TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Book 154 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 154 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 167 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

167 Hadith · 19 Chapters
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیَّیُحَدِّثُ اَنَّ رَجُلاً اَمَرَتْہُ اُمُّہُ، اَوْ اَبُوْہُ، اَوْ کِلاھُمَا، قَالَ: شُعَبَۃُ،یَقُوْلُ: ذٰلِکَ اَنْیُّطَلِّقَ اِمْرَاَتَہُ، فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِائْۃَ مُحَرَّرٍ، فَاَتٰی اَبَا الدَّرْدَائِ، فَاِذَا ھُوَ یُصَلِّی الضُّحّٰییُطِیْلُھَا، فَصَلّٰی مَابَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَاَلَہُ، فَقَالَ لَہُ اَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَوْفِ بِنَذْرِکَ، وَبَرَّ وَالِدَیْکَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الْوَالِدُ اَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّۃِ، فَحَافِظْ علَی الْوَالِدِ، اَوِ اتْرُکْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۰)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔
Takhreej
(۹۰۰۵) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۸۹ (انظر: ۲۱۷۱۷)
Explanation
فوائد:… سوغلاموں کی آزادی کی نذر ماننے سے اس کا مقصود والدین کو ڈرانا تھا تاکہ وہ طلاق کا حکم دینے سے باز آ جائیں، لیکن معاملہ اس کے الٹ ثابت ہوا۔
9005
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، اَیْضًا قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ اَبَاالدَّرْدَائٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ امْرَاَتِیْ بِنْتُ عَمِّیْ وَاَنَا اُحِبُّھَا، وَاِنَّ وَالِدَتِیْ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَقَالَ: لا آمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَھَا وَلا آمُرُکَ اَنْ تَعْصِیَ وَالِدَتَکَ، وَلٰکِنْ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْوَالِدۃَ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃٍ فَاْنْ شِئْتَ فَاَمْسِکْ وَاِنْ شِئْتَ فَدَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۹)
۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دو، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۰۰۶) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
9006
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: کَانَ فِیْنَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِہٖاُمُّہُاَنْیَتَزَوَّجَ حَتّٰی تَزَوَّجَ، ثُمَّ اَمَرَتْہُ اَنْ یُّفَارِقَھَا فَرَحَلَ اِلٰی اَبِی الدَّرْدَائِ بِالشَّامِ فَقَالَ: اِنَّ اُمِّیْ لَمْ تَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجَتُ ثُمَّ اَمَرَتْنِیْ اَنْ اُفَارِقَ، قَالَ: مَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُفَارِقَ وَمَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُمْسِکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابَ الْجَنَّۃِ فَاَضِعْ ذٰلِکَ الْبَابَ اَوِ احْفَظْ۔)) قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۱)
۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
Takhreej
(۹۰۰۷) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
9007
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ تَحْتِیْ اِمْرَاَۃٌ اُحِبُّھَا، وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَھُہَا، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَاَبَیْتُ، فَاَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اِمْرَاۃً کَرِھْتُھَا لَہُ فَاَمَرْتُہُ اَنْ یُّطَلِّقَھَا فَاَبٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! طَلِّقْ اِمْرَاَتَکَ۔)) فَطَلَّقَھَا۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہُ اَیْضًا) فَقَالَ: ((اَطِعْ اَبَاکَ۔)) (مسند احمد: ۵۰۱۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔
Takhreej
(۹۰۰۸) تخریج:اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۵۱۳۸، وابن ماجہ: ۲۰۸۸، والترمذی: ۱۱۸۹(انظر: ۵۰۱۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی اطاعت، نفس کی خواہش پر مقدم ہے، جب ان کا حکم دین کے زیادہ موافق نظر آ رہا ہو، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ناپسندی کی وجہ عورت کی قلت ِ دین ہو گی۔ اس حدیث میں والدین کی اطاعت کی ایک مثال بیان کی گئی ہے، امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھا: یہ واضح دلیل تقاضا کرتی ہے کہ جب باپ اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دے تو وہ ان کے حکم پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اگرچہ اس کو اپنی بیوی سے محبت ہو، کیونکہیہ محبت والدین کے حکم کے سامنے عذر نہیں بن سکتی، اس حدیث میںصرف باپ کا ذکر ہے، لیکن ماں کے حکم کی بھییہی حیثیت ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری حدیث میں یہ وضاحت فرما دی ہے کہ بیٹے پر اس کے باپ کی بہ نسبت اس کی ماں کا حق زیادہ ہے۔(تحفۃ الاحوذی) ہاں اگر والدین کے حکم کی بنیاد دینی و اخلاقی بنیادوں پر نہ ہو تو ادب و احترام سے ان کو سمجھایا جائے تاکہ وہ بھی راضی ہو جائیں اور خواہ مخواہ عورت پر بھی ظلم نہ ہو، وگرنہ والدین کے حکم کو بیوی پر ترجیح دے کر اس کو رخصت کر دیا جائے۔ لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنے بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔
9008
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۹)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ، اَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِیَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ اَنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ وَالِدَیْکَ مِنْ اَحَدٍ حَيٌّ؟)) قَالَ لَہُ: مَرَّاتٍ۔ قَالَ: لا، قَالَ: ((فَاسْقِ الْمَائَ۔)) قَالَ: کَیْفَ اَسْقِیْہِ ؟ قَالَ: ((اِکفِھِمْ آلَتَہُ اِِذَا حَضَرُوْہُ وَاحْمِلْہُ اِلَیْھِمْ اِذَا غَابُوْا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۲)
۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔
Takhreej
(۹۰۰۹) تخریج:اسنادہ ضعیف، عیاض بن مرثد مجھول، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۷/ ۲۵، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۱۰۱۴(انظر: ۲۳۱۲۴)
Explanation
فوائد:… والدین کے حق کو واضح کرنے اور اس میں تاکید پیدا کرنے کے لیے سوال دوہرایا گیا۔
9009
Zaeef
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ اُمِّیْ، (وَفِیْ لَفْظٍ: اَتَتْنِیْ اُمِّیْ) وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ، فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ اِذْ عَاھَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَفْتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُمِّیْ قَدِمَتْ وَھِیَ رَاغِبَۃٌ، اَفَاَصِلُھَا ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ صِلِیْ اُمَّکِ۔))(مسند احمد: ۲۷۴۵۴)
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میری ماں میرے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک تھی،یہ اس وقت کی بات ہے، جب قریشیوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آئی ہے، اسے مجھ سے کچھ تعاون کی رغبت تھی، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
Takhreej
(۹۰۱۰) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۲۶۹۱۵)
9010
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۱۱)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَیَّ اُمِیِّ فِیْ مُدَّۃِ قُرَیْشٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ وَمُدَّتِھِمُ الَّتِیْ کَانَتْ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مُشْرِکَۃً وَھِیَ رَاغِبَۃٌیَعْنِیْ مُحْتَاجَۃً، فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمِّیْ قَدِمَتْ عَلَیَّ وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ رَاغِبَۃٌ اَفَاَصِلُھَا؟ قَالَ: ((صِلِیْ اُمَّکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
Takhreej
(۹۰۱۱) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… ثابت ہوا کہ اگر والدین کافر اور مشرک ہوں، تب بھی وہ اپنی اولاد کے حسن سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْم’‘ فَـلَا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا} … اور اگر وہ (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔ (سورۂ لقمان: ۱۵) غور فرمائیں کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔ یہ آیت والدین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
9011
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا مَرَّ عَلَیْہِ وَھُمْ فِیْ طَرِیْقِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ: اَلَسْتَ فُلانَ بْنَ فُلانٍ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَانْطَلَقَ اِلٰی حِمَارٍ کَانَ یَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ اِذَا مَلَّ رَاحِلَتَہُ، وَعِمَامَۃٍ کَانَ یَشُدُّ بِھَا رَاْسَہُ، فَدَفَعَھَا اِلٰی الْاَعْرَابِیِّ، فَلَمَّا انْطَلَقَ قَالَ لَہُ بَعْضُنَا: انْطَلَقْتَ اِلٰی حِمَارِکَ الَّذِیْ کُنْتَ تَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ، وَعِمَامَتِکَ الَّتِیْ کُنْتَ تَشُدُّ بِھَا رَاْسَکَ، فَاعْطَیْتَھُمَا ھٰذَا الْاَعْرَابِیَّ، وَاِنَّمَا کَانَ یَرْضٰی بِدِرْھَمٍ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَبَرَّ الْبِرِّ صِلَۃُ الْمَرْئِ اَھْلَ وُدِّ اَبِیْہِ بَعْدَ اَنْ یُوَلِّیَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۵۳)
