TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Book 154 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 154 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 167 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

167 Hadith · 19 Chapters
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۵)۔ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، یُقَالُ لَہُ مَالِکٌ، اَوِ ابْنُ مَالِکٍ، یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَیُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ یَتِیْمًا بَیْنَ اَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ اِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہٖحَتّٰییَسْتَغْنِیَ، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ، وَاَیُّمَا مُسْلِمٍ اَعَتَقَ رَقَبَۃً، اَوْ رَجُلاً مُسْلِمًا، کَانَتْ فِکَاکَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ، اَوْ اَحَدَھُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ، فَاَبْعَدَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۶)
۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔
Takhreej
(۹۰۶۵) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۶۷۰ (انظر: ۲۰۳۳۰)
9065
Sahih
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِیْفَیْنِ الْیَتِیْمِ وَالْمَرْاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کے حقوق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
Takhreej
(۹۰۶۶) تخریج:اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۷۸ (انظر: ۹۶۶۶)
Explanation
فوائد:… ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں، بہرحال یتیم اور عورت جیسے بے آسرا افراد کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
9066
Sahih
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،اَنَّ رَجُلًا شَکٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ،فَقَالَ: ((امْسَحْرَاْسَالْیَتِیْمِ وَاَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی دل کی سختی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔
Takhreej
(۹۰۶۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، بین ابی عمران وبین ابی ھریرۃ رجل مبھم سقط من ھذا الاسناد، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۱۱۰۳۴(انظر: ۹۰۱۸)
9067
Zaeef
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَحَ رَاْسَ یَتِیْمٍ لَمْ یَمْسَحْہُ اِلاَّ لِلّٰہِ کَانَ لَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مَرَّتْ عَلَیْھَایَدُہُ حَسَنَاتٌ، وَمَنْ اَحْسَنَ اِلٰییَتِیْمَۃٍ، اَوْ یَتِیْمٍ عِنْدَہُ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ کَھَاتَیْنِ۔)) وَفَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۵۰۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسییتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
Takhreej
(۹۰۶۸) تخریج:صحیح لغیرہ دون الشطر الأول منہ بقصۃ المسح علی راس الیتیم، وھذا اسناد ضعیف جدا، فیہ علی بن یزید الالھانی الدمشقی، وھو واھی الحدیث، وعبید اللہ بن زحر الضمری ضعیفیعتبر بہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۷۲۱ (انظر: ۲۲۱۵۳)
9068
Sahih
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((السَّاعِیْ عَلَی الْاَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ کَالَّذِیْیَقُوْمُ اللَّیْلَ وَیَصُوْمُ النَّھَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لیے محنت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۹۰۶۹) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۳۵۳، ومسلم: ۲۹۸۲ (انظر: ۸۷۳۲)
Explanation
فوائد:… تمام احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔
9069
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلا یُؤْذِ جَارَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Takhreej
(۹۰۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۳۶، ۶۰۱۸، ومسلم: ۴۷ (انظر: ۹۹۶۷)
Explanation
فوائد:… آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمسائے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
9070
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ اِلاَّ اِنَّ فِیْہِ: ((فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ بَدْلَ یَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں لِیَسْکُتْ کی بجائے لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔ (دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔)
Takhreej
(۹۰۷۱) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۳۵۷۵ (انظر: ۲۴۴۰۴)
9071
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحِ نِ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، َومَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُحْسِنْ اِلٰی جَارِہِ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْلِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۳)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کے ساتھ احسان کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Takhreej
(۹۰۷۲) تخریج:أخرجہ بنحوہ البخاری: ۶۰۱۹، ۶۴۷۶، ومسلم: ۴۸ (انظر: ۱۶۳۷۰)
9072
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ لایُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لایُؤْمِنُ۔)) قَالَھَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوْا: وَمَاذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَارُ لایَأْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوْا: وَمَا بَوَائِقُہُ؟ قَالَ: ((شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۸۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ صاحب ایمان نہیں ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور وہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کا ہمسایہ اس کے شر سے امن میں نہ ہو۔ انھوں نے کہا: بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا شرّ۔
Takhreej
(۹۰۷۳) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم: ۱/۱۰(انظر: ۷۸۷۸)
9073
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۴)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ، عَنْ رِجَالٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلْیُکْرِمْ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ وَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ وَلْیَقُلْ حَقًّا، اَوْ لِیَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۱)
۔ کچھ صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو اللہ تعالیٰاور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Takhreej
(۹۰۷۴) تخریج:اسنادہ صحیح (انظر: ۲۰۲۸۵)
9074
