TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4296 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 10 in this chapter
بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا
برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أنْ يعرضَ على إِنائِه عوداً ويذكرَ اسمَ اللَّهَ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْت بَيتهمْ»
اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کے منہ باندھو ، دروازے بند رکھو ، چراغ گل کر دو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا اور نہ بند دروازے کھولتا ہے اور نہ ہی کسی برتن سے ڈھکنا اٹھاتا ہے ، اور اگر تم میں سے کوئی لکڑی کے سوا کوئی چیز نہ پائے تو وہ اسے ہی عرض کے بل اس پر رکھ دے اور اللہ کا نام لے ، وہ ایسے ضرور کرے ، کیونکہ چوہیا گھر کو اہل خانہ سمیت جلا دیتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
4296
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۹۶ / ۲۰۱۲) ۔ 5246

Related Chapters

246
1
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
3
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Matters That Are Not Clear
باب: مشتبہ چیزوں کو ترک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Price Fixing
باب: چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Reeds And The Like
باب: بانس وغیرہ سے ذبح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Eating From Utensils Of The Disbelievers
باب: کفار و مشرکین کے برتنوں میں کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Covering The Vessels, And Extinguishing The Torches And Fires Prior To Sleeping
باب: سوتے وقت برتن ڈھانپنے اور چراغ اور آگ کے بجھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related Permitting That Nabidh Be Prepared Ibn Containers
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
17
Chapter: 'Whoever Comes To The Door Of The Sultan He Will Suffer A Fitnah'
باب: فتنوں میں پڑنے والی چیزوں کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Whoever Guards Most Against The Unlawful, Then He Is The Most Worshiping Among The People
باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About : 'The Heart Of an Old Man Remains Young Because of Love For Two Things'
باب: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال
Jam e Tirmazi
20
باب: حوض کوثر کے برتنوں کے وصف کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Islam Is Based Upon Five.
باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: The Supplication: “O Allah, I Seek Refuge In You From Sadness And Grief”
باب: بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: About Waiting For Relief And Other Than That
باب: کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان
Jam e Tirmazi
25
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
Mishkat
26
بَابُ مَا يَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ
کن کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے
Mishkat
27
بَاب مَا يجتنبه الْمحرم
احرام والا کن چیزوں سے اجتناب کرے
Mishkat
28
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
Mishkat
29
بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ
ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے
Mishkat
30
گزشتہ باب کے متعلقات (میراثِ نبوی ﷺ وغیرہ) کا بیان
Mishkat
31
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
32
کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
Musnad Ahmad
33
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
34
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
Musnad Ahmad
36
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
Musnad Ahmad
37
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
39
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
40
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
Musnad Ahmad
42
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
43
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
Musnad Ahmad
44
میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
45
جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان
Musnad Ahmad
46
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
Musnad Ahmad
48
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
49
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
50
مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

