سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں وضو کرے گا۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر وہ اس سے غسل کرے گا۔ یہ الفاظ یَتَوَضَّأُ کی جگہ پر ہیں۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کھڑے پانی میں پیشاب نہ کر، جو چلتا نہیں ہے، پھر تو اس میں غسل کرے گا۔
Takhreej
(۳۹۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ۔)) فَقَالُوْا: یَا اَبَاھُرْیَرَۃَ کَیْفَ یَفْعَلُ؟ قَالَ: یَتَنَاوَلُُہٗ تَنَاوُلًا … کوئی آدمی ساکن پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوہریرہ! تو پھر وہ کیا کرے؟ انھوں نے کہا: وہ وہاں سے پانی لے کر (نہا لے)۔ اور سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَلَایَغْتَسِلْ فِیْہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ)) … کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز نہ پیشاب کرے اور نہ اس میں غسل کرے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ساکن پانی میں پیشاب کرنا اور غسل جنابت کرنا منع ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پانی قلتین سے کم ہوا تو نجس ہو جائے گا اور اگر قلتین سے زیادہ ہوا تو ممکن ہے کہ اس میں پیشاب وغیرہ کرنے کا انجام یہ نکلے کہ اس کا ذائقہ یا بو یا رنگ تبدیل ہو جائے اور اس طرح وہ بھی ناپاک ہو جائے، اگر وہ ناپاک نہ بھی ہو تو فطرت ِ سلیمہ ایسے کرنے کو ناپسند کرتی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے (اور ایک روایت میں ہے کہ پی جائے) تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔
محمد بن جعفر سے اس برتن کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں کتا منہ ڈال جاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے سعیدنے ایوب سے اور انھوں نے ابن سیرین سے بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ۔
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تو کتوں کو قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو اور کتوں کو کیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکاری اور بکریوں کے رکھوالے کتے کی رخصت دے دی اورفرمایا: اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے لتھیڑو۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہو گا کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو وہ اس کو سات دفعہ دھوئے۔
Takhreej
(۴۰۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ان روایات سے واضح طور پر یہ ثابت ہوا کہ جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو پہلی دفعہ مٹی سے مانجھ کر سات دفعہ پانی سے دھویا جائے، اُوْلٰھُنَّ کے الفاظ راجح ہیں، اگر برتن میں موجودہ چیز مائع ہو تو اس کو ضائع کر دیا جائے اور اگر وہ جامد ہو تو متاثرہ حصے کو نکال کر پھینک دیا جائے، جیسا کہ وہ حدیث ہے، جس میں برتن میں چوہے کے گر جانے کا ذکر ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓنے خود ایسے برتن کو تین دفعہ دھونے کا حکم دیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی اجتہادی رائے ہو، لہٰذا مرفوع روایت پر ہی عمل کرنا چاہیے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اہل و عیال کے بغیر، نوجوان تھا اور عہد ِ نبوی میں مسجد میںرات گزارتا تھا، کتے (مسجد میں) آتے جاتے رہتے تھے، لیکن وہ اس سے (پانی کے) چھینٹے نہیں مارتے تھے۔
فوائد:…اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اگر ہوا یا سورج کی وجہ سے نجاست کے آثار زائل ہوجائیں تو زمین پاک ہو جائے گی، جبکہ زمین کے اندر بھی نجاست کو ختم کر دینے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، امام ابوداود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فی طھور الارض اذا یبست … (جب زمین خشک ہوجائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے)امام مبارکپوریؒ نے کہا: استدلال ابی داود بھذا الحدیث علی ان الارض تطھر بالجفاف صحیح‘ لیس فیہ عندی خدشۃان کان فیہ لفظ تبول محفوظا ولامخالفۃ بین ھذا الحدیث وحدیث الباب فانہ یقال: ان الارض تطھر بالوجھین اعنی بصب الماء علیھاوبالجفاف والیبس بالشمس او الھواء واللہ تعالیٰ اعلم۔ یعنی اگر تبول کے الفاظ محفوظ ہیں تو اس حدیث سے امام ابوداود کا یہ استدلال صحیح ہے کہ زمین خشک ہونے سے پاک ہو جاتی ہے‘ مجھے اس میں کوئی خدشہ نہیں‘ یادرہے کہ اِس حدیث اور باب میں مذکور (سیدنا انسؓ والی مذکورہ بالا) حدیث اور (سیدنا ابو ہریرہ ؓ کی اعرابی والی حدیث، جس کے مطابق اعرابی کے مسجد میں کیے گئے پیشاب پر پانی گرایا گیا تھا) میں کوئی تضاد اور مخالفت نہیں‘ کیونکہ یہ کہنا ممکن ہے کہ زمین پاک ہونے کے دوطریقے ہیں: اس پر پانی بہادیا جائے یا وہ سورج اور ہوا کے ذریعے خشک ہو جائے۔ واللہ اعلم
