TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Book 154 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 154 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 167 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

167 Hadith · 19 Chapters
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۰۵)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ، اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) ثَلاثًا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِنَّمَا الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) قَالُوْا: لِمَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہِ، وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنِ وَعَامَّتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۶۴)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے۔ تین دفعہ فرمایا، ایک روایت میں ہے: صرف اور صرف دین خیرخواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے۔
Takhreej
(۹۱۰۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۵۵، وعلقہ البخاری فی صحیحہ فی باب قول النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : الدین النصیحۃ للہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم۔ (انظر: ۱۶۹۴۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں صحیح اعتقاد رکھا جائے اور خلوص نیت کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی خیرخواہییہ ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے، رسول کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی جائے اور اس کے اوامر و نواہی کے تقاضے پورے کیے جائیں،ائمہ مسلمین کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
9105
Sahih
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۰۶)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ اَبِیْیَزِیْدَ عَنْ اَبِیْہِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((دَعُوْا النَّاسَ فَلْیُصِبْ بَعْضُھُمْ مِنْ بَعْضٍ فَاِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ اَخَاہُ فَلْیَنْصَحْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۱)
۔ ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرتے تو وہ نصیحت کرے۔
Takhreej
(۹۱۰۶) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۱۵(انظر: ۲۸۲۸۲)
Explanation
فوائد:… لوگوں کو چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والوں اور خریدنے والوں کو چھوڑ دو، وہ آپس میں سودا کر لیں گے، تم بیچ میں آ کر قیمتوں کے مشورے نہ دو اور دلّالی نہ کرو، ہاں جب کوئی آدمی مشورہ طلب کرے تو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اس کی خیرخواہی کر دی جائے۔
9106
Sahih
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۰۷)۔ عَنْ جَرِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلامِ فَقَبَضَ یَدَہُ وَقَالَ: ((النُّصْحُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۷۴)
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور فرمایا: ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۰۷) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۹۱۶۱)
9107
Sahih
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۰۸)۔ عَنْ زَیَادِ بْنِ عِلاقَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِیْرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَامَ یَخْطُبُیَوْمَ تُوُفِّیَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِاتِّقَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّکِیْنَۃِ حَتّٰییَاْتِیَکُمْ اَمِیْرٌ، فَاِنَّمَایَاْْتِیْکُمُ الْآنَ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَعْفُوْا لِاَمِیْرِکُمْ فَاِنَّہُ کَانَ یُحِبُّ الْعَفْوَ، وَقَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلامِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَاشْتَرَطَ عَلَیَّ ((وَالنُّصْحَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَاُ مِنَ الْکَافِرِ۔)) فَبَایَعْتُہُ عَلٰی ھٰذَا وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ! اِنِّیْ لَکُمْ لَنَاصِحٌ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۶۵)
۔ زیاد بن علاقہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھڑے ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا: تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور نیا امیر آنے تک وقار اور سکینت اختیار کرو، بس وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر کہا: اپنے امیر سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے معافی کا سوال کرو، کیونکہ وہ معافی کو پسند کرتے تھے۔ ایک حدیث بھی سن لو، أَمَّا بَعْدُ! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی کہ میں ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کروں۔ ایک روایت میں ہے: اور تو ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کرے اور کافر سے براء ت کا اظہار کرے۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! میں نے اسی چیز پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، اور اب میں تم سب کی خیرخواہی کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بخشش کا سوال کیا اور نیچے اتر آئے۔
Takhreej
(۹۱۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸، ومسلم: ۵۶ (انظر: ۱۹۱۵۳)
9108
Sahih
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَحَبُّ مَاتَعَبَّدَنِیْ بِہٖعَبْدِیْ اِلیَّ النُّصْحُ لِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز، جس کے ذریعے بندہ میری عبادت کرتا ہے، یہ ہے کہ میرے لیے خیرخواہی کی جائے۔
