ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Book 3 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 3 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ (دوسری روایت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں، پس اگر یہ لوگ مر جائیں تو ان کے جنازوںمیں حاضر نہیں ہونا اور اگر یہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہیں کرنی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں بھی مسخ ہو گا (یعنی شکلیں بگڑ جائیں گی)، خبردار! ایسے تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں میں ہو گا۔
Takhreej
(۲۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۵۳، وابن ماجہ: ۴۰۶۱، والترمذی: ۲۱۵۲(انظر: ۵۸۶۷)
Explanation
فوائد: …زندیقوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے ربوبیت اور آخرت کو تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ ہیں جن کے باطن میں کفر ہوتا ہے، لیکن وہ اظہار ایمان کا کرتے ہیں۔
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کی تیمارداری نہیں کرنی اور اگر کوئی مر جائے تو اس کے جنازے میں حاضر نہیں ہونا، یہ لوگ دجال کے پیروکار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اِن کو اُسی کے ساتھ ملا دے۔
Takhreej
(۲۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر مولی غفرۃ ضعیف وقد اضطرب فی اسنادہ، وفیہ رجل مبھم ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۹۲ (انظر: ۲۳۴۵۶)
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نافرمان و بد سلوک، ہمیشہ شراب پینے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۲۲۷) تخریج: حسن لغیرہ دون قولہ: ولامکذب بقدر فقد تفرد بھا سلیمان بن عتبۃ الدمشقی وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۷۶ مختصرا (انظر: ۲۷۴۸۴)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور لوگ تقدیر کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ یوں لگا کہ انار کا دانہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر پھٹ گیا ہے (یعنی غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلے والے لوگ ہلاک ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے تھے، اس میں حاضر نہ ہونے کا اتنا رشک کبھی نہیں ہوا تھا، جو اس مجلس کے بارے میں ہوا کہ کاش میں اس میں موجود نہ ہوتا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کا مصداق بننے سے بچ جاتا)۔
Takhreej
(۲۲۸) تخریج: صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۸۵(انظر: ۶۶۶۸)
Explanation
فوائد: …تقدیر کے بارے میں غلط نظریات کے مختلف انداز یہ ہیں: اگر ساری چیزوں کے وقوع پذیر ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ تقدیر سے متعلقہ ہے، تو پھر ثواب و عقاب کا کیا تک بنتا ہے؟سوال ہو ا کہ ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں، اس کی کیا حکمت ہے؟ جوا ب دیا گیا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اختیار اور قوت دی ہے۔ لیکن کہا گیا کہ ان کو یہ قوت و اختیار اور نیکی یا برائی کرنے کی قدرت کس نے عطا کی ہے؟ تقدیر میںجو کچھ طے پا چکا ہے، بندہ ویسے ہی کرنے پر مجبور ہے، اس کو اپنی پسند یا ناپسند کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ برائیاں کر رہے ہیں تو یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کیا ہے، اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ بندے اپنے افعال کے خود خالق ہیں اور سارے کے سارے معاملات از سرِ نو ترتیب پا رہے ہیں، قضا و قدر کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔
سیدنا عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو۔
فوائد: …مسائل کا تصفیہ ان کی رائے پر مت رکھو۔یہ حقیقت ذہن نشین کر لیں کہ جب عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں فرقے کے لوگ حق پر نہیں ہیں، لیکن اُن میں ان کے مغالطوں کا جواب دینے کی اہلیت نہ ہو تو انہیں ایسے لوگوں کی مجلسوں سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے، مثال کے طور پر مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قادیانیوں کا دعوی بطلان پر مبنی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض سادہ لوح مسلمان ان کے دلائل سے متأثر ہو کر ان کا نظریہ اختیار کر لیتے ہیں، ایسی صورت میں ایسے سادہ مسلمانوں کو اِن لوگوں کی مجالس سے ہی دور رہنا چاہیے۔
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکا شام میں ایک دوست تھا، وہ اِن کو خط لکھتا رہتا تھا، ایک دفعہ سیدنا عبد اللہ ؓ نے ان کی طرف یہ بات لکھی: مجھے تمہارے بارے میں یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم نے تقدیر کے مسئلے پر کچھ (ناجائز) گفتگو کی ہے، اس لیے اب مجھے خط لکھنے سے گریز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔
Takhreej
(۲۳۰) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۱۳(انظر: ۵۶۳۹)
محمد بن عبید مکی کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے کہا: ہمارے پاس ایک آدمی آیا ہے، وہ تقدیر کو جھٹلاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے اس کے پاس لے جاؤ، وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! آپ اس کو کیا کریں گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اس پر قابو پا لیا تو اس کے ناک پر کاٹوں گا، یہاں تک کہ اس کو کاٹ دوں گا اور اگر میرے ہاتھوں میں اس کی گردن آ گئی تو اس کو توڑ دوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: گویا کہ میں بنو فہر کی ان خواتین کو دیکھ رہا ہوں، جو خزرج کا طواف کر رہی ہیں اور ان کے سرین حرکت کر رہے ہیں اور وہ مشرک ہیں۔ یہ اس امت کا پہلا شرک ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان لوگوں کی یہ گھٹیا رائے اِن کو اس مقام تک پہنچا دے گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے بھی نکال دیں کہ اس نے خیر کو مقدّر کیا ہے، جیسا کہ انھوں نے اُس کو اس چیز سے سے نکال دیا کہ اس نے شرّ کو مقدّر کیا ہے۔
Takhreej
(۲۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف محمد بن عبید المکی (انظر: ۳۰۵۴)
ابن عون کہتے ہیں: میں نے غَیلان قدری کو دیکھا تھا، اس حال میں کہ اس کو بابِ دمشق پر پھانسی دی ہوئی تھی۔
Takhreej
(۲۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۵۸۸۱)
Explanation
فوائد: …غیلان بن ابو غیلان دمشقی پہلا قدَری تھا، اس کا گھر دمشق میں تھا، عمر بن عبد العزیز نے اس کے نظریۂ تقدیر کی وجہ سے اس کی ملامت کی تھی، چنانچہ یہ اس نظریے سے رک گیا تھا، لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو اس نے اپنے نظریے کی اشاعت شروع کر دی، یہ باقاعدہ لوگوں کو فتوے دینے لگ گیا اور اس نے ۱۱۶ ھ میں ہشام بن عبد الملک کے ساتھ حج ادا کیا۔ امام اوزاعی کہتے ہیں: ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے دوران غیلان قدری ہمارے پاس آیا اور تقدیر کے موضوع پر اس نے گفتگو شروع کر دی، یہ ایک منہ پھٹ شخص تھا، نتیجتاً لوگوں نے اس پر طعن کیا اور ہشام کو اس پر ناراض کر دیا، چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کو قتل کرکے سولی پر لٹکا دیا جائے۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۳۵۱)