(تحفۃ الاحوذی: ۱/۱۳۹)
جب مسجد ِ نبوی میں ایک صحابی نے پیشاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر پانی کا ڈول انڈیل دینے کا حکم دیا تھا، لیکن اس حدیث میں اس چیز کا اہتمام نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کتا پیشاب کرتا ہے تو اس کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ زمین پر چھینٹے پڑتے ہیں، جن کے آثار جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ کتوں کا مسجد ِ نبوی میں گھس آنا، اس امر پر اس آدمی کو کوئی تعجب نہیں ہو گا، جس کا گھر ایسے گاؤں میں ہو، جس میں موجود مسجد کی چاردیواری اور دروازے نہ ہوں، جبکہ وہ مسجد کچی بھی ہو، دراصل خیال رکھنے کے باوجود ایسی مساجد میں بسا اوقات ایسے جانور گھس آتے ہیں، اب بھی ایسی صورتحال موجود ہے کہ گاؤں میں جب کسی مسجد کا دروازہ کھلا رہ جائے تو مرغیاں اور بلیاں صفوں پر اور صحن میں گندگی پھیلا دیتے ہیں اور اگر رات کو دروازہ کھلا رہ جائے تو بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ جنگلی درندے مسجد میں گندگی پھیلا جاتے ہیں، اب جس مسجد کی چاردیواری ہی نہ ہو، اس کا معاملہ تو واضح ہی ہے، جیسے دروازہ کھلا رہ جانے کا یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا ہے کہ وہاں کے نمازی محتاط نہیں ہیں، اسی طرح اس حدیث سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ صحابۂ کرام اس چیز کو برقرار رکھتے تھے کہ کتے مسجد میں آتے جاتے رہیں اور پیشاب کرتے رہیں۔ جن احادیث میں متاثرہ جگہ کو کھودنے کا حکم دیا گیا ہے‘ وہ ناقابل حجت اور ضعیف ہیں۔
سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک ؓ، جو سیدنا ابن ابی قتادہؓکی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی کہ سیدنا ابو قتادہ ؓاس کے پاس آئے اور اس نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈال کر رکھا، اتنے میں ایک بلی آ گئی اور اس نے اس برتن سے پینا شروع کر دیا، انھوں اس کے لیے برتن کو جھکایا، یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ سیدہ کبشہ ؓ کہتی ہیں: جب انھوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں توانھوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تجھے تعجب ہو رہا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن ابو طلحہ ؓکی بیوی بیان کرتی ہے کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ نے بلی کے لیے برتن کو جھکایا، پس اس نے پانی پیا، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن ابو قتادہ ؓاپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا، اس میں سے بلی نے پیا، لیکن انھوںنے اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا: اے ابو قتادہ! اس سے تو بلی نے پیا ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلی تو گھر والوں میں سے ہے اور یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۴۰۴) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۴۰۲
Explanation
فوائد:…بلا شک و شبہ بلی حرام جانوروں میں سے ہے، لیکن ان روایات سے پتہ چلا کہ اس کا جوٹھا پاک ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو۔ (سورۂ نور: ۵۸) خادم اور مالک کو آپس میں ہر وقت ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی ضرورت ِ عامہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے غلاموں کو اس آیت میں یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ تین مخصوص اوقات کے علاوہ بغیر اجازت لیے اپنے مالکوں کے پاس آ سکتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ بلی کا ہے، اس کے مزاج میں اتنی مانوسیت ہے کہ یہ بکثرت گھر کے اندر آتی جاتی رہتی ہے، بلکہ رات کو گھر کے افراد کے پاس بستروں میں گھس آتی ہے اور اس کی یہ عادت بھی ہے کہ جہاں تک اس کا بس چلتا ہے، یہ برتنوں کے اندر گھستی رہتی ہے، پس شریعت نے غلاموں کی طرح اس کے لیے بھی رخصت نکال دی اور اس کے جوٹھے کو پاک قرار دیا اور پھر اس رخصت کے تقاضے کے مطابقت اس جانور کو صفائی پسند بنا دیا، مثلا کوئی چیز کھانے کے بعد منہ کو زمین پر رگڑنا اور اپنی گندگی پر پنجوں کے ذریعے مٹی ڈالنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