Takhreej
(۹۱۰۹) تخریج:اسنادہ ضعیف جدا، عبیداللہ بن زحر الافریقی ضعیف، وعلی بن یزید بن ابی ھلال الالھانی واھی الحدیث، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۸۸۰(انظر: ۲۲۱۹۱)
9109
Zaeef
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ، وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّۃً: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ۔)) وَذَکَرَ شَاذَانُ اَیْضًا حَدِیْثَ ((الدَّالُّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۱۸)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص امانتدار ہو تا ہے، جس سے مشورہ طلب کیا جائے۔ شاذان راوی نے یہ حدیث بھی ذکر کی: نیکی پر رہنمائی کرنے والا اس نیکی کو کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۰) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ف: ۱۷/ ۶۲۹ (انظر: ۲۲۳۶۰)
Explanation
فوائد:… مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمان کے لیے خیر و بھلائی کو پسند کرنا، یہ بڑی جامع احادیث ہیں، بظاہر تو دو چار الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔ لیکن دوسرے تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق بیان کر دیئے ہیں، کسی کے لیے خیر چاہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حتی الوسع اس کو فائدہ پہنچایا جائے، اس کو اچھا مشورہ دیا جائے اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، بالخصوص جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مشورہ طلب کرے تو مشورہ دیتے وقت تمام مفید اور مضر پہلوؤں کو واضح کیا جائے اور کسی بخل سے کام نہ لیا جائے۔ اگلے باب کی احادیث پر غور کرنے سے خیر خواہی کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی۔
9110
Sahih
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَمَنْ یَسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَاکَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ، وَمَنْ سَلَکَ طَرِیْقًایَلْتَمِسُ فِیْہِ عَلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖطَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہُ بَیْنَھُمْ اِلاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْھُمُ الْمَلائِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ اَبْطَاَ بِہٖعَمَلُہُلَمْیُسْرِعْ بِہٖنَسَبُہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن سے دنیا کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور کرے گا، جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو فرد کسی تنگدست اور بدحال پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی تائید ونصرت میں لگا رہتا ہے، اور جو علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلتا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے جنت کی طرف جانے والے راستے کو آسان کردیتا ہے، جب لوگ اللہ تعالیٰکے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب ِ الہی کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کی ایک دوسرے کو تعلیم دیتے ہیں تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان ہستیوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Takhreej
(۹۱۱۱) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۹۹(انظر: ۷۴۲۷)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت کے سلسلے میں اعلی نسب اور آباء و اجداد کی عظمت کام نہیں آئے گی، جس کا عمل ناقص ہو گی، اس کی قدر نہیں ہو گی۔
9111
Sahih
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۱۲)۔ عَنْ مَسْلَمَۃَ بْنِ مَخْلَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَمَنْ نَجّٰی مَکْرُوْبًا فَکَّ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ حَاجَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۴)
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو آدمی کسی مغموم اور پریشان حال کو نجات دلاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی روزِ قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کر دے گا اور جو آدمی اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میںلگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے ۔
Takhreej
(۹۱۱۲) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۱۲۹(انظر: ۱۶۹۵۹)
Explanation
فوائد:… جب کسی مسلمان کے شرّ سے دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچنے کا واضح خطرہ ہو تو ایسے میں دوسرے مسلمان کو متنبہ کرنے کے لیے محدود حد تک پردہ پوشی کا قانون توڑ دینا چاہیے،یہ بات احادیث سے ثابت ہوتی ہے ۔
9112
Sahih
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہُ وَلا یُسْلِمُہ، مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ حَاجَتِہِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنْہُ بِھَا کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۴۶)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارو مدد گار چھوڑتا ہے، جو آدمی اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے درپے رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں، جس نے کسی مسلمان سے کوئی پریشانی دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان پر پردہ ڈالا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس پر پردہ ڈالے گا۔
Takhreej
(۹۱۱۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۴۴۲، ۶۹۵۱، ومسلم: ۲۵۸۰(انظر: ۵۶۴۶)
Explanation
فوائد:… لَا یُسْلِمُہ کے معانی ہیں: بے یارو مددگار چھوڑنا، دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا، کسی کے حوالے کر دینا۔
9113
Sahih
