ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Book 3 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 3 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی عرصۂ دراز تک جنتی لوگوں والے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جہنمی لوگوں والے اعمال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو آگ والوں میں سے بنا دیتا ہے، دوسری طرف ایک آدمی کافی عرصے تک آگ والے لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں کے افعال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو اہل جنت میں سے بنا دیتا ہے۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر اس چیز میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم (کسی کے اچھے عمل کی وجہ سے)اس پر خوش نہ کیے جاؤ، یہاں تک کہ تم دیکھ لو کہ کس عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل کرنے والا اپنی عمر کے طویل حصے میں یا کچھ زمانے میں ایسے نیک عمل کرتا ہے کہ اگر ان پر اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا،لیکن ہوتا یوں ہے کہ وہ اپنی روٹین تبدیل کر لیتا ہے اور برے عمل شروع کر دیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کچھ عرصہ تک ایسے برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی حالت میں اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا، لیکن پھر وہ بدل جاتا ہے اور نیک عمل شروع کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کی موت سے پہلے استعمال کر لیتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس کو کیسے استعمال کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کو نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے اور پھر اس کو اس (اچھے عمل) پر موت دے دیتا ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ جہنمی لوگوں والے عمل شروع کردیتا ہے اور اسی حالت پر مرجاتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ایک آدمی جہنمی لوگوں والے عمل کررہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جنتی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو وہ پہلی حالت سے منتقل ہو جاتا ہے اور اہل جنت کے عمل شروع کر دیتا ہے اور اسی حالت پر مر کر جنت میں داخل ہو جاتاہے۔
فوائد: …نیک اعمال کی روٹین سے اللہ تعالیٰ سے استقامت اور انجام بخیر کی دعا کرنی چاہیے، یہ بہت بڑی بد نصیبی ہو گی کہ آدمی زندگی بھر نیک عمل کرتا ہے، لیکن آخری چند دنوں کی بدعملی کی وجہ سے جنت سے محروم ہو جائے۔
ابو نضرہ کہتے ہیں: ایک صحابی بیمار ہوا، جب اس کے ساتھی اس کی تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگ گیا، کسی نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تو کیوں رو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اپنی مونچھوں کو کاٹ دے، پھر اسی حالت پر برقرار رہنا، یہاں تک کہ مجھے آ ملے۔ ؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی ہوا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری اور کہا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں، پھر دوسرے ہاتھ سے ایک مٹھی بھری اور کہا: یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۔
سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں سے دو مٹھیاں بھریں اور کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہے: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی، جو صغیرہ گناہوں سے زیادہ ملتی جلتی ہو، اس چیز کی بہ نسبت، جس کو سیدنا ابو ہریرہؓ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کے ہر بیٹے پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پا لے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا ہے اور چاہتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔
سیدنا ابو خزامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔
Takhreej
(۱۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف علی خطأ فیہ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۸، وابن ماجہ: ۳۴۳۷ (انظر: ۱۵۴۷۲)
Explanation
فوائد: …لیکن یہ بات درست ہے کہ مختلف بیماریاں اور ان کے علاج کے لیے کوئی دوا کھانا یا دم کروانا، اِن سب چیزوں کا تعلق تقدیر سے ہے، اللہ تعالیٰ نے خود مختلف اسباب استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: اولڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھانے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ذریعے نفع دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اس کو اپنے سامنے پائے گا، جب بھی تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب بھی تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نفع نہیں دیں سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا ہے، اسی طرح اگر پوری امت تجھے کوئی نقصان دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکے گی،مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا، قلمیں اٹھا لی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے: تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو پہنچان کے رکھ، وہ تنگ دستی میں تجھے پہنچان لے گا، پس اگر ساری مخلوق تجھے کسی ایسی چیز کا فائدہ دینے کا ارادہ کر لے، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں نہیں لکھی تو (وہ جو… مرضی کر لیں، بہرحال) ان کو یہ قدرت نہیں ہو گی، اسی طرح اگر وہ تجھے ایسا نقصان دینے پر تُل جائیں، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیبے میں نہیں لکھا، تو وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھیں گے، تو جان لے کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے۔
فوائد: …یہ عقیدے کی پختگی ہو گی کہ مختلف جسمانی اور روحانی آزمائشوں سے بچنے کے لیے جائز اسباب استعمال کرنے کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، اگر وسائل کی کمی کے باوجود کافروں سے جہاد کرنے کی نوبت آ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جانا چاہیے، کسی بیماری کے علاج کے جائز اسباب استعمال کرنے چاہئیں، لیکن شفا کے معاملے میں توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے، ان د و احادیث میں مذکورہ باقی نصیحتیں بھی اس لائق ہیں کہ ان کا بغور مطالعہ کر کے ان کو اپنایا جائے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمؑ اور موسیؑ کا جھگڑا ہونے لگا، موسیؑ نے کہا: اے آدم! تم ہمارے باپ ہو ، تم نے ہمیں ناکام کیا اور جنت سے نکال دیا، ایک روایت میں ہے: تم وہ آدم ہو کہ جس کو اس کی غلطی نے جنت سے نکال دیا؟ آدمؑ نے کہا: اے موسی! تم وہی ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور اپنی رسالت کے ساتھ منتخب فرمایا اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی، اب کیا تم مجھے ایسی چیز پر ملامت کرتے ہو، جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس برس پہلے میرے حق میں لکھ دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح آدمؑ، موسیؑ پر غالب آ گئے، آدمؑ، موسیٰؑ پر غالب آ گئے۔
