TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Book 3 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 3 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

129 Hadith · 16 Chapters
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۶۴)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اَلْاِسْلَامُ ذَلُوْلٌ لَا یَرْکَبُ اِلَّا ذَلُوْلًا۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۱۶)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: اسلام سہولت والا ہے اور یہ سہولت والے کو ہی نصیب ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، معاذ بن رفاعۃ لین، وابو خلف الاعمی متروک الحدیث ۔ أخرجہ(انظر:)
Explanation
فوائد: …اسلام، میانہ روی اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے، اسی پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرنے کی امید رکھی جاسکتی ہے، اور جو آدمی افراط اور زیادتی ٔ عمل کو پسند کرتا ہے، اس کے بارے میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص اس سلسلے کو برقرار نہ رکھ سکے، پھر ایسے ہی ہوتا ہے اور وہ اتنا غافل ہو جاتا ہے کہ بد عمل لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔
164
Zaeef
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۶۵)۔عَنْ سَعْدٍ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْاِیْمَانَ بَدَأَ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَأَ، فَطُوْبٰی یَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَائِ اِذَا فَسَدَ الزَّمَانُ، وَالَّذِیْ نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ لَیَأْرِزَنَّ الْاِیْمَانُ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْمَسْجِدَیْنِ کَمَاتَأْرِزُ الْحَیَّۃُ فِی جُحْرِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۴)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال اُس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دومسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۵) تخریج: اسنادہ جیّد ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۵۶، والبزار: ۱۱۱۹ (انظر: ۱۶۰۴)
Explanation
فوائد: …اگرچہ اس وقت دنیا پر اسلام کا خاصہ شہرہ ہے اور اس کو ماننے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بہرحال عملی اور حقیقی اسلام میں کچھ اجنبیت کا احساس پایا جا رہا ہے، اصل دین اور اس کے تقاضے اکثر مسلمانوں کے ہاں غیر متعارف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا عملی ظہور آخری زمانہ میں ہو گا، ممکن ہے کہ ایسا اس وقت ہو جب دجال کے خروج کا وقت قریب آ جائے گا یا جب بہت زیادہ فتنے ظہور پذیر ہو جائیں گے اور کافر اور ظالم لوگ مسلم ممالک پر غالب آ جائے گے، اس وقت اہل ایمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے حرمین شریفین میں پہنچ جائیں گے۔
165
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۶۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّۃَؓ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَدَاَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا ثُمَّ یَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَا، فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: ((اَلَّذِیْنَ یُصْلِحُوْنَ اِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَنْحَازَنَّ الاِیْمَانُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کَمَا یَحُوْزُ السَّیْلُ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَأْرِزَنَّ الْاِسْلَامُ اِلَی مَا بَیْنَ الْمَسْجِدَیْنِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَیَّۃُ اِلَی جُحْرِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۱۰)
سیدنا عبد الرحمن بن سَنَّہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طر ف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا بھذہ السیاقۃ، اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروۃ متروک ویوسف بن سلیمان واہ، قالہ ابن حجر(انظر: ۱۶۶۹۰)
166
Zaeef
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۶۷)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الدِّیْنَ بَدَأَ غَرِیْبًا وَ سَیَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۴۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دین اپنی ابتداء کے وقت بھی نامانوس تھا اور عنقریب یہ نامانوس ہو جائے گا، پس اس کو اپنانے والے نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔
Takhreej
(۱۶۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۵(انظر: ۹۰۵۴)