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۱۴)۔ عَنْ سَلاَّمِ بْنِ عَمْرٍو الیَشْکُرِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْوَانُکُمْ اَحْسِنُوْا اِلَیْھِمْ، أَوْ فَاَصْلِحُوْا اِلَیْھِمْ وَاسْتَعِیْنُوْھُمْ عَلٰی مَاغَلَبَکُمْ، وَاَعِیْنُوْھُمْ عَلٰی مَاغَلَبَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۳۵)
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو اور جو چیز تم کو مغلوب کر دے، تم اس کے معاملے میں اپنے بھائیوں سے مدد طلب کرو اور جو چیز ان پر غالب آ جائے، تو اس کے معاملے میں ان کی مدد کرو۔
Takhreej
(۹۱۱۴) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ أبو یعلی: ۹۲۰، والبخاری فی الادب المفرد : ۱۹۰(انظر: ۲۳۱۴۸)
9114
Sahih
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلَانِ حَاجَتُھُمَا وَاحِدَۃٌ، فَتَکَلَّمَ اَحَدُھُمَا، فَوَجَدَ نَبِیُّ اللّٰہ مِنْ فِیْہِ اَخْلَافًا، فَقَالَ لَہُ: ((اَلا تَسْتَاکُ!)) فَقَالَ: اِنِّیْ لَاَفْعَلُ وَلٰکِنِّیْ لَمْ اَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَـلَاثٍ، فَاَمَرَ بِہٖرَجُلاًفآوَاہُ،وَقَضٰی لَہُ حَاجَتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ دوآدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان کی ضرورت ایک ہی تھی، ان میں سے ایک نے جب گفتگو کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے منہ سے بد بو محسوس کی اور فرمایا: کیا تو مسواک نہیں کرتا؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتاہوں، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، پس وہ اس کو لے گیا اور اس کی ضرورت پوری کی۔
Takhreej
(۹۱۱۵) تخریج:اسنادہ ضعیف، قابوس بن ابی ظبیان لیّن،یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۱۱، والبیھقی: ۱/ ۳۹ (انظر: ۲۴۰۹)
9115
Zaeef
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
۔ (۹۱۱۶)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَّہُ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۷۰)
۔ سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے، باہم ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے باقی سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۶) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۸۶(انظر: ۱۸۳۸۰)
Explanation
فوائد:… ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی تکلیف کا ایسا احساس ہونا چاہیے، جیسے تکلیف میں مبتلا اپنے عضو میں ہوتا ہے۔ اگر پاؤں میں درد ہو تو جسم کا باقی حصہ اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ساری رات بیدار رہتا ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرے مسلمانوں کو ٹس سے مس نہ ہو، یہ قطعی طور پر اہل اسلام کا رویہ نہیں ہے، جبکہ عصر حاضر میں لاپرواہی اور لا ابالی پن کا ایسا غلبہ ہے کہ مسلمان مفاد پرست ہو کر رہ گیا ہے، اسلام کا دعوی تو ہے، لیکن روحِ اسلام اور تقاضۂ اسلام سے محرومی ہے۔
9116
Sahih
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
۔ (۹۱۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمُؤْمِنُ کَرَجُلٍ وَاحِدٍ اِذَا اشْتَکٰی رَاْسُہُ اشْتَکٰی کُلُّہُ، اِنِ اشْتَکٰی عَیْنُہُ اشْتَکٰی کُلُّہُ۔)) (مسند تاحمد: ۱۸۶۲۵)
۔ سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے مومن ایک آدمی کی مانند ہیں، جب اس کا سر تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں پڑ جاتا ہے اور جب اس کی آنکھ دکھتی ہے تو سارے کا سارا جسم دکھنے لگتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۷) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۸۶(انظر: ۱۸۴۳۴)
9117
Sahih
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
۔ (۹۱۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۶)
۔ سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا بعض حصہ بعض کو مضبوط کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۸) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۸۵(انظر: ۱۹۶۲۵)
9118
Sahih
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
۔ (۹۱۱۹)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ اَھْلِ الْاِیْمَانِ بِمَنْزِلَۃِ الرَّاْسِ مِنَ الْجَسَدِ، یَاْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِاَھْلِ الْاِیْمَانِ کَمَا یَاْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِیْ الرَّاْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۵)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اہل ایمان لوگوں سے مؤمن کا تعلق وہ ہے جو جسم سے سر کا ہوتا ہے، مؤمن دوسرے اہل ایمان کی خاطر ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے سر کی بیماری کی وجہ سے سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۹) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۷۴۳، وفی الاوسط : ۴۶۹۳ (انظر: ۲۲۸۷۷)
9119
Sahih
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
۔ (۹۱۲۰)۔ عَنْ سَیَّارٍ، اَنَّہُ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْقَسْرِیِّ، وَھُوَ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّ الْجَنَّۃَ؟۔)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَحِبَّ لِاَخِیْکَ مَاتُحِبُّ لِنَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۷۲)
۔ خالد بن عبدا للہ قسری نے کہا، جبکہ وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے: میرے باپ نے میرے دادے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو جنت کو پسند کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، وہی کچھ اپنے بھائی کے لیے پسند کر۔
Takhreej
