاِیْمَانَ یُعْطَی الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۰۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن کی تلاوت تو کرتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل اس کو سمجھ نہیں پا رہا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے اور بندہ قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحیی بن عبد اللہ المعافری، وقد تفرد بہ (انظر: ۶۶۰۴)
Explanation
فوائد: …مفہوم یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکے دل میں جتنی گنجائش تھی، وہ ایمان کی وجہ سے پُر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دوسری چیزیں بھولنا شروع ہو گئی ہیں، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالِ ایمان کے باوجود قرآن مجید اور علم کو محفوظ کرنے کی قوت عطا کر دے۔
156
Zaeef
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۷)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی أُحَدِّثُ نَفْسِیْ بِالْحَدِیْثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَکَلَّمَ بِہِ، قَالَ: ((ذَالِکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۴۵)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نفس میں بعض باتیں تو ایسی آ جاتی ہیں کہ مجھے آسمان سے گرنا اس سے زیادہ پسند لگتا ہے کہ میں ان کے ساتھ کلام کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو صریح ایمان کی علامت ہے۔
Takhreej
(۱۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۲(انظر: ۹۱۵۶)
157
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۸)۔ (وَ عَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَجِدُ فِی أَنْفُسِنَا مَا یَسُرُّنَا نَتَکَلَّمُ بِہِ وَ اِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ، قَالَ: ((أَوَجَدْتُّمْ ذَالِکَ؟)) قَالُوا: نَعَم، قَالَ: ((ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۶۹۲)
ان سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔
Takhreej
(۱۵۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …حدیث نمبر (۲۳)کے فوائد میں ان احادیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
158
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۹)۔وَ أَیْضًا عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ، اِنَّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۷۵)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی انگوروں کو کَرْم نہ کہا کرے، بیشک کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۸۳، ومسلم: ۲۲۴۷(انظر: ۸۱۹۰)
Explanation
فوائد: … کرم کے معانی: کریم، سخی، سخاوت، فیاضی، کشادہ دلی، مہربانی، عالی ظرفی، عمدہ اور زرخیز زمین، عفوودرگذر۔انگور کو اس بنا پر کرم کہتے ہیں، کہ اس سے بنائی ہوئی شراب سخاوت اور فیاضی پر ابھارتی ہے، اس لیے انگور کا نام ہی کرم یعنی سخاوت رکھ دیا گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ناپسند کیا کہ اعلی معنویت والا یہ لفظ انگور کے لیے استعمال کیا جائے، اس کا حقدار تو مؤمن ہے۔ زمخشری نے کہا: دراصل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بڑے خوبصورت اور لطیف طریقے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} کے معنی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، حقیقت میں انگور کو کرم کہنے سے منع نہیں کیا جا رہا، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ متقی مسلمان اس لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جو نام رکھا ہے، کوئی اور اس میں شرکت نہ کرے۔
159
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۶۰)۔ (وَ عَنْہُ فِیْ أُخْرٰی)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَقُوْلُوْنَ الْکَرْمَ، وَ اِنَّمَا الْکَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۵۶)
ان سے مروی ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ انگوروں کو کرم کہہ دیتے ہیں، حالانکہ کرم تو صرف مومن کا دل ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
160
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۶۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَکَمَثَلِ الْقِطْعَۃِ مِنَ الذَّہَبِ، نَفَخَ عَلَیْہَا صَاحِبُہَا فَلَمْ تَغَیَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَکَمَثَلِ النَّحْلَۃِ أَکَلَتْ طَیِّبًا وَوَضَعَتْ طَیِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَکْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۷۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! بیشک مؤمن کی مثال سونے کی ٹکڑے کی طرح ہے، جب مالک (اسے بھٹی میں ڈال کر) اس پر پھونک مارتا ہے تو نہ وہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! بیشک مؤمن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے، جو (پھول جیسی) پاکیز ہ چیز کھاتی ہے، (شہد جیسی) پاکیزہ چیز نکالتی ہے اور جب وہ کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ اسے نہ توڑتی ہے، نہ خراب کرتی ہے۔
Takhreej