167
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۶۸)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (بِلَفْظِ) اِنَّ الْاِسْلَامَ فَذَکَرَ مِثْلَہُ وَزَادَ، وَقِیْلَ: وَمَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: ((اَلنُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہی حدیث دین کے بجائے اسلام کے لفظ کے ساتھ بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: کسی نے کہا: نامانوس کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قبیلوں (اور رشتہ داروں) سے دور ہو جانے والے۔
Takhreej
(۱۶۸) تخریج: صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۲۹، وابن ماجہ: ۳۹۸۸ (انظر: ۳۷۸۴)
Explanation
فوائد: …ایسے مختصر افراد کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اپنے قبیلوں میں رہ کر اسلامی احکام کی مراد پوری کر سکیں، لہٰذا وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھر بار کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ یا پھر مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات و تعلقات کے لحاظ سے لوگ سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اگرچہ ان کی رہائش گاہیں الگ نہ ہوں گی۔
168
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۶۹)۔عَنْ عَلْقَمَۃَ الْمُزَنِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: یَا فُلَانُ! کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْعَتُ الْاِسْلَامَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْاِسْلَامَ بَدَأَ جَذْعًا، ثُمَّ ثَنِیًّا، ثُمَّ رَبَاعِیًّا، ثُمَّ سُدَاسِیًّا، ثُمَّ بَازِلًا۔)) فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُوْلِ اِلَّا النُّقْصَانُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۹۵)
علقمہ مزنی کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطابؓکی مجلس میں تھا، انھوں نے ایک شخص سے کہا: اے فلاں! تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا(پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا: اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام راویہ عن الصحابی ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۱۹۲ (انظر: ۱۵۸۰۲)
Explanation
فوائد: …لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلام کو عروج ملا اور بہت عروج ملا، پھر اہل اسلام مختلف فتنوں میںمبتلا ہو گئے، یہ سلسلہ کسی نہ کسی انداز میں ابھی تک جاری ہے، لیکن پھر ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ روئے زمین پر صرف ایک مذہب ہوگا، جس کو اسلام کہتے ہیں، اس کے بعد پھر زوال شروع ہو گا اور بالآخر صفحۂ ہستی سے اسلام کا نام ہی مٹ جائے گا اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت برپا ہو گی۔
169
Zaeef
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۷۰)۔عَنْ کُرْزِ بْنِ عَلْقَمَۃَ الْخُزَاعِیِّؓ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِیٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ لِلْاِسْلَامِ مُنْتَہًی؟ قَالَ: ((نَعَمْ، أَیُّمَا أَہْلِ بَیْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِمْ خَیْرًا أَدْخَلَ عَلَیْہِمُ الْاِسْلَامَ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ کَأَنَّہَا الظُّلَلُ، قَالَ الْأَعْرَابِیُّ: کَلَّا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَلَّا وَاللّٰہِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَلٰی وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَتَعُوْدُنَّ فِیْہَا أَسَاوِدَ صُبًّا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۲)
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔ اس نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہر گز نہیں ہو گا۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔
Takhreej
(۱۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۲۹۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۳، والحاکم: ۱/ ۳۴ (انظر: ۱۵۹۱۷)
Explanation
فوائد: …اسلام کے عروج و زوال کی جو صورتیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں، اُن کو اس حدیث کا مصداق بنایا جا سکتا ہے، پہلی دو صدیوں میں ہی مسلمانوں کی آپس کی قتل و غارت کی حیران کن مثالیں موجود ہیں۔ وَاللّٰہَ نَسْأَلُ الْعَافِیَۃَ۔
170
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۷۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ ((یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)) وَقَرَأَ عَلٰی سُفْیَانَ قَالَ الزُّہْرِیُّ: أَسَاوِدَ صُبًّا، قَالَ سُفْیَانُ: الْحَیَّۃُ السَّوْدَائُ تَنْصَبُّ أَیْ تَرْتَفِعُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۱۲)