(۹۱۲۰) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۶۸(انظر: ۱۶۶۵۵)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو جو خیر و بھلائی اپنے لیے پسند ہو، وہ ان ہی امورِ خیر کو دوسرے مسلمانوں کے لیے پسند کرے اور عملی طور پر حتی الوسع اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کوشش بھی کرے، اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ جیسے گھر کے سربراہ کے ذمے گھر کے افراد کے حقوق ہیں،اسی طرح اس پر رشتہ دار اور غیر رشتہ دار مسلمانوں کے حقوق بھی عائد ہوتے ہیں۔
9120
Sahih
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
۔ (۹۱۲۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰییُحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّہُ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۶۶۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ خیر و بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۲۱) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الطیالسی: ۲۰۰۴، وابویعلی: ۲۸۸۷، وابو عوانۃ: ۱/۳۳ (انظر: ۱۳۶۲۹)
Explanation
فوائد:… عام طور پر اس حدیث مبارکہ کے یہ الفاظ بیان کیے جاتے ہیں: ((لَایُؤْمِن أحَدُکُمْ حَتّٰییُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔)) اوریہ الفاظ بھی ثابت ہیں، اس حدیث میں مِنَ الْخَیْرِ کے الفاظ کی زیادتی اس حدیث کے معنی و مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ اَلْخَیْرِ کے کلمے میں بڑی جامعیت پائی جاتی ہے، یہ کلمہ احکام شریعت کی تعمیل اور دنیوی و اخروی مباحات پر مشتمل ہے اور شریعت کے منع کردہ امور کو خارج کرتا ہے۔ یعنی مسلمان کا کامل اخلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو دنیوی خیر و منفعت اور اخروی خیر و بھلائی اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے اسلامی بھائی کے لیے بھی پسند کرے اور جس بری چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے بھائی کے حق میں بھی ناپسند کرے۔
9121
Sahih
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۲۲)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُنْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا نَنْصُرُہُ مَظْلُوْمًا فَکَیْفَ نَنْصُرُہُ ظَالِمًا؟ قَالَ: ((تَمْنَعُہُ مِنَ الظُّلْمِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((تَحْجِزُہُ تَمْنَعُہُ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذٰلِکَ نَصْرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بات تو سمجھ آ رہی ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں، بھلا ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کو ظلم سے منع کرو۔ ایک روایت میں ہے: تم اس کو ظلم سے روکو، یہ دراصل اس کی مدد ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۲۲) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۴۴۳ (انظر: ۱۳۰۷۹)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو امور ِ خیر کی تعلیم دینا، ہر جائز معاملے میں اس کی مدد کرنا اور اس کو معصیت والے کاموں سے روکنا، یہ سب اس کی تائید و نصرت کی شکلیں ہیں۔
9122
Sahih
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۲۳)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اقْتَتَلَ غُلامَانِ غُلامٌ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَغُلامٌ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا لَلْمُھَاجِرِیْنَ، وَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَالَلْاَنْصَارِ! فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ؟)) فَقَالُوْا: لا، وَاللّٰہِ اِلاَّ اَنَّ غُلامَیْنِ کَسَعَ اَحَدُھُمَا الْآخَرَ، فَقَالَ: ((لابَاْسَ لِیَنْصُرَ الرَّجُلُ اَخَاہُ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا فَاِنْ کَانَ ظَالِمًا فَلْیَنْہَہُ فَاِنَّ لَہُ نُصْرَۃً، وَاِنْ کَانَ مَظْلُوْمًا فَلْیَنْصُرْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکے لڑ پڑے، ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کاانصار سے، اول الذکر نے آواز دی: او مہاجرو! آخر الذکر نے یوں للکارا: او انصاریو! یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر آگئے اورفرمایا: کیا جاہلیت والی پکار پکاری جا رہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! بس ایک لڑکے نے دوسرے کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مار دیا ہے، (اس وجہ سے لڑائی ہو گئی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن چاہیےیہ کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے، وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے منع کرے،یہ اس کے لیے مدد ہو گی اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی تائید و نصرت کرے۔
Takhreej
(۹۱۲۳) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۸۴(انظر: ۱۴۴۶۷)
Explanation
فوائد:… مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
9123
Sahih
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۲۴)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اُذِلَّ عِنْدَہُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ یَنْصُرْہُ وَھُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یَنْصُرَہُ، اَذَّلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸۱)
۔ سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موجود گی میں مؤمن کو ذلیل کیا گیا اور اس نے اس کی مدد نہ کی، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ساری مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔
Takhreej
(۹۱۲۴) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۵۵۴ (انظر: ۱۵۹۸۵)
9124
Zaeef

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.