TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازوں کے اوقات کے ابواب - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Book 21 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 21 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 144 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

144 Hadith · 23 Chapters
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
۔ (۱۱۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَدُوًّا فَلَمْ یَفْرُغْ مِنْہُمْ حَتّٰی أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِہَا، فَلَمَّا رَاٰی ذٰلِکَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَامْلَأْ بُیُوْتَہُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُوْرَہُمْ نَارًا۔)) اَوْنَحْوَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔
Takhreej
(۱۱۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ بنحوہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۱۹۰۵، وفی الاوسط : ۲۰۱۶ (انظر: ۲۷۴۵)
1138
Sahih
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
۔ (۱۱۳۹)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۱۷)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔
Takhreej
(۱۱۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۸۲، ۲۹۸۳ (انظر: ۲۰۱۵۵)
1139
Sahih
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
۔ (۱۱۴۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍؓ وَقَدْ سَأَلَہُ مَرْوَانُ عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۳۵)
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ مروان نے ان سے صلاۃِ وسطی کے بارے میں سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: یہ ظہر ہے۔
Takhreej
(۱۱۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الزبرقان لم یدرک القصۃ التی رواھا۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۹۵، والطیالسی: ۶۲۸، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۵۰۴(انظر: ۲۱۷۹۲)
1140
Zaeef
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
۔ (۱۱۴۱)۔ عَنْ أَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی عَائِشَۃَؓ قَالَ: أَمَرَتْنِیْ عَائِشَۃُ أَنْ أَکْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: اِذَا بَلَغْتَ اِلَی ہٰذِہِ الْآیَۃِ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} فَآذِنِّیْ، فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَمْلَتْ عَلَی {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔} قَالَتْ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۲)
مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے مصحف لکھوں اور انھوں نے کہا: جب تو اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} پر پہنچے تو مجھے بتلانا، پس جب میں اس آیت تک پہنچا تو ان کو بتلایا اور انھوں نے یہ آیت یوں املا کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ آیت اسی طرح سنی تھی۔
Takhreej
(۱۱۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۲۹(انظر: ۲۴۴۴۸)
1141
Sahih
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۱۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَرَکَ الْعَصْرَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَلَّذِیْ تَفُوْتُہُ صَلَاۃُ الْعَصْرِ) مُتَعَمِّدًا حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلُہُ وَمَالُہُ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَالَ شَیْبَانُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): یَعْنِیْ غُلِبَ عَلٰی أَہْلِہِ وَمَالِہِ۔ (مسند أحمد: ۴۸۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر عصر کی نماز ترک کر دی، ایک روایت میں ہے: جس سے نمازِ عصر فوت ہو گئی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پس گویا کہ اس کااہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ شیبان کہتے ہیں: یعنی اس کے اہل اور مال پر غلبہ پا لیا گیا۔
Takhreej
(۱۱۴۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۲، ومسلم: ۶۲۶ (انظر: ۴۸۰۵)
1142
Sahih
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۱۴۳)۔ عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَرَکَ صَلَاۃَ الْعَصْرَ مُتَعَمِّدًا حَتّٰی تَفُوْتَہُ فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۴۰)
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصرچھوڑ دی، یہاں تک کہ وہ اس سے فوت ہو گئی، تو ایسے آدمی کا عمل ضائع کر دیا گیا۔
Takhreej
(۱۱۴۳) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۷۴۹۲)
1143
Sahih
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۱۴۴)۔عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِیْنَ صَلَّیْنَا الظُّہْرَ، فَدَعَا الْجَارِیَۃَ بِوَضُوْئٍ فَقُلْنَا لَہُ: أَیُّ صَلَاۃٍ تُصَلِّیْ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِ، یَتْرُکُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ فِیْ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ أَوْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ صَلّٰی لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۲۲)
علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوںکے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۲۲ (انظر: ۱۱۹۹۹)
1144
Sahih
