۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کرے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے ہمسائے کی حفاظت کرے، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مہمان کا اکرام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن، اور اس کے بعد بھی اگر وہ بیٹھا رہے تو ضیافت اس پر صدقہ ہو گی۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی میں کوئی خیر نہیں ہے، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔
Takhreej
(۹۰۸۷) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۷۴۱۹)
Explanation
فوائد:… اسلام انسانیت کی تکریم اور غمگساری کا خواہاں ہے، اسی خواہش کا تقاضا ہے کہ مہمان کی عزت کی جائے، اس کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جائے، حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمانی کی جائے اور اس کے آرام و راحت کا خیال رکھا جائے۔ اسلام نے نہ صرف مہمانی پر زور دیا، بلکہ اس کے تمام آداب مقرر کر دیے اور جہاں مہمان نوازی کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا قرار دیا، وہاں مہمان کو بھی تنبیہ کر دی کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنا نہ ٹھہرے کہ وہ اس سے تنگ آ جائے۔ بہر حال مہمان نوازی سے جی چرانا خیرو بھلائی سے محرومی کاباعث ہے، مہمان خیرو برکت کا باعث بنتا ہے، جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان کی میزبانی کا حق ادا کیا تو ان کے اندازِ میزبانی پر اللہ تعالیٰ مسکرائے اور یہ آیات نازل فرما دیں: {وَیُؤثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (سورۂ حشر: ۹)… اور وہ (دوسرے حاجتمندوں کو) اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ اُن کو سخت بھوک ہو اور جو لوگ نفسوں کی بخیلی سے بچ گئے، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ (الصحیحۃ:۳۲۷۲)
اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل پر تعجب کرے اور مسکرائے اور رہتی دنیا تک اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کر دے۔ لہٰذاہمیں خوشنودیٔ الہی کے حصول کے لیے، فقر و فاقہ سے نہ ڈرتے ہوئے فراخ دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دے گا۔ غور فرمائیں کہ میزبانی کے وصف سے محروم شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے برکتا اور خیر سے محروم قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم لوگ معرفت اورعدم معرفت کو سامنے رکھ کر مہمانوں کی میزبانی میں بہت زیادہ فرق کرتے ہیں۔ مثلا ایک مہمان کی پرتکلف خدمت کی، ایک کو صلح شلح پہ ٹال دیا، ایک کو اتنا کمتر سمجھا کہ اسے چائے وائے کا ست کرنا بھی گوارہ نہ کیا اورکسی کے لیے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا اور بچے یا خادم کے ذریعے اسے کوئی پیغام بھیج دینا ہی کافی سمجھ لیا۔
احباب! یہ فرق کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ پہلے سے جناب کی دوستی تھی، دوسرے سے کچھ دعا وسلام تھا اور تیسرا اجنبی تھا۔
کیا ایسی میزبانی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسلام کے رشتے کو مد نظر رکھا گیا ہے؟کیا مہمان کییہ خدمتیں بطورِ مہمان ہیںیا ذاتی تعلق کی بنا پر؟ میزبانی کے ایسے انداز سے ہمیں باز آ جانا چاہئے، یہ مسکراہٹوں کے تبادلے اور دنیاداری ہے۔
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک آدمی کے پاس گیا، اس نے نہ میری ضیافت کی اور نہ میری عزت کی، پھر اگر وہی آدمی میرے پاس آ جائے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو اس کے کیے کا بدلہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تو اس کی ضیافت کر۔
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا سنان بن سنّہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شکریہ ادا کرنے والے کھانے والے کا اجر روزہ رکھنے والے اور صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۹۰۸۹) تخریج:حدیث حسن (انظر: ۱۹۰۱۴)
Explanation
فوائد:… بندے کو ہر حالت میں شریعت کے تقاضے پورے کرنے چاہیے۔ اگر مال دار، کھاتا پیتا ہے تو اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے شکر ادا کرے اور اس کی فرمانبرداری میں لگا رہے اور اگر تنگی ترشی ہے تو اللہ کے لیے صبر کرے، اس کی تقسیم پر راضی رہے، اس طرح دونوں حالتوں میں آدمی اجر وثواب کا حقدار ٹھہرے گا۔
