۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے، ما سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ سے، یا علم سے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔
Takhreej
(۱۹۲۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۶۳۱(انظر: ۸۸۴۴)
Explanation
فوائد:… صدقہ جاریہ کی کسی قسم کا انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو خیر اپنے ورثے میں نیک اولاد کو چھوڑ کر جانے میں ہے، اس کی کوئی مثال نہیں، اس کا کوئی جواب نہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانانِ عصرِ حاضر نے اپنی اولاد کی ترقی کے مختلف حقوق ادا کیے ہیں، ما سوائے نیک تربیت کے۔
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بیشکیہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔
فوائد:… بچوں کی فکر انسان کو بزدل اور بخیل بنا دیتی ہے، ہر کوئی زندگی کا حریص ہوتا ہی ہے، لیکن جب بچے ہو جائیں تو ان کی خدمت اور نگہداشت کی خاطر انسان اپنی زندگی کو زیادہ قیمتی سمجھنے لگ جاتا ہے اور جہاد جیسے عظیم عمل میںشرکت کرتے وقت بھی فکر مند ہو جاتاہے۔ بہرحال اولاد ایک نعمت ہے، ان کی خدمت میں شرف ہے، لیکن دوسرے شرعی احکام متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔
Takhreej
(۱۹۲۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عمر بن عبد العزیز لا یعرف لہ سماع من خولۃ ، ولجھالۃ ابن ابی سوید، أخرجہ الترمذی: ۱۹۱۰ (انظر: ۲۷۳۱۴)
Explanation
فوائد:… غزوۂ طائف، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری قتال تھا، اگرچہ غزوۂ تبوک اس کے بعد پیش آیا، لیکن اس میں جنگ نہیں ہوئی تھی۔
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اپنے بچے کو ادب و اخلاق کی تعلیم دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے کہا: میرے باپ نے ناصح راوی کی وجہ سے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت نہیں کیا، کیونکہیہ راوی حدیث میں ضعیف ہے، اورانھوں نے مجھے نوادر میںاملاء کروائی تھی۔
Takhreej
(۱۹۲۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عمر بن عبد العزیز لا یعرف لہ سماع من خولۃ ، ولجھالۃ ابن ابی سوید، أخرجہ الترمذی: ۱۹۱۰ (انظر: ۲۷۳۱۴)
۔ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔
Takhreej
(۱۹۲۹) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف عامر بن صالح، ولارسالۃ عمرو بن سعید بن العاص، جد ایوب بن موسی لیس لہ صحبۃ، وموسی بن عمرو تفرد بالروایۃ عنہ ابنہ ایوب أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۶۳، والبیھقی فی الشعب : ۱۶۷۳(انظر: ۱۵۴۰۳/۱)
Explanation
فوائد:… یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بڑا تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت ہے، اولاد کو اس قابل بنا دینا چاہیے کہ وہ دین کو بھی سمجھے اور دنیا سے بھی غافل نہ ہونے پائے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے تینیہ تھیں: اور اپنی مالی وسعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب کی تعلیم دینے کے لیے ان سے لاٹھی کو دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں خوف دلا کے رکھ۔
Takhreej
(۹۰۳۰) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر لم یدرک معاذا أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۳۷۱، ۴۰۳۴ (انظر: ۲۲۲۰۷۵)
Explanation
فوائد:… دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت بیوی بچوں کو سزا دی جا سکتی ہے۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک چیز ہبہ کی، میرے ماں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس ہبہ پر گواہ بنائیں، چنانچہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں نے پہلے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں اِس کو کوئی ہبہ دوں، اور اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس پر گواہ بناؤں، اس لیے آپ کو گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھیرو، کیا تمہاری اور بھی اولاد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو یہ ہبہ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں، میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا، تم پر تمہارے بیٹوں کا یہ حق ہے کہ تم ان کے ما بین انصاف کرو۔
۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیںیہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کے ما بین برابری کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، اپنی بچوں اور بچیوں کے ما بین برابری کا رویہ اختیار کرو۔
فوائد:… والدین کسی ایک بچے کے ساتھ کسی اعتبار سے امتیازی سلوک نہیں کر سکتے، بعض آباء کو دیکھا گیا ہے کہ ان کے بعض بچے ہمیشہ ان کے غیظ و غضب اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتے ہیں اور بعض لاڈ پیار کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اسی طرح جب بچوں پر خرچ کرنے کی باری آتی ہے تو پھر اسی امتیاز کو مدّنظر رکھا جاتا ہے۔ ایسا کرنا ضلالت و گمراہی ہے، نبوی منہج سے بھٹک جانے کی علامت ہے اور بچوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی علامت ہے ۔ بچوں اور بچیوں کی شادیوں پر بھی مساوات کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کاَنَ رَجُلٌ جَالِسٌ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَجَائَ ہُ ابْنٌ لَہُ فَأَخَذَہُ فَقَبَّلَہُ ثُمَّ أَجْلَسَہُ فِی حِجْرِہِ، وَجَائَـتِ ابْنَۃٌ لَّہُ، فَأَخَذَھَا إِلٰی جَنْبِہٖ،فَقَالَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أَلَا عَدَلْتَ بَیْنَھُمَا؟)) یَعْنِی: بَیْنَ ابْنِہٖوَبِنْتِہٖفِی تَقْبِیْلِھِمَا۔ … ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کے پاس اس کا بیٹا آیا، اس نے اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس کے بعد اس کی بیٹی آئی، اس نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے ان کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا۔ یعنی بیٹے کا بوسہ لیا اور بیٹی کا نہیں لیا۔ (مسند بزار: ۲/۳۷۸/۱۸۹۳، شعب الایمان للبیھقی: ۶/ ۴۱۰/۸۷۰۰، صحیحہ: ۲۸۸۳، ۲۹۹۴) یہ اولاد کے مابین مساوات کا معیار ہے کہ محبت کے ظاہری تقاضوں میں بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ممکن ہے کہ والدین کے دل میں کسی ایک بیٹے کا لحاظ یا اس کی محبت دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہو، اور اس میں مضائقہ بھی نہیں ہے، کیونکہیہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سب سے زیادہ محبت تھی، لیکن مساوات کے ظاہری تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
Takhreej
(۹۰۳۵) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۹۹۷(انظر: ۷۱۲۱)
Explanation
فوائد:… بندے کا رحمدل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرے گا، اگر کوئی آدمی بہت ہی سخت طبیعت کا مالک ہو تو اس کو چاہیے کہ تکلف کرتے ہوئے اپنی اولاد کے معاملے میں نرمی کر لیا کرے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بچیوں کو مجبور نہ کیا کرو، کیونکہ وہ دل بہلانے والی اور خاوندوں سے محبت کرنے والی ہیں۔
Takhreej
(۹۰۳۶) تخریج:اسنادہ ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۵۶(انظر: ۱۷۳۷۳)
Explanation
فوائد:… بہرحال بچیوں کو نکاح پر مجبور نہیں کیا سکتا ہے، ان کی اپنی رضامندی ضروری ہے۔
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ابو سعد شرحبیل نامی ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا، انھوں نے کہا: اے ابو سعد! کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین کے پاس سے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی اور انھوں نے کہا: اگر یہ حدیث واقعی ثابت ہے تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہو گی، پھر انھوں نے لوگوں کو وہ حدیث بیان کی اور کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور پھر وہ جب تک اس کے ساتھ رہیں،یا وہ ان کے ساتھ رہے تو وہ ان کے ساتھ احسان کرتا رہے تووہ اس کو جنت میں داخل کر دیں گی۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی تین بیٹیاںیا تین بہنیںیا دو بیٹیاںیا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ان کے ساتھ احسان کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
۔ سیدنا جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درج بالا حدیث کی طرح ہے، البتہ یہ الفاظ اس میں زیادہ ہیں: تو اس آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ پھر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور سوچنے لگے کہ اگر ایک کے بارے میں سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دینا تھا کہ اگرچہ ایک ہو ۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں،یا تین بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی پرورش کی اور ان کے ضروری اخراجات کا ذمہ دار بنا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیںیا وہ خود فوت ہو گیا تو میں اور وہ شخص ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیوں اور تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کی نگہبانی کرے تو وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ بھی کیا۔
۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سراقہ! کیا میں سب سے بڑے صدقے کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے اور تیرے علاوہ اس کے لیےکمانے والا کوئی نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۴۲) تخریج:ضعیف، علی بن رباح لم یسمعہ من سراقۃ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۶۷(انظر: ۱۷۵۸۶)
Explanation
فوائد:… تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے۔ اس سے مراد بیٹی کا طلاق ملنے یا بیوہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے باپ کے پاس گھر واپس آ جانا ہے، عام طور پر ایسی بچیوں کی کفالت کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن خبردار! ایسی بے آسرا بچی اور بہن کا آسرا بننا بڑی سعادت کی بات ہو گی، ایک شفقت والا بھائی مجھے یاد آ رہا ہے، جس نے اپنی دکھی بہن سے کہا تھا: بہن! تیری اور تیرے بچے کی کفالت کی خاطر میں شادی نہیں کروں گا۔ کتنا محبت بھرا انداز ہے، بہن کو کتنی تسلی ہوئی ہو گی۔
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں،یا تین بہنیں،یا دو بیٹیاں،یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کے ساتھ احسان کرے، یہاں تک کہ وہ اس سے جدا ہو جائیںیا فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی بچی پیدا ہو اور وہ نہ اسے زندہ درگور کرے، نہ اس کی توہین کرے اور نہ بیٹوں کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔
Takhreej
(۹۰۴۴) تخریج:اسنادہ ضعیف، ابن حدیر لایعرف، أخرجہ ابوداود: ۵۱۴۶(انظر: ۱۹۵۷)