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۱۴۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ أَنَسٌ)۔ تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِیْنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، یَجْلِسُ أَحَدُہُمْ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۳۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہیِ البتہ اس میں ہے: سیدنا انسؓ نے کہا: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ الفاظ تین مرتبہ دوہرائے، آدمی بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوںکے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۴۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1145
Sahih
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۱۴۶)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِصَلَاۃِ الْمُنَافِقِ؟ یَدَعُ الْعَصْرَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ أَوْ عَلٰی قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ قَامَ فَنَقَرَہَا نَقَرَاتِ الدِّیْکِ لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۲۴)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے آگاہ نہ کردوں، وہ عصر کی نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوںکے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑا ہو کر مرغے کی طرح ٹھونگیں لگاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۴۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۶۴۲، وابن حبان: ۲۶۰ (انظر: ۱۳۵۸۹)
1146
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۴۷)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ ثُمَّ یَجِیْئُ أَحَدُنَا اِلٰی بَنِیْ سَلِمَۃَ وَھُوَ یَرٰی مَوَاقِعَ نَبْلِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۶۰)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ایک آدمی فارغ ہو کر بنوسلمہ کی طرف آتا، لیکن وہ اس وقت بھی اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ لیتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۲۸، وأخرجہ بنحوہ ابوداود: ۴۱۶ (انظر: ۱۲۱۳۶)
1147
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۴۸)۔عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُمْ کَانُوْا یُصَلُّوْنَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ، ثُمَّ یَرْجِعُوْنَ اِلَی أَہْلِیْہِمْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَرْتَمُوْنَ یُبْصِرُوْنَ وَقْعَ سِہَامِہِمْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۳۶)
اسلم قبیلے کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کرتے، پھر مدینہ سے دور اپنے گھروں کی طرف لوٹتے اور تیر پھینکتے اور اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے۔
Takhreej
(۱۱۴۸) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۵۹(انظر: ۲۳۱۴۹)
1148
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۴۹)۔عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْمَغْرِبَ سَاعَۃَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ اِذَا غَابَ حَاجِبُہَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۴۷)
سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے، جب سورج غروب ہو جاتا اور اس کی ٹکیہ کا کنارہ غائب ہو جاتا۔
Takhreej
(۱۱۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۳۶، وأخرجہ بنحوہ البخاری: ۵۶۱ (انظر: ۱۶۵۳۲)
1149
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۵۰)۔ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((صَلُّوْا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَ بَادِرُوْا طُلُوْعَ النُّجُوْمِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۷۷)
سیدنا ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: روزے دار کی افطاری کے وقت نمازِ مغرب پڑھا کرو اور ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کر لیا کرو۔
Takhreej
(۱۱۵۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الطبرانی: ۴۰۵۹، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۲۹ (انظر: ۲۳۵۸۰)
1150
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۵۱)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَادِرُوْا بِصَلَاۃِ الْمَغْرِبِ قَبْلَ طُلُوْعِ النَّجْمِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۱۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ستارے کے ظہور سے پہلے ہی نمازِ مغرب ادا کر لیا کرو۔
Takhreej
(۱۱۵۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1151
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاۃِ النَّہَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاۃَ اللَّیْلِ، وَصَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَالْوِتْرُ رََکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۵۵۴۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔
Takhreej
(۱۱۵۲) تخریج: صحیح دون قولہ: صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاۃِ النَّہَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاۃَ اللَّیْلِ ، وقد رواہ عدۃ موقوفا۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۳۸۲، وعبد الرزاق: ۴۶۷۵، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۸۲ (انظر: ۵۵۴۹)
Explanation
فوائد:… بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور اس کے آخر میں ایک کعت وتر ادا کیا جا سکتا ہے۔ وتر اگرچہ رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن یہ عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ (بخاری: ۹۹۶) (عبداللہ رفیق)
1152
Sahih
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
