TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12695 - فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 8 in this chapter
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۶۹۵)۔ عَنِ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحْلِفُ عِنْدَ ہٰذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَۃٌ عَلٰییَمِینٍ آثِمَۃٍ، وَلَوْ عَلٰی سِوَاکٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۲۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس منبر کے قریب کوئی مرد یا عورت گناہ والی قسم اٹھائے، خواہ وہ ایک تازہ مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔
12695
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۶۹۵) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۲۶(انظر: ۱۰۷۱۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… زمان و مکاں کی وجہ سے نیکی کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور برائی کی قباحت بھی بڑھ جاتی ہے۔

Related Chapters

1,072
1
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
3
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
5
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ
Musnad Ahmad
6
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
7
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
8
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
Musnad Ahmad
9
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
10
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
17
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
19
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
20
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
22
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
23
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
24
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
25
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
26
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
27
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
29
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
30
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
31
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
34
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
35
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
36
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
Musnad Ahmad
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
44
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
45
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
47
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
48
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
49
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
50
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

9
Musnad Ahmad
8385
۔ (۸۳۸۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ سَمِعَہُ مِنْ شَیْخٍ فَقَالَ مَرَّۃً سَمِعْتُہُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ أَعْرَابِیٍّ، سَمِعْتُ أَ بَاہُرَیْرَۃَیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَأَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَبَلَغَ {فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} فَلْیَقُلْ: آمَنَّا بِاللّٰہِ، وَمَنْ قَرَأَ {وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ} فَلْیَقُلْ: بَلٰی وَأَ نَا عَلَی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ، وَمَنْ قَرَأَ {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی} فَلْیَقُلْ: ((بَلٰی۔)) قَالَ إِسْمَاعِیلُ: فَذَہَبْتُ أَ نْظُرُ ہَلْ حَفِظَ وَکَانَ أَ عْرَابِیًّا فَقَالَ: یَا ابْنَ أَ خِی أَ ظَنَنْتَ أَ نِّی لَمْ أَ حْفَظْہُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّینَ حَجَّۃً، مَا مِنْہَا سَنَۃٌ إِلَّا أَ عْرِفُ الْبَعِیرَ الَّذِی حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۸۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میںکہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلائوں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔
Musnad Ahmad
8536
۔ (۸۵۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰییَمِینٍ ہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) فَقَالَ الْأَ شْعَثُ: فِیَّ کَانَ وَاللّٰہِ ذٰلِکَ، کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنْ الْیَہُودِ أَ رْضٌ، فَجَحَدَنِی فَقَدَّمْتُہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ لَکَ بَیِّنَۃٌ؟۔)) قُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْیَہُودِیِّ: ((احْلِفْ!۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِذَنْ یَحْلِفَ فَذَہَبَ بِمَالِی، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَ یْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی تا کہ مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا، اشعت بن قیس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے اور ایکیہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا ہوا، اس نے میرے خلاف انکار کردیا اور دعویٰ کیایہ زمین میری ہے۔ میں نے اس مقدمہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایا: تو قسم اٹھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قسم اٹھا کر میرا مال لے جائے گا۔ پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۷۷)
Musnad Ahmad
8778
۔ (۸۷۷۸)۔ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} [الواقعۃ: ۳۰]، عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ شَجَرَۃًیَسِیرُ الرَّاکِبُ فِی ظِلِّہَا مِائَۃَ عَامٍ لَا یَقْطَعُہَا۔))، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَ خْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَ بَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَیَقُولُ أَ بُو ہُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُ وْا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰۶)
۔ قتادہ اللہ تعالی کے اس فرمان {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}… اور لمبے لمبے سایوں میں کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سائے میں ایک سو سال چلے گا، پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے تھے: اگر چاہتے ہو تو اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھ لو: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}… اور لمبے لمبے سایوں میں
Musnad Ahmad
10789