۔ (دوسری سند) اس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے کے بعد یہ الفاظ ہیں: امام زہری نے امام سفیان پر یہ الفاظ پڑے: أَسَاوِدَ صُبًّا ، اور امام سفیان نے کہا: بڑا اور کالا سانپ جو بلند ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۷۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
171
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وَ زَادَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَأَفْضَلُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِی شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِیْ رَبَّہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۴)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ مؤمن ہو گا، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو جائے گا اور اپنے ربّ سے ڈرے گا اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ کر دے گا۔
Takhreej
(۱۷۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
172
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وَ زَادَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَأَفْضَلُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِی شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِیْ رَبَّہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۴)
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۷۳) تخریج: اسنادہ جیّد ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۴۸۶، وابن حبان: ۶۷۱۵(انظر: ۲۲۱۶۰)
Explanation
فوائد: …سبحان اللہ! جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے، تو کئی صدیوں سے اکثر مسلم آبادی میں اس کے آثار مٹ چکے ہیں اور اب نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے نماز کو بھی منہدم کر دیا ہے، لیکن دھوکے کی بات یہ ہے کہ وہ بزعم خود پھر بھی کامل مسلمان ہیں۔
173
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۷۴)۔عَنِ ابْنِ فَیْرُوْزٍ الدَّیْلَمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیُنْقَضَنَّ الْاِسْلَامُ عُرْوَۃً عُرْوَۃً کَمَا یُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّۃً قُوَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۰۲)
سیدنا فیروز دیلمیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی احکام کو ایک ایک کر کے گرا دیا جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے ایک ایک لڑی کرتے کرتے رسی کو توڑ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۷۴) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۸۰۳۹)
Explanation
فوائد: …کہیں شرک غالب آیا، کہیں بدعت کو عروج ملا، کہیں سنتیں مفقود ہوئیں، کہیں بے پردگی عام ہوئی، کہیں مردو زن کا اختلاط ظاہر ہوا، کہیں زنا عام ہوا، کہیں رشوت نے رقص کیا، کہیں سود نے پنجے گاڑھے، کہیں اسلامی حدود کے ساتھ استہزا کیا گیا، کہیں اہل علم کی رسوائی ہوئی، کہیں مربیّ لوگوں کا زوال ہوا، قتل و غارت گری، چوری و ڈاکہ زنی، عصمت دری، ظلم و ستم، انسانیت کی طبقوں میں تقسیم، نمودو نمائش، اسلام کے ارکان و فرائض کی ادائیگی سے بدترین غفلت …، یقین مانیں کوئی ایسا قابل تعریف فعل یا قول نہ رہا، جس کو چھوڑا نہ گیا ہو اور کوئی ایسی قابل مذمت کاروائی نہیں رہی، جس کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
174
Sahih
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
۔ (۱۷۵)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍؓ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِیْثًا مُنْذُ زَمَانٍ اِذَا کُنْتَ فِی قَوْمٍ عِشْرِیْنَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَکْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِی وُجُوْہِہِمْ فَلَمْ تَرَ فِیْہِمْ رَجُلًا یُہَابُ فِی اللّٰہِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۳۱)
سیدنا عبد اللہ بن بسرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے ایک بات سنی تھی، جب تو بیس یا اس سے کم یا زیادہ لوگوں میں ہو اور پھر ان کے چہروں کو غور سے دیکھے، اگر ان میں تجھے ایک چہرہ بھی ایسا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہو، تو جان لینا کہ ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔
Takhreej
(۱۷۵) تخریج: اسنادہ حسن، لکنہ لیس بحدیث نبوی کما توضحہ روایۃ الطبرانی ۔ أخرجہ الطبرانی فی الشامیین : ۱۰۰۸، ۱۰۰۹، والبیھقی فی الشعب : ۹۰۷۸(انظر: ۱۷۶۷۹)
