ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Book 3 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 3 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: اسلام سہولت والا ہے اور یہ سہولت والے کو ہی نصیب ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، معاذ بن رفاعۃ لین، وابو خلف الاعمی متروک الحدیث ۔ أخرجہ(انظر:)
Explanation
فوائد: …اسلام، میانہ روی اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے، اسی پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرنے کی امید رکھی جاسکتی ہے، اور جو آدمی افراط اور زیادتی ٔ عمل کو پسند کرتا ہے، اس کے بارے میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص اس سلسلے کو برقرار نہ رکھ سکے، پھر ایسے ہی ہوتا ہے اور وہ اتنا غافل ہو جاتا ہے کہ بد عمل لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال اُس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دومسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔
فوائد: …اگرچہ اس وقت دنیا پر اسلام کا خاصہ شہرہ ہے اور اس کو ماننے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بہرحال عملی اور حقیقی اسلام میں کچھ اجنبیت کا احساس پایا جا رہا ہے، اصل دین اور اس کے تقاضے اکثر مسلمانوں کے ہاں غیر متعارف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا عملی ظہور آخری زمانہ میں ہو گا، ممکن ہے کہ ایسا اس وقت ہو جب دجال کے خروج کا وقت قریب آ جائے گا یا جب بہت زیادہ فتنے ظہور پذیر ہو جائیں گے اور کافر اور ظالم لوگ مسلم ممالک پر غالب آ جائے گے، اس وقت اہل ایمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے حرمین شریفین میں پہنچ جائیں گے۔
سیدنا عبد الرحمن بن سَنَّہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طر ف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا بھذہ السیاقۃ، اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروۃ متروک ویوسف بن سلیمان واہ، قالہ ابن حجر(انظر: ۱۶۶۹۰)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین اپنی ابتداء کے وقت بھی نامانوس تھا اور عنقریب یہ نامانوس ہو جائے گا، پس اس کو اپنانے والے نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث دین کے بجائے اسلام کے لفظ کے ساتھ بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: کسی نے کہا: نامانوس کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلوں (اور رشتہ داروں) سے دور ہو جانے والے۔
Takhreej
(۱۶۸) تخریج: صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۲۹، وابن ماجہ: ۳۹۸۸ (انظر: ۳۷۸۴)
Explanation
فوائد: …ایسے مختصر افراد کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اپنے قبیلوں میں رہ کر اسلامی احکام کی مراد پوری کر سکیں، لہٰذا وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھر بار کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
یا پھر مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات و تعلقات کے لحاظ سے لوگ سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اگرچہ ان کی رہائش گاہیں الگ نہ ہوں گی۔
علقمہ مزنی کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطابؓکی مجلس میں تھا، انھوں نے ایک شخص سے کہا: اے فلاں! تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا(پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا: اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔
فوائد: …لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلام کو عروج ملا اور بہت عروج ملا، پھر اہل اسلام مختلف فتنوں میںمبتلا ہو گئے، یہ سلسلہ کسی نہ کسی انداز میں ابھی تک جاری ہے، لیکن پھر ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ روئے زمین پر صرف ایک مذہب ہوگا، جس کو اسلام کہتے ہیں، اس کے بعد پھر زوال شروع ہو گا اور بالآخر صفحۂ ہستی سے اسلام کا نام ہی مٹ جائے گا اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت برپا ہو گی۔
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔ اس نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہر گز نہیں ہو گا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔
فوائد: …اسلام کے عروج و زوال کی جو صورتیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں، اُن کو اس حدیث کا مصداق بنایا جا سکتا ہے، پہلی دو صدیوں میں ہی مسلمانوں کی آپس کی قتل و غارت کی حیران کن مثالیں موجود ہیں۔ وَاللّٰہَ نَسْأَلُ الْعَافِیَۃَ۔
۔ (دوسری سند) اس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے کے بعد یہ الفاظ ہیں: امام زہری نے امام سفیان پر یہ الفاظ پڑے: أَسَاوِدَ صُبًّا ، اور امام سفیان نے کہا: بڑا اور کالا سانپ جو بلند ہوتا ہے۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ مؤمن ہو گا، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو جائے گا اور اپنے ربّ سے ڈرے گا اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ کر دے گا۔
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔
فوائد: …سبحان اللہ! جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے، تو کئی صدیوں سے اکثر مسلم آبادی میں اس کے آثار مٹ چکے ہیں اور اب نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے نماز کو بھی منہدم کر دیا ہے، لیکن دھوکے کی بات یہ ہے کہ وہ بزعم خود پھر بھی کامل مسلمان ہیں۔
سیدنا فیروز دیلمیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی احکام کو ایک ایک کر کے گرا دیا جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے ایک ایک لڑی کرتے کرتے رسی کو توڑ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۷۴) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۸۰۳۹)
Explanation
فوائد: …کہیں شرک غالب آیا، کہیں بدعت کو عروج ملا، کہیں سنتیں مفقود ہوئیں، کہیں بے پردگی عام ہوئی، کہیں مردو زن کا اختلاط ظاہر ہوا، کہیں زنا عام ہوا، کہیں رشوت نے رقص کیا، کہیں سود نے پنجے گاڑھے، کہیں اسلامی حدود کے ساتھ استہزا کیا گیا، کہیں اہل علم کی رسوائی ہوئی، کہیں مربیّ لوگوں کا زوال ہوا، قتل و غارت گری، چوری و ڈاکہ زنی، عصمت دری، ظلم و ستم، انسانیت کی طبقوں میں تقسیم، نمودو نمائش، اسلام کے ارکان و فرائض کی ادائیگی سے بدترین غفلت …، یقین مانیں کوئی ایسا قابل تعریف فعل یا قول نہ رہا، جس کو چھوڑا نہ گیا ہو اور کوئی ایسی قابل مذمت کاروائی نہیں رہی، جس کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن بسرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے ایک بات سنی تھی، جب تو بیس یا اس سے کم یا زیادہ لوگوں میں ہو اور پھر ان کے چہروں کو غور سے دیکھے، اگر ان میں تجھے ایک چہرہ بھی ایسا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہو، تو جان لینا کہ ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔
فوائد: …یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے،ویسے سیدنا عبد اللہ بن بسرؓکی سنی ہوئی ایک بات ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب محبت و مودّت اور نفرت و عداوت کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات نہ رہے تو دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں بیان کی، میں نے ایک کا مصداق تو دیکھ لیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان کیا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی اصل میں داخل ہوئی، پھر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے قرآن مجید اور سنت کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بتلاتے ہوئے فرمایا: آدمی سوئے گا اور اس کے دل سے یہ امانت کھینچ لی جائے گی اور ہلکے سے نشان اور دھبّے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، پھر جب اس کے دل سے رہی سہی امانت کو اٹھا لیا جائے گا تو چھالے اور آبلے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے تو انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکائے اور پھر تو اس کے نتیجے میں ورم کے نشان دیکھے، جب کہ اس میں کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کرنے کے لیے ایک کنکری کو اپنے پاؤں پر لڑھکایا، پھر فرمایا: پھر لوگ خریدو فروخت تو کریںگے، لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا، جوامانت ادا کرے گا، حتی کہ لوگ کہیں گے: بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی ہے، (لیکن یہ شہادت بھی اس طرح کی ہو گی کہ) لوگ ایک آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہیں گے: وہ کس قدر باہمت و با استقلال ہے، وہ کیسا زیرک اور خوش اسلوب آدمی ہے، وہ کتنا عقل مند شخص ہے، جبکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔ پھر سیدنا حذیفہؓ نے کہا: ایک زمانہ ایسا تھا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے سودا کر رہا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میری امانت لوٹانے پر مجبور کرتا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو اس سے جزیہ وصول کرنے والا میرا حق لوٹا دیتا تھا، لیکن یہ زمانہ، تو اس میں میں صرف اور صرف فلاں فلاں آدمی سے لین دین کروں گا۔
فوائد: …یقین مانیں کہ اس وقت بازاروں میں عدم اعتمادی کی یہی صورتحال ہے، جن لوگوں نے دوکانیں اور مکانات کرائے پر دے رکھے ہیں، ان کو یہی خطرہ رہتا ہے کہ کرایہ دار قبضہ نہ کر لے، کوئی کسی کو اس وجہ سے ادھار دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل کلاں انکاری ہو جائے۔ نیز ایسے ایسے لوگوں کو امانتدار، غیر جانبدار اور انصاف پسندکہا جا رہا ہے، جو بیچارے اسلامی شعائر اور ارکان سے محروم ہوتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے اُن کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہااور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Takhreej
(۱۷۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۵۴(انظر: ۳۷۳۰)
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی ،اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Takhreej