۔ (۱۰۷۸۹)۔ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّہْرِیُّ: أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، یُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا حَدِیثَ صَاحِبِہِ، قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَانَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی بِضْعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً مِنْ أَصْحَابِہِ حَتّٰی إِذَا کَانُوا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ قَلَّدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدْیَ وَأَشْعَرَہُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَۃِ وَبَعَثَ بَیْنَیَدَیْہِ عَیْنًا لَہُ مِنْ خُزَاعَۃَیُخْبِرُہُ عَنْ قُرَیْشٍ، وَسَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِغَدِیرِ الْأَشْطَاطِ قَرِیبٌ مِنْ عُسْفَانَ أَتَاہُ عَیْنُہُ الْخُزَاعِیُّ، فَقَالَ: إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ کَعْبَ بْنَ لُؤَیٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَیٍّ قَدْ جَمَعُوا لَکَ الْأَحَابِشَ، وَجَمَعُوا لَکَ جُمُوعًا، وَہُمْ مُقَاتِلُوکَ وَصَادُّوکَ عَنِ الْبَیْتِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَشِیرُوا عَلَیَّ أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِیلَ إِلٰی ذَرَارِیِّ ہٰؤُلَائِ الَّذِینَ أَعَانُوہُمْ فَنُصِیبَہُمْ، فَإِنْ قَعَدُوا قَعَدُوا مَوْتُورِینَ مَحْرُوبِینَ وَإِنْ نَجَوْا، وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: مَحْزُونِینَ وَإِنْ یَحْنُونَ، تَکُنْ عُنُقًا قَطَعَہَا اللَّہُ، أَوْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَیْتَ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْہُ قَاتَلْنَاہُ۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: اَللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِینَ وَلَمْ نَجِئْ نُقَاتِلُ أَحَدًا، وَلٰکِنْ مَنْ حَالَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْبَیْتِ قَاتَلْنَاہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((فَرُوحُوا إِذًا۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا قَطُّ کَانَ أَکْثَرَ مَشُورَۃً لِأَصْحَابِہِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ الزُّہْرِیُّ فِی حَدِیثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ: فَرَاحُوا حَتّٰی إِذَا کَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بِالْغَمِیمِ فِی خَیْلٍ لِقُرَیْشٍ طَلِیعَۃً، فَخُذُوا ذَاتَ الْیَمِینِ۔)) فَوَاللّٰہِ! مَا شَعَرَ بِہِمْ خَالِدٌ حَتّٰی إِذَا ہُوَ بِقَتَرَۃِ الْجَیْشِ فَانْطَلَقَ یَرْکُضُ نَذِیرًا لِقُرَیْشٍ، وَسَارَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالثَّنِیَّۃِ الَّتِییَہْبِطُ عَلَیْہِمْ مِنْہَا بَرَکَتْ بِہِ رَاحِلَتُہُ، وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: بَرَکَتْ بِہَا رَاحِلَتُہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((حَلْ حَلْ۔)) فَأَلَحَّتْ فَقَالُوا: خَلَأَتِ الْقَصْوَائُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَائُ وَمَا ذَاکَ لَہَا بِخُلُقٍ وَلٰکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یَسْأَلُونِّی خُطَّۃًیُعَظِّمُونَ فِیہَا حُرُمَاتِ اللّٰہِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا۔)) ثُمَّ زَجَرَہَا فَوَثَبَتْ بِہِ، قَالَ: فَعَدَلَ عَنْہَا حَتّٰی نَزَلَ بِأَقْصَی الْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی ثَمَدٍ قَلِیلِ الْمَائِ، إِنَّمَا یَتَبَرَّضُہُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ یَلْبَثْہُ النَّاسُ أَنْ نَزَحُوہُ، فَشُکِیَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوہُ فِیہِ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا زَالَ یَجِیشُ لَہُمْ بِالرِّیِّ حَتّٰی صَدَرُوا عَنْہُ، قَالَ: فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إِذْ جَائَ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ الْخُزَاعِیُّ فِی نَفَرٍ مِنْ قَوْمِہِ، وَکَانُوا عَیْبَۃَ نُصْحٍ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَہْلِ تِہَامَۃَ، وَقَالَ: إِنِّی تَرَکْتُ کَعْبَ بْنَ لُؤَیٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَیٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِیَاہِ الْحُدَیْبِیَۃِ مَعَہُمْ الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ وَہُمْ مُقَاتِلُوکَ وَصَادُّوکَ عَنِ الْبَیْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلٰکِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِینَ، وَإِنَّ قُرَیْشًا قَدْ نَہَکَتْہُمُ الْحَرْبُ فَأَضَرَّتْ بِہِمْ، فَإِنْ شَائُ وا مَادَدْتُہُمْ مُدَّۃً وَیُخَلُّوا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّاسِ، فَإِنْ أَظْہَرْ فَإِنْ شَائُ وْا أَنْ یَدْخُلُوا فِیمَا دَخَلَ فِیہِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوْ وَإِنْ ہُمْ أَبَوْا، وَإِلَّا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَأُقَاتِلَنَّہُمْ عَلٰی أَمْرِی ہٰذَا حَتّٰی تَنْفَرِدَ سَالِفَتِی، أَوْ لَیُنْفِذَنَّ اللّٰہُ أَمْرَہُ۔)) قَالَ یَحْیٰی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: ((حَتّٰی تَنْفَرِدَ، قَالَ: فَإِنْ شَائُ وْا مَادَدْنَاہُمْ مُدَّۃً۔))، قَالَ بُدَیْلٌ: سَأُبَلِّغُہُمْ مَا تَقُولُ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی أَتٰی قُرَیْشًا فَقَالَ، إِنَّا قَدْ جِئْنَاکُمْ مِنْ عِنْدِ ہٰذَا الرَّجُلِ وَسَمِعْنَاہُ یَقُولُ قَوْلًا فَإِنْ شِئْتُمْ نَعْرِضُہُ عَلَیْکُمْ، فَقَالَ سُفَہَاؤُہُمْ: لَا حَاجَۃَ لَنَا فِی أَنْ تُحَدِّثَنَا عَنْہُ بِشَیْئٍ،وَقَالَ ذُو الرَّأْیِ مِنْہُمْ: ہَاتِ مَا سَمِعْتَہُ یَقُولُ، قَالَ: قَدْ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: کَذَا وَکَذَا، فَحَدَّثَہُمْ بِمَا قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیُّ فَقَالَ: أَیْ قَوْمُ! أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا: بَلٰی! قَالَ: أَوَلَسْتُ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا: بَلٰی! قَالَ: فَہَلْ تَتَّہِمُونِی، قَالُوْا: لَا، قَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی اسْتَنْفَرْتُ أَہْلَ عُکَاظٍ فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَیَّ جِئْتُکُمْ بِأَہْلِی وَمَنْ أَطَاعَنِی؟ قَالُوا: بَلٰی! فَقَالَ: إِنَّ ہٰذَا قَدْ عَرَضَ عَلَیْکُمْ خُطَّۃَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوہَا وَدَعُونِی آتِہِ، فَقَالُوْا: ائْتِہِ فَأَتَاہُ، قَالَ: فَجَعَلَ یُکَلِّمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ نَحْوًا مِنْ قَوْلِہِ لِبُدَیْلٍ، فَقَالَ عُرْوَۃُ عِنْدَ ذٰلِکَ: أَیْ مُحَمَّدُ! أَرَأَیْتَ إِنْ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَکَ، ہَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَہْلَہُ قَبْلَکَ، وَإِنْ تَکُنِ الْأُخْرٰی فَوَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی وُجُوہًا وَأَرٰی أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ خُلُقًا أَنْ یَفِرُّوا وَیَدَعُوکَ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، نَحْنُ نَفِرُّ عَنْہُ وَنَدَعُہُ فَقَالَ: مَنْ ذَا؟ قَالُوا: أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلَا یَدٌ کَانَتْ لَکَ عِنْدِی، لَمْ أَجْزِکَ بِہَا لَأَجَبْتُکَ، وَجَعَلَ یُکَلِّمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُلَّمَا کَلَّمَہُ أَخَذَ بِلِحْیَتِہِ، وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَائِمٌ عَلٰی رَأْسِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ السَّیْفُ وَعَلَیْہِ الْمِغْفَرُ، وَکُلَّمَا أَہْوٰی عُرْوَۃُ بِیَدِہِ إِلَی لِحْیَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَرَبَ یَدَہُ بِنَصْلِ السَّیْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ یَدَکَ عَنْ لِحْیَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَفَعَ عُرْوَۃُیَدَہُ فَقَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالُوا: الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ، قَالَ: أَیْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعٰی فِی غَدْرَتِکَ؟ وَکَانَ الْمُغِیرَۃُ صَحِبَ قَوْمًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَتَلَہُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَہُمْ ثُمَّ جَائَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمَّا الْإِسْلَامُ فَأَقْبَلُ وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْہُ فِی شَیْئٍ۔)) ثُمَّ إِنَّ عُرْوَۃَ جَعَلَ یَرْمُقُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَیْنِہِ قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُخَامَۃً إِلَّا وَقَعَتْ فِی کَفِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ فَدَلَکَ بِہَا وَجْہَہُ وَجِلْدَہُ، وَإِذَا أَمَرَہُمْ ابْتَدَرُوْا أَمْرَہُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوا یَقْتَتِلُونَ عَلٰی وَضُوئِہِ، وَإِذَا تَکَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَہُ، وَمَا یُحِدُّونَ إِلَیْہِ النَّظَرَ تَعْظِیمًا لَہُ، فَرَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: أَیْ قَوْمِ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوکِ، وَوَفَدْتُ عَلٰی قَیْصَرَ وَکِسْرٰی وَالنَّجَاشِیِّ، وَاللّٰہِ! إِنْ رَأَیْتُ مَلِکًا قَطُّ یُعَظِّمُہُ أَصْحَابُہُ مَا یُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاللّٰہِ! إِنْ یَتَنَخَّمُ نُخَامَۃً إِلَّا وَقَعَتْ فِی کَفِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ فَدَلَکَ بِہَا وَجْہَہُ وَجِلْدَہُ، وَإِذَا أَمَرَہُمْ ابْتَدَرُوْا أَمْرَہُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوا یَقْتَتِلُونَ عَلٰی وَضُوئِہِ، وَإِذَا تَکَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَہُ، وَمَا یُحِدُّونَ إِلَیْہِ النَّظَرَ تَعْظِیمًا لَہُ، وَإِنَّہُ قَدْ عَرَضَ عَلَیْکُمْ خُطَّۃَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوہَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ: دَعُونِی آتِہِ، فَقَالُوْا: ائْتِہِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ہٰذَا فُلَانٌ وَہُوَ مِنْ قَوْمٍ یُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ فَابْعَثُوْہَا لَہُ۔)) فَبُعِثَتْ لَہُ وَاسْتَقْبَلَہُ الْقَوْمُ یُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! مَا یَنْبَغِی لِہٰؤُلَائِ أَنْ یُصَدُّوْا عَنِ الْبَیْتِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، قَالَ: رَأَیْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَلَمْ أَرَ أَنْ یُصَدُّوا عَنِ الْبَیْتِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ: مِکْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، فَقَالَ: دَعُونِی آتِہِ، فَقَالُوْا: ائْتِہِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَیْہِمْ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ہٰذَا مِکْرَزٌ وَہُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ۔)) فَجَعَلَ یُکَلِّمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَا ہُوَ یُکَلِّمُہُ إِذْ جَائَہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِیأَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ: أَنَّہُ لَمَّا جَائَ سُہَیْلٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((سَہُلَ مِنْ أَمْرِکُمْ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ فِی حَدِیثِہِ: فَجَائَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ: ہَاتِ اکْتُبْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابًا، فَدَعَا الْکَاتِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلٌ: أَمَّا الرَّحْمَنُ، فَوَاللّٰہِ! مَا أَدْرِی مَا ہُوَ؟ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ: مَا ہُوَ؟ وَلَکِنْ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ کَمَا کُنْتَ تَکْتُبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: وَاللّٰہِ! مَا نَکْتُبُہَا إِلَّا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ۔)) ثُمَّ قَالَ: ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: وَاللّٰہِ! لَوْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ مَا صَدَدْنَاکَ عَنِ الْبَیْتِ وَلَا قَاتَلْنَاکَ، وَلٰکِنْ اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَاللّٰہِ! إِنِّی لَرَسُولُ اللّٰہِ وَإِنْ کَذَّبْتُمُونِی، اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَذٰلِکَ لِقَوْلِہِ لَایَسْأَلُونِّی خُطَّۃًیُعَظِّمُونَ فِیہَا حُرُمَاتِ اللّٰہِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((عَلٰی أَنْ تُخَلُّوا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَطُوفَ بِہِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلٌ: وَاللّٰہِ! لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَۃً وَلٰکِنْ لَکَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَکَتَبَ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: عَلٰی أَنَّہُ لَا یَأْتِیکَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ عَلٰی دِینِکَ إِلَّا رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! کَیْفَیُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ وَقَدْ جَائَ مُسْلِمًا؟ فَبَیْنَا ہُمْ کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو یَرْسُفُ وَقَالَ یَحْیٰی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: یَرْصُفُ فِی قُیُودِہِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ حَتّٰی رَمٰی بِنَفْسِہِ بَیْنَ أَظْہُرِ الْمُسْلِمِینَ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: ہٰذَا یَا مُحَمَّدُ! أَوَّلُ مَا أُقَاضِیکَ عَلَیْہِ أَنْ تَرُدَّہُ إِلَیَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْکِتَابَ بَعْدُ۔)) قَالَ: فَوَاللّٰہِ! إِذًا لَا نُصَالِحُکَ عَلٰی شَیْئٍ أَبَدًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((فَأَجِزْہُ لِی۔)) قَالَ: مَا أَنَا بِمُجِیرِہِ لَکَ قَالَ: بَلَی، فَافْعَلْ، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِکْرَزٌ: بَلٰی، قَدْ أَجَزْنَاہُ لَکَ، فَقَالَ أَبُو جَنْدَلٍ: أَیْ مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِینَ أُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِیتُ، وَکَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِیدًا فِی اللّٰہِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِیَّ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قُلْتُ: أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ؟ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا إِذًا؟ قَالَ: ((إِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ وَلَسْتُ أَعْصِیہِ وَہُوَ نَاصِرِی۔)) قُلْتُ: أَوَلَسْتَ کُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِی الْبَیْتَ فَنَطُوفُ بِہِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: ((أَفَأَخْبَرْتُکَ أَنَّکَ تَأْتِیہِ الْعَامَ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَإِنَّکَ آتِیہِ وَمُتَطَوِّفٌ بِہِ۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَلَیْسَ ہٰذَا نَبِیُّ اللّٰہِ حَقًّا؟ قَالَ: بَلٰی، قُلْتُ: أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ: بَلٰی، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا إِذًا؟ قَالَ: أَیُّہَا الرَّجُلُ! إِنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَیَعْصِیرَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ نَاصِرُہُ فَاسْتَمْسِکْ، وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ: بِغَرْزِہِ، وَقَالَ: تَطَوَّفْ بِغَرْزِہِ حَتّٰی تَمُوتَ فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَعَلَی الْحَقِّ، قُلْتُ: أَوَلَیْسَ کَانَ یُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِی الْبَیْتَ وَنَطُوفُ بِہِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: أَفَأَخْبَرَکَ أَنَّہُ یَأْتِیہِ الْعَامَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ فَإِنَّکَ آتِیہِ وَمُتَطَوِّفٌ بِہِ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: قَالَ عُمَرُ: فَعَمِلْتُ لِذَلِکَ أَعْمَالًا، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِیَّۃِ الْکِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((قُومُوْا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا۔)) قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا قَامَ مِنْہُمْ رَجُلٌ حَتّٰی قَالَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ یَقُمْ مِنْہُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَذَکَرَ لَہَا مَا لَقِیَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُحِبُّ ذٰلِکَ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ کَلِمَۃً حَتّٰی تَنْحَرَ بُدْنَکَ وَتَدْعُوَ حَالِقَکَ فَیَحْلِقَکَ، فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ حَتّٰی فَعَلَ ذٰلِکَ نَحَرَ ہَدْیَہُ وَدَعَا حَالِقَہُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذٰلِکَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَحْلِقُ بَعْضًا، حَتّٰی کَادَ بَعْضُہُمْ یَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَائَہُ نِسْوَۃٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا جَاء َکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ حَتّٰی بَلَغَ بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ} قَالَ: فَطَلَّقَ عُمَرُ یَوْمَئِذٍ امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا لَہُ فِی الشِّرْکِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاہُمَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ، وَالْأُخْرٰی صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَجَائَہُ أَبُو بَصِیرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ مُسْلِمٌ، وَقَالَ یَحْیٰی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: فَقَدِمَ عَلَیْہِ أَبُو بَصِیرِ بْنُ أُسَیْدٍ الثَّقَفِیُّ مُسْلِمًا مُہَاجِرًا، فَاسْتَأْجَرَ الْأَخْنَسُ بْنُ شَرِیقٍ رَجُلًا کَافِرًا مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، وَمَوْلًی مَعَہُ وَکَتَبَ مَعَہُمَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ الْوَفَائَ فَأَرْسَلُوْا فِی طَلَبِہِ رَجُلَیْنِ، فَقَالُوْا: الْعَہْدَ الَّذِی جَعَلْتَ لَنَا فِیہِ، فَدَفَعَہُ إِلَی الرَّجُلَیْنِ فَخَرَجَا بِہِ حَتَّی بَلَغَا بِہِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَنَزَلُوْا یَأْکُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَہُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَیْنِ: وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی سَیْفَکَیَا فُلَانُ ہٰذَا جَیِّدًا، فَاسْتَلَّہُ الْآخَرُ، فَقَالَ: أَجَلْ وَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَجَیِّدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِہِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ: أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْہِ، فَأَمْکَنَہُ مِنْہُ فَضَرَبَہُ حَتّٰی بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتّٰی أَتَی الْمَدِینَۃَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ یَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ رَأٰی ہٰذَا ذُعْرًا۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُتِلَ وَاللّٰہِ! صَاحِبِی وَإِنِّی لَمَقْتُولٌ، فَجَائَ أَبُو بَصِیرٍ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَدْ وَاللّٰہِ! أَوْفَی اللّٰہُ ذِمَّتَکَ قَدْ رَدَدْتَنِی إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَنْجَانِی اللّٰہُ مِنْہُمْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرُ حَرْبٍ لَوْ کَانَ لَہُ أَحَدٌ۔)) فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِکَ عَرَفَ أَنَّہُ سَیَرُدُّہُ إِلَیْہِمْ فَخَرَجَ حَتّٰی أَتٰی سِیفَ الْبَحْرِ، قَالَ: وَیَتَفَلَّتُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِی بَصِیرٍ، فَجَعَلَ لَا یَخْرُجُ مِنْ قُرَیْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِی بَصِیرٍ حَتَّی اجْتَمَعَتْ مِنْہُمْ عِصَابَۃٌ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا یَسْمَعُونَ بِعِیرٍ خَرَجَتْ لِقُرَیْشٍ إِلَی الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَہَا فَقَتَلُوہُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَہُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَیْشٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُنَاشِدُہُ اللّٰہَ وَالرَّحِمَ، لَمَّا أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَمَنْ أَتَاہُ فَہُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ حَتّٰی بَلَغَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ} وَکَانَتْ حَمِیَّتُہُمْ أَنَّہُمْ لَمْ یُقِرُّوا أَنَّہُ نَبِیُّ اللّٰہِ، وَلَمْ یُقِرُّوا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، وَحَالُوا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۳۶)
"سیدنا مسور بن مخرمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے، ان دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حدیبیہ کے دنوں میں چودہ پندرہ سو صحابہ کی معیت میں روانہ ہوئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ کے مقام پرپہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے جانوروں کے گلوں میں بطور علامت قلادے ڈالے اور ان کے پہلو کو چیرا دیا اور عمرہ کا احرام باندھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے آگے آگے بنو خزاعہ کے ایک شخص کو بطور جاسوس بھیجا تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قریش کے ارادوں اور پروگرام سے آگاہ کرتا رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ جب آپ مقامِ عسفان کے قریب غدیرِ اشطاط پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خزاعی جاسوس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی کہ میں کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو دیکھ کر آیا ہوں، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مدمقابل آنے کے لیے بہت سے قبائل کو جمع کر چکے ہیں۔ وہ آپ سے قتال کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ آپ کوبیت اللہ کی طرف جانے سے روکنے کے درپے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا خیال ہے کہ جن لوگوں نے ان قریش کی مدد کی ہے، ہم ان کی عورتوں اور بچوں کی طرف چل پڑیں، اگر یہ لوگ وہیں قریش کے پاس ہی بیٹھے رہے تو ہم ان کے اموال حاصل کر لیں گے اور ان کے اہل وعیال کو گرفتار کر لیں گے اور اگر یہ کفار کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اموال اور اہل وعیال کو بچانے کی خاطر ادھر سے واپس آگئے تو اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کی معاون ایک جماعت کو ان سے الگ کر دے گا یا تم کیا مشورہ دیتے ہو کہ کیا ہم بیت اللہ کی طرف روا دواں رہیں، اور جس نے ہمیں اُدھر جانے سے روکا، ہم اس سے لڑ پڑیں گے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:اے اللہ کے نبی! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، بہرحال ہم تو عمرہ کے ارادہ سے آئے ہیں، ہم کسی سے قتال کرنے کے لیے تو نہیں آئے، البتہ جو شخص ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا اس سے ہم قتال کر یں گے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا پھر چلو۔ راویِ حدیث امام زہری کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر اپنے ساتھیوں سے اس قدر مشورے کرتا ہو، چنانچہ لوگ چل پڑے حتیٰ کہ جب راستے کے درمیان میں ہی تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد بن ولید قریش کے ایک چھوٹے سے گھڑ سوار لشکر کے ہمراہ( رابغ اور جحفہ کے درمیان) غمیم کے مقام پر موجود ہے، پس تم دائیں طرف والے راستے سے چلو۔ اللہ کی قسم! خالد کو ان کا پتہ بھی نہ چل سکا، یہاں تک کہ اس نے اچانک لشکر کے چلنے کی وجہ سے اڑتا غبار دیکھا وہ تو اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر قریش کوخبردار کرنے کے لیے دوڑنکلااور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رواں دواں رہے، تاآنکہ اس گھاٹی پر پہنچ گئے جہاں سے اہلِ مکہ کی طرف اترتے ہیں، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی،تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چل چل۔ مگر وہ بیٹھی رہی اور کھڑی نہ ہوئی، صحابہ کہنے لگے کہ قصوا ضد کر گئی،قصواء اڑی کر گئی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصواء نے ضدنہیں کی اور نہ ہییہ اس کی عادت ہے، دراصل اسے اس اللہ نے آگے جانے سے روکا ہے، جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم! یہ کافر مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں، جس سے وہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرتے ہوں تو میں ان کی ایسی ہر بات تسلیم کر لوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹنی کو کھڑا کرنے کے لیے ہانکا تو وہ کود کر اُٹھ کھڑی ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس راستے سے دوسرے راستے پر چل دئیے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حدیبیہ کے قریب ایک ایسی جگہ جا کر رکے جہاں قلیل مقدار میں پانی تھا، لوگ اسے چلووں سے تھوڑا تھوڑا جمع کر سکتے تھے، لوگوں نے اسے کچھ ہی دیر میں ختم کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور انہیں حکم دیا کہ اسے اس چشمے یا گڑھے میں گاڑ دیں۔اللہ کی قسم! صحابہ کی وہاں سے روانگیتک وہاں سے پانی جوش مار مار کر ابلتا رہا اور لوگوں کو سیراب کرتا رہا، صحابہ کرام وہیں اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم کے افراد کے ہمراہ وہاں آگیا۔ اہلِ تہامہ میں سے یہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاص راز دار تھے۔ اس نے کہا میں نے کعب بن لوی اور عامر بن لوی کو حدیبیہ کے ختم نہ ہونے والے ذخیروں کے پاس چھوڑا ہے۔ ان کے پاس تازہ بچے دینے والی شیردار اونٹنیاں ہیں، جن کے بچے بھی ہم راہ ہیں، وہ آپ سے قتال کرنے اور آپ کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روکنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تو کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کے ارادہ سے آئے ہیں، قریش کو لڑائیاں کم زور کر چکی ہیں اور ان کو شدید نقصان پہنچا چکی ہیں۔ وہ چاہیں گے تو میں انہیں ( جنگ نہ کرنے کے لیے) ایک لمبی مدت دے سکتا ہوں، بشرطیکہ وہ میرے اور لوگوں کے درمیان حائل نہ ہوں، اگر میں غالب رہوں تو ان کی مرضی ہے کہ یہ بھی اس دین میں آجائیں، جس میں دوسرے لوگ داخل ہو رہے ہیں، اگر وہ اسلام نہ بھی قبول کریں تب بھی جنگ کے سلسلہ میں تو مطمئن رہیں گے اور اگر ان سب باتوں کو ماننے سے انکار کریں تو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس دین کے بارے میں ان لوگوں سے قتال کروں گایہاں تک کہ یا تو اس راہ میں میری گردن کٹ جائے یا اللہ اپنے دین کو غالب کر دے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر قریش چاہیں تو ہم انہیں جنگ نہ کرنے کی ایک طویل مدت دے سکتے ہیں۔ بدیل نے کہا: میں آپ کی باتیں قریش تک پہنچا دوں گا، وہ قریش کے ہاں گیا اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس آدمی کے ہاں سے آئے ہیں، ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے، اگر تم چاہو تو ہم اس کی بات تمہارے سامنے پیش کریں، ان قریش کے بعض کم عقل لوگوںنے کہا: ہمیں اس بات کی قطعاً ضرورت نہیں کہ تم ہمیں ان کی کوئی بات سناؤ۔ لیکن ان میں سے اصحابِ رائے نے کہا: ہاں ہاں بتاؤ وہ کیا کہتا ہے؟ بدیل نے کہا: میں نے اسے یہ کہتے سنا ہے اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ساری بات ان کو بتا دی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر عروہ بن مسعود ثقفی اُٹھا اور اس نے کہا: لوگو! کیا تم اولاد1 کی طرح نہیں ہو؟ اس نے کہا کیا میں باپ کی طرح نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا ہاں وہ بولا تو کیا تم میرے متعلق کوئی بدگمانی کرتے ہو؟ وہ بولے کہ نہیں۔ اس نے کہا تم جانتے ہو کہ میں نے اہلِ عکاظ کو تمہارے حق میں لڑائی کے لیے پکارا تھا۔ ان میں سے کسی نے میری پکار کا اثبات میں جواب نہیں دیا تھا تو میں اپنے اہل وعیال کو اور اپنی بات ماننے والے سب لوگوں کو لے آیا تھا۔ سب نے کہا ہاں درست ہے۔ وہ بولا بے شک اس محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہارے سامنے بہترین تجویز رکھی ہے۔ تم اسے قبول کر لو۔ اور مجھے اجازت دو تاکہ میں بات چیت کرنے کے لیے اس کے پاس چلوں انہوں نے کہا تم جا سکتے ہو۔ وہ عروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا۔ اور آپ سے گفت وشنید کرنے لگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی ویسی ! جس طرح صحیح بخاری میں الفاظ ہیں، عربی بھی اسی انداز میں اور ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے اسل کی طرف رجوع بہتر رہے گا۔ (عبداللہ رفیق) ہی بات کی جیسی بدیل سے کی تھی۔ تب اس موقعہ پر عروہ نے کہا اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! کیا خیال ہے اگر آپ اپنی قوم کی جڑیں کاٹ ڈالیں گے تو کیا آپ نے سنا کہ آپ سے پہلے بھی کسی نے اپنی قوم کے ساتھ یہ سلوک کیاہو؟ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یعنی آپ کی قوم قریش غالب آجائے تو اللہ کی قسم میں آپ کے ساتھیوں میں ایسے چہرے اور ایسے مختلف اقوام وملل کے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو وقت آنے پر آپ کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر فرار ہو جائیں گے۔ یہ سن کر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے غصے سے کہا جا جا تو لات کی شرم گاہ کو بوسے دے، کیایہ ہو سکتا ہے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یونہی بے یارومددگار چھور کر بھاگ جائیں۔ عروہ نے پوچھا۔ یہ بولنے والے کون ہیں؟لوگوں نے بتایایہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں تو عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تمہارا مجھ پر ایک احسان ہے میں اس کا بدلہ نہیں چکا سکا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں تمہاری بات کا جواب دیتا۔ اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محوِ گفتگو ہو گیا۔ وہ جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہم کلام ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگا تا۔ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار ہاتھ میں لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کھڑے تھے۔ ان کے سر پر خود تھی۔ جب عروہ اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف بڑھانا تو مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار کی نوک اس کے ہاتھ پر رکھتا اور فرماتا تم اپنا ہاتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی سے دور رکھو۔ عروہ نے اپنا ہاتھ تو اُٹھالیا اور پوچھا یہ کون ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے۔ وہ بولا ارے بے وفا؟ کیا میں تیری بے وفائی میں تیری معاونت نہیں کرتا رہا؟ دراصل مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قبل از اسلام کچھ لوگوں سے تعلق رکھا۔ پھر انہیں قتل کر کے اور ان کے اموال چھین کر آکر مسلمان ہو گیا تھا۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا تمہارا اسلام تو قبول ہے البتہ اس مال سے میرا کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اس دوران عروہ صحابہ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رویہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔وہ کہتا ہے اللہ کی قسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی بلغم پھینکی تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر جا گری اور اس نے اسے اپنے چہرے یا جلد پر مل لیا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی انہیں کوئی حکم دیا تو سب اس کیتعمیل میں لپکے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب وضوء کیا تو وضوء سے نیچے گرنے والے پانی کو حاصل کرنے کی خاطر وہ یوں جھپٹتے گویا کہ وہ لڑ پڑیں گے۔ وہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کوئی بات کرتے تو احتراماً اپنی آوازوں کو انتہائی پست کر لیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکریم کرتے ہوئے آپ کی طرف نظریں نہیں اُٹھاتے وہ اپنے ساتھیوں کی طرف واپس گیا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی قسم! میں بڑے بڑے بادشاہوں قیصروکسریٰ اور نجاشی جیسے لوگوں کے پاس گیا ہوں اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے درباری اس کا اتنا احترام کرتے ہوں جتنا احترام اصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ اگر بلغم پھینکے تو وہ ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر گرتی ہے اور وہ اسے اپنے چہرے اور جلد پر مل لیتا ہے۔ وہ جب انہیں کوئی حکم دیتا ہے تو اس کی تعمیل میں سب لوگ لپک لپک جاتے ہیں۔ وہ جب وضو کرتا ہے تو وہ اس کے وضوء سے نیچے گرنے والے پانی کو حاصل کرنے کے لیےیوں جھپٹتے ہیں کہ شاید لڑ پڑیں گے۔ وہ جب بولتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب اپنی آوازوں کو انتہائی پست کر لیتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا احترام کرتے ہوئے وہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نظریں اُٹھا کر نہیں دیکھتے اس نے آپ لوگوں کے سامنے بہترین تجویز رکھی ہے تم لوگ اسے قبول کر لو۔ اس کی باتیں سن کر بنو کنانہ کا ایک آدمی بولا مجھے اجازت دو۔ اس ( محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس میں جاتا ہوں۔ لوگوں نے کہا تم ہو آؤ۔ وہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب کے سامنے آیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فلان شخص ہے یہ لوگ قربانی کے اونٹوں کی خوب تعظیم کرتے ہیں۔ اس کے آنے پر تم اپنے قربانی کے ان اونٹوں کو کھڑا کر دو۔ چنانچہ اونٹوں کو کھڑا کر دیا گیا۔ اور صحابہ نے تلبیہ پڑھتے ہوئے اسکا استقبال کیا۔ وہ بولا سبحان اللہ ان جیسے لوگوں کو تو بیت اللہ کی طرف جانے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ وہ جب اپنے ساتھیوں کی طرف واپس ہوا تو اس نے کہا میں دیکھ آیا ہوں کہ قربانی کے اونٹوں کے گلوں میں بطور علامات ہار ڈالے گئے ہیں۔ اور ان کے دائیں پہلو پر چیرے دئیے گئے ہیں۔ ان کو بیت اللہ کی طرف آنے سے روکے جانے کو میں پسند نہیں کرتا۔ یہ سن کر ان میں سے مکرز بن حفص نامی ایک شخص اُٹھا اور بولا مجھے اجازت دو اس یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس میں جاتا ہوں۔ اس کے ساتھیوں نے کہا تم ہو آؤ وہ جب مسلمانوں کے سامنے پہنچا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایایہ مکرز آرہا ہے یہ شریر آدمی ہے اور وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلام کرنے لگا۔ وہ ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محوِ گفتگو ہی تھا کہ سہیل بن عمرو آگیا۔عکرمہ کہتے ہیں کہ جب سہیل آیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اب تمہارا کام آسان ہو گیا۔ زہری کی روایتمیں ہے کہ سہیل بن عمرو نے آکر کہا کوئی کاغذ لاؤ۔ میں اپنے اور آپ کے مابین ایک تحریر لکھ دیتا ہوں۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کاتب ( سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو بلایا۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم، سہیل نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ رحمان کون ہے؟ البتہ آپ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ لکھیں جیسا کہ اس سے پہلے آپ لکھا کرتے تھے، تو مسلمانوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ ہی لکھو۔ پھر فرمایایہ وہ تحریر ہے جس پر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاہدہ کرتے ہیں۔ تب بھی سہیل نے کہا اللہ کی قسم اگر ہم یہ مانتے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ کی طرف آنے سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائیاں کرتے۔ آپ لکھیں محمد بن عبداللہ زہری کہتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبل ازیں فرما چکے تھے کہ یہ لوگ مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی حرمات یعنی شعائر کی تعظیم کریں تو میں ان کی ایسی ہر بات تسلیم کر وں گا۔ اس لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا( لکھو) یہ معاہدہ ہے بشرطیکہ تم ہمارے بیت اللہ تک جانے سے رکاوٹ نہ ڈالو۔ تاکہ ہم وہاں جا کر طواف کر سکیں۔ تو سہیل نے کہا اللہ کی قسم! عرب یوں نہ کہیں کہ ہم پرزبردستی کی گئی ہے۔ لیکن آپ امسال کی بجائے اگلے سال تشریف لے آئیں۔ چنانچہ معاہدہ لکھا گیا۔ سہیل نے کہا یہ معاہدہ ہے کہ ہمارے ہاں سے( یعنی مکہ سے) کوئی آدمی اگر آپ کے ہاں( مدینہ) گیا تو آپ اسے واپس کریں گے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ سن کر مسلمانوں نے کہا سبحان اللہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمان ہو کر آئے اور اسے مشرکین کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ ابھی لکھ ہی رہے تھے کہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن سہیل بن عمرو اپنی بیڑیوں میں مقید آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہاں پہنچ گئے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ کی طرف سے نکل آئے تھے۔ وہ آکر مسلمانوں کے درمیان گر گئے۔ یہ دیکھ کر سہیل نے کہا اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! معاہدہ کے مطابق میں پہلا مطالبہ یہ کرتا ہوں کہ آپ اسے میرے حوالے کریں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی تک تو ہم معاہدہ کی تحریر لکھ کر فارغ ہی نہیں ہوئے یعنی معاہدہ مکمل ہی نہیں ہوا۔ وہ بولا اللہ کی قسم! اگر یہ بات ہے تو ہم آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ نہیں کرتے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔ اسے نافذ ہونے دو وہ بولا میں اس معاہدہ کو آپ کے حق میں نافذ نہ ہونے دوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، بہتر ہے کہ مان جاؤ۔ وہ بولا میں بالکل نہیں مان سکتا۔ تو مکرز نے کہا ٹھیک ہے ہم اس معاہدہ کو نافذ کرتے ہیں ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگے مسلمانو! میں مسلمان ہوں کیا مجھے مشرکین کے حوالے کر دیا جائے گا؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس قدر مصائب اور ظلم وستم جھیل رہا ہوں؟ اسے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ ایذائیں دی گئی تھیں۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیںیہ مناظر دیکھ کر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے نبی نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کیوں نہیں؟ میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔میں اس کی نافرمانی اور حکم عدولی نہیں کر سکتا۔ وہی میرا ناصر اور مددگار ہے۔ میں نے عرض کیا، کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے یوں نہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا ہان لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال؟ میں نے عرض کیا، نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا پس تم وہاں جاؤ گے اور طواف کرو گے۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا گیا۔ اور عرض کیا اے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے سچے نبی نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے عرض کیا کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ انہوں نے کہا بالکل۔ میں نے کہا پھر ہم اپنے دین کے متعلق کمزوری کیوں دکھائیں؟ وہ بولے ارے وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ اپنے رب کی نافرمانییا حکم عدولی نہیں کرتے، اللہ ہی ان کی مدد کرے گا۔ تم ان کی بات کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور مرتے دم تک اسی پر ثابت قدم رہو۔ اللہ کی قسم وہ (رسول) حق پر ہی ہیں۔ میں نے کہا کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے یوں نہ کہا کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا، ہاں، لیکن کیا انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال؟ میں نے کہا کہ یہ تو نہیں کہا تھا۔ وہ بولے پس تم بیت اللہ جاؤ گے اور طواف کرو گے۔ زہری کی روایت میں ہے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنی اس جسارت کی تلافی کے لیے ( نمازیں، روزے اور صدقات وغیرہ) بہت سے اعمال کئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاہدہ کی تحریر کے معاملہ سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا اُٹھ کر اونٹوں کو نحر کرو اور اس کے بعدسر منڈوا دو۔ اللہ کی قسم! آپ نے اپنییہ بات تین دفعہ کہی لیکن اس کام کے لیے ایک بھی آدمی کھڑا نہ ہوا۔ جب کوئی بھی آدمی نہ اُٹھا تو آپ اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ c کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے لوگوں کی حالت کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا آپ واقعییہ کام کرنا چاہتے ہیں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سے کچھ نہ کہیں اور جا کر اپنا اونٹ نحر کر دیں۔ اور بال مونڈنے والے کو بلا کر بال منڈا لیں۔ چنانچہ آپ اُٹھ کر باہر تشریف لائے۔ اور آپ نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ آپ نے اپنے اونٹ کو نحرکیا۔ اور بال مونڈنے والے کو بلوایا۔ جب صحابہ نے یہ منظر دیکھا تو انہوں نے بھی اُٹھ کر اپنے اپنے اونٹوں کو نحر کیا اور وہ ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے غم کی شدت اس قدر تھی کہ قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بال مونڈتے مونڈتے کہیں ایک دوسرے کو قتل نہ کردیں۔ پھر اہل ایمان خواتین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ حَتّٰی بَلَغَ بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ…} … ایمان والو! جب مسلمان خواتین ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو پہلے ان کو آزمالو، ان کے ایمان کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پس اگر تم ان کو ایمان سے پختہ پاؤ تو انہیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہ اُن کے لیے اور وہ ان کے لیے حلال نہیں۔ اور ان کا فروں نے ان پر جو کچھ خرچ کیا ہو تو ان کو ادا کردو۔ اور اگر تم ان خواتین کو مہر ادا کر دو تو ان سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ اور تم کافر عورتوں کو اپنے عقد میں مت رکھو۔ ان دنوں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زوجیت میں دو مشرک بیویاں تھیں، چنانچہ انہوں نے ان دونوں کو طلاق دے دی۔ تو ان میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا تھا۔ پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ آئے۔ تو ایک قریشی مسلمان ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن اسید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگیا۔ اخنس بن شریق نے بنو عامر بن لؤی کے ایک کافر شخص کو اجرت پر تیار کیا اور اپنا ایک غلام اس کے ساتھ روانہ کیا اور اس نے ان دونوں کے ذریعے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معاہدہ کو پورا کرنے کا لکھا۔ مشرکین مکہ نے ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طلب میں ان دونوں کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کے پیش ِنظر اسے ہمارے حوالے کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ان کے سپرد کر دیا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے، تو وہ وہاں رک کر کھجوریں کھانے لگے ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا بھئی اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں تمہاری تلوار بڑی شاندار ہے۔اس شخص نے تلوار کو لہرا کر کہا ہاں بالکل اللہ کی قسم! یہ بڑی اچھی اور عمدہ تلوار ہے۔ میں نے اسے کئی مواقع پر آزمایا ہے۔ ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا یار ذرا مجھے دکھانا، میں بھی دیکھوں تو سہییہ کیسی ہے؟ اس نے تلوار اسے پکڑا دی۔ ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تلوار لے کر اسے دے ماری اور وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔ اور دوسرا جان بچانے کی خاطر دوڑتا ہوا مدینہ منورہ جا پہنچا۔ وہ دوڑتا دوڑتا مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایایہ شدید خوف سے دو چار ہوا ہے۔ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر بتلایا کہ اللہ کی قسم! میرا ساتھی تو قتل کر دیا گیا ہے اور میں بھی ابھی مارا جاؤں گا اتنے میں ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آگئے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! اللہ قسم اللہ نے آپ سے عہد پورا کر ا دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو مجھے واپس بھیج دیا تھا۔ پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دلا دی ہے۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ے فرمایا اس کی ماں کا بھلا ہو، اگر اس کے ساتھ کوئی معاون ہو تو یہ ضرور لڑائی بھڑکائے گا۔ اس نے جب یہ سنا تو جان لیا کہ اللہ کے نبی ضرور اسے کفار کی طرف بھیج دیں گے۔ تو وہ وہاں سے نکل بھاگا اور سمندر کے کنارے جا ڈیرے ڈالے۔ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن سہیل بھی کفار کی قید سے نکل کر ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آن ملا پھر تو ایسا ہوا کہ قریش کے ہاں سے جو بھی مسلمان بھاگتا وہ ابوبصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آجاتا۔ یہاں تک کہ وہاں اچھے خاصے لوگ جمع ہو گئے اللہ کی قسم! وہ شام کی طرف جانے والے جس قریشی قافلے کی خبر پاتے اس کے راستے میں آجاتے۔ انہیں قتل کر ڈالتے اور ان کے اموال چھین لیتے آخر کار قریش نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پیغام بھیج کر آپ کو اللہ کے اور رشتے داری کے واسطے دے کر یہ اطلاع بھیجی کہ آئندہ جو بھی مسلمان مکہ سے آپ کی طرف آنا چاہے اسے امان، اجازت ہے۔ تب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیج کر انہیں اپنے پاس مدینہ منورہ بلوایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔ اور وہی اللہ ہے جس نے تمہیں فتح دینے کے بعد حدودِ مکہ میں کفار کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی ان کے قربان ہونے کے مقام تک پہنچنے سے روکا۔ اگر ان میں ایسے مومن مرد اور عورتیں نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے تو لا علمی میں ان کو قتل کر کے تمہیں پشیمانی ہوتی، اس لیے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے۔ اگر وہ مسلمان کفار سے الگ ہوئے تو ہم کافروں کو درد ناک عذاب سے دو چار کرتے۔ کیونکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں کفر کی حمیت کو جگہ دے رکھی ہے۔ ان کفار کی حمیتیہ تھی کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت کا اقرار نہ کرتے تھے۔ نہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا اقرار کرتے تھے اور انہوں نے مسلمانوں کے بیت اللہ تک جانے کے راستے میں رکاوٹ ڈالی تھی۔ "
Musnad Ahmad
11170
۔ (۱۱۱۷۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: مَا رَأَیْتُ شَیْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ کَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِی فِی جَبْہَتِہِ، وَمَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِی مِشْیَتِہِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوٰی لَہُ، إِنَّا لَنُجْہِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّہُ لَغَیْرُ مُکْتَرِثٍ۔ (مسند احمد: ۸۵۸۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں دیکھا،یوں لگتا تھا کہ آپ کی پیشانی میںسورج چلتا ہے اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا،یوں لگتا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے زمین لپیٹ دی جاتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ تیز نہیں چلتے تھے، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے ہمیں خوب تیز چلنا پڑتا تھا۔
Musnad Ahmad
12061
۔ (۱۲۰۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ، فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ إِلَیْہَا، وَإِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلٰییَمِینٍ، فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا، فَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ، وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۹۸)
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن! حکمرانی یا ذمہ داری طلب نہ کرنا، اگر تجھے تیرے طلب کرنے کے بعد حکمرانی ملی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تجھے طلب کرنے کے بغیر حکمرانی ملی تو اس بارے میں تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے، اسکے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اس کے برعکس کام زیادہ بہتر ہے تو وہ کام کر لینا جو زیادہ بہتر ہو اور اپنے حلف کا کفارہ دے دینا۔
Musnad Ahmad
12094
۔ (۱۲۰۹۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ ظَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَبَا الْقَاسِمِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، یَقُولُ: ((إِنَّ ہَلَاکَ أُمَّتِی أَوْ فَسَادَ أُمَّتِی رُئُ وْسٌ أُمَرَائُ أُغَیْلِمَۃٌ سُفَہَائُ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سچے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت اور فساد قریش کے ناسمجھ نوجوان حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوگا۔
Musnad Ahmad
12401
۔ (۱۲۴۰۱)۔ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ، حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہِ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَآنِی فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِی، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ بِی۔)) قَالَ عَاصِمٌ: قَالَ أَبِی: فَحَدَّثَنِیہِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی قَدْ رَأَیْتُہُ قَالَ: رَأَیْتَہُ؟ قُلْتُ: إِی وَاللّٰہِ لَقَدْ رَأَیْتُہُ، قَالَ: فَذَکَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ قَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ قَدْ ذَکَرْتُہُ وَنَعَتُّہُ فِی مِشْیَتِہِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّہُ کَانَ یُشْبِہُہُ۔ (مسند احمد: ۸۴۸۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا:جب یہی حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھ کو بیان کی تو میں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میںدیکھا ہے، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ کے چلنے کے انداز کا بھی ذکر کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ ہیں۔
Musnad Ahmad
12435
۔ (۱۲۴۳۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَیَرْعَفَنَّ عَلٰی مِنْبَرِی جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَۃِ بَنِی أُمَیَّۃَیَسِیلُ رُعَافُہُ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِی مَنْ رَأٰی عَمْرَو بْنَ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ رَعَفَ عَلٰی مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی سَالَ رُعَافُہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۴) (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَرْتَقِیَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَۃِ بَنِیْ اُمَیَّۃَ عَلٰی مِنْبَرِیْ ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۸۹۸۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا ہے بنوامیہ کے ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم کی نکسیر میرے منبر پر پھوٹے گی۔ علی بن زید کہتے ہیں: ایک آدمی، جس نے عمرو بن سعید کو دیکھا تھا، نے بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر پر عمرو بن سعید کی نکسیر پھوٹ پڑی تھی۔ علی بن زید سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنوامیہ کا ایک ظالم حکمران میرے اس منبرپر چڑھے گا۔