13
Sahih Muslim
5246
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Cover vessels, waterskins, close the doors and extinguish the lamps, for the Satan does not loosen the waterskin, does not open the door and does not uncover the vessels. And if one amongst you fails to find (something) to cover it well, he should cover it by placing (a piece of) wood across it. Qutaiba did not mention the closing of the doors in the hadith transmitted by him.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زبیرسے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برتنوں کو ڈھانک دو ، مشکوں کا منہ بند کردو ، دروازہ بند کردو ، اورچراغ بجھادو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کامنہ نہیں کھولتا ، وہ دروازہ ( بھی ) نہیں کھولتا ، کسی برتن کو بھی نہیں کھولتاہے ۔ اگر تم میں سے کسی کو اسکے سوا اور چیز نہ ملے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے بل لکڑی ہی رکھ دے ، یا اس پر اللہ کا نام ( بسم اللہ ) پڑ ھ دے تو ( یہی ) کرلے کیونکہ چوہیا گھروالوں کے اوپر ( یعنی جب وہ اس کی چھت تلے سوئے ہوتے ہیں ) ان کا گھر جلادیتی ہے ۔ " قتیبہ نے اپنی حدیث میں : " اور دروازہ بند کردو " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Sunnan Ibn e Maja
3410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ،‏‏‏‏ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ،‏‏‏‏ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ،‏‏‏‏ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً،‏‏‏‏ وَلَا يَفْتَحُ بَابًا،‏‏‏‏ وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً،‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ،‏‏‏‏ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Cover your vessels, tie your water skins, extinguish your lamps and lock your doors, for Satan does not untie a water skin, open a door or uncover a vessel. If a person cannot find anything but a stick with which to cover his vessel and mention the Name of Allah, then let him do so. And the mouse could set fire to the house with its people inside.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1812
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحِلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ آنِيَةً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ
Narrated Jabir: That the Prophet (ﷺ) said: Close the door, tie the water-skin, turn over the vessel, or cover the vessel, and extinguish the torch. Indeed Ash-Shaitan does not open what is closed, nor undo what is fastened, nor uncover a vessel, but the small vermin may cause a fire in people's houses. He said: There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Abu Hurairah, and Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, and it has been reported through other routes from Jabir.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( سوتے وقت ) دروازہ بند کر لو، مشکیزہ کا منہ باندھ دو، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے، ( اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جابر سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Mishkat
4294
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ جِنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ فَخَلَّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أنْ تعرِضوا عَلَيْهِ شَيْئا وأطفئوا مصابيحكم»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب سورج غروب ہو جائے یا جب تم شام کرو تو اپنے بچوں کو روک لیا کرو ، کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ، لیکن جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو ان (بچوں) کو چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اللہ کا نام لو ، کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا ، اپنے مشکیزے بند رکھو ، ان پر اللہ کا نام لو ، اپنے برتن ڈھانپ کر رکھو ان پر اللہ کا نام لو ، خواہ کوئی معمولی چیز ہی ان پر رکھو اور اپنے چراغ بجھا دیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Muslim
5250
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنْ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: When the wings of the night (spread) or it is night, restrain your children (from going out), for the Satan is abroad at that time, and when a part of the night is passed, free them and shut the doors. making mention of God's name, for the Satan does not open a closed door; and tighten the (mouths of waterskins and mention the name of Allah, cover your utensils and mention the name of Allah even though you should just put something on them, and extinguish your lamps.
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عطاء نے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : جب رات ہو جائے یا فرمایا کہ تم شام کرو تو اپنے بچوں کو ( گھروں میں ) روک لو کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ۔ پھر جب کچھ رات گذر جائے تو بچوں کو چھوڑ دو اور اللہ کا نام لے دروازے بند کر دو کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا ۔ اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا بندھن باندھ دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانک لو اللہ کا نام لے کر ۔ ( اگر برتن ڈھانکنے کے لئے اور کچھ نہ ملے سوا اس کہ ) ان برتنوں کے اوپر کوئی چیز چوڑائی میں رکھو ( تو وہی رکھ دو ) اور اپنے چراغوں کو بجھا دو ۔
Jam e Tirmazi
2857
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَمِّرُوا الْآنِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا جَرَّتِ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ الْبَيْتِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Jabir bin 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Cover the vessels, tie the water-skins, close the doors, extinguish the torches, for indeed the vermin may drag away the wick, causing a fire for the inhabitants of the house.
جابر رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رات میں ) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کر دیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے جابر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے۔
Mishkat
4295
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: قَالَ: «خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِن للجن انتشارا أَو خطْفَة وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتْ الفتيلة فأحرقت أهل الْبَيْت»
اور بخاری کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کو باندھو ، دروازے بند رکھو اور شام کے وقت اپنے بچوں کو اکٹھا کر لو کیونکہ (اس وقت) جن پھیل جاتے ہیں ، اور اچک لیتے ہیں اور سوتے وقت چراغ گل کر دیا کرو کیونکہ بسا اوقات چوہیا چراغ کی بتی کھینچ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Sahih Bukhari
3304
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ مَا أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ وَلَمْ يَذْكُرْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle said, When night falls (or it is evening), keep your children close to you for the devils spread out at that time. But when an hour of the night elapses, you can let them free. Close the doors and mention the Name of Allah, for Satan does not open a closed door.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) جب شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو، کیوں کے شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا، ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بالکل اسی طرح حدیث سنی تھی جس طرح مجھے عطاء نے خبر دی تھی، البتہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ ”اللہ کا نام لو۔“
Sahih Bukhari
3316
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ ، قَالَ : خَمِّرُوا الْآنِيَةَ ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ ، وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ ، وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ ، فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً ، وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ ، فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتِ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ الْبَيْتِ ، قَالَ : ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَبِيبٌ ، عَنْ عَطَاءٍ فَإِنَّ لِلشَّيَاطِينِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet said, Cover your utensils and tie your water skins, and close your doors and keep your children close to you at night, as the Jinns spread out at such time and snatch things away. When you go to bed, put out your lights, for the mischief-doer (i.e. the rat) may drag away the wick of the candle and burn the dwellers of the house. Ata said, The devils. (instead of the Jinns).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے کثیر نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانی کے برتنوں کو ڈھک لیا کرو، مشکیزوں ( کے منہ ) کو باندھ لیا کرو، دروازے بند کر لیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس جمع کر لیا کرو، کیونکہ شام ہوتے ہی جنات ( روئے زمین پر ) پھیلتے ہیں اور اچکتے پھرتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا لیا کرو، کیونکہ موذی جانور ( چوہا ) بعض اوقات جلتی بتی کو کھینچ لاتا ہے اور اس طرح سارے گھر کو جلا دیتا ہے۔“ ابن جریج اور حبیب نے بھی اس کو عطاء سے روایت کیا، اس میں جنات کے بدل شیاطین مذکور ہیں۔