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ھِشَامٌ وَیَزِیْدُ، قَالَ: اَنَا ھِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ الْاَنْصَارِیِّ، (قَالَ: یَزِیْدُ: رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ) قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ اَھْلِیْ اُرِیْدُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا اَنَا بِہٖقَائِمٌوَرَجُلٌمَعَہُمُقْبِلٌعَلَیْہِ، فَظَنَنْتُ اَنَّ لَھُمَا حَاجَۃً، قَالَ: فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَعَلْتُ اَرْثِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَقَدْ قَامَ بِکَ الرَّجُلُ حَتَّی جَعَلْتُ اَرْثِیْ لَکَ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ، قَالَ: ((وَلَقَدْ رَاَیْتَہُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَتَدْرِیْ مَنْ ھُوَ؟)) قُلْتُ: لا، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، مَازَالَ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((اَمَا اِنَّکَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَیْہِ رَدَّ عَلَیْکَ السَّلامَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۸)
۔ ایک انصاری آدمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا، پس جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر متوجہ تھا، میں نے سمجھا کہ ان دونوں کی کوئی ضرورت ہو گی، اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ترس آنے لگا، بہرحال جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے آپ کو اتنی دیر کھڑے رکھا کہ مجھے تو آپ پر ترس آنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتا ہے کہ وہ کون تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے مجھے ہمسائے کے بارے اتنی وصیتیں کیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو عنقریب وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔
Takhreej
(۹۰۷۵) تخریج:اسنادہ صحیح (انظر: ۲۰۳۵۰)
9075
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((مَازَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلامُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۶۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔
Takhreej
(۹۰۷۶) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۰۱۴، ومسلم: ۲۶۲۴(انظر: ۲۴۲۶۰)
Explanation
فوائد:… میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق ہوتا ہے، لیکن جب ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تاکید کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں لگا کہ یہ تو میراث کے بھی حقدار قرار پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔
9076
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((مَازَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلامُ یُوْصِیْنِیْ باِلْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) اَوْ قَالَ: ((خَشِیْتُ اَنْ یُوَرِّثَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۵۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: میں تو ڈرنے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی قرار دینے لگے ہیں۔
Takhreej
(۹۰۷۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۰۱۵، ومسلم: ۲۶۲۵ (انظر: ۵۵۷۷)
9077
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۶۴۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۰۷۸) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۵۱۵۲، والترمذی: ۱۹۴۳ (انظر: ۶۴۹۶)
9078
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۷۵۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۰۷۸) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۵۱۵۲، والترمذی: ۱۹۴۳ (انظر: ۶۴۹۶)
9079
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یُوْصِیْ بِالْجَارِ، حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مجھے ہمسائے کے بارے میں اتنی نصیحتیں کرتا ہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا ہے کہ اس کو میرا وارث بنانے لگا ہے۔
Takhreej
(۹۰۸۰) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۶۳۰ (انظر: ۲۲۲۹۸)
9080
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۸۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ الْاَصْحَابِ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرُھُمْ لِصَاحِبِہٖ،وَخَیْرُ الْجِیْرَانِ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرُھُمْ لِجَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے، جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے، جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔
Takhreej
(۹۰۸۱) تخریج:اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۱۹۴۴ (انظر: ۶۵۶۶)
Explanation
فوائد:… دنیا میں اپنے پڑوسیوں اور ہمسائیوں کے حق میں اچھا ثابت ہونے والے کو اللہ تعالیٰ کا پڑوس نصیب ہو گا۔
9081
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِذَا طَبَخْتَ فَاَکْثِرِ الْمَرَقَۃَ، وَتَعَاھَدْ جِیْرَانَکَ، اَوِ اقْسِمْ بَیْنَ جِیْرَانِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۵۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر کے اپنے ہمسائیوں کا خیال رکھا کرو یا (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا) اپنے ہمسائیوں کے مابین تقسیم کیا کرو۔
Takhreej
(۹۰۸۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۲۵(انظر: ۲۱۳۲۶)
9082
Sahih
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۰۸۳)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لا یَشْبَعُ الرَّجُلُ دُوْنَ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۰)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمسائے کے علاوہ بندہ سیر نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۹۰۸۳) تخریج:روایۃ عبایۃ بن رفاعۃ عن عمر مرسلۃ (انظر: ۳۹۰)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَـیْـــــًـا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرًا۔} …اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں،یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔ (سورۂ نسائ:۳۶) ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
9083
Sahih
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
۔ (۹۰۸۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ، وَتَقْرَاَ السَّلامَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۸۴) تخریج:أخرجہ البخاری۱۲، ۲۸، ۶۲۳۶، ومسلم: ۳۹ (انظر: ۶۵۸۱)
Explanation
فوائد:… مہمان کے اکرام کی بنیاد ذاتی معرفت نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ اکثر لوگوں کا رویہ بن چکا ہے، آج کل دو چیزوں کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے، ایک ذاتی معرفت اور ایک سرمایہ داری، جس مہمان میں یہ دو صفات نہ ہوں، اس کے ساتھ تو دعا سلام لینا گوارہ نہیں کیا جاتا، یہ فرق اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
9084
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.