۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری یا چوتھی رات کو چاند کے غروب ہونے کے وقت کے برابر نمازِ عشا ادا کرتے تھے۔
جہینہ قبیلے کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میں عشا کی نماز کب پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات ہر وادی کے پیٹ کو بھر دے۔
Takhreej
(۱۱۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد العزیز بن عمرو مجھول۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۳۱، والطبرانی فی الاوسط : ۳۹۷۵ (انظر: ۲۳۰۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو مذموم اور معیوب سمجھا۔ خالد راوی کہتے ہیں: جَدَبَ کے معانی مذمت کرنے اور عیب لگانے کے ہیں۔
سیدنا ابو برزہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء سے پہلے نیند کو نا پسند سمجھتے تھے اور اِس نماز کے بعد گفتگو کو پسند نہیںکرتے تھے۔
سیدنا عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے معاملات پر سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ رات کو گفتگو کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدّو لوگ تمہاری نمازکے نام پر غالب نہ آ جائیں، خبردار! یہ عشاء کی نماز ہے، چونکہ وہ لوگ اونٹوں کی وجہ سے رات کی تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس نماز کو عَتَمَۃ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ وہ اونٹوں کو دوہنے کی وجہ سے تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا اور عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک لیٹ کرنے کا حکم دے دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں عشا کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔
Takhreej
(۱۱۶۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۷، ۶۹۱، والترمذی:۲۲(انظر: ۷۴۱۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِعشاء کو اتنا مؤخر کر دیا کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجدگزاروں نے تہجد پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اس وقت میں یہ نماز پڑھنے کا حکم دے دیتا۔
Takhreej
(۱۱۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی اسرائیل۔ وأصل الحدیث الصحیح، وھو قولہ: لو لا ان اشق علی امتی … أخرجہ مسلم: ۶۳۹ (انظر: ۴۸۲۶)
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات نمازِ عشاء سے مشغول ہو گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے، پھر ہم جاگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے، جو اس نماز کاانتظار کر رہا ہو۔
سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں فرضی نماز پڑھاتے تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اتنا زیادہ لمبا کرتے تھے اور نہ مختصر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَتَمَۃ یعنی نماز عشا کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک رات کو نمازِ عشا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً نصف رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، پس بیشک (دوسری مسجدوں کے) لوگ یہ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور تم لوگ جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے تھے، اس وقت سے نماز میں ہی تھے اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور محتاج کی حاجت نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔
Takhreej
(۱۱۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۲، والنسائی: ۱/ ۲۶۸، وابن ماجہ: ۶۹۳ (انظر: ۱۱۰۱۵)
سیدنا ابو بکرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ یا نو راتوں تک نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرتے رہے، ایک دن سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں یہ نماز جلدی پڑھا دیا کریں تو یہ عمل رات کے قیام کے لیے بہتر ہو گا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد یہ نماز جلدی پڑھا دیا کرتے تھے۔ عبد الصمد نے سات اور عفان نے نو راتوں کا ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۱۷۱) اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ الطیالسی: ۸۷۵(انظر: ۲۰۴۸۳)
عاصم بن حمید شکونی، جو کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: ایک دن نمازِ عشاء کے لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکے رہے، یہاں تک کہ ہم یہ خیال کرنے لگے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے کوئی کہتا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز پڑھ لی ہے اور اب ہر گز نہیں نکلیں گے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اب آپ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے بعض افراد یہ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہیں لائیں گے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرو، پس بیشک اس کے ذریعے تم کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: تم کو وہ کون سا وقت پسند ہے کہ جس میں میں نمازِ عشاء باجماعت یا منفرد ادا کروں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء کی ادائیگی میں تاخیر کی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور پھر بیدار ہوئے، پس سیدنا عمر ؓکھڑے ہوئے اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) نماز، پس اللہ کے نبی نکلے، گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کی ایک جانب ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو حکم دیتا کہ وہ یہ نماز اس وقت میں نماز پڑھیں۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کہا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اِس وقت میں ادا کیا کریں۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نمازِ عشاء میں تاخیر کر دی، یہاں سیدنا عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آواز دی: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اِس نماز کو اِس وقت میں ادا کر رہا ہو۔ اس وقت نماز پڑھنے والے صرف مدینہ کے لوگ تھے، ایک روایت میں ہے: یہ بات اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ رات کا عام حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس نماز کا وقت ہوتا، اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا۔
سیّدنا طلقؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجرِ (صادق) وہ نہیں ہے، جس میں روشنی افق میں بلند ہوتی ہے، بلکہ وہ ہے، جس میں سرخ روشنی چوڑائی میں (افق پر) پھیلتی ہے۔