۔ (تیسری سند) عہد ِ نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خواتین و حضرات یا صرف خواتین یا صرف مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن سے بے پردگی کا ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وضو کایہ واقعہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے کا ہو، یا محرم رشتہ دار اس طرح وضو کرتے ہوں، یا غیر محرم اپنی نظروں کی حفاظت کے ساتھ اکٹھے وضو کر لیتے ہوں۔ اس باب میں ان احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ وضو یا غسل سے بچا ہوا پانی طاہر اور مطہِّر ہے، کیونکہ جب ایک آدمی ایک برتن سے وضو یا غسل شروع کرتا ہے تو وہ پانی دوسرے آدمی کیلئے تو اس کی طہارت سے بچا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود دوسرا آدمی اسی پانی سے وضو اور غسل کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائے مستعمل خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے۔
سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر ؓپیدل چل کر میرے پاس آئے، جبکہ میں بے ہوش تھا، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا، پس مجھے افاقہ ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں بھی ہیں؟ پس میراث والی یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ } سیدنا جابر کی اولاد نہیں تھیں، بہنیں تھیں ، {اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ}
سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنامروان بن حکمؓ صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں کا قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، جبکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی وضو کرتے ہیں تو وہ (اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی) کی طرف لپکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی تھوکتے ہیں تو وہ اس کو لینے کے لیے بھی بڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو بال گرتا ہے ، وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔
سیدنا ابوجحیفہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت نکلے اور وضو کیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو چھونا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (بطورِ سترہ) برچھی تھی۔
حُمید بن عبد الرحمن حِمْیَری کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ ؓکی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا ، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یابیوی، خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند، بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھے نہا لیں)۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا، اب وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت کے وضو سے بچا ہوا پانی مراد تھا، یا اس کا جوٹھا۔
بنو غفار کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۳۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… لیکن ان احادیث سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ وہ پانی نجس ہو جاتا ہے یا مطہِّر نہیں رہتا، کیونکہ اگلے باب کی احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ام المؤمنین کے جنابت والے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کیا ہے، اگر محض غسل کرنے سے پانی کی طہوریت میں فرق آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو غسل یا وضو نہ کرتے۔ دراصل ان احادیث ِ مبارکہ میں انسان کی طبع کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسے پانی سے تنزیہی طور پر منع کیا گیا ہے، وگرنہ اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ ان تین چار ابواب میں مذکورہ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگر اس نہی کی بنیاد ی وجہ پانی کے استعمال شدہ ہونے کو قرار دیا جائے تو پہلی حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو نہ فرماتے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔ کیونکہ ایک برتن میں ایک وقت میں وضو اور غسل کرنے والے ایک دوسرے کا بچا ہوا پانی استعمال کرتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ نے کہا: مجھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو گئی، پس میں نے ایک ٹب سے غسل کیا اور کچھ پانی بچ گیا، پس جب رسول اللہ غسل کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میں نے اس پانی سے (جنابت والا) غسل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس سے پانی پر جنابت کا حکم نہیں آتا۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی چیز پانی کو پلید نہیں کرتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے غسل کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، پس جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کے غسلِ جنابت سے بچے ہوئے پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔
Takhreej
(۳۸۶) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۲(انظر: ۲۶۸۰۱)
Explanation
فوائد:… اِن واضح احادیث کی روشنی میں پچھلے باب کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مزید کچھ روایات درج ذیل بھی ہیں:سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ((کَانَ یُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ الْمَعِیْنُ)) … نظر لگانے والے کو وضو کرنے کا حکم دیا جاتا، پھر اس پانی سے وہ آدمی غسل کرتا، جس کو نظر لگی ہوتی تھی۔ (ابوداود: ۳۸۸۰)
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر اترے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور سیدنا ابو ذر ؓپانی کا ایک ٹب لے آئے، مجھے اس میں آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، پھر انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پردہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعتیں ادا کیں، یہ چاشت کا وقت تھا۔
Takhreej
(۳۸۷) تخریج: حدیث صحیح دون قصۃ ابی ذر مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، فان المطلب بن عبد اللہ بن حنطب کثیر التدلیس والارسال، وھو لم یلق ام ھانیء ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۹۸۷، وفی الاوسط : ۷۳۱، وھو فی الصحیح خلا قصۃ ابی ذر وستر کل واحد منھما الآخر (انظر: ۲۶۸۸۷)
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ میمونہ ؓکا اکٹھا غسل کرنا، یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور سیدہ میمونہ ؓسے مروی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آٹے کے نشانات والے برتن سے غسل کرنا، یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے اور سیدہ ام ہانی ؓسے مروی ہے۔ ہم نے حدیث نمبر (۳۶۲)کی شرح میں مائے مطلق اور مائے نسبتی کے موضوع پر بحث کی ہے، وہاں اس حدیث کا ذکر بھی کیا ہے، محولہ مقام کی طرف رجوع کریں۔
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بئرِ بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے رہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے بئرِ بُضاعہ سے پانی پلایا تھا۔
Takhreej
(۳۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ام محمد بن ابی یحیی۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۳۲، وابویعلی: ۷۵۱۹، والطبرانی فی الکبیر : ۶۰۲۶، والبیھقی: ۱/ ۲۵۹(انظر: )
Explanation
فوائد:… بنوساعدہ کے محلے یا کنویں کے مالک یا اس مقام کا نام بُضَاعہ تھا، وہاں ایک کنواں تھا، جس کو بئرِ بُضَاعہ کہتے تھے۔ بدبودار چیزیں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کنواں ایسی جگہ پر واقع تھا کہ اس قسم کی متأثرہ چیزیں ہوا یا پانی کے بہاؤ کے ذریعے اس میں گرجاتی تھی، اس تاویل کی وجہ یہ ہے کہ ذی شعور لوگوں سے اس قسم کی حرکت کی توقع نہیں جا سکتی، جبکہ وہ تو پاکیزہ ترین شخصیات کا دور تھا۔ امام ابو داود نے سنن میں کہا: قتیبہ بن سعیدنے اس کنویں کے نگران سے اس کی گہرائی کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: اس کا زیادہ سے زیادہ پانی شرمگاہ تک آ جاتا ہے اور جب پانی کم پڑ جاتا ہے، تو پردہ والی جگہ سے نیچے تک رہتا ہے۔ امام ابو داود مزید کہتے ہیں: میں نے اپنی چادر کے ذریعے اس کنویں کے عرض کی پیمائش کی اور اس کو چھ ہاتھ چوڑا پایا، پھر میں نے باغ کا دروازہ کھولنے والے سے پوچھا کہ کیا اس کی ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے، اس نے کہا: جی نہیں، البتہ میں نے دیکھا کہ اس کے پانی کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کنویں کی چوڑائی (9) فٹ تھی اور اگر اس کی لمبائی اور گہرائی (3.5) فٹ تسلیم کر لی جائے تو یہ تقریبا (3200) لٹر پانی بنتا ہے۔اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ اس کنویں کا پانی مائے کثیر کی مقدار سے کہیں زیادہ تھا اور کثیر پانی کے بارے میں قانون یہ ہے کہ نجاست کے گرنے کی وجہ سے جب تک اس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہیں ہو گا، وہ اس وقت تک پاک رہے گا۔ مائے کثیر اور مائے قلیل کی وضاحت اگلے باب میں کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پانی کے بارے میں سوال کیا گیا جو جنگل میں ہو اور جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قُلّوں کے بقدر ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا (یعنی نجاست کو قبول نہیں کرتا)۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو یا تین قُلّوں کے بقدر پانی ہو تو کوئی چیز اس کو پلید نہیں کر سکتی۔ وکیع کہتے ہیں: قُلّہ سے مراد مٹی کا گھڑا ہے۔
Takhreej
(۳۹۲) حدیث صحیح، وھذا اسناد جید دون قولہ: اوثلاث ، قال الحاکم: وقد رواہ عفان بن مسلم وغیرہ من الحفاظ، عن حماد بن سلمۃ ولم یذکروا فیہ: او ثلاث ۔ وقال البیھقی: وروایۃ الجماعۃ الذین لم یشکوا اولی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۱۸، وأخرجہ دون قولہ: اوثلاث ابوداود: ۶۵، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۷۵۳)
Explanation
فوائد:… اب ہم مائے کثیر اور مائے قلیل کے فرق اور ان کی مقدار کا تعین کرتے ہیں، اگرچہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک کثیر اور قلیل پانی کے درمیان حد فاصل حدیث ِ قلتین ہے، ہم بھی اسی نظریے کے قائل ہیں، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: مائے کثیر (کثیر پانی): وہ ہے جو دو قلے یا اس سے زیادہ ہو‘ ایسا پانی نجاست کے گرنے سے بھی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا ‘ جب تک اِس نجاست کی وجہ سے اس کا ذائقہ‘ یا رنگ‘ یا بو تبدیل نہیں ہو جاتی۔ مائے قلیل (قلیل پانی): وہ ہے جو دو قلوں (بڑے مٹکوں)سے کم ہو‘ ایسا پانی معمولی نجاست کے گرنے سے بھی ناپاک ہو جاتا ہے‘ اس کا ذائقہ‘ یا رنگ‘ یا بو تبدیل ہو یا نہ ہو۔
مذکورہ بالا تعیین درج ذیل احادیث کی روشنی میں کی گئی ہے:(۱)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((طُھُوْرُ اِنَائِ اَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِیْہِ الْکَلْبُ اَنْ یَّغْسِلَہٗ سَبْعَ مَرَّاتٍ‘ اُوْلَاھُنَّ بِالتُّرَابِ۔)) …سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال لے‘ تو اسے پاک کرنے کیلئے سات دفعہ دھویا جائے‘ پہلی دفعہ مٹی سے مانجھا جائے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پانی کو انڈیل دے۔ (صحیح مسلم: ۲۷۹)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قلیل پانی کتے کے منہ ڈالنے سے علی الاطلاق پلید ہو جاتا ہے‘ اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ گھروں میں عام برتنوں کی مقدار دو قلوں سے کم ہوتی ہے۔(۲)اس باب کی پہلی حدیث، جس میں دو قلوں کا ذکر ہے۔ (۳)ممکن ہے کہ بلی کے جوٹھے کا بیان کے عنوان میں مذکورہ احادیث سے بھی یہ استدلال کیا جا سکے، کیونکہ صحابہ یہی سمجھ رہے تھے کہ بلی نجس ہے، لہٰذا اس کا جوٹھا بھی نجس ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کی بلی نجس نہیں ہے، جبکہ بلیاں گھروں میں جن برتنوں میں منہ ڈالتی ہیں، وہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ (۴) جس حدیث ِ مبارکہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جامد چیز میں مر جانے والے چوہے کے ارد گرد والی متأثرہ چیز کو پھینک دینے اور مائع چیز کے قریب نہ جانے کا حکم دیا ہے، اس سے بھی یہ استدلال کیا جائے گا کہ تھوڑی مقدار کی چیز نجس ہو جاتی ہے، کیونکہ عام طور پر اس قسم کی چیزیں قلیل مقدار میں ہوتی ہیں، یہ حدیث نمبر (۴۳۸) میں آ رہی ہے۔علامہ عبد الحئی لکھنوی نے (السعایۃ: ۱/۳۷۷) میں کہا: ہر طرف نظر دوڑانے سے یہی ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے‘ ہر قسم کے معارضہ‘ اجماع کی مخالفت‘ نسخ وتاویل وغیرہ سے سالم ہے۔ اور (عمدۃ الرعایۃ: ۱/۸۱) میں کہا: قلتین والی مقدار صحیح حدیث سے ثابت ہے‘ دہ در دہ (10×10 ہاتھ تالاب) پر کوئی دلیل شرعی نہیں ہے۔
جناب رشید احمد گنگوہی نے کہا: جس حدیث سے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے حجت پکڑی ہے‘ وہ جیّد الاسناد اور قابل اعتماد ہے‘ اس کے بارے میں جو احناف نے جواب دیئے ہیں‘ ان سے طبیعتِ سلیمہ راضی نہیں ہوتی‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ تعسف ہے۔ (الکوکب الدری: ۱/۴۰،۴۳ بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ۲/۱۷۵)