فوائد:… یہاں چند گزارشات کو بیان کرنا ضروری ہے:
کسی آدمی کو تقدیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے ہاں معذور نہیں سمجھا جائے گا، اللہ تعالیٰ کے ہاں مؤاخذہ کرنے کے اور معاف کرنے کے قوانین الگ ہیں اور لوگوں میں کون ہے کہ جس کو تھپڑ لگے یا اس کا کوئی اور نقصان ہو جائے اور وہ اس بنا پر معاف کر دے کہ چلو یہ تھپڑ میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا۔ اگر کسی سے کوئی برائی ہو جائے اور پھر اس برائی کی وجہ سے اس کا نقصان بھی ہو جائے تو ایسے شخص کو اس کی برائی کی بنا پر طعنہ مارنا اور اس کی مذمت کرنا شرعا درست نہیں ہے، بالخصوص اس وقت کہ جب وہ توبہ تائب بھی ہو چکا ہو۔ آدمؑ نے موسیؑ کو جو جواب دیا، وہ جواب الزامی تھا، بہرحال ان دونوں انبیاء کی بحث توعالم برزخ میں ہو رہی تھی، جو سرے سے تکلیف کا عالَم ہی نہیں ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی ایک پر بھی ملامت نہیں کی جا سکتی۔
سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابن آدم کی سعادت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے اور یہ بھی ابن آدم کی خوش بختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جائے اور یہ ابن آدم کی بدبختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب نہ کرے اور اس میں بھی اس کی شقاوت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناراض ہو جائے۔
Takhreej
(۱۹۴) تخریج: اسنادہ ضعیف ، محمد بن ابی حمید الانصاری الزرقی متفق علی ضعفہ ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۵۱ (انظر: ۱۴۴۴)
سیدنا صہیب بن سنانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے حق میں جو فیصلہ کیا، مجھے اس پر تعجب ہے، بیشک مؤمن کا سارے کا سارا معاملہ خیر والا ہے اور یہ (اعزاز) صرف مؤمن کے لیے ہے، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن پر تعجب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کے لیے خیر ہے۔
فوائد: …جائز اسباب کے استعمال کے بعد ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے اور ہر آزمائش پر صبر کرنا چاہیے اور ماضی پر پچھتاوے کی بجائے مستقبل کے لیے نتیجہ خیز لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، مثلا اگر کسی بد احتیاطی یا معصیت کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا بے عزتی ہو جاتی ہے تو آئندہ کے لیے احتیاط کرے اور نافرمانیوں سے بچے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوںکے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
فوائد: …یہ تقدیر کے وہی معاملات ہیں، جن کی تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار قبل جن کو تحریر کر دیا گیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ اس موقع پر ہر بندے کی علیحدہ فائل تیار کر دی جاتی ہے، اگلی دو احادیث میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتاہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے ربّ! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلاتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل ، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفے کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے سے پانچ چیزوں سے فارغ ہو گیا ہے، اس کی موت، رزق، عمر اور بدبختی یا خوش بختی۔
فوائد: …تقدیر کے اس نظام کے باوجود بندے سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خیر و بھلائی کا طالب بنے اور اس کے حصول کی کوشش کرے اور اپنے دامن کو شرّ و فساد والے امور سے بچائے۔
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے کہا: ہم لوگ مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اب جب تم ان کو ملو تو ان کو یہ بتلا دینا کہ عبد اللہ بن عمر ان سے اور وہ اِن سے بری ہیں، انھوں نے تین دفعہ یہ بات کہی، پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، پھر اس کی حالت بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مزید قریب ہو جا۔ وہ اور قریب ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور قریب ہو جاؤ۔ پس وہ اتنا قریب ہو گیا کہ اس کے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کو مسّ کرنے لگے، پھر اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر، وہ خیر والی ہو یا شرّ والی، پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غسلِ جنابت کرنا اسلام ہے۔ ہر دفعہ اس نے جواب میں کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو اس سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توقیر کرنے والا ہو، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم دے رہا ہے، بہرحال اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ہر دفعہ ہم کہتے: ہم نے ایسا آدمی نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توقیر کرنے والا ہو، پھر اس نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں، اچھا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تو مسئول، سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ اس نے کہا: آپ سچ کہہ رہے ہیں، اس نے کئی دفعہ یہ بات کہی، ہم نے اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے زیادہ عزت کرنے والا پایا، پھر وہ چلا گیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی موصول ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو تلاش کرو۔ لیکن صحابہ اس کو تلاش نہ کر سکے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے، پہلے تو جس صورت میں آتے تھے، میں اِن کو پہچان لیتا تھا، ما سوائے اس صورت کے، (آج میں اِن کو نہیں پہچان سکا)۔
Takhreej
(۲۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۹۷، وقال الترمذی فی السنن : ۵/ ۸: روی ھذا الحدیث عن ابن عمر، عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والصحیح: عن ابن عمر عن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ وأخرجہ عن عمر مسلم: ۸۔ (انظر: ۳۷۴)
۔ (دوسری سند)یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے کہا: ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ معاملہ ان کے اختیار میں ہے، پس اگر وہ چاہیں تو عمل کرلیں اور چاہیں تو نہ کریں، آگے سے سیدنا ابن عمرؓ نے کہا: ان کو یہ اطلاع دے دوکہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ پھر انھوں نے کہا: جبرائیلؑ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ امور سر انجام دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں۔ پھر انھوں نے پوچھا: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: پس جب میں اس طرح کروں گا، تو کیا میں صاحب ِ احسان ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، پھر انھوں نے کہا: اچھا یہ بتائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے، جنت، جہنم اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ۔ انھوں نے کہا: پس جب میں اس طرح کروں گا تو میں مؤمن بن جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں۔