۔ عبد اللہ بن عبید کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے روٹی اور سرکہ پیش کیا اور کہا: کھاؤ، یہ چیز پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین سالن سرکہ ہے، اس میں آدمی کی ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائیوں کا ایک گروہ جائے اور وہ گھر میںموجودہ چیز کو بطورِ ضیافت پیش کرنے کو حقیر سمجھے اور اس میں لوگوں کی ہلاکت ہے کہ جو چیز ان کی میزبانی میں پیش کی جائے، وہ اس کو حقیر سمجھیں۔
Takhreej
(۹۰۹۰) تخریج:اسنادہ ضعیف، عبید اللہ بن الولید الوصافی متفق علی ضعفہ، وقد اضطرب فی اسناد ھذا الحدیث، لکن الحدیث من ابتداء ہ الی قولہ: نعم الادام الخل صحیح بطرقہ، أخرج الصحیح منہ ابوداود: ۳۸۲۰، والترمذی: ۱۸۳۹، ۱۸۴۲ (انظر: ۱۴۹۸۵)
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی گیا، انھوں نے ضیافت میں ماحضر پیش کیا اور کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تکلف سے منع نہ کیا ہوتا یا اگر ہم کو اپنے ساتھی کے تکلف کرنے سے منع نہ کیا جاتا تو ہم تمہارے لیے تکلّف کرتے۔
فوائد:… اس حدیث کا ایک متن اس طرح روایت کیا گیا ہے: سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَتَکَلَّفَنَّ أَحَدٌ لِضَیْفِہٖ مَالَایَقْدِرُ عَلَیْہِ۔))… کوئی آدمی مہمان کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر تکلف نہ کرے۔ (صحیحہ:۲۴۴۰)
اسلام سادگی اور حقیت پر مبنی مذہب ہے، اس میں تکلف و تصنع اور خوشامد و چاپلوسی کی کوئی گنجائش نہیں، جہاں شریعت نے مہمان کی میزبانی کو فرض قرار دیا ہے، وہاں تکلف سے بچنے کی بھی تلقین کی ہے، تاکہ کوئی آدمی مہمان کی خدمت کو بوجھ نہ سمجھے اور میزبان کے غریب ہونے کی صورت میں گھر کے افراد کے کھانے پینے کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوںنے (بطورِ میزبانی) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: لَوْلَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَھَانَا عَنِ التَّکَلُّفِ لَتَکَلَّفْتُ لَکُمْ۔ فَقَالَ صَاحِبِی: لَوْکاَنَ فِی مِلْحِنَا سَعْتَرٌ، فَبَعَثَ بِمِطْھَرَتِہِ إِلَی الْبَقَّالِ، فَرَھَّنَھَا، فَجَائَ بِسَعْتَرٍ، فَأَلْقَاہُ فِیْہِ، فَلَمَّا أَکَلْنَا قَالَ صَاحِبِی: اَلْحَمْدِ لِلَّہِ الَّذِی قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا۔ فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْقَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَکُنْ مِطْھَرَتِی مَرْھُوْنَۃً عِنْدَالْبَقَّالِ۔ … اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمھاری خاطر تکلف
کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔ انھوں نے کوئی لوٹا نُما برتن بطور گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی جو اس نے ہمیں دیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔ (مستدرک حاکم: ۴/۱۲۳، صحیحہ: ۲۳۹۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف کرنے سے منع فرمایا، صحابۂ کرام اس کا مفہوم یہ سمجھے تھے کہ گھر میں جو موجود ہے، اسے مہمان کی میزبانی کے لیے کافی سمجھا جائے اور مہمان کو چاہیے کہ ماحضر پر قناعت کرے اور اپنی پسند کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ ہاں اگر اصرار کے ساتھ کسی سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا جائے تو اظہار کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ہم لوگ حقیقی باہمی محبت سے محروم ہیں، قرابتداروں کے حقوق سے غافل ہیں اور ظاہری رکھ رکھاؤ کو بڑی ترجیح دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ شرمو کو شرمی کا ضابطہ ترک کر دیں اور مسلمانوں سے بحیثیت مسلمان تعلق رکھیں اور ہر معاملے میں اعتدال برتیں۔ مثلا اگر گرمی کے موسم میں آنے والے مہمان کو بازار سے قیمتی مشروب خرید کر پلانے کی استطاعت نہ ہو، تو گھر میں تیار کی جانے والی شکنجبیں وغیرہ پلا دی جائے، تاکہ مہمان بھی سیراب ہو جائے اور میزبانی کا حق بھی پورا ہو جائے۔ یہی معاملہ کھانے وغیرہ کا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت کا حق تین دن ہے، اس کے بعد مہمان جو کچھ پائے گا، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۹۴) تخریج:أخرجہ مسلم: ۴۸(انظر: ۱۶۳۷۱)
Explanation
فوائد:… جائزہ سے مراد طاقت کے مطابق بہترین کھانا ہے، ویسے ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد مہمان پر صدقہ ہو گا۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔
Takhreej
(۹۰۹۵) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۵۷، والترمذی: ۲۴۷۴ (انظر: ۹۳۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہمان کی (پہلی) رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر وہ میزبان کے ملحقہ صحن میں اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اس حق سے محروم رہتا ہے تو یہ اس پر قرض ہو گا، مہمان چاہے تو اس کو تقاضا کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۰۹۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین سوی صحابیۃ، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۰، وابن ماجہ: ۳۶۷۷ (انظر: ۱۷۱۷۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔
Takhreej
(۹۰۹۸) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن المھاجر، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۱(انظر: ۱۷۱۷۸)
Explanation
فوائد:… میزبانی، مہمان کا حق ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استقبال کرے اور حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مہمان کسی قوم کے پاس اترا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا تو اس کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اپنی میزبانی کے بقدر چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔
فوائد:… والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی طرح مہمان کی ضیافت بھی ایک حق ہے، جیسے جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریات پوری نہ کر رہا ہو تو اس کی بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے اپنا حق چوری کر لیا کرے، ایسے ہی مہمان کا معاملہ ہے کہ میزبان اس کی ضیافت کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ ان سے اپنا حق وصول کر سکتاہے۔ یہ دراصل اسلام کا حسن ہے کہ ایک آدمی اپنے علاقے اور اہل وعیال سے دور ہے تو دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس کی میزبانی کا حق ادا کریں۔
۔ حارث بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بنو غفار کا ایک آدمی ہمارے پاس آ گیا،یہ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا، ابو سلمہ نے اس آدمی سے کہا: کیا تو ہمیں اپنے باپ کا واقعہ نہیں بتلائے گا؟ اس نے کہا: میرے باپ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مہمان زیادہ ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ہر آدمی ایک مہمان کو اپنے گھر لے جائے۔ ایک رات بہت زیادہ مہمان جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنے ہم نشیں کے ساتھ چلا جائے۔ میں عبد اللہ بن طہفہ ان لوگوں میں تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، حویسہ (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار شدہ کھانا) ہے، میں نے آپ کی افطاری کے لیے تیار کیاتھا، پھر وہ ایک چھوٹے پیالے میں لے کر آگئیں، پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس کو پکڑا، اس سے کچھ تناول کیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔ پس ہم نے اس سے کھایا،یہاں تک کہ ہم (زیادہ سیر ہو جانے کی وجہ سے) اس کو دیکھ نہیں رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سے فرمایا: کیا کوئی مشروب ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تھوڑا سا دودھ ہے، میں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ۔ پس وہ لے کر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا، اپنی منہ کی طرف اٹھایا اور اس سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ پیو۔ پس ہم نے پیا،یہاں تک کہ اللہ کی قسم! ہم (کثرت ِ سیرابی کی وجہ سے) اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے، پھر ہم وہاں سے نکل کر مسجد میںآگئے اور میں چہرے کے بل لیٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز کے لیے جگانے کے لیے فرمانے لگے: نماز، نماز، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلتے تھے تو لوگوں کو نماز کے لیے جگاتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اپنے چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبد اللہ بن طہفہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ لیٹنے کے اس انداز کو نا پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۰۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن عبد اللہ بن طھفۃ، أخرجہ البخاری فی تاریخہ الکبیر : ۴/ ۳۶۶، فی الاوسط : ۱/ ۱۵۲ (انظر: ۲۳۶۱۶)