(۱۶۱) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۶۸۷۲)
Explanation
فوائد: …دو مثالوں کے ذریعے مومن کی تعریف کی گئی ہے، جن کی وضاحت یہ ہے کہ مومن سنجیدہ مزاج کا مالک ہوتا ہے، کوئی مجلس اس کے طرزِ حیات کو متاثر نہیں کر سکتی، شہد کی مکھی کی طرح وہ ہر ایک کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، اور وہ جہاں مرضی بیٹھ جائے، کسی کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا، ہر کوئی اس کے کرداراور طرز عمل کو پسند کرتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے، مؤمن کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں کی مجلس کے کیا حقوق ہیں اور برے لوگوں کی مجلس کے کیا تقاضے ہیں، وہ طیّب اور حلال چیزیں کھاتا ہے اور دینے کے لیے بھی ان ہی کا انتخاب کرتا ہے، وہ مشتبہ امور کے درپے نہیں ہوتا اور کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔ ہر شخص کو اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لینا چاہیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی ان تمثیلوں پر بار بار غور کرنا چاہیے۔
161
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۶۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ السُّنْبُلَۃِ تَخِرُّ مَرَّۃً وَ تَسْتَقِیْمُ مَرَّۃً، وَ مَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْأَرْزِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: الْأَرْزَۃِ) لَا یَزَالُ مُسْتَقِیْمًا حَتَّی یَخِرَّ وَلَا یَشْعُرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۸۲۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن کی مثال گندم کے پودے کی طرح ہے، جو کبھی گر جاتا ہے اور کبھی کھڑا ہو جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے، جو ہمیشہ سیدھا کھڑا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ گر جاتا ہے، جبکہ اسے کوئی شعور ہی نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۱۶۲) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۴۵، ۴۶ (انظر: ۱۴۷۶۱)
Explanation
فوائد: …اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مومن اپنے نفس کو بطور عاریہ لی ہوئی ایک چیز سمجھے، اس کو لذات و شہوات سے دور رکھے، مصائب و حوادث کا محور سمجھے، نیز اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کے نفس کو تو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس طرح سے آزمائشیں اس کے حق میں بہت آسان ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ منافق کا تو سرے سے اس پر نازل ہونے والے امتحانات ہی کم ہوتے ہیں، تاکہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مومن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ان سے متأثر ہونے والا اور عبرت حاصل کرنے والا صرف مؤمن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی تو نہیں ہو گئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیے یہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ نیز وہ ہر آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اسلامی احکام کے مطابق اس کے تقاضے پورا کرتا ہے، اس طرح اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے گندم کا پودا اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنے وجود کے اندر لچک پیدا کرتا ہے، جب سخت ہوا چلتی ہے تو زیادہ جھک جاتا ہے، جب ہلکی ہوا چلتی ہے تو کم جھکتا ہے اور جب ہوا ختم ہو جاتی ہے تو پھر سیدھا ہو کر کھڑا جاتا ہے، وہ یہی روٹین جاری رکھتا ہے، یہاں تک پھل دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور کسان کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی ۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔ یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
162
Sahih
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۶۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلٰی آخِیَّتِہِ یَجُوْلُ ثُمَّّ یَرْجِعُ عَلٰی آخِیَّتِہِ، وَاِنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْہُوْ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَی الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۵۵)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: مؤمن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے، جو حلقہ دار رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہو، وہ گھومتا ہے، لیکن بالآخر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے، بیشک مؤمن بھول جاتا ہے، لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۳) تخریج: اسنادہ ضعیف ۔ أخرجہ ابویعلی: ۱۱۰۶، ۱۳۳۲(انظر: ۱۱۳۵۵)
Explanation
فوائد: …اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن گناہوں کی وجہ سے اپنے ربّ سے دور تو ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ اس میں اصل ایمان موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ نادِم ہو جاتا ہے اور توبہ تائب ہو کر پھر سے اپنے ربّ کے قریب ہو جاتا ہے۔
163
Zaeef

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.