۔ عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ ایک بدّو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا اور ہم لوگ حج کے راستے میں تھے، انھوں نے اس بدّو سے کہا: کیا تم فلاں بن فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس گدھے کی طرف گئے، جس پر اونٹ کی سوار سے تھک جانے کے بعد کچھ راحت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، اور وہ پگڑی لی، جس سے اپنا سر باندھتے تھے، پھر یہ دونوں چیزیں بدّو کو دے دیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو ہم میں سے بعض افراد نے سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ اپنے گدھے پر آرام کرتے تھے اور پگڑی سے سر کو باندھ لیتے تھے، لیکن اب آپ نے یہ دونوں چیز اس بدو کو دے دیہیں، اس نے تو ایک درہم پر راضی ہو جاتا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بے شک سب سے بڑی نیکییہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کی محبت والے لوگوں سے صلہ رحمی کی جائے۔
Takhreej
(۹۰۱۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۵۲ (انظر: ۵۶۵۳)
9012
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۱۳)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ اَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدَیْکَ، اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَاِنَّ اَمْوَالَ اَوْلادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘
Takhreej
(۹۰۱۳) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۵۳۰، وابن ماجہ: ۲۲۹۲(انظر: ۶۶۷۸)
9013
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۱۴)۔ (عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوْلادَکُمْ مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ اَوْلادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔
Takhreej
(۹۰۱۴) تخریج:حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۷/ ۲۴۱ (انظر: ۲۴۱۳۵)
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کی کمائی میں والدین کا حق ہے، لیکن اس ضمن میں درج ذیل روایت مد نظر رکھنا ضروری ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُورَ} [الشوری:۴۹] فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) … بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} (سورۂ شوری: ۴۹) وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب تمھیں ان کی ضرورت پڑے ۔ (حاکم:۲/۲۸۴، بیہقی:۷/۴۸۰، صحیحہ: ۲۵۶۴) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔))… تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۸۳۸) معلوم ہو اکہ یہ جائز نہیں ہے کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا کر سکتا ہے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۶۴)
9014
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۹۰۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا فَلْیَبْدَاْ بِنَفْسِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلاً فَعَلٰی عَیَالِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلاً فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہِ اَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلًا فَھَاھُنٰا وَھَاھُنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔
Takhreej
(۹۰۱۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۹۹۷ (انظر: ۱۴۲۷۳)
Explanation
فوائد:… صدقہ و خیرات باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے، لیکن عام صدقہ سے پہلے اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ والدین، اولاد، بیوی اور دوسرے قرابتداروں کی ضروریات کو مقدم کرنا چاہیے، آج کل لوگ بیوی بچوں پر تو تکلف کی حد تک خرچ کرتے ہیں، لیکن دوسرے رشتہ داروں سے مکمل بے رخی اختیار کرتے ہیں اور ان کا نظریہیہ ہوتا ہے کہ اگر ایک بار کسی کو دے دیں تو وہ دوبارہ جان نہیں چھوڑتا۔ ایسے لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے، اگر کوئی رشتہ دار دوبارہ آ جائے اور گنجائش ہو تو بار بار اس کے آنے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے اور اگر گنجائش نہ ہو تو اچھے طریقے سے معذرت کر لینی چاہیے۔ بہرحال عام خیراتی اداروں اور ہسپتالوں میں صدقہ دینے سے پہلے غریب رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے، ان کی ضرورت پوری کرنے کے بعد مزید صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
9015