Explanation
فوائد:… اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ضیافت نہ کر سکتے تو صحابۂ کرام کو حکم فرماتے کہ وہ مہمانوں کو لے جائیں۔
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اصحاب ِ صفہ فقیر لوگ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار فرمایا: جس کے پاس دو افراد کا کھانا ہو، وہ تیسرا بندہ لے جائے، جس کے پاس چار افراد کا کھانا ہو، وہ پانچواں اور چھٹا بندہ لے جائے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس افراد کو اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تین افراد کو لے گئے۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گھر میں میں، میرے باپ، میری ماں اور ہمارے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر کاایک خادم تھا، راوی کو یہیاد نہیں رہا کہ انھوں نے بیوی کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شام کا کھانا کھا لیا، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے نماز کی عشاء پڑھی، پھر وہ واپس لوٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آنے لگی، پھر وہ رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد گھر واپس آئے، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنے مہمانوں سے روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے ان کو شام کا کھانا نہیں کھلایا؟ انھوں نے کہا: انھوں نے آپ کی آمد تک انکار کر دیا، ہم نے ان کو کھانا پیش کیا تھا، لیکن ان کا انکار ہم پر غالب آیا۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نکلاور چھپ گیا، انھوں نے کہا: اے غُنْثَر! یا اے عَنْتَر! پس انھوں نے مجھے بد دعا دی اور برا بھلا کہا، اور مہمانوں سے کہا: کھاؤ، خوشگوارنہ ہو، اللہ کی قسم! میں بالکل نہیں کھاؤں گا، اُدھر مہمان نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ ابھی اس وقت نہیں کھائے گا، جب تک ابو بکر نہیں کھائیں گے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، پھر انھوں نے کھانا منگوایا اور کھا لیا اور کہا: اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ پکڑتے تھے، اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھ جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے زیادہ پڑا تھا، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کھانا تو اسی مقدار میں پڑا ہوا، بلکہ اس سے زیادہ ہے، پس انھوں نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے زیادہ لگ رہا ہے، انھوں نے یہ بات تین بار دوہرائی، پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کھایا اور کہا: یہ قسم تو شیطان کی طرف سے تھی، پھر انھوں نے لقمہ کھایا اور پھر وہ کھانا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف لے گئے اور وہ کھانا صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، عبد الرحمن کہتے ہیں: ہمارے اور لوگوں کے ما بین معاہدہ تھا اور وہ مدت گزر گئی تھی، پس ہم نے بارہ نقیب بنائے، ہر نقیب کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی کتنی تھی، بہرحال ان کو ان کے ساتھ بھیجا تھا، پس ان سب نے اس کھانے سے کھا لیا تھا۔
فوائد:… صحیح بخاری کی ایک روایت میں اصحاب ِ صفہ کو اَضَیَافُ الْاِسْلَام یعنی اسلام کے مہمان قرار دیا گیا۔
اَبُوْابُ تَعْظِیْمِ حُرُمَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ
مسلمانوں کی حرمتوں کی عظمت کے ابواب
وَبَیَانُ حُقُوْقِھِمْ وَالشَّفْقَۃِ عَلَیْھِمْ وَالنُّصْحِ لَھُمْ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِھِمْ وَسَتْرِعَوْرَاتِھِمْ وَغَیْرِ ذٰلِکَ۔
مسلمانوں کے حقوق،ان پر شفقت کرنے، ان کی خیرخواہی کرنے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور ان کے عیوب پر پردہ ڈالنے وغیرہ کا بیان۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ صحابہ نے کہا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ تین بار فرمایا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب اور مسلمانوں کے لیڈروں کے لیے۔
Takhreej
(۹۱۰۴) تخریج:متن الحدیث صحیح، وقد تکلم بعض اھل العلم علی الاختلاف الذی وقع فی الاسناد، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۵۷ (انظر: ۷۹۵۴)