Explanation
فوائد: …یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے،ویسے سیدنا عبد اللہ بن بسرؓکی سنی ہوئی ایک بات ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب محبت و مودّت اور نفرت و عداوت کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات نہ رہے تو دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔
175
Sahih
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
۔ (۱۷۶)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؓ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثَیْنِ قَدْ رَأَیْتُ أَحَدَہُمَا وَ أَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَۃَ نَزَلَتْ فِی جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ وَ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّۃِ،ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَۃِ فَقَالَ: ((یَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَۃَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَکْتِ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ کَجَمْرٍ دَحْرَجْتَہُ عَلٰی رِجْلِکَ فَتَرَاہُ مُنْتَبِرًا وَلَیْسَ فِیْہِ شَیْئٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَصًا فَدَحْرَجَہُ عَلٰی رِجْلِہِ قَالَ: ((فَیُصْبِحُ النَّاسُ یَتَبَایَعُوْنَ لَا یَکَادُ أَحَدٌ یُؤَدِّی الْأَمَانَۃَ حَتَّی یُقَالَ: اِنَّ فِیْ بَنِیْ فُـلَانٍ رَجُلًا أَمِیْنًا حَتّٰی یُقَالَ لِلرَّجُلِ:مَا أَجْلَدَہُ وَ أَظْرَفَہُ وَ أَعْقَلَہُ وَمَا فِیْ قَلْبِہِ حَبَّۃٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِیْمَانٍ۔)) وَلَقَدْ أَتٰی عَلَیَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِیْ أَیَّکُمْ بَایَعْتُ، لَئِنْ کَانَ مُسْلِمًا لَیَرُدَّنَّہُ عَلَیَّ دِیْنُہُ وَلَئِنْ کَانَ نَصْرَانِیًّا أَوْ یَہُوْدِیًّا لَیَرُدَّنَّہُ عَلَیَّ سَاعِیْہِ، فَأَمَّا الْیَوْمَ فَمَا کُنْتُ لِأُبَایِعَ مِنْکُمْ اِلَّا فُلَانًاوَ فُلَانًا۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۴۴)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کی، میں نے ایک کا مصداق تو دیکھ لیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں بیان کیا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی اصل میں داخل ہوئی، پھر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے قرآن مجید اور سنت کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بتلاتے ہوئے فرمایا: آدمی سوئے گا اور اس کے دل سے یہ امانت کھینچ لی جائے گی اور ہلکے سے نشان اور دھبّے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، پھر جب اس کے دل سے رہی سہی امانت کو اٹھا لیا جائے گا تو چھالے اور آبلے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے تو انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکائے اور پھر تو اس کے نتیجے میں ورم کے نشان دیکھے، جب کہ اس میں کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضاحت کرنے کے لیے ایک کنکری کو اپنے پاؤں پر لڑھکایا، پھر فرمایا: پھر لوگ خریدو فروخت تو کریںگے، لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا، جوامانت ادا کرے گا، حتی کہ لوگ کہیں گے: بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی ہے، (لیکن یہ شہادت بھی اس طرح کی ہو گی کہ) لوگ ایک آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہیں گے: وہ کس قدر باہمت و با استقلال ہے، وہ کیسا زیرک اور خوش اسلوب آدمی ہے، وہ کتنا عقل مند شخص ہے، جبکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔ پھر سیدنا حذیفہؓ نے کہا: ایک زمانہ ایسا تھا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے سودا کر رہا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میری امانت لوٹانے پر مجبور کرتا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو اس سے جزیہ وصول کرنے والا میرا حق لوٹا دیتا تھا، لیکن یہ زمانہ، تو اس میں میں صرف اور صرف فلاں فلاں آدمی سے لین دین کروں گا۔
Takhreej
(۱۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۹۷، ۷۰۸۶، ۷۲۷۶، ومسلم: ۱۴۳ وروایۃ البخاری مختصرۃ (انظر: ۲۳۲۵۵)
Explanation
فوائد: …یقین مانیں کہ اس وقت بازاروں میں عدم اعتمادی کی یہی صورتحال ہے، جن لوگوں نے دوکانیں اور مکانات کرائے پر دے رکھے ہیں، ان کو یہی خطرہ رہتا ہے کہ کرایہ دار قبضہ نہ کر لے، کوئی کسی کو اس وجہ سے ادھار دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل کلاں انکاری ہو جائے۔ نیز ایسے ایسے لوگوں کو امانتدار، غیر جانبدار اور انصاف پسندکہا جا رہا ہے، جو بیچارے اسلامی شعائر اور ارکان سے محروم ہوتے ہیں۔