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۹۰۱۶)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَھُوَلَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۱)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے آپ کو کھلائے گا، وہ تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی اولاد کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا اور جو تو اپنے خادم کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۱۶) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۳۸ (انظر: ۱۷۱۷۹)
9016
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۹۰۱۷)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَفْضَلُ دِیْنَارٍ دِیْنَارٌیُّنْفِقُہُ الرَّجُلُ عَلٰی عَیَالِہِ، وَدِیْنَارٌیُّنْفِقُہُ عَلٰی دَابَّتِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ اَبُوْ قِلَابَۃَ مِنْ قِبَلِہِ بِرًّا بِالْعَیَالِ، قَالَ: وَاَیُّ رَجُلٍ اَعْظَمُ اَجْرًا مِنْ رَجُلٍ یُّنْفِقُ عَلٰی عَیَالِہِ صِغَارًا یُعِفِّھُمُ اللّٰہُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۲۸۲۰)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔
Takhreej
(۹۰۱۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۲۴۵۳)
Explanation
فوائد:… جو آدمی کمانے کے قابل نہ ہو، اس کا سہارا بننا بڑی نیکی ہے، بالخصوص اگر وہ فرد چھوٹی عمر میں ہو اور وہ بھی اولاد ہو تو اس کی ضروریات پوری کرنا والدین کی سعادت ہوگی، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اجر و ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کیا کریں، لیکن تکلف سے بچیں اور دوسرے غریب بچوں کابھی خیال رکھیں۔
9017
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۹۰۱۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فاَلْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۶)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی ہے اور پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں۔
Takhreej
(۹۰۱۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۲۴۵۳)
9018
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۹۰۱۹)۔ عَنِْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَذْنَبْتُ ذَنْبًا کَبِیْرًا، فَھْلْ لِیْ تَوْبَۃٌ ؟ فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَکَ وَالِدَانِ ؟)) قَالَ: لا، قَالَ: ((فَلَکَ خَالَۃٌ ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَبَرَّھَا اِذًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔
Takhreej
(۹۰۱۹) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۱۹۰۴(انظر: ۴۶۲۴)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ} … بیشک نیکیاںبرائیوں کو ختم کر دیتی ہیں (سورۂ ہود: ۱۱۴) اس حدیث ِ مبارکہ میں بھییہی قانون بیان کیا گیا ہے۔
9019
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۱۹۲۰)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَعْتَقْتُ جَارِیَۃً لِیْ، فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِعِتْقِھَا، فَقَالَ: ((آجَرَکِ اللّٰہُ، اَمَا اِنَّکِ لَوْ کُنْتِ اَعْطَیْتِھَا اَخْوَالَکِ کَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵۴)
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کو اس کی آزادی کی بارے میں بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو اس میں تیرے لیے زیادہ اجر ہوتا۔
Takhreej
(۱۹۲۰) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۶۹۰(انظر: ۲۶۸۱۷)
Explanation
فوائد:… محتاج رشتہ دار پر خرچ کرنا، غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ باعث ِ ثواب ہے۔
9020
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۱۹۲۱)۔ عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ: اَسَمِعْتَ اَنَسًا، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، ((اِبْنُ اُخْتِ الْقَوْمِ مِنْھُمْ۔))؟ قال: نعم (مسند احمد: ۱۲۲۱۱)
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا کہ انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان میں سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۹۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۲۸، ۶۷۶۱(انظر: ۱۲۱۸۷)
Explanation
فوائد:… صلہ رحمی اور معاونت کا سلسلہ دوسرے رشتہ داروں کی طرح بھانجے کو بھی حاصل ہے
9021
Sahih
