TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Book 154 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 154 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 167 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

167 Hadith · 19 Chapters
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۹۰۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَابُنَیَّ! اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَااُمَّہْ! قَالَتْ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَنْفَقَ عَلَی ابْنَتَیْنِ، اَوْ اُخْتَیْنِ، اَوْ ذَوَاتَیْ قَرَابَۃٍ، یَحْتَسِبُ النَّفْقَۃَ عَلَیْھِمَا حَتّٰییُغْنِیَھُمَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ عَزَّوَجَلَّ، اَوْ یَکْفِیَھُمْا، کَانَتَا لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۵۱)
۔ سیدنا عبد المطلب مخزومی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: اے پیارے بیٹا! کیا میں تجھے وہ حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اماں جان! انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دو بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا دو رشتہ دار لڑکیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان دو بچیوں کو اپنے فضل سے غِنٰی کر دیتا ہے یا ان کو کفایت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
Takhreej
(۹۰۴۵) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف محمد بن ابی حمید الانصاری المدنی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۹۳۸ (انظر: ۲۶۵۱۶)
9045
Zaeef
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۹۰۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلٰی لَاْوَائِھِنَّ وَضَرَّائِھِنَّ، وَسَرَّائِھِنَّ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُنَّ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ ثِنْتَانِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَوْ ثِنْتَانِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ وَاحِدَۃٌ ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قال: ((اَوْ وَاحِدَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگدستی اور خوشحالی پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ ان بچیوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ اس نے پھر کہا: اور اگر ایک ہو اے اللہ کے رسول!؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک بھی ہو۔
Takhreej
(۹۰۴۶) تخریج:حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۷۶، وابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۵۲ (انظر: ۸۴۲۵)
9046
Sahih
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۹۰۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اِنَّ امْرَاَۃً دَخَلَتْ عَلَیْھَا، َومَعَھَا اِبْنَتَانِ لَہَا، قَالَتْ: فَاَعْطَیْتُھَا تَمْرَۃً فَشَقَّتْھَا بَیْنَھُمَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنِ ابْتُلِیَ بِشَیْئٍ مِّنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ فَاَحَسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۵۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، میں نے اس کو ایک کھجور دی اور اس نے اس کھجور کو اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دیا، پھر جب میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا، لیکن اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
Takhreej
(۹۰۴۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱۴۱۸، ومسلم: ۲۶۲۹ (انظر: ۲۴۰۵۵)
9047
Sahih
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۹۰۴۸)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّھَا قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ مِسْکِیْنَۃٌ تَحْمِلُ ابْنَتَیْنِ لَھَا، فَاَطْعَمْتُھَا ثَـلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُمَا تَمْرَۃً، وَرَفَعَتْ اِلٰی فِیْھَا تَمْرَۃً لِتَاْکُلَھَا، فَاسْتَطْعَمَتْھَا ابْنَتَاھَا فَشَقَّتِ التَّمْرَۃَ الَّتِیْ کَانَتْ تُرِیْدُ اَنْ تَاْکُلَھَا بَیْنَہُمَا، قَالَتْ: فَاَعْجَبَنِیْ شَاْنُھَا، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ الَّذِیْ صَنَعَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ وَاَعْتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۱۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی، اس نے دو بچیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کھجور دی اور ایک خود کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھائی، لیکن اس کی دونوں نے بیٹیوں نے وہ کھجور بھیاس سے لینا چاہی، پس اس نے اس کھجور کے ٹکڑے کیے اور ان دونوں کو دے دیے، مجھے اس کی اس کاروائی نے تعجب میں ڈال دیا اور جب میں نے اس کا عمل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا ہے اور جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔
Takhreej
(۹۰۴۸) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۳۰(انظر: ۲۴۶۱۱)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! اگر بچیاںیا بہنیں مل جائیں تو جنت کو حاصل کرنا کتنا آسان ہو جاتا ہے۔ بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، ان کا رحمت ہونے کااس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ باپ ان کے ساتھ حسن صحبت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلا شک و شبہ ہر معاشرے میں اور ہر دور میں بیٹوں کی تمنائیں کی جاتی رہیں، لیکن اگر ان خواہشات کی تکمیل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنی تمنا سے زیادہ حکمت و دانائی والا سمجھ کر بیٹیوں پر مکمل رضامندی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ ہاںیہ علیحدہ بات ہے کہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیٹیوں کا اتنا لحاظ نہ کیا جائے کہ انھیں وقت ضائع کرنے کے لیے اور ان کے طبعی شرم و حیا کو متاثر کرنے کے لیے انٹر نیٹ، کیبل نیٹ ورک، وی سی آر، موبائل اور سی ڈی پلیرکی صورت میں بے حیائی کے تمام مواقع مہیا کئے جائیں۔ والدین کا امتیاز اس میں ہے ان کی بیٹیاں نیکی و پارسائی اور تقوی وطہارت میں اپنی مثال آپ ہوں۔ اگریہ ایجادات کسی بچی کی ضرورت بن جائیں تو اس کی تربیت کرنا، اس کے نقصان دہ پہلو سے اس کو آگاہ کرنا اور حسب ِ استطاعت اس کی نگرانی کرنا ضروری ہے، کوئی مانے یا مانے نیٹ لیکنیہ حقیقت ہے کہ موبائل کی وجہ سے کئی لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔
9048
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۴۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمُرِہِ وَیُوْسَعَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، وَیُدَفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔
Takhreej
(۹۰۴۹) تخریج:اسنادہ قوی، أخرجہ البزار: ۶۹۳(انظر: ۱۲۱۳)
Explanation
فوائد:… ایک طرف تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَائَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ} … اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۳۴) دوسری طرف یہ حدیث ِ مبارکہ ہے کہ تقوی اور صلہ رحمی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے ، جمع و تطبیق کی درج ذیل دو صورتیں ہیں: ۱۔ عمر کی زیادتی سے مراد بابرکت زندگی ہے، یعنی تقوی اختیار کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا مسلمان اپنی مختصر زندگی میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی اطاعت کے اتنے امور سرانجام دے لیتا ہے کہ عام لوگ اتنا کچھ کر سکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ۲۔ زیادتی سے مراد زیادتی ہی ہے، لیکن اس کا تعلق عمر سے متعلقہ فرشتے سے ہے، یعنی اس فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں آدمی صلہ رحمی اختیار کرے تو اس کی عمر نوے برس ہو گی، وگرنہ ساٹھ برس، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس بندے نے صلہ رحمی اختیار کرنی ہے یا نہیں۔
9049
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۰۵۰) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۳۴۰۱)
9050
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۱)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
9051
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((تَعَلَّمُوْا مِنْ اَنْسَابِکُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِہٖاَرْحَامَکُمْ،فَاِنَّصِلَۃَ الرَّحِمِ مَحَبَّۃٌ فِی الْاَھْلِ، مَثْرَاۃٌ فِی الْمَالِ، مَنْشَأَۃٌ فِی اَثَرِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کے بارے میں اتنا علم تو حاصل کر لو کہ جس کے ذریعے آپس میں صلہ رحمی اختیار کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں برکت ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۹۰۵۲) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۱۹۷۹(انظر: ۸۸۶۸)
Explanation
فوائد:… نسب کے علم کے ذریعے ہی پتہ چلے گا کہ کون قریبی رشتہ دار ہے اور کون دور کا۔
9052
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ، ارْحَمُوْا اَھْلَ الْاَرْضِ، یَرْحَمْکُمْ اَھْلُ السَّمَائِ، وَالرَّحِمُ شَجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، مَنْ وَصَلَھا وَصَلْتُہُ، وَمَنْ قَطَعَھَا بَتَتُّہُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والے تم پر رحم کریں گے، رحم (رشتہ داری) رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو ملاتا ہے، میں اس کو ملاتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا ہے، میں اس کو کاٹ دیتا ہوں ۔
Takhreej
(۹۰۵۳) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۲۴(انظر: ۶۴۹۴)
Explanation
فوائد:… آسمانوں والوں سے مراد فرشتے ہیں اور ان کی رحمت سے مقصود رحمت کی دعا کرنا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
9053
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ، وَلَیْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُکَافِیئِ، وَلٰکِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِیْ اِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُہُ وَصَلَھَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں یہ عمل کر رہا ہو (اصل اور کامل درجے میں)، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کٹ رہا ہو تو وہ اس کو جوڑ رہا ہو۔
Takhreej
(۹۰۵۴) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/۵۳۹، وابن حبان: ۴۴۵ (انظر: ۶۵۲۴)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِی وَصَلَہُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَنِی قَطَعَہُ اللّٰہُ)) … رشتہ داری عرش کے ساتھ معلق ہے اور وہ کہتی ہیں: جس نے مجھے ملایا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے اور جس نے مجھے توڑا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے۔ (صحیح مسلم: ۴۶۳۵)
9054
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِنِّ لِیْ ذَوِیْ اَرْحَامٍ، اَصِلُ وَیَقْطَعُوْنِیَّ، وَاَعْفُو وَ یَظْلِمُوْنِیَّ، وَاُحْسِنُ وَ یُسِیْئُوْنِیَّ، اَفَاُکَافِئُھُمْ ؟ قَالَ: ((لا، اِذًا تُتْرَکُوْنَ جَمِیْعًا، وَلَکِنْ خُذْ ِبالْفَضْلِ وَصِلْھُمْ، فَاِنَّہُ لَنْ یَزَالَ مَعَکَ ظَھِیْرٌ مِّنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَاکُنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۵۵) تخریج:حسن لغیرہ (انظر: ۶۷۰۰)
9055
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ قَرَابَۃً اَصِلُھُمْ وَیَقْطَعُوْنَ ، وَاُحْسِنُ اِلَیْھِمْ وَیُسِیْؤُوْنَ اِلَیَّ، وَاَحْلُمُ عَنْھُمْ، وَیجْہَلُوْنَ عَلَیَّ، قَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ کَمَا تَقُوْلُ کَاَنَّمَا تُسِفُّھُمُ الُمَلَّ، وَلایَزَالُ مَعَکَ مِنَ اللّٰہِ ظَھِیْرٌ عَلَیْھِمْ، مَادُمْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف ایک مدد گار ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۵۶) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۵۸(انظر: ۷۹۹۲)