176
Sahih
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
۔ (۱۷۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَدُوْرُ رَحَی الْاِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: عَلٰی رَأْسِ خَمْسٍ) وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ قَدْ ہَلَکَ وَاِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضٰی أَمْ مِمَّا بَقِیَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۳۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے اُن کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہااور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Takhreej
(۱۷۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۵۴(انظر: ۳۷۳۰)
177
Sahih
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
۔ (۱۷۸)۔ (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مَضٰی أَمْ مَا بَقِیَ؟ (مسند احمد)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی مستقل یا مستقل اتنا عرصہ ہے
Takhreej
(۱۷۸) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
178
Sahih
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
۔ (۱۷۹)۔ (وَ عَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَحَی الْاِسْلَامِ سَتَزُوْلُ بِخَمْسٍ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَکَسَبِیْلِ مَنْ ہَلَکَ وَ اِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبِمَا مَضَی أَمْ بِمَا بَقِیَ؟ قَالَ: بَلْ بِمَا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۷)
۔ (تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی ،اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Takhreej
(۱۷۹) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …علامہ عظیم آبادی نے کہا: اسلام کی چکی گھومنا، اس کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں: (۱) اکثر کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد بغیر کسی نقص کے نبوت کے منہج اور خلافت کا جاری رہنا، خلفاء کے معاملات کا مستقیم رہنا، حدود کو نافذ کرنا اور شرعی احکام کو رواج دینا ہے۔ (۲) اس سے مراد لڑائی اور قتل و غارت گری ہے۔ (عون المعبود: ۱۱/ ۲۲۰) امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: خطیب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: تَدُوْرَ رُحٰی اْلِاسْلَامِ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مرادی معنی یہ ہے کہ اس مدت کے بعد اسلام میں کوئی عظیم سانحہ رونما ہو گا، جو اہل اسلام کے لیے خطرہ ہو گا۔ جب کسی معاملے میں تغیر پیدا ہوتا ہے یا وہ تبدیل ہوتا ہے تو دَارَتْ رَحَاہ (اس کی چکی گھوم گئی) کہتے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے شروع میں مدتِ خلافت کے ختم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔ یَقُمْ لَھُمْ دِیْنُھُمْ کے معانی ہیں: مسلمانوں کی بادشاہت اور سلطنت قائم رہے گی، کیونکہ دین کا اطلاق بادشاہت اور سلطنت پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا کَانَ لِیَاْخُذَ أَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ} (سورۂ یوسف: ۷۶) … وہ (حضرت یوسف ؑ) اپنے بھائی کو بادشاہ کی بادشاہت کے قانون کے مطابق نہیں رکھ سکتے تھے۔ سیدنا حسن بن علی ؓ کی سیدنا معاویہ ؓ کی بیعت کرنے سے لے کر مشرق سے بنو امیہ کی بادشاہت ختم ہونے تک تقریبا ستر سال بنتے ہیں۔ امام طحاوی نے کہا: شک کی بنا پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنا پر پینتیس یا چھتیس یا سینتیس کہا گیا، جو پینتیس برس کی صورت میں ظاہر ہوا،اس عرصے کے بعد (اہل مصر) نے سیدنا عثمان ؓ کا محاصرہ کر لیا، حتی کہ ان کو شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت امت میں اختلاف و افتراق کا سبب ٹھہری، اس کے بعد اگر کوئی ہلاک ہوا تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہو گا، بہرحال اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا اور اس کی تلافی کرتے ہوئے اس امت میں ایسے افراد کو قائم رکھا، جنھوں نے دین کی حفاظت کی۔ (صحیحہ: ۹۷۶) ملا علی قاری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: زمانۂ ہجرتِ نبوی سے لے کر خلفائے ثلاثہ (سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ) کی خلافت کی انتہا تک پینتیس سال بنتے ہیں، اس میں عوام و خواص کا کوئی اختلاف نہیں ہے، اس عرصے کے بعد سیدنا عثمان ؓ کو قتل کر دیا گیا، پھر چھتیسویں سال کو جنگ ِ جمل کا اور سینتیسویں سال کو جنگ ِ صفین کا واقعہ پیش آیا … خطابی نے کہا: چکی گھومنے سے مراد جنگ و جدل اور قتل و غارت گری ہے، تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح چکی دانے کو پیستی ہے، اس طرح اس عرصے کے بعد لوگوں کی جانیں ہلاک ہونا شروع ہو جائیںگی، … آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے صحابہ کو یہ خبر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پینتیس یا چھتیس یا سینتیس تک (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے دور کی طرح) دین پر قائم رہیں گے، پھر اختلاف کی وجہ سے افتراق و انتشار پڑ جائے گا، اس کے بعد اگر کوئی ہلاک ہوا تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہو گا۔ لیکن اگر مسلمانوں کا معاملہ پھر سے ایک امیر کی اطاعت اور حق کی تائید کی طرف لوٹ آیا تو وہ ستر سال تک جاری رہے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۹/ ۲۹۰۔ ۲۹۲)
179
Sahih
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
۔ (۱۷۹)۔ (وَ عَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَحَی الْاِسْلَامِ سَتَزُوْلُ بِخَمْسٍ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَکَسَبِیْلِ مَنْ ہَلَکَ وَ اِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبِمَا مَضَی أَمْ بِمَا بَقِیَ؟ قَالَ: بَلْ بِمَا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۷)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کا اندازہ لگا لیا تھا۔
Takhreej
(۱۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۳ (انظر: ۶۵۷۹)
180
Sahih
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
۔ (۱۸۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ أَلْقٰی عَلَیْہِمْ مِنْ نُّوْرِہِ یَوْمَئِذٍ،فَمَنْ أَصَابَہُ مِنْ نُوْرِہِ یَوْمَئِذٍ اہْتَدَی وَمَنْ أَخْطَأَہُ ضَلَّ، فَلِذٰلِکَ أَقُوْلُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلٰی عِلْمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۴۴)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا، پھر اسی دن پر اپنا نور ڈالا، جس شخص تک اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جس سے تجاوز کر گیا، وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔
Takhreej
(۱۸۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۷۷(انظر: ۶۶۴۴)
181
Sahih
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
۔ (۱۸۲)۔عَنْ طَائُ وْسٍ بْنِ الْیَمَانِیِّ قَالَ: أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُوْنَ: کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَؓ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزُ وَالْکَیْسُ۔ (مسند أحمد: ۵۸۹۳)
طاوس یمانی کہتے ہیں: جتنے صحابۂ کرام سے میری ملا قات ہوئی، وہ سب کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے سنا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتی کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔
Takhreej
(۱۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۵(انظر: ۵۸۹۳)
Explanation
فوائد: …بے بس کی بے بسی کا اور عقل مند کی عقل کا فیصلہ تقدیر میں ہو چکا ہے۔
182
Sahih
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
۔ (۱۸۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَلَقَ اللّٰہُ آَدَمَ حِیْنَ خَلَقَہُ فَضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُمْنَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً بَیْضَائَ کَأَنَّہُمُ الذَّرُّ وَ ضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُسْرَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً سَوْدَائَ کَأَنَّہُمْ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِیْ فِی یَمِیْنِہِ: اِلَی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَالَ لِلَّذِی فِی کَفِّہِ الْیُسْرٰی: اِلَی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۶)
سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑکو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، وہ چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی، پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائے اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی، پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والے اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔
Takhreej
(۱۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، تفرد بہ ابو الربیع سلیمان بن عتبۃ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔ أخرجہ البزار: ۲۱۴۴(انظر: ۲۷۴۸۸)
183
Zaeef

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.