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۱۹۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، قَالَ سَمِعْتُ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ: اِجْتَمَعْتُ اَنَا وَفَاطِمَۃُ، وَالْعَبَّاسُ، وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ، عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَبِرَ سِنِّیْ، وَ رَقَّ عَظْمِیْ، وَکثُرَتْ مُؤْنَتِیْ، فَاِنْ رَاَیْتَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنْ تَاْمُرَ لِیْ بِکَذَا وَکَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتَ اَعْطَیْتَنِیْ اَرْضًا کَانَتْ مَعِیْشَتِیْ مِنْھَا، ثُمَّ قَبَضْتَھَا، فَاِنْ رَاَیْتَ اَنْ تَرُدَّھَا عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ اَنَا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتَاَنْ تُوَلِّیَنِیْ ھٰذَا الْحَقَّ الَّذِیْ جَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا فِیْ کِتَابِہٖمِنْھٰذَاالْخُمُسِ،فَاَقْسِمُہُفِیْ حَیَاتِکَ، کَیْ لا یُنَازِعَنِیْہِ اَحَدٌ بَعْدَکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذَاکَ۔)) فَوَلَّانِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیْہِ اَبُوْ بَکْرٍ، فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیْہِ عُمَرُ، فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، حَتّٰی کَانَتْ آخِرُ سَنَۃٍ مِنْ سِنِیْ عُمَرَ فَاِنَّہُ اَتَاہُ مَالٌ کَثِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۶۴۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ ، رسول اللہ کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میری عمر بڑی ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور مشقت بھی کافی کر لی ہے، اس لیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق اناج کا حکم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، وہ میری گزران کا ذریعہ تھی، لیکن پھر آپ نے واپس لے لی ہے، اگر آپ مناسبت سمجھتے ہیں تو دوبارہ مجھے دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کریں گے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جس کا اللہ تعالیٰ نے خُمُس کی صورت میں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، میں اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کروں گا، تاکہ آپ کے بعد کوئی آدمی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کوتقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا، میں نے ان کی زندگی میں بھی اس کو تقسیم کیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا اور میں نے ان کی زندگی میں اس کو تقسیم کیا،یہاں تک کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آخری سال تھا اور ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
Takhreej
(۱۹۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۲۸، ۶۷۶۱(انظر: ۱۲۱۸۷)
Explanation
فوائد:… یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے قرابتداروں کا خیال رکھا تھا۔
9022
Zaeef
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۱۹۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمَتْ عِیْرٌ الْمَدِیْنَۃَ، فَاشْتَرَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَبِحَ اَوَاقِیَ، فَقَسَمَھَا فِیْ اَرَامِلِ بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: ((لا اَشْتَرِیْ شَیْئًا لَیْسَ عِنْدِیْ ثَمَنُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۱۹۲۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ القاضی سییء الحفظ، وسماک فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۴(انظر: ۲۰۹۳)
Explanation
فوائد:… ایسی چیز خریدنے سے اجتناب کا درس دیا جا رہا ہے، جس کی بندے کے پاس قیمت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی مقروض ہی فوت ہو جائے اور اس کی طرف سے ادائیگی بھی نہ کی جائے۔
9023
Zaeef
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
۔ (۱۹۲۴)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ اَکْثَرَ اَنْصَارِیِّ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا، وَکَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِہِ اِلَیْہِ بَیرُحَائُ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْھَا طَیِّبٍ، قَالَ اَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِیْ اِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَرْجُوْ بِرَّھَا وذُخْرَھَا عِنْدَاللّٰہِ، فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ اَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ۔ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَاَنَا اَرٰی اَنْ تَجْعَلَھَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَسَمَھَا اَبُوْطَلْحَۃَ فِیْ اَقَارِبِہٖوَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔
Takhreej
(۱۹۲۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ القاضی سییء الحفظ، وسماک فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۴(انظر: ۲۰۹۳)
Explanation
فوائد:… اولاد، والدین اور بیوی کا تو آدمی پر حق ہے، سب سے پہلے ان کو ہی ترجیح دینی چاہیے، ان کی ضروریات کے بعد دوسرے رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن اس قانون کا مطلب موجودہ زمانے کا پرتکلف نظام نہیں ہے، جائز اخراجات ہیں۔
9024
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.