جن لوگوں نے اس کو مضطرب قرار دیا، تھذیب السنن لابن القیم، تحفۃ الاحوذی اور تعلیق ترمذی لاحمد شاکر میں ان کا جواب دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جب تک نجاست کی وجہ سے دو قلے یا اس سے زائد پانی کے اوصاف (رنگ، ذائقہ، بو) تبدیل نہیں ہوتے‘ اس وقت تک پانی پاک رہتا ہے‘ محدثین اور فقہاء اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ نجاست کی وجہ سے اوصاف بدلنے کی صورت میں پانی پلید ہوجائے گا۔
قلے (مٹکے) کا تعین
ابو عبید قاسم بن سلام نے کہا: المراد القلۃ الکبیرۃ اذ لو اراد الصغیرۃ لم یحتج لذکر العدد فان الصغیرتین قد ر واحدۃ کبیرۃ ویرجع فی الکبیرۃ الی العرف عن اھل الحجاز والظاھر ان الشارع علیہ السلام ترک تحدیدھما علی سبیل التوسعۃ والعلم محیط بانہ ما خاطب الصحابۃ الا بما یفھمون فانتفی الاجمال۔ … حدیث میں قلتین سے مراد بڑا مٹکا ہے‘ اگر اس سے مراد چھوٹا مٹکا ہو تا تو دو مٹکوں کی قیدکی کوئی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ دو مٹکے ایک بڑے میں سما سکتے ہیں‘ رہا اِس بڑے مٹکے کے تعین کا مسئلہ تو اسے اہل حجاز کے عرف کی روشنی میں سمجھیں گے‘ معلوم یہی ہو تا ہے کہ شارع نے وسعت کے پیشِ نظر ان کی حدبندی نہیں کی‘ لیکن اتنا تو معلوم ہے کہ صحابہ کرام سے وہی خطاب کیا جائے گا جو وہ سمجھیں گے‘ لہٰذا اس مسئلے میں کوئی اجمال نہ رہا۔ (تحفۃ الاحوذی:۱/۷۰)
ازہری نے کہا: القلال مختلفۃ فی قری العرب وقلال ھجر اکبرھا وقلال ھجر مشہورۃ الصنعۃ معلومۃ المقدار والقلۃ لفظ مشترک وبعد صرفھا الی احد معلوماتھا وھی الاوانی تبقی مترددۃ بین الکبار والصغار والدلیل علی انھا من الکبار جعل الشارع الحد مقدارا بعدد فدل علی انہ اشار الی اکبرھا لانہ لا فائدۃ فی تقدیرہ بقلتین صغیرتین مع القدرۃ علی تقدیرہ بواحدۃ کبیرۃ۔ … عرب کی بستیوں میں قلوں کے مختلف سائز تھے‘ ہجر علاقے کے قلے سب سے بڑے تھے‘ یہ مخصوص ڈیزائن اور مخصوص مقدار والے ہوتے تھے‘ قلہ ایک مشترک لفظ ہے جو چھوٹے اور بڑے قلوں کو شامل ہے‘ لیکن حدیث میں اس سے مراد بڑے قلے ہیں‘ کیونکہ شارع علیہ السلام نے ایک تعداد (یعنی دو عدد قلوں) کے ساتھ حدبندی کی ہے‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قلہ مراد ہے‘ کیونکہ ایک بڑے قلے کے باوجود دو چھوٹے قلوں کی مقدار کا تعین بے فائدہ ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۱/ ۷۰)
رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں: قلہ کے معنی میں اجمال کو لازم قرار دینا محض تحکم ہے، صحابہ کے نزدیک تو قلہ ایک معلوم چیز کا نام تھا‘ اس کی جہالت تم کو کوئی نقصان نہیں دے گی‘ دوسری روایات میں قلال ھجر کے الفاظ آتے ہیں‘ جو اس اجمال کو بیان کر دیتے ہیں۔ (بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ۲/۱۷۳)
علامہ زیلعی حنفی نے کہا: وقال البیہقی فی کتاب المعرفۃ : وقلال ھجر کانت مشہورۃ عند اھل الحجاز، ولشھرتھا عندھم شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما رای لیلۃ المعراج من نبق سدرۃ المنتھٰی… … امام بیہقی نے کتاب المعرفۃ میں کہا کہ حجازیوں کے ہاں ہجر کے قلے مشہور تھے‘اسی شہرت کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہی کے پھل‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو دیکھے تھے‘ کو ہجر کے مٹکوں سے تشبیہ دی۔ (نصب الرایۃ: ۱/۱۱۲)
خلاصہ کلام: …نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ہجر علاقے کے مٹکے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ہجر کے دو قلوں کا وزن
امام صنعانی نے کہا: ہجر کے دو قلے تقریبا پانچ سو رطل کے برابر ہوتے ہیں۔ (سبل السلام: ۱/۴۰) اور ایک رطل (۹۰) مثقال کے برابر ہوتا ہے‘ اس حساب سے (۵۰۰) رطل کا وزن تقریبا (۲۱۰) سیر‘ (۱۵) چھٹانک ہے‘ جو جدید وزن کے مطابق تقریبا (184.700) کلوگرام، یعنی (4) من‘ (24) کلو اور (700) گرام بنتا ہے۔فقہ حنفی میں کثیر پانی کی مقدار کے بارے میں درج ذیل تین آراء پیش کی گئی ہیں، کسی رائے کے حق میں کوئی مرفوع روایت پیش نہیں کی گئی:(۱):دہ در دہ (دس ہاتھ مربع تالاب) (۲):اتنا بڑا تالاب ہو کہ ایک کنارے پر دی گئی حرکت کا اثر دوسرے کنارے تک نہ پہنچے۔ حرکت دینے کی کیفیت کے بارے میں بھی تین مختلف اقوال ہیں:(۳):پانی کی جس مقدار کووضوء کرنے والا اپنی سمجھ کے مطابق کثیر سمجھے۔