۔ (۱۱۵۳)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَزَالُ أُمَّتِیْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوْعِ النُّجُوْمِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۰۸)
سیدنا سائب بن یزیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت پر رہی گی، جب تک نمازِ مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔
Takhreej
(۱۱۵۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ البیھقی: ۱/ ۴۴۸، والطبرانی فی الکبیر : ۶۶۷۱ (انظر: ۱۵۷۱۷)
1153
Sahih
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
۔ (۱۱۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الصُّنَابِحِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَنْ تَزَالَ أُمَّتِیْ فِیْ مُسْکَۃٍ مَا لَمْ یَعْمَلُوْا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ بِاِنْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاہَاۃَ الْیَہُوْدِ، وَمَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْفَجْرَ اِمْحَاقَ النُّجُوْمِ مُضَاہَاۃَ النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَا لَمْ یَکِلُوْا الْجَنَائِزَ اِلَی أَہْلِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۷)
سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔
Takhreej
(۱۱۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحارث بن وھب مجھول الحال۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۲۶۳، وعبد الرزاق: ۶۵۳۰، والحاکم: ۱/ ۳۷۰(انظر: ۱۹۰۶۷)
1154
Zaeef
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
۔ (۱۱۵۵)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ الْمِصْرِیِّ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْیَزَنِیِّ، وَیَزَنُ بَطْنٌ مِنْ حِمْیَرَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا أَ بُوْ أَ یُّوْبَ خَالِدُ بْنُ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیُّؓ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِصْرَ غَازِیًا وَکَانَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبَسٍ الْجُہَنِیُّ أَمَّرَہُ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سَفْیَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ) فَلَمَّا صَلّٰی قَامَ اِلَیْہِ أَبُوْأَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیُّ فَقَالَ لَہُ: یَا عُقْبَۃُ! أَہٰکَذَا رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ أَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ أَوْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ حَتّٰی تَشْتَبِکَ النُّجُوْمُ۔)) قَالَ: فَقَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا بِیْ اِلَّا أَنْ یَظُنَّ النَّاسُ أَنَّکَ رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ہٰذَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۶۲)
مرثد بن عبد اللہ یزنی کہتے ہیں: صحابیِ رسول سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ جہاد کرنے کے لیے مصر تشریف لائے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو ہمارا امیر بنایا ہوا تھا، ایک دن سیدنا عقبہؓ نمازِ مغرب سے مصروف ہو گئے اور اس نماز کو لیٹ کر دیا، پس جب انھوں نے نماز پڑھائی تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان سے کہا: عقبہ! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح دیکھا ہے؟ کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی، جب تک نماز مغرب کو ستاروں کے خلط ملط ہونے تک لیٹ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا؛ جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں مشغول ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو ایوبؓ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، لیکن یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۱۱۵۵) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۸(انظر: ۱۷۳۲۹)
1155
Sahih
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
۔ (۱۱۵۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ الْمُزَنِیِّ (یَعْنِیْ ابْنَ مُغَفَّلٍ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَغْلِبَنَّکُمُ الْأَعْرَابُ عَلَی اِسْمِ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ۔)) قَالَ: وَتَقُوْلُ الْأَعْرَابُ: ہِیَ الْعِشَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۲۷)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر گز ایسا نہ ہو کہ کہ بدّو لوگ نمازِ مغرب کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب آ جائیں۔ بدّو اِس نماز کو عشاء کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۳(انظر: ۲۰۵۵۳)
1156
Sahih
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۵۷)۔عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍؓ قَالَ: اِنِّیْ أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ کَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعِشَائِ، کَانَ یُصَلِّیْہَا بَعْدَ سُقُوْطِ الْقَمَرِ فِیْ اللَیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ مِنْ أَوَّلِ الشَّہْرِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۶۷)
سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ عشا کے وقت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مہینے کے شروع میں تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے بعد اس نماز کو ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۵۷) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۹، والنسائی: ۱/ ۲۶۴، والترمذی: ۱۶۵ (انظر: ۱۸۳۷۷)
1157
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.