TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان - خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 31 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 31 of 35 · 4 Hadith
۔ (۴۰۶۹) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِنِسَائِہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((ہٰذِہِ الْحَجَّۃُ ثُمَّ، (وَفِیْ لَفْظٍ: إِنَّمَا ہٰذِہِ الْحَجَّۃُ، ثُمَّ الْزَمْنَ) ظُہُوْرَ الْحُصْرِ۔)) قَالَ: فَکُنَّ کُلُّہُنَّ یَحْجُجْنَ إِلَّا زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَسَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، وَکَانَتَا تَقُوْلَانِ: وَاللّٰہِ! لَا تُحَرِّکُنَّا دَابَّۃٌ بَعْدَ أَنْ سَمِعْنَا ذٰلِکَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ) بَعْدَ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ہٰذِہِ ثُمَّ ظُہُوْرَ الْحُصْرِ۔)) (مسند احمد: ۹۷۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنی بیویوں سے فرمایا: یہ تمہارا حج ہو گیا ہے، آئندہ تم (اپنے گھروں میں ہی)اپنی چٹائیوں پر بیٹھ جانا۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ساری امہات المومنین حج کے لئے جایا کرتی تھیں ،ماسوائے سیدہ زینب بنت جحش اور سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے، یہ کہا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس ارشاد یہ حج ہے‘ پھر (گھروں میں) اپنی چٹائیوں پر بیٹھ جانا ہے۔ کے بعد (حج کے لئے) سواری پر سوار نہیں ہوں گی۔
Takhreej
(۴۰۶۹) اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۶۴۷، وابویعلی: ۷۱۵۴، والبیھقی: ۵/۲۲۸(انظر: ۹۷۶۵)
4069
Sahih
۔ (۴۰۷۰) عَنْ وَاقِدِ بْنِ أَبِیْ وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِنِسَائِہِ فِیْ حَجَّتِہِ: ((ہٰذِہِ ثُمَّ ظُہُوْرَ الْحُصْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵۰)
۔ سیدنا ابو واقدلیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حج کے موقع پر اپنی بیویوں سے فرمایا تھاکہ یہ حج ہو گیا ہے‘ اس کے بعد (گھروں میں) اپنی چٹائیوں پر (بیٹھ جانا ہے)۔
Takhreej
(۴۰۷۰) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۲۲(انظر: ۲۱۹۰۵)
Explanation
فوائد: …شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امہات المومنین کو یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ اس حج کی ادائیگی کے بعد اب انہیں گھروں میں ہی رہنا چاہیے، کیونکہ حج صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حج صرف ایک دفعہ فرض ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوداود نے اس حدیث کو ’’باب فرض الحج‘‘ میں ذکر کیا۔ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ امہات المومنین کے لیے حجۃ الوداع کے بعد پھر حج کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اس استدلال کے دو جوابات دیئے گئے ہیں: (۱) یہ صرف ایک احتمال ہے، کوئی واضح اور صریح معنی نہیں ہے کہ دوسری نصوص سے ثابت ہونے والے یقینی جواز کو ترک کر دیا جائے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے لیے سب سے بہترین اور خوبصورت جہاد حج مبرور ہے۔‘‘ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: پس میں یہ حدیثسننے کے بعد حج ادا کرنا نہیں چھوڑوں گی۔ ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں، لیکن اس میں لڑنا نہیں ہے، اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ ان احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ ہے کہ جہاد جس طرح مردوں پر فرض ہے، اس طرح عورتوں پر فرض نہیں ہے، یہ معنی نہیں کہ جہاد کے لیے ان کا نکلنا ہی حرام ہے، کیونکہ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورتیں زخمیوںکا علاج کرنے کے لیے نکلتی تھیں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حج کی ترغیب پر مشتمل ان احادیث سے یہ سمجھیں کہ وہ بار بار حج کر سکتی ہیں۔ اس لیے اُن دلائل کی روشنی میں ’’ھذہ ثم ظہور الحصر‘‘ اور {وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ} (سورۂ احزاب: ۳۳) کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔شروع شروع میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے بھی توقف اختیار کیا (اور امہات المومنین کو حج کرنے سے منع کر رکھا تھا)، پھر ان کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی دلیل کے قوی ہونے کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنے دور خلافت کے آخر میں امہات المومنین کو حج کرنے کی اجازت دی، پھر سیدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے بھی اپنے عہد میں ان کو حج کرایا تھا۔ امام بیہقی نے کہا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی دلیل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیدنا ابو واقد کی حدیث ((ھٰذِہٖثُمَّظُھُوْرُالْحُصْرِ))سےآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں پر بھی صرف ایک دفعہ حج ادا کرنا فرض ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کو آئندہ حج ادا کرنے سے منع نہیں کر رہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کو واجبی طور پر گھروں میں ٹھہرنے کا حکم نہیں دے رہے، یہی بات فتح الباری میں ہے۔ (۲)سیدنا ابو واقد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث میں نہی سے مراد یہ ہے کہ امہات المومنین آئندہ حج ترک کر سکتی ہے، یہ معنی نہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے بعد حج ہی ادا نہیں کر سکتیں، کیونکہ انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد حج ادا کیا تھا، …۔ (عون المعبود: ۱/ ۸۵۲) رحم اللہ شارحی الحدیث النبوی رحمۃ واسعۃ۔
4070
Sahih
۔ (۴۰۷۱) عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ: أَلَا نُجَاہِدُ مَعَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَکِ أَحْسَنُ الْجَہَادِ وَأَجْمَلُہُ، الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ أَبَدًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُ ہٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۰۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: کیا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کے لئے نہیں جا سکتیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے ایک انتہائی حسین و جمیل جہاد ہے اور وہ ہے حج مبرور۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں کبھی بھی حج نہیں چھوڑوں گی۔
Takhreej
(۴۰۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۶۱(انظر: ۲۴۴۹۷)
4071
Sahih
۔ (۴۰۷۲) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوْسِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَی النِّسَائِ جِہَادٌ۔ قَالَ: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ہُوَ جِہَادُ النِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۶۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔
Takhreej
(۴۰۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۰۱(انظر: ۲۴۴۶۳)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کی وضاحت حدیث نمبر (۴۰۶۲) میں ہو چکی ہے۔
4072
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.