Explanation
فوائد:… گرم راکھ چبوانے کامطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس برتاؤ کی وجہ سے گویا شدید نفسیاتی اور معاشرتی تکلیف سے دو چار کرنے کا انداز ہے۔
9056
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۷)۔ عَنْ دُرَّۃَ بِنْتِ اَبِیْ لَھَبٍ، قَالَتْ: قَامَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ اَقْرَؤُھُمْ، وَاَتْقَاھُمْ، وَآمَرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَاَنْھَاھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاَوْصَلُھُمْ لِلرَّحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۸۰)
۔ سیدہ دُرّہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، جب کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پرتھے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہترہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، سب سے زیادہ تقوی والے، سب سے زیادہنیکی کا حکم دینے والے، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
Takhreej
(۹۰۵۷) تخریج:اسنادہ ضعیف، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۳۹ (انظر: ۲۷۴۳۴)
9057
Zaeef
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۸)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّدَقَاتِ اَیُّھَا اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((عَلٰی ذِیْ الرَّحِمِ الْکَاشِحِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۹۴)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس رشتہ دار پر جو دل میں عداوت چھپانے والا ہو۔
Takhreej
(۹۰۵۸) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الدارمی: ۱/ ۳۹۷،و الطبرانی فی الکبیر : ۳۱۲۶ (انظر: ۱۵۳۲۰)
9058
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۲۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۰۵۹) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۰۱۵، وفی الاوسط : ۳۳۰۳ (انظر: ۲۳۵۳۰)
9059
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ اَعْرَابِیًّا عَرَضَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ مَسِیْرِہِ فَاَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِہِ، اَوْ بِزِمَامِ ناَقَتِہِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْ یَامُحَمَّدُ، اَخْبِرْنِیْ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ۔ قَالَ: ((تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلا تُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَتُقِیْمُ الصَّلاۃَ، وَتُؤْتِیْ الزَّکَاۃَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ)) (مسند احمد: ۲۳۹۳۵)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔
Takhreej
(۹۰۶۰) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۹۸۳، ومسلم: ۱۳(انظر: ۲۳۵۳۸)
9060
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۱)۔ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْضَّبِّیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَدَقَتُکَ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ وَعَلٰی ذِیْ الْقُرْبَی الرَّحِمِ ثِنْتَانِ، صَدَقَۃٌ وَصِلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۲۹)
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
Takhreej
(۹۰۶۱) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۳۵۵، والترمذی: ۶۵۸، وابن ماجہ: ۱۸۴۴، والنسائی: ۵/ ۹۲(انظر: ۱۷۸۷۲)
9061
Sahih
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((اِنَّہُ مَنْ اُعْطِیَ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ، وَحُسْنُ الْخُلْقِ، وَحُسْنُ الْجَوَارِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارِ، وَیَزِیْدَ انِ فِی الْاَعْمَارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۰۶۲) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ مختصرا ابو یعلی: ۴۵۳۰ (انظر: ۲۵۲۵۹)
Explanation
فوائد:… عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سےیوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
9062
Sahih
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہُ اَوْ لِغَیْرِہِ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ اِذَا اتَّقَی اللّٰہَ۔)) وَاَشَارَ مَالِکٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) بِالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۸۸۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔
Takhreej
(۹۰۶۳) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۹۸۳(انظر: ۸۸۸۱)
9063
Sahih
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ ضَمَّ یَتِیْمًا بَیْنَ اَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ اِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہٖحَتّٰییَسْتَغْنِیَ عَنْہُ، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ، وَمَنْ اَعْتَقَ اِمْرَاً مُسْلِمًا کَانَ فِکَاکَہُ مِنَ النَّارِ، یُجْزٰی بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہُ عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۷)
۔ سیدنا مالک بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو جانے والے یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں اپنے ساتھ ملا لیا،یہاں تک کہ وہ یتیم اس سے غنی ہو گیا تو ایسے آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی اور جس نے مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا باعث ہو گا، اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے کفایت کرنے والا ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۶۳) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۹۸۳(انظر: ۸۸۸۱)
9064
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.