(۱۷۹) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …علامہ عظیم آبادی نے کہا: اسلام کی چکی گھومنا، اس کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں: (۱) اکثر کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد بغیر کسی نقص کے نبوت کے منہج اور خلافت کا جاری رہنا، خلفاء کے معاملات کا مستقیم رہنا، حدود کو نافذ کرنا اور شرعی احکام کو رواج دینا ہے۔ (۲) اس سے مراد لڑائی اور قتل و غارت گری ہے۔ (عون المعبود: ۱۱/ ۲۲۰)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: خطیب رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: تَدُوْرَ رُحٰی اْلِاسْلَامِ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مرادی معنی یہ ہے کہ اس مدت کے بعد اسلام میں کوئی عظیم سانحہ رونما ہو گا، جو اہل اسلام کے لیے خطرہ ہو گا۔ جب کسی معاملے میں تغیر پیدا ہوتا ہے یا وہ تبدیل ہوتا ہے تو دَارَتْ رَحَاہ (اس کی چکی گھوم گئی) کہتے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے شروع میں مدتِ خلافت کے ختم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔ یَقُمْ لَھُمْ دِیْنُھُمْ کے معانی ہیں: مسلمانوں کی بادشاہت اور سلطنت قائم رہے گی، کیونکہ دین کا اطلاق بادشاہت اور سلطنت پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا کَانَ لِیَاْخُذَ أَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ} (سورۂ یوسف: ۷۶) … وہ (حضرت یوسف ؑ) اپنے بھائی کو بادشاہ کی بادشاہت کے قانون کے مطابق نہیں رکھ سکتے تھے۔
سیدنا حسن بن علی ؓ کی سیدنا معاویہ ؓ کی بیعت کرنے سے لے کر مشرق سے بنو امیہ کی بادشاہت ختم ہونے تک تقریبا ستر سال بنتے ہیں۔ امام طحاوی نے کہا: شک کی بنا پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنا پر پینتیس یا چھتیس یا سینتیس کہا گیا، جو پینتیس برس کی صورت میں ظاہر ہوا،اس عرصے کے بعد (اہل مصر) نے سیدنا عثمان ؓ کا محاصرہ کر لیا، حتی کہ ان کو شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت امت میں اختلاف و افتراق کا سبب ٹھہری، اس کے بعد اگر کوئی ہلاک ہوا تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہو گا، بہرحال اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا اور اس کی تلافی کرتے ہوئے اس امت میں ایسے افراد کو قائم رکھا، جنھوں نے دین کی حفاظت کی۔ (صحیحہ: ۹۷۶) ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: زمانۂ ہجرتِ نبوی سے لے کر خلفائے ثلاثہ (سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ) کی خلافت کی انتہا تک پینتیس سال بنتے ہیں، اس
میں عوام و خواص کا کوئی اختلاف نہیں ہے، اس عرصے کے بعد سیدنا عثمان ؓ کو قتل کر دیا گیا، پھر چھتیسویں سال کو جنگ ِ جمل کا اور سینتیسویں سال کو جنگ ِ صفین کا واقعہ پیش آیا … خطابی نے کہا: چکی گھومنے سے مراد جنگ و جدل اور قتل و غارت گری ہے، تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح چکی دانے کو پیستی ہے، اس طرح اس عرصے کے بعد لوگوں کی جانیں ہلاک ہونا شروع ہو جائیںگی، … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو یہ خبر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پینتیس یا چھتیس یا سینتیس تک (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کی طرح) دین پر قائم رہیں گے، پھر اختلاف کی وجہ سے افتراق و انتشار پڑ جائے گا، اس کے بعد اگر کوئی ہلاک ہوا تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہو گا۔ لیکن اگر مسلمانوں کا معاملہ پھر سے ایک امیر کی اطاعت اور حق کی تائید کی طرف لوٹ آیا تو وہ ستر سال تک جاری رہے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۹/ ۲۹۰۔ ۲۹۲)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کا اندازہ لگا لیا تھا۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا، پھر اسی دن پر اپنا نور ڈالا، جس شخص تک اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جس سے تجاوز کر گیا، وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔
Takhreej
(۱۸۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۷۷(انظر: ۶۶۴۴)
طاوس یمانی کہتے ہیں: جتنے صحابۂ کرام سے میری ملا قات ہوئی، وہ سب کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے سنا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتی کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔
Takhreej
(۱۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۵(انظر: ۵۸۹۳)
Explanation
فوائد: …بے بس کی بے بسی کا اور عقل مند کی عقل کا فیصلہ تقدیر میں ہو چکا ہے۔
سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑکو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، وہ چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی، پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائے اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی، پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والے اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔
Takhreej
(۱۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، تفرد بہ ابو الربیع سلیمان بن عتبۃ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔ أخرجہ البزار: ۲۱۴۴(انظر: